تخریب نہیں تعمیر۔۔۔۔ مفتی محمد زاھد

مجھے پڑھنے والے جانتے ہیں کہ میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کے خلاف لکھتا رہتا ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ خارجہ پالیسی کے معاملات ہوں یا داخلی سلامتی کے ان میں پولیٹیکل اِن پُٹ نہ ہونے کا شدید نقصان ہوا ہے، جس کی سب سے بڑی مثال بنگلہ دیش ہے۔ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ ہمسایوں کے حوالے سے ہماری پالیسیوں میں نقص ہی نہیں حماقتیں بھی شامل رہی ہیں ، جس کی ایک وجہ وہی ہے جو میں نے اوپر ذکر کی، لیکن اکیلے پاکستانی ایجنسیوں کو یہ طعنہ دینا کہ وہ دوسرے ملکوں میں مداخلت کرتی رہی ہیں زیادتی ہے۔ آخر وہ کون سا قابل ذکر ملک ہے جس کی انٹیلیجنس ایجنسیاں دوسرے ملکوں میں خفیہ کارروائیاں نہیں کرتیں، پھر گالی صرف ایک کو کیوں۔

پاکستان بننے کے فورا بعد افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر نہ ہونے کا ذمہ دار کون تھا، کیا پاکستان کی کوئی ایجنسی تھی؟ جناح کو تو مشوروں سے نوازنے والے آج بھی ایک سے ایک بڑھ کر افلاطون موجود ہیں لیکن کیا اس زمانے کی افغان حکومت سے کسی نے سوال کیا کہ پڑوسی پاکستان سے تعلقات زیادہ اہم تھے یا دور دراز کے ہندوستان سے (تعلقات اچھے ہوں تو ڈیورنڈ لائن جیسے مسئلے بھی حل ہوجاتے ہیں ، دنیا میں اس کی مثالیں موجود ہیں)۔ کیا صرف پاکستان سے ایران کے معاملے میں غلطیاں ہوئیں یا ایران کی طرف بھی کچھ ہوا۔

کشمیر بین الاقوامی طور پر مسلمہ متنازعہ خطہ رہا ہے۔ شملہ معاہدے سے پہلے تو یہ پوزیشن اور زیادہ واضح تھی، اس لئے اس کی بات رکھئے ایک طرف ، اس سے ہٹ کر ایک دوسرے کے ملکوں میں مداخلت کی بڑی مثالیں مکتی باہنی اور خالصہ تحریک ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان میں پہلے کون سا کام ہوا تھا، مکتی باہنی پہلے بنی یا خالصہ تحریک پہلے کھڑی ہوئی؟ اور ظلم وتشدد کا بازار کس نے زیادہ گرم کیا، مکتی باہنی نے یا خالصہ تحریک نے؟ آخر وہ کون سی تعریف ہے جس کی رو سے کشمیری تو دہشت گرد ہے مگر مکتی باہنی والے اور بلوچ لبریشن آرمی والے دہشت گرد نہیں ہیں۔

تحریک پاکستان کے زمانے میں بڑی رعونت کے ساتھ کانگریسی لیڈروں کی طرف سے یہ بات کہی جاتی تھی کہ مسلم لیگی انگریزوں کے ایجنٹ ہیں اور ہم خطے میں دیگر ملک خصوصا چائنا کو ساتھ ملا کر مغرب کے خلاف ایک مضبوط بلاک بنائیں گے۔ لیکن آج بھارت خطے میں امریکا کے تھانے دار کا کردار ادا کررہا ہے، جبکہ پاکستان چائنا کے بعد اب روس کے بھی قریب آرہا ہے۔

صرف نیشنل ازم کے تقاضوں کے تحت ہی نہیں عدل وانصاف کے تقاضوں کے تحت بھی بھارت کے موقف کو انتہائی کمزور سمجھنے کے باوجود آج کے حالات کے تناظر میں میں پاکستان اور بھارت میں پیدا ہونے والے جنگی ماحول کے حق میں نہیں ہوں۔ بطور مسلمان مجھے اپنے رسول صلى الله عليه وسلم کا ارشاد معلوم ہے کہ دشمن سے آمنا سامنا ہونے کی آرزو نہ کیا کرو ، بلکہ اللہ سے عافیت مانگا کرو، لیکن اگر لڑائی ہوہی جائے تو ڈٹ کر لڑو اور یہ یقین رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔ صحیح بخاری ہی میں مشہور عربی شاعر امرؤ القیس کے چند اشعار کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ سلف میں یہ پسند کئے جاتے تھے۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ جنگ اس پردہ نشین عورت کی طرح ہے جو اول وہلہ میں تو خوب صورت دوشیزہ لگتی ہے لیکن خوب بھڑک اٹھنے کے بعد جب واپس جارہی ہوتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ وہ تو سفید بالوں والی بوڑھی مائی تھی جسے منہ لگانے کو جی نہ مانے، یعنی جنگ کی طرف شروع میں تو بڑی جذباتی رغبت ہوتی ہے ، لیکن نتائج بڑے پریشان کن ہوتے ہیں۔ ایک اور عربی شاعر نے کہا ہے کہ لڑائی کا آغاز در اصل کسی چھوٹی بات سے ہی ہوتا ہے، اور لڑائی کی آگ میں پھر صرف لڑائی شروع کرنے والا اکیلا نہیں جلتا۔ جنگ میں انہیں بھی شامل ہونا پڑجاتا ہے جو اسے پسند نہیں کررہے ہوتے، جیسے تندرست اونٹ خارشی کے قریب جاکر خارشی ہوجاتے ہیں۔

قومی وقار اور غیرت پر سمجھوتا نہیں ہوسکتا، حکمران چونکہ اپنے عوام کا وکیل ہوتا ہے اس لئے ہر لمحہ قومی مفاد ہی پیش نظر رکھنا اس کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ دشمن اگر جنگ مسلط کرنے پر ہی تلا ہوا ہو تو ہرسطح پر اس کے لئے تیار رہنا قومی فریضہ بھی ہے اور بحثیت مسلمان ہمارے لئے دینی فریضہ بھی۔ جنگ کی تیاری، اس کا جذبہ اچھی چیز ہے جنگی جنون صرف اسلحہ فروشوں یا مخصوص مفادات کے حامل لوگوں کے مفاد میں ہوتاہے جیسا کہ بھارت کے بعض حضرات کا تجزیہ ہے کہ بی جے پی بعض اوقات اپنے سیاسی مفادات کے لئے بھی جنگی جنون کا ماحول پیدا کرتی ہے۔ البتہ جنگ کی تیاری کبھی جنگوں کی روک تھام کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے۔

میں نے نواز شریف کا اقوام متحدہ میں خطاب نہیں سنا، تاہم جو کچھ معلوم ہورہا ہے وہ یہ کہ انہوں نے کھل کر پاکستانی موقف کو پیش کیا ہے اور کھری کھری باتیں کی ہیں۔ یقینا اس پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں یہی ان کی ذمہ داری تھی۔ تاہم اسی کے ساتھ میرا اندازہ یہ ہے کہ جہاں تک بس چلا نواز شریف حالات کو جنگ کی طرف لے جانے سے گریز کریں گے، اس پر لوگ انہی انہیں مودی کا یار ہونے کا طعنہ بھی دیں گے، خاص مقتدر جگہوں سے یہ طعنہ چلایا بھی جائے گا، لیکن نواز شریف اسے بھی سہہ لیں گے۔ میری راے یہ ہے کہ اس معاملے میں بھی ہمیں اپنی سول حکومت پر اعتماد کرنا چاہئے ، یہ بھی مجھے توقع ہے کہ اگر حالات زیادہ خراب ہوئے تو نواز شریف باقی سیاسی قیادت کو بھی اعتماد میں لیں گے۔

پاکستان اور بھارت کے عوام اور حکومتوں میں ایک فرق ہے۔ بظاہر تو بھارت میں مسلسل سیاسی عمل چلتا رہا ہے اس لئے وہاں پاکستان کے مقابلے میں سیاسی شعور زیادہ پختہ ہونا چاہئے، لیکن عملا صورت حال یہ ہے کہ وہاں جب بھی الیکشن آتے ہیں پاکستان کے خلاف بھأنت بھانت کی بولیاں شروع ہوجاتی ہیں، گویا وہاں کے بعض سیاست دان یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان بھی ایک الیکشن فیکٹر ہے۔ جبکہ پاکستان میں ہر الیکشن صرف یہیں کے مسائل ومعاملات پر لڑا جاتا ہے، اب بھارت الیکشن کا موضوع نہیں بنتا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کے عوام کے ذہنوں پر بھارتاس طرح سے سوار نہیں ہے۔ بھارت کے پردھان منتری پہلی مرتبہ اس منصب پر آئے ہیں، تجربہ تو خیر ہے ہی نہیں، ان کی سمجھ بوجھ پر بھی طرح طرح کے سوالات اٹھائے جاتے ہیں جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم پختہ کار اور تجربہ کار ہیں۔ جہاں تک ان کا بس چلے،  اور یہ بس کہاں تک چلتا ہے الگ سوال ہے،  وہ بین الاقوامی پنگوں سے زیادہ اندرونی معاملات پر توجہ دینے کو ترجیح دینے کا رجحان رکھتے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا ممبئی حملوں کے موقع پر بھی انہوں نے اپنی سیاست کی پرواہ کئے بغیر کہا تھا کہ ہمیں اپنا گھر درست کرنا ہوگا۔ لہذا کوئی ضروری نہیں کہ سرحد کے اس طرف اگر سب سے اونچی کرسی پر ایک نا عاقبت اندیش اور نا تجربہ کار بیٹھا ہوا ہے تو ہم بھی اپنے وزیر اعظم سے کہیں کہ تم بھی ویسے ہی بن جاؤ۔ دونوں ملکوں کے لئے سوچنے کی بات یہ ہے کہ اپنا گھر بنانے میں زیادہ مزا ہے یا پڑوسی کا گھر اجاڑنے میں بھلے اس میں اپنے درو دیوار بھی لرز جائیں، اول وہلہ میں دوسری بات زیادہ مزے دار لگتی ہے لیکن تجربے میں پہلی بات۔ بات وہی ہے جو اوپر امرؤ القیس کے حوالے سے نقل کی۔ یاد رکھیں آج کی جنگوں میں فاتح اور مفتوح دونوں بری طرح پٹتے ہیں۔

پھر بھی اگر جنگ مسلط ہو ہی جاتی ہے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم یہی ہے کہ ثابت قدم رہ کر لڑو، لیکن مانگو اللہ سے عافیت ہی۔

مفتی محمد زاھد معروف عالم دین اور علمائے حق میں سے ہیں۔ آپ جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے منتظم اعلی اور سیاسی بصیرت کے حامل ہیں۔ 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”تخریب نہیں تعمیر۔۔۔۔ مفتی محمد زاھد

  1. مودی تو موذی پے اس کی سیاست کا انڈیا کو زیادہ نقصان ہوگا پہلے بھی بی جے پی کی حماقت کی وجہ سے پاکستان نے ایٹمی تجربات کئے اور پاکستان دفاعی لحاظ سے ناقابل تسخیر ہو گیا اب اگر دوبارہ حماقت کی تو یہ پاکستان فتح پر منتج ہوگا

Leave a Reply to Abdul Hameed جواب منسوخ کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *