لہو ، بے حسی اور سیاسی احتجاج۔۔۔۔محمد اسد شاہ

12 سال گزر گئے – یہ کوئی کم وقت تو نہیں ہوتا – اتنے طویل عرصے میں بھی اگر کسی کا ضمیر نہ جاگے ، تو یہ یقین کر لینے میں کیا حرج ہے کہ دراصل ضمیر نامی چیز یہاں پائی ہی نہیں جاتی –
12 مئی 2007 کو کراچی میں دن بھر سر عام دہشت گردی ہوتی رہی – قتل عام کی انوکھی تاریخ لکھی گئی – اس سے بڑا ظلم یہ ہوا کہ ریاست و حکومت کے خودساختہ سربراہ جنرل پرویز مشرف نے اس دہشت گردی پر اظہار مسرت کیا – دارالحکومت میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران مکا لہرا کر اپنے ملک کے بے بس عوام کو دکھاتے ہوئے جنرل نے کہا؛ یہ طاقت کا اظہار ہے-” کیسی طاقت ، کس کی طاقت ، کیوں اور کس کو ظاہر کی گئی ، یہ موصوف نے واضح نہیں کیا – یہ سانحہ در سانحہ تھا کہ دہشت گردی کی بدترین واردات ہو اور سربراہ مملکت اس پر فخر کا اظہار بھی کرے –
لیکن بات یہاں رکی نہیں –
اس ملک کی تاریخ جن بہت سے درد ناک واقعات سے بھری ہے ، ان میں سے چند نمایاں اسی جنرل پرویز کے دور میں ہوئے ، جیسا کہ سانحہ لال مسجد ، سانحہ کار ساز ، اوکاڑہ میں وکلاء کا قتل ، راول پنڈی میں چیف جسٹس کے جلوس میں دھماکہ ، نواب محمد اکبر بگٹی کا قتل اور پھر بے بیگم نظیر بھٹو زردای کا قتل –
پرویز حکومت کے خاتمے کے بعد بھی بعض خوف ناک واقعات سامنے آئے جن میں قابل ذکر سانحہ بلدیہ ٹاؤن کراچی اور سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور تھے –
صدمہ اور حیرت اس بات پر بھی ہے کہ سوائے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ، مذکورہ بالا کسی بھی سانحے پر احتجاج ، دھرنوں اور دھمکیوں کا کوئی سلسلہ نہیں چلا –
اب یہ غور کرنا قارئین پر ہے ، کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور اور باقی تمام سوانح میں کیا فرق ہے – ایک فرق تو یہ ہے کہ باقی تقریباً تمام واقعات میں ہلاکتیں سانحہ ماڈل ٹاؤن سے زیادہ ہوئیں – دوسرا فرق یہ ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن وہ واحد واقعہ تھا جو ن لیگ کی حکومت کے دوران ہوا –
یہاں یہ خیال آ رہا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ بے گناہ انسانوں کے خون پر احتجاج بھی بعض مخصوص سیاسی مفادات کے تحت کیا جاتا ہے – اگر ایسا ہے تو یہ بے شرمی اور منافقت کی انتہا ہے –
صدمے کی ایک نئی بات یہ ہے کہ گزشتہ روز یعنی 12 مئی 2019 کو ، جب ملک بھر کے امن پسند لوگ کراچی قتل عام کی یاد میں سوگ وار تھے ، طاہرالقادری نے اس موقع پر بھی کراچی قتل عام کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف سانحہ ماڈل ٹاؤن ہی پر اپنے کرب کا اظہار کیا –
کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ انسانی خون جہاں بھی بہے ، ہمیں سیاست کی بجائے انسانیت کا کرب محسوس ہو – اگر “کراچی قتل عام” کے خلاف ہی آواز اٹھائی جاتی ، تو  شاید بعد کے سوانح سے بچا سکتا تھا –

محمد اسد شاہ
محمد اسد شاہ
محمد اسد شاہ کالم نگاری اور تعلیم و تدریس سے وابستہ ہیں - پاکستانی سیاست ، انگریزی و اردو ادب ، تقابل ادیان اور سماجی مسائل ان کے موضوعات ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”لہو ، بے حسی اور سیاسی احتجاج۔۔۔۔محمد اسد شاہ

Leave a Reply to اقبال طارق جواب منسوخ کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *