کیرئیر کونسلنگ کی ضرورت و اہمیت۔۔۔۔۔صومل مہر

تدریس کا شعبہ بہت اہمیت کاحامل ہےیہ کہنا  زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ واحد شعبہ ہےجو دوسرےتمام شعبوں میں جانے والوں کا Production house ہے جہاں اساتذہ انہیں  آنے والے   وقت اور چیلنجز کا کامیابی سے سامنا کرنے کے لیے تیارکرتے ہیں ۔  وہیں یہ بات بھی غورطلب ہےکہ استاداورشاگردکےمابین کیساتعلق ہونا چاہیے ۔۔۔۔کیونکہ ایک بچےکاگھرکےباہرپہلامعاشرتی تعلق اسکول اور استاد سے بنتا ہے اور یہاں اساتذہ کی Involvement اوروالدین کا Concern ہی بچے میں خوداعتمادی لاتا ہے۔ جیساکہConfuciuc کہتاہے Education breeds confidence, confidence breeds hope, hope breeds peace۔

اکثرپوچھاجاتاہےکہ اچھےطالبعلم کیسے ہوتے ہیں ان میں کیاخوبیاں ہوتی ہیں جوانہیں جماعت میں دوسروں سے منفردکرتی ہیں؟۔۔۔

یوں توایک جماعت میں موجود تمام طالبعلم برابر نہیں ہوسکتے، ذہنی استعداد, سیکھنےاورسمجھنےکی صلاحیت سب کی الگ ہوتی ہے لیکن پھربھی کچھ خصوصیات ایسی ہیں جواچھاطالبعلم بننےمیں معاون ہوتی ہیں ان صلاحیتوں کو اساتذہ باآسانی طالبعلموں میں Develop کر سکتے ہیں-

سوال ،جواب کرنا۔۔

ہمارے یہاں طالبعلموں  کی اکثریت سوال پوچھنے سے کتراتی ہے جبکہ دورانِ لیکچرکئے جانےوالےسوال وجواب نہ صرف سوال کرنے والے بلکہ جماعت میں موجودتمام طالبعلموں کےلیےناصرف مددگارثابت ہوتےہیں بلکہ لیکچرکے Contents کو واضح کرنےکابہترین طریقہ ہے۔ یہاں اساتذہ کے لیے بھی ضروری ہے کہ پوچھے جانے والےسوالات کا نہایت تحمل سے جواب دیں۔

حوصلہ افزائی اور سراہنےکاعمل۔۔

حوصلہ افزائی یا سراہنے کاعمل ہمارے یہاں جماعت کے منفردطالبعلموں کےساتھ تو  زیادہ نظر آتا ہے جبکہ درحقیقت اسکی ضرورت کمزور طلباءکو زیادہ ہوتی ہے-ناکام ہونےوالے طلبہ کےحوصلےکوکیسے برقرار رکھا جائےاورکیسے انہیں Motivate کیاجائےکہ وہ بھی کامیاب اور اچھےطالبعلم بن سکیں- چھوٹی سی تعریف, تھوڑی سی توجہ, ذرا ساپیار, پڑھائی میں مدد کسی بھی بچے کی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے کےلئےکافی ہیں۔ یاد رکھیں یہ بچے آگے جاکرمعاشرےمیں مثبت کرداراداکرتے ہیں-

آخرمیں اساتذہ اوروالدین سےبھی گزارش ہےکہ بچوں پربےجادباؤنہ ڈالیں، سب سے اہم بات دوسرے بچوں کی مثالیں دے کر تنقیدنہ کریں ،مذاق نہ بنائیں، اس سے بچوں کی خوداعتمادی ختم ہوجاتی ہے،ان کا خوف بڑھتاچلاجاتاہےاور ان کی کارکردگی میں رکاوٹ بن جاتا ہے جوبلآخرکسی نہ کسی منفی سرگرمی کی طرف لے جاتا ہے- ہر بچہ اپنی الگ فطرت لےکرپیداہوتاہےوہ کسی  دوسرے بچے  جیسا نہیں ہوسکتا- اپنےبچوں کو مشکلات اور ناکامی سے گھبرانےکے بجائے مسائل    حل کرناسکھائیں، انہیں اتنا اعتماد ضروردیں کہ وہ آپ کوکُھل کراپنے خیالات, اپنی مشکلات, پسند نہ  پسند بتاسکیں- اپنے بچوں کو سنیے  ان کے پاس بہت کچھ ہوتا ہےکہنے اوربتانے کے لئے۔ یادرکھیں آج آپ سنیں گے نہیں تو کل وہ آپ کو بتائیں گے بھی نہیں- والدین سے بہتر کاؤنسلنگ کوئی نہیں کرسکتا،اس طرح انہیں زمانے کی اونچ نیچ سمجھنے کا حوصلہ ملے گااور یہ قیمتی احساس بھی کہ ان  کے والدین ان کے ساتھ ہیں-

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *