اپنی والدہ کے نام ایک نظم”بوڑھی آنکھیں”۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل

SHOPPING
speciaal sale
SHOPPING

میری ماں کی بوڑھی آنکھیں
ان آنکھوں میں جب بھی جھانکا
خوابوں کے ویرانے دیکھے
ویرانے بھی ایسے جن میں
ہر اک حسرت خار بنی تھی
ہر اک خواہش سوکھی ٹہنی
برسوں کی معصوم امنگیں
پژمردہ مرجھائی کلیاں
امیدوں کے کنکر پتھر
بکھرے پڑے تھے

میری ماں کی بوڑھی آنکھیں
ان آنکھوں میں جب بھی جھانکا
ماضی کے آسیب ہی دیکھے
نسلوں کی بیکار کی محنت
میری ماں نے
سردی کی راتوں میں اکثر
ٹھنڈے پانی کے نلکے سے
کپڑے دھو کر ہاتھوں پر گٹے بھی ڈالے
گرمی کی اس دھوپ میں ہر دن
آگ جلا کر گھر والوں کی روٹی پکائی
اپنے چہرے کو جھلسایا
قربانی کی ریت نبھائی
لیکن اس قربانی کا حاصل
آہیں آنسو
حسرت کے گمنام جزیرے
ایسے جزیرے جن پہ تنہائی کا ڈیرا بسیرا
خواب ادھورا
بچوں سے اک اندھی محبت
میری ماں کی اندھی محبت
میرے پائوں کی زنجیر بنی تھی
میں نے اس زنجیر کی خاطر
ہجرت کا اک زہر پیا تھا
ہجرت کا وہ زہر کہ جو اک
امرت بن کر شریانوں میں پھیل گیا تھا
میری ماں کی آنکھوں میں اب
محرومی کی دھول تو ہے پر
مایوسی کے خار نہیں ہیں
میری ماں نے زیست کے ہر اک چوراہے پر
ہمت کے کچھ پھول کھلائے
چاہت کے کچھ گیت سنائے
اس ہمت نے اس چاہت نے
دوکلیوں کا روپ سنوارا
ایک کلی ہے عنبر بیٹی
جس کی خوشبو
قریہ قریہ پھیل گئی ہے
ایک کلی ہے شاعر بیٹا دنیا بھر کے انسانوں کو پیار کا تحفہ

میری ماں تم خوش قسمت ہو
تیری دونوں آنکھوں کے ان
خوابوں کے ویرانوں میں اب
خوشیوں کے دو پھول کھلے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔

SHOPPING

نوٹ :
یہ نظم ۱۹۸۸ میں جب میں نے ٹورانٹو کی ایک محفل میں پڑھی تو کسی نے وڈیو بنالی۔ جب میری والدہ نے وہ وڈیو لاہور میں دیکھی تو نظم سن کو وہ آبدیدہ ہو گئیں۔ اب وہ چند سال پیشتر اس دارِ فانی سے کوچ کر گئی ہیں لیکن آج مدرز ڈے پر یاد آئیں تو یہ نظم بھی یاد آ گئی۔سوچا دوستوں سے شیئر کر لوں۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”اپنی والدہ کے نام ایک نظم”بوڑھی آنکھیں”۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل

  1. Hopefully some of us parents love will not become an obstacle and send our children in exile.
    May we find joy in acceptance of who they are.

  2. جدید دور میں پرانے گھر ویران مگر بوڑھے والدین کی تنہائیوں کی کہانیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہجرت آج کے دور کے فرد کی بقا کا جیسا واحد راستہ ہو۔ یہی کہانی اس نظم میں بھی ہے۔ وہی جو آج کل اکثر ماؤں کی کہانی ہے

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *