عشق زندہ باد۔۔۔۔عارف خٹک

ڈاکٹر سیگمنڈ فرائیڈے کہتے ہیں کہ محبت کسی وقت اور کسی بھی عمر میں ہوسکتی ہے۔

خود تو نفسیات کی کتابیں تحریر کرکے دنیا چھوڑ دی۔اور چالیس کے پیٹے میں ہمیں رسوا کرگیا۔
محبوب نے اپنا عادی بنا لیا۔ جب تک ساتھ تھا ہمیں احساس ہی نہیں تھا اب جب وہ ساتھ نہیں رہا تو معلوم ہوا کہ محبت کس چڑیا کا نام ہے۔ بچوں کو ساتھ لٹا لیتا ہوں تاکہ کسک کچھ کم ہو۔ مگر درد ہے کہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ ایسی محبت تو ہم نے اٹھارہ سال پہلے بھی نہیں کی تھی جو اب سفید ہوتی داڑھی کیساتھ دوبارہ کرنے لگے ہیں۔ شاید فنا اسی کا نام ہے۔ شاید اب ہم اپنی فنا کی طرف جا رہے ہیں۔ نہ تو آج تک اپنے محبوب کا جسم ٹٹولا ہے نہ ان کے ہونٹوں کی سرخی کا ذائقہ چکھا ہے۔ بلکہ لامکان ہے ابھی وہ۔ ہمیں تو اپنے محبوب کی شکل تک یاد نہیں آرہی مگر درد ہے کہ دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔

اس کا حل سوچتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ اب مجھے اپنی محبت سے فرار حاصل کرنا ہوگا۔ یا تو مجھے اتنا دور جانا ہوگا کہ جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو یا پھر مجھے ان کو اپنے پاس رکھنا ہوگا۔

غالب کہتے ہیں کہ عشق کا اصل سرمایہ ہجر ہے۔ درد ہے۔ چبھن ہے۔ جہاں محبوب مل گیا وہاں سب کچھ نیست و نابود ہوجاتا ہے۔ سو دل کو تسلی ہے کہ ہم اس کسک کیساتھ باقی ماندہ زندگی گزار لیں گے مگر عشق کی اس عمارت کو نیست و نابود نہیں ہونے دیں گے۔

عمر کے اس حصے میں آکر آج اپنی محبت کو محبت سمجھنا بھی اپنی محبت کی توہین سمجھتا ہوں۔ محبت میں تو سمجھوتے ہوتے ہیں۔ اٹکھیلیاں ہوتیں اور کھیل کود ہوتا ہے۔ لیکن اپنے ہاں شاید محبت نہیں عشق کا آغاز ہوچکا ہے۔ جو فنا کا دوسرا نام ہے۔ جہاں ذات کی نفی ہوتی ہے۔ جہاں دماغ کی لہر پر دل کی لہریں حاوی ہیں جہاں انسان انسان نہیں رہتا بلکہ انسانوں کے بیچ ایک مجذوب کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ جس کے اختیار میں اتنا بھی نہیں ہوتا کہ خود کو خود سمجھنا شروع کرسکے۔ جہاں ہر تھاپ پر محبوب کا ہیولا، ہوا کے  جھونکے میں اس کا احساس اور ہر سانس میں اس کی مہک محسوس ہوتی ہے۔ جہاں اپنی ذات کی نفی کا اپنا مزہ ہوتا ہے۔ اس درد کا اپنا مزہ ہوتا ہے۔ جہاں ہر سو صرف وہ ہوتا ہے۔

شاید یہی قسمت کا اٹل فیصلہ ہے یا میرا اپنا فیصلہ ہے۔ اپنی ہستی کو مٹا دینا ہے اور اپنے عشق کو لازوال کردینا ہے۔ اب تو ہر جگہ یہی نعرہ لگانا ہے کہ عشق زندہ باد۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *