پندرہ جھوٹ، اور تنہائی کی دھوپ۔۔تحریر: محمداقبال دیوان/قسط4

SHOPPING
SHOPPING
SALE OFFER

یہ کہانی ہمارے مشفق و مہرباں دیوان صاحب کی ”تیسری کتاب پندرہ جھوٹ اورتنہائی کی دھوپ“کی فلیگ شپ اسٹوری ہے۔ ہم سات اقساط پر مبنی یہ کہانی مکالمہ کی  دوست  پروفیسر نویدہ کوثر، کی فرمائش پر شائع کرر ہے ہیں۔ امید ہے پسند آئے گی۔چیف ایڈیٹر۔انعام رانا

تعارف

پروفیسر نویدہ کوثر
فیصل آباد
اقبال دیوان کی تحریر کمال ہی کمال ہے۔
پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ۔
بے مثال کہ محبت کی اتنی دلنشین صورت پہلے کبھی پڑھی ہی نہیں بالکل ایسے جیسے سرمئی سی شام ہو،دودھیاصبح کی مسکرا ہٹ میں غنودگی کا رس بھرا ذائقہ ہو،جیسے بادل زمین پہ اتر آئے اور کسی کو آغوش میں لے ،بھگو کر شرارت سے مسکاتا چلا جائے۔اس سحر آفرین کہانی میں تو محبوب ایک طرف رہا،خود عاشق بھی ایسا ہے کہ جس پہ عشق عاشق ہو جائے؎۔۔۔۔جنون اسے باہوں میں بھر لے اور اپنی بیخودی کا مزہ چکھ لے۔
ان گنت رنگوں کی بارش سے رنگا یہ عاشق کمال ہے کہ شرابور ہو کر بھی سوکھے چمک دار سپید لباس میں اجلے پن کی مثال ہے۔۔محبوب کی نسائیت اور حسن فتنہ ساز کا بیان مرد تو مرد۔خواتین کے دل کے ساز پر بھی استاد ولایت حسین کا راگ شنکراسنوا دیتا ہے۔۔یہ عالم کہ گدگدا ہٹ اور اکساہٹ میں ایسی نزاکت بھر ا سراپا سمو کر رکھ دیا ہے کہ سسکی کو چٹکی میں بھر کر اس بدن پہ پھونک دو تو نیل پڑ جائے۔۔آپ نے ایسا دیکھا کبھی۔نہیں ناں۔ چلیں بسم اللہ پڑھ کر چلتی گاڑی میں سوار ہوجائیں اور یہ نظارے اقبال دیوان کی کہانی میں دیکھ لیں۔سرشار بوسے،جسمانی تعلق کی الوہیت اور محبت کے جزیروں کی یہ مثلث آپ کو صحرا میں سمندر کا تجربہ کراتی ہے کیونکہ اقبال دیوان کی تحریر کمال ہی کمال ہے۔
سن  2000 ء  کی یہ کہانی کمپیوٹر کے ان دنوں کی یاد ہے جب یاہو میسنجر بغیر فون اور بغیر کیمرے کے ہوتا تھا۔اس وجہ سے خود سے دور ہٹ کر کوئی اور روپ دھار کر  جینا بہت آسان تھا۔

بہت پیار
مسحور و مسرور
آپ کی دعا کی طلب گار
نویدہ کوثر

ماہم جیسی

گزشتہ سے پیوستہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عامر شادی میں ضرور آیا مگر ایک رسمی سی بات چیت کے بعد اس نے نہ تو کوئی مزید دلچسپی ماہم میں دکھائی نہ ہی وہ رقص میں شریک ہوا۔ وہ اور دولہا دور بیٹھے باتیں کرتے رہے۔مشہود کی ایک کزن بھی اس سے مستقلاً چپکی رہی جو شاید پاکستان سے ہی آئی تھی۔
ماہم کو اس کی بے اعتنائی کا ہلکا سا صدمہ تو ہوا،مگر رولا کہنے لگی کہ ” مردوں میں مستقل مزاجی کم ہوتی ہے۔ وہ جب پیار جتلائیں تو محبوبہ پر لازم ہوتا ہے کہ وہ انہیں اپنی جانب،راغب رکھنے کے لئے کچھ چمتکار دکھائے۔ ماہم نے یہ موقع اپنے ہاتھوں سے ضائع کردیا ہے تو اب اسے اس ایموشنل ہتھیاچار (جذبا تی غارت گری) کا شکوہ نہیں ہونا چاہیئے۔”

چوتھی قسط۔۔۔۔۔۔۔آغاز

جب وہ چندریکا پاٹل کی مہندی کی تقریب میں جانے کے لیے تیار ہوئی تو اس نے دروازہ بند کرکے اپنا ویب کیمرہ،کمپیوٹر پر  آن کردیا اور رافع کو اپنی ساری سجاوٹ،اپنے لباس کی پھبن، رخصت ہونے سے کچھ دیر قبل تک دکھائی اور کہنے لگی کہ وہ بتائے کہ ” آج اگر وہ یہاں ہوتا تو کیا سوچتا،کیا کرتا۔ وہ کہنے لگا کہ وہ آج رات اتنی حسین لگ رہی ہے کہ اسے لگتا ہے کہ وہ شاید کوئی خواب دیکھ رہا ہے۔وہ تقریب سے واپس آتے تو وہ کیا کرتا؟ “اس نے ایک ایسی بات کہی کہ ماہم شرما کر سرخ ہوگئی۔ وہ کہہ رہا تھا کہ ” وہ ضد کرتا کہ تقریب سے جلدی گھر واپس چلو،وہ پس و پیش کرتی تو وہ وہیں روٹھ کر بیٹھ جاتا۔ وہ بدستور اسے تنگ کرنے کے لئے اپنی سہیلوں کے ساتھ گربہ ناچنے میں لگی رہتی اور واپسی پر کار ہی میں ا س کی گود میں لیٹ جاتی۔وہ واپس آن کر کمرے میں اس کا پسندیدہ گیت

ع جانے کتنوں دنوں کے بعد گلی میں آج چاند نکلا،

تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا سی۔

ڈی۔پلیئر پر لگا کر اسے منانے کے لئے ناچتی۔ پھر وہ کیا کرتا۔ اس نے ایک ایسی بات کہی جس کو سننے کے لئے ماہم مدتوں سے اس محبت میں بے تاب تھی۔اس بات کو سن کر وہ عامر کی تقریب میں اس سے برتی گئی بے رخی کو بالکل ہی بھول گئی۔

وہ بات یہ تھی کہ وہ ماہم کو انہیں کپڑوں میں ہی گھسیٹ کر بستر میں لے جاتا کچھ کپڑے اترتے کچھ مسکتے کچھ پھٹ کر لیرا لیرا ہوجاتے اور اسی رات وہ ایک بیٹے کی ماں بن جاتی ماہم نے شرما کر پوچھاکہ” وہ اس کا نام کیا رکھتا؟”
اس نے کچھ سوچ کر کہا “شایان اور اسے پیار سے شے پکارتے۔”
ماہم اس بات کو بارھواں جھوٹ شمار کرتی ہے.۔ اب ڈائری کے اس صفحے پر اس کے صرف تین جھوٹ اور لکھنا باقی ہیں۔ ماہم کا دل نہیں چاہ رہا کہ اگر جھوٹ کی تعداد زیادہ ہوجائے تو وہ صفحہ پلٹے اور انہیں لکھ لے۔زندگی کے کچھ اوراق ایسے ہوتے ہیں جنہیں آپ کبھی بھی پلٹنا نہیں چاہتے۔صفحہ پلٹ کر وہ زندگی کو کوئی صفائی پیش نہیں کرنا چاہتی۔
ماہم کو لگا کہ کھڑکی سے براہ راست آتی ہوئی دھوپ اب کچھ ناقابل برداشت ہوگئی ہے۔وہ کولہوں پر ہاتھ رکھ کر بمشکل کھڑی ہوئی اور کرسی اس نے دھوپ کی مخالف سمت میں کرلی۔یہاں سے وہ بچوں کے پوتڑوں Diapersکا وہ بل بورڈ دیکھ سکتی ہے جس کے عین سامنے لیمسی پلازہ  کی وہ فارمیسی ہے، جس کے سامنے وہ پہلی دفعہ رافع سے ملی تھی۔
بالکونی میں گلاب کے دو پودے رکھے ہیں۔یہ اس نے وہاں فارمیسی سے ذرا ہٹ کر ایک ایرانی گل فروش سے خریدے تھے۔اس نے کہا تھا کہ ” انہیں دھوپ لگتی رہے تو یہ جلدی پھول دیں گے”۔”وہ کیوں؟” اس نے عربی میں جب اس گل فروش سے پوچھا تو وہ کہنے لگا کہ” دھوپ لگنے سے ان میں Stress پیدا ہوتی ہے جو تخلیق کے عمل کے لئے بہت ضروری ہوتی ہے۔”
اس گل فروش کا ایک بھائی پرندوں کی فروخت کا کام کرتا ہے۔ماہم نے سوچا ہے کہ وہ سلمان کو اس کی چھٹی سالگرہ پر ایک افریقن گرے پیریٹ کا تحفہ دے گی۔اس نے سلمان کو وہ پرندہ دکھا بھی دیا ہے۔سلمان نے اسے دیکھتے ہی دو اہم فیصلے موقع پر ہی کرلئے۔ایک تو وہ اس کا نام ٹم۔بک۔ ٹو۔ رکھے گا۔یہ نام اس نے ٹی وی پر سنا تھا۔ماہم نے اسے بتایا بھی کہ ” یہ تو افریقہ کے ملک مالی کے ایک شہر کانام ہے” مگر وہ کہنے لگا۔”یہ نام اسے اچھا لگتا ہے۔”اس کے دوسرے فیصلے کا سن کر ماہم کو کچھ دکھ بھی ہوا کہ ” وہ اسے اپنے نئے بھائی یا بہن سے زیادہ پیار کرے گا۔”اس نے پرندہ بیچنے والے سے پوچھا کہ” وہ ان پرندوں میں نر مادہ کا کیسے فیصلہ کرتے ہیں؟۔۔۔” تو وہ کہنے لگا کہ ”   یہ فیصلہ انہیں پر چھوڑدینا زیادہ بہتر ہوتا ہے”۔ ماہم کو تو یہ جواب بہت شرارتی اور مزاحیہ لگا پر سلمان کو اس دکاندارکا یہ جواب پسند نہیں آیا۔

گھر آکر ماہم نے اس  کو سمجھایا کہ ” وہ اس کے پیٹ کو چھو کر بتائے کہ یہ بھائی ہے کہ بہن ہے؟۔۔”اس نے انکار کردیا تو ماہم اداس ہوگئی۔اسے لگا کہ اس نئے وجود کو اپنا بھائی یا بہن تسلیم کرنا شاید سلمان کے لئے مشکل ہوگا۔
سلمان پیدا ہوا تو ماہم کی مرضی تھی کہ رافع کی قربتوں کے حوالے سے اس کا نام بھی شایان رکھے اور اسے پیار سے شے پکارے۔ مکرم جاہ نے ضد کی کہ وہ اپنے بیٹے کا نام کسی صحابی کے نام پر رکھنا چاہتا ہے۔سلمان مکرم جاہ ایک پر شکوہ نام ہے۔ ماہم نے اس کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیئے۔
سلمان کو پھر بھی وہ پیار سے شے ہی پکارتی ہے۔اس حوالے سے اسے بارھویں جھوٹ کو شمار کرتے ہوئے کچھ دکھ بھی ہوا۔ اس لئے کہ جب وہ پہلی دفعہ ملے تو اس نے پوچھاکہ کیا “اس کے بیٹے کا نام شایان ہے؟”۔۔
اس نے سر جھکا کر کہا “جی۔”
” اور کیا وہ اسے پیار سے شے پکارتے ہیں؟۔۔”ماہم نے دوبارہ پوچھا۔اب کی بار بھی اس کا جواب اثبات میں تھا۔
“اس کے دوسرے بیٹے کا نام کیا ہے؟”ماہم نے ایک سوال اور کیا۔۔
“غفران ہے۔۔”اس نے بہت آہستگی سے جواب دیا۔

سی ڈی پلیئر
پوسٹر۔ہم دل دے چکے صنم
پوسٹر۔ہم دل دے چکے صنم

اس ایک جھوٹ نے ماہم کو اس ملاقات میں بہت تکلیف دی۔وہ رافع سے خوش تھی پر یہ سلمان۔ اسے لگا کہ اس کی زندگی سے کچھ بھوت نادانستگی میں ناموں کے حوالوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چمٹ گئے ہیں۔اُسی لمحے ماہم نے فیصلہ کیا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے وہ اس کے کہے گئے ہر جھوٹ کو اپنی زندگی میں ہر سچ پر فوقیت دے گی اور کوشش کرے گی کہ وہ اس کے وجود سے وابستہ ہر سچ کو، اپنے سے بیان کئے گئے ہر جھوٹ کے گرد،پیلے پھولوں والی ایسی بیل کی طرح چڑھا دے گی کہ وہ انہیں ہر دھوپ سے بچاتی رہے۔بجز ایک دھوپ کے، اس سے دوری کی وجہ سے پیدا ہونے والی،تنہائی کی دھوپ سے۔ماہم نے بہت کوشش کی اسے کہیں سے اس پیلے پھولوں والی بیل کا نام معلوم ہوجائے۔ اس کے پہلے میاں،مکرم کو پھولوں کے بارے میں بہت کچھ پتہ تھا۔
اس کے آبائی قصبے عادل آباد میں بارش بہت ہوتی تھی اور وہاں پھول بھی انواع اقسام کے ہوتے تھے مگر بارہا پوچھنے پر بھی اس نے اس بیل کا نام اسے نہیں بتایا۔ماہم کو شک ہے کہ وہ شاید یہ بھانپ گیا تھا کہ اس ایک بیل کا نام پوچھنے سے شاید کوئی ایسی یاد وابستہ ہے جن سے ماہم اس طرح چمٹ کر رہنا چاہتی ہے جیسے وہ بیل دیوار سے چمٹ کر اوپر چڑھ جاتی ہے۔ اسے پیار سے گلے لگا کر تھامے رہتی ہے،اسے دھوپ سے بچائے رکھتی ہے۔وہ اس تعلق میں ماہم کو ہر ایسی یاد سے محروم رکھنا چاہتا تھا جو رفاقتوں کے وحشیانہ لمحات میں بھی اسے مکرم سے پرے دھکیلتی رہتی تھی۔
ماہم ایک دفعہ باتھ روم جانے کے لئے اپنی کرسی سے اٹھتی ہے اور واپس آتے ہوئے وہ اپنا سی ڈی پلئیر آن کردیتی ہے نیرہ نور فیض کی مشہور غزل وہ گارہی ہے
ہم کہ ٹھہرے اجنبی، اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا، کتنی ملاقاتوں کے بعد
ماہم جب بھی یہ غزل سنتی ہے اسے رافع بہت یاد آتا ہے۔ویسی باتیں پھر کسی نے اس  سے نہیں کیں۔مکرم کی دنیا میں معاشیات کا بہت غلبہ تھا، معاشیات کا ویسا ہی ناپختہ مگر زیادہ حقیقت پسندانہ غلبہ، خود ہی دولت کمانے کے حوالے سے ا مجد کے ہاں بھی ہے ۔ایک کے ہاں یہ غلبہ خواہش اور علمیت کے پردے میں چھپا ہوا تھا تو دوسرے یعنی شوہر اے بی جے کے ہاں، یہ مال تجارت کے طور پر ہر جگہ عیاں ہے۔مگر ماہم سے مکرم نے کبھی دولت کو موضوع بحث نہیں بنایا۔ وہ ایک بہت بند بند سا مرد تھا۔ مکرم کو تو لگتا تھا کہ کارپوریٹ فائی نانس کا رسالہ فورچیون ہمیشہ ازبر رہتا تھا۔دونوں کے ہاں شعر و شاعری، فلمیں، مصوری کتابیں ا ور کھیل کا تذکرہ ہمیشہ مفقود تھا۔
وہ ایک دفعہ مکرم کے ساتھ ایشوریہ رائے اور سلمان خان کی فلم ہم دل دے چکے صنم دیکھنے گئی۔واپسی پر کہیں کھانا کھانے کے لئے بیٹھے تو اس نے ایک ایسی بات کہی کہ ماہم کا فلم کا سارا مزہ غارت ہوگیا۔ وہ کہنے لگا ” اسے لگتا ہے کہ کبھی نہ کبھی فلم کی طرح کہیں سے کوئی سمیر(سلمان خان) بھی اس کی زندگی میں داخل ہوگا اور وہ فلم کے ہیرو اجے دیوگن کی طرح منہ دیکھتا رہے گا۔ ” اسے ان دنوں تیسرا مہینہ لگا تھا اور وہ موڈ کے معاملے میں بہت Touchy ہوگئی تھی۔
ماہم نے کھانے کی پلیٹ دور کرتے ہوئے تنک کر کہا کہ ” اگر میری زندگی میں کوئی سلمان خان ہوتا تو پھر مکرم جاہ کا دور دور تک کوئی نشان نہ ہوتا۔” مکرم نے اسے مزید غصہ دلانے کے لئے کہا کہ ” اگر کوئی سلمان خان نہیں تو وہ جب پاس پاس ہوتے ہیں تو وہ کہاں دور رور، کھوئی ہوئی ہوتی ہے؟!۔۔” اس رات مکرم نے اسے منانے اور پاس آنے کی بہت کوشش کی مگر وہ آخری رات تھی جس کے بعد وہ کبھی یکجا نہ ہوئے۔ ماہم نے اگلی صبح جا کر ایک گدا خرید لیا اور پلنگ سے دور ایک کونے میں اسے ڈال کر اسی پر علیحٰدہ سونے لگی۔ اسی رات سے ماہم نے اعلی الصباح چار بجے اٹھ کر تہجد پڑھنا شروع کردیا۔

پاس آنے اور دور جانے کے لمحات کا اگر کوئی بریک پوائنٹ ہوتا ہے تو اس کے مکرم سے تعلق کا نقطہ ء تخریب یہی ایک لمحہ تھا جو اس کے کھانے پر کہے گئے اس ایک جملے سے آیا۔رولا کو اس نے کہا ” With that single sentence something for him inside my heart died forever”(اس ایک جملے سے اس کے لیے میرے دل میں کوئی چیز ہمیشہ کے لیے فنا ہوگئی ہے )۔
ان ہی دنوں وہ رافع سے زیادہ قربت محسوس کرنے لگی۔شاید وہی لمحہ تھا جس میں اس نے سوچا کہ کیا اچھا ہوگا کہ وہ اس کے کہے گئے جھوٹ کی ایک فہرست تو بنائے۔اس کی ڈائری میں اس کی ہر بات کا کسی نہ کسی طرح اندراج تو تھا مگر ماہم نے انہیں جھوٹ سچ کے معیار پر پرکھتے ہوئے درج نہیں کیا تھا۔
آج پندرہ دسمبر ہے۔ٹھیک چھ سال پہلے اس کی رافع سے ہونے والی واحد ملاقات کا یوم تجدید۔وہ اس کی حسین یادوں کے ایک لذیذکیک کے گرد جھوٹ کی پندہ شمعیں جلائے بیٹھی ہے۔سعدیہ اور امجد کو گئے ہوئے پورے ڈھائی گھنٹے ہوچکے ہیں۔ وہ کرسی کھڑکی سے ذرا اور دور کرکے بیٹھ گئی۔ صحرا کی دھوپ بہت چمکیلی ہوتی ہے۔مختلف بلڈنگوں پر لگے شیشوں پر منعکس ہونے والی روشنی کی وجہ سے یہ اسے  ا ب کچھ چبھ سی رہی ہے۔اس نے غور سے دیکھا تو ایک معصوم سی کلی گلاب کے ایک پودے پر آہستہ سے اپنا سر اٹھا رہی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی گئی۔بوتل سے اس نے اپنے لئے پانی نکال کر پیا اور ایک گلاس بھر کر آدھا آدھا دونوں پودوں میں ڈالا۔ریفریجریٹر سے ایک کروساں (Croissant) مائیکرو ویو اوون میں گرم کرکے ایک پلیٹ میں بلیک کرنٹ(Black Currant) کا جام، کچھ مکھن اور گرم کئے ہوئے دودھ کے گلاس میں،اکے شیا (کیکر) شہد کے دو چمچ ڈالے۔یادوں کی اس برسات میں وہ اپنا ناشتہ کرنا بھول گئی ہے۔

آؤٹ ہاؤس
گرے پیرٹ
ال پچی نو
پرشین کیٹ فلو
ڈیش ہاؤنڈ

اس نے جب رافع سے اپنی تصویر بھیجنے کو کہا یا ویب کیم لگانے کا کہا وہ یہ کہہ کر ٹال گیا کہ ” ایک تو وہ بہت کیمرہ شائی ہے۔دوسرے وہ دنیا میں ان چند مردوں میں سے ہے جنہیں اسپیڈ سے وحشت ہوتی ہے۔اس لئے وہ کار نہیں چلاتا۔اس کا بس چلے تو وہ کوچوان والی ایک دو گھوڑوں کی بگھی رکھ لے۔وہ ان مردوں میں سے بھی ہے، جو نہ تو سیل فون رکھتے ہیں (ماہم کو یاد آیا کہ اس نے جب اس کی خیریت پوچھنے کے لئے فون کیا تو وہ ملتان کا نمبر تھا۔دو دن بعد اس نے جب اس نمبر پر اس کو فون کیا تو پتہ چلا کہ یہاں کوئی رافع نہیں ہوتا۔یہ شجاع آباد ملتان میں کسی زرعی دوائیں بنانے والی کمپنی کا گیسٹ ہاؤس ہے۔ یہاں آج کل کوئی برکت کھچی صاحب سندھ سے آن کر ٹھہرے ہیں۔ چوکیدار کہنے لگا کہ وہ اگر بات کرنا چاہے تو وہ انہیں ان کے کمرے سے بلا سکتا ہے۔ماہم نے انگریزی میں شٹ Shit کہہ کر فون رکھ دیا)۔اس کا کوئی بینک اکاؤنٹ یا کریڈیٹ کارڈ بھی نہیں۔یہ لیپ ٹاپ اس کی ایک سوتیلی بہن کا ہے جو برطانیہ اپنے شوہر کے ہاں جاتے ہوئے پیچھے چھوڑ گئی تھی۔وہ مکمل طور پر نان ڈیجیٹل مرد ہے۔
وہ اب گھر کے آؤٹ ہاؤس میں رہتا ہے،یہاں اس کے ساتھی، تین پالتو جانور بھی رہتے ہیں۔ایک افریقن گرے پیریٹ جس کا نام ایک مشہور اداکار کے نام پر اس نے ال پچینو Al-Pacinno رکھا ہوا ہے۔ ایک بلا جو پریشین کیٹ فلو(فرنچ زبان میں شریر لڑکا ہے اور گلی کی بلیوں میں بالکل بریڈ پٹ سمجھا جاتا ہے۔(ماہم اس کی بات پر ROFL لکھ کر بہت دیر ہنستی رہی۔ شکر ہے اس وقت گھر میں صرف اس کی چھوٹی بہن تھی جو نہا رہی تھی ورنہ وہ اسے پاگلوں کی طرح ہنستا دیکھ کر اپنی امی کو ضرور اس کا علاج کرانے کا  کہتی)۔ROFL کا مطلب کمپیوٹر کی چیٹ کی اصطلاح میں رولنگ آن فلور وتھ لافٹر ہوتا ہے۔جب اس کی ہنسی رکی تو تیسرا جانور کونسا ہے وہ ایک کالے رنگ کا ڈیش ہاؤنڈ کتا ہے جو کچھ بھی ہوجائے ہرگز نہیں بھونکتا۔ اس لئے اس نے اس کتے کانام whisper یعنی سرگوشی رکھا ہے۔یہ اس کا تیرھواں جھوٹ تھا۔
ماہم نے اس کی موجودہ مالی حالت کا اندازہ کرنے کے لئے اسے پوچھا کہ” اسے کرائے کی مد میں کتنی آمدنی ہوجاتی ہے اور وہ ان میں سے کتنی رقم پس انداز کرلیتا ہے؟”۔۔ اس نے بتایا کہ ” وہ جو بھی پیسے آتے ہیں انہیں اپنی الماری میں ایک بکس میں رکھ دیتا ہے اسی میں سے نکال کر خرچ کرتا رہتا ہے۔ کرایہ شاید اسے ڈیڑھ لاکھ روپے کے قریب رقم مہیا کردیتا ہے جو اس کی ضرورتوں کے لئے بہت کافی ہوتا ہے۔اُسے پیسے چھونے سے گھن آتی ہے۔ماہم نے کہا “کیا وہ اس لئے انہیں چھونا ناپسند کرتا ہے کہ وہ نہ جانے کس طرح کے گندے شندے ہاتھوں میں گئے ہوں گے؟ ۔۔”
وہ کہنے لگا “نہیں وہ اتنا صفائی پسند نہیں سستے ہوٹلوں پر بیٹھ کر کھانا بھی کھالیتا ہے اور جن عورتوں کے ساتھ وہ سوتا ہے وہ بھی کوئی بہت صفائی پسند نہیں ہوتیں۔”ماہم اس کی بات سن کر بہت پٹ۔ آف Put-Offہوئی اور کمپیوٹر مزید کچھ کہے سنے بغیر بند کردیا۔
اگلے دن اپنی امی سے اس نے ضد کی کہ وہ بھی یہ تین جانور پالیں مگر ماں نے اس کی یہ فرمائش رد کرتے ہوئے کہا کہ ان تین کمروں کے فلیٹ میں ان سے یہ سب کچھ برداشت نہیں ہوگا۔چونکہ یہ سب جھوٹ ایک ہی سلسلے کی کڑی تھے لہذا اسے وہ چودھواں جھوٹ شمار کرتی ہے۔۔
ماہم سے اگرپوچھا جائے کہ اس کے پسندیدہ جھوٹ کون سے ہیں تو وہ یقیناً رافع کے دسویں،تیرھویں اور چودھویں جھوٹ کو ٹاپ تھری جھوٹ کہے گی۔یہ اپنی اوریجنلٹی (Originality) اور رومانس میں اس کی رہی سہی مدافعت کے پرخچے اڑا بیٹھے تھے۔
ماہم کو لگا کہ وہ اپنے سی ڈی پلئیر پر گیت سنتے سنتے کچھ سو گئی تھی جب وہ عالم غنودگی میں چلی گئی ، اس وقت اس پر وہ گیت بج رہا تھا کہ ع دّیا جگے ساری رینا نندیا نہ آئے۔۔۔۔۔رافع سے عشق کے ابتدائی ایام میں وہ یہ گیت بہت سنا کرتی تھی۔وہ جب وہ کمپیوٹر بند کرکے چلا جاتا تھا تو وہ اپنے بستر پر لیٹی کھڑکی سے باہر آسمان پر تاروں کو دیکھتی ہوئی اس گانے کی مدھرتا کو آسمان کے تاروں میں اپنی گنگناہٹ کی باز گشت کے طور پر سنا کرتی تھی۔اب جب وہ جاگی ہے تو فلم رضیہ سلطان   کا وہ گیت بج رہا  ہے جو   شاید لتا منگیشکر کے پسندیدہ گیتوں میں سے ایک ہے کہ ع خواب بن کر کوئی آئے گا تو نیند آئے گی۔ وہ یہ بات چیک کرنے کے لئے اپنی ڈائری کی ورق گردانی کرتی ہے۔نہیں اس سے غلطی ہوئی ہے۔ایک جگہ اس نے لکھا ہے کہ رافع نے اسے بتایا کہ عامر خان نے یہ سوال لتا منگیشکر سے کیا تھا کہ ان کے گائے ہوئے ایک لاکھ سے اوپر گیتوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ گیت کونسا ہے تو انہوں نے رضیہ سلطان کا ایک گیت جسے کیفی اعظمی نے لکھا تھا کہ ع اے دل ناداں آرزو کیا ہے،جستجو کیا ہے۔اسے قرار دیا تھا۔ اسے یاد ہے کہ فلم دلہن ایک رات کی کے گیت ع سپنوں میں میرے اگر تم آؤ تو سو جاؤں والے گیت کے بعد اسی سی۔ ڈی میں آئے گا۔راجہ مہدی علی خان کے لکھے ہوئے اس گیت کا سوچتے ہی رافع کے حوالے سے یوں ہی خود بخود نیند آجاتی تھی۔
اس نے یہ سب گانے اس سے پوچھ کر لکھ لئے تھے اور ایک انڈین میوزک شاپ سے ان کی سی۔ڈی۔بنوالی تھی۔ امجد نے جب اسے یہ سب گیت سنتے دیکھا تو وہ ایک دن چپ چاپ جب وہ غسل کررہی تھی وہ سی۔ ڈی نکال کر لے گیا۔غسل سے فارغ ہوکر وہ باہر آئی اور اس کے دکان پر چلے جانے کے بعد اپنا سی۔ ڈی پلئیر آن کیا تو اس میں نو۔ ڈسک کا پینل روشن ہوگیا۔ اسے بہت غصہ آیا۔اس نے دکان پر فون پر کیا تو وہ گاہکوں میں مصروف تھا اس نے ٹالا کہ وہ شام کو بات کریں گے۔ وہ پورا دن مختلف اندیشوں میں گھری رہی۔ اس دن اسے الٹیاں بھی بہت ہوئیں۔یہ اس کے حمل کا تیسرا مہینہ تھا۔شام کو جب وہ واپس گھر آیا تو وہ سی۔ڈی بھی اس کے پاس تھی اور اس کی دو کاپیاں اور بھی بنواکر لایا تھا۔اس نے کہا کہ اکثر سی۔ڈیاں خراب ہوجاتی ہیں اس لئے اس نے احتیاطاً ایکسٹرا کاپیاں بنوالیں۔ماہم نے اس کے گلے لگ کر کہا” ہاؤ سویٹ آف یو۔”

تنہائی کے سو سال
اپنی سوگوار بیسواؤں کی یاد میں
مارکیز اور ان کی قابل قدر اہلیہ مرسڈیز
ہسپانوی زبان کے عظیم شاعر پابلو نرودا
سروننٹاس کی ڈان کی ہوٹے

اس کی امی ٹھیک کہتی تھیں وہ مرد جو مالی طور پر خوشحال ہوں۔محبتیلے ہوں، جن کے ساتھ کوئی Excess Baggage بھی نہ ہو ں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ شریف بھی ہوں اور تمام تر دشواریوں اور اختلافی حقیقتوں کے باوجود شادی کے بھی خواہشمند ہوں وہ واقعی ایک جنس نایاب ہیں۔ اس کی یہ ادائے محبت کا اظہار دیکھ کر امجد اسے گھسیٹ کر بستر میں لے گیا۔
وصال کے وہ ابتدائی لمحات تھے جن میں،اس نے امجد کو کھلی آنکھوں سے دیکھا۔اس کے بعد وہ پھر سے غائب ہوگئی۔ اس کے ذہن میں رافع، سلمان اور شے کے ناموں کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔اسے لگا کہ شاید اس کے وجود میں کوئی ایساالارم سسٹم ہے،جہاں ذرا سی بے وفائی پر ایک نام کی گھنٹیاں وارننگ کے طور پر بجنے لگتی ہیں اور وہ سپلائی لوڈ زیادہ ہونے پر ٹرپ Tripکر جاتی ہے۔
صبح امجدنے بہت آہستگی سے اسے کہا کہ رات اسے ماہم کا آنکھ کھول کر دیکھنا بہت اچھا لگا تھا۔وہ شرما کہ رہ گئی۔ڈورتھی نے ایک دن یوں ہی باتوں باتوں میں اسے بتایا کہ جیمز ررولنگ جسے بہت سی عورتیں برتنے کا موقع ملا تھا وہ کہا کرتا،ان لمحاتِ وصل میں عورت کی ساری عریانی اس کی آنکھ میں سمٹ آتی ہے۔ماہم کو افسوس ہوا کہ جانے وہ اپنی موجودہ جسمانی ہئیت میں اس مکمل عریانی کی حالت میں اسے کیسی لگی ہوگی؟
جب سے اسے پانچواں مہینہ لگا ہے امجد کی ضد ہے کہ ماہم اپنا الٹرا ساؤنڈ کرائے تاکہ بچے کی جنس کا علم ہوسکے۔ماہم کو اس میں کوئی دل چسپی نہیں کہ وہ اپنا سونوگراف کرائے۔وہ اسے کہتی ہے کہ ” بس دعا یہ کرو کہ بچہ صحت مند ہو۔ لڑکی ہو تو بھی آپ کی ہے اور لڑکا ہے تو بھی آپ کا ہی ولی عہد ہے۔ ” رات کو وہ اس سے اکثر پوچھتا ہے کہ ” اگر لڑکا ہوا تو وہ کیا نام رکھے گی اور لڑکی ہو تو کیانام رکھے گی؟ “وہ اس کا دل بہلانے کے لئے پوچھتی ہے کہ” وہ کیا نام رکھنا چاہتا ہے؟ ۔۔۔”تو وہ ایک تکلیف دہ سوال کرتا رہتا  ہے کہ” سلمان کا نام اس نے رکھا تھا یا مکرم نے۔”مکرم نے “،ماہم اسے ٹالنے کے لئے کہتی ہے۔وہ چپ ہوجاتا ہے اور اپنی ہار مانتے ہوئے کہتا ہے کہ جو بھی ہو اس کا نام وہ رکھے مگر وہ اسے ابھی بتادے تو اچھا ہوگا۔ماہم کہتی ہے اس نے اس بارے میں کچھ سوچا نہیں ہے۔ وہ سلمان یا اپنی بہن پونم سے پوچھ کر بتائے گی۔
ماہم یہ جاننے کے لئے کہ سلمان ڈورتھی کے ساتھ نادی ابوظہبی للفروسیۃ گیا کہ نہیں، اپنی امی کو فون کیا تو اس کی امی نے کہا کہ اس کی ڈورتھی خالہ آج سویرے ذرا جلدی آگئی تھی۔کچھ اجڑی اجڑی سی لگ رہی تھی۔ماہم نے انہیں بتایا کہ ” اس کی جیمز رولنگ سے ناچاقی ہوگئی ہے وہ کمپنی چھوڑ کر دو دن پہلے بحرین چلا گیا ہے۔ ” اس کی امی نے پوچھا کہ ” وہ کب آرہی ہے؟! ” تو ماہم نے بتایا کہ وہ تین بجے تک آجائے گی۔ڈورتھی کو وہ فون کردے گی کہ کلب سے وہ سیدھی اسے لینے آجائے اور رات کا کھانا اماں کی طرف ہی کھالے اوروہیں ٹھہر جائے۔وہ فون کرکے امجد کو بتادے گی کہ وہ رات اماں کی طرف ہی قیام کرے گی۔
ماہم اب اس فون کے بعد شش و پنج میں ہے کہ وہ تین کاموں میں سے کون سا کام پہلے کرے۔وہ لانڈری اور غسل پہلے کرے، یا رافع کا پندرھواں جھوٹ اپنی پوری تفصیل سے قلمبند کرے کیوں کہ اس میں وہ بھیانک سچ پوشیدہ ہے جس نے اسے پہلے مکرم اور بعد میں امجد کی بانہوں میں دھکیلا، یا وہ سب کچھ ایک طرف رکھ کر رافع کی دی ہوئی گابرئیل گارسیا مارکیز کی کتابMemories of My Melancholy Whores پانچویں دفعہ پڑھے۔
اپنے موضوع کی بے باکی کی وجہ سے یہ کتاب وہاں ابوظہبی میں دستیاب نہ تھی۔ مارکیز کی باقی ساری کتابیں One Hundred Years of Solitude, No One Writes to the Colonel, The Autumn of Patriarch, Of love and other Demons وغیرہ تو سب وہاں دستیاب تھیں۔ اس نے انہیں ایک ہی دن میں ایک ہی دکان سے خرید لیا۔دو ہفتے بعد اسے اچانک ایک دکان پر اس کی Love in the Times of Cholera اور Collected Stories بھی نظر آگئیں تو وہ بھی اس نے خرید لیں۔اس کی کہانیوں کے مجموعے میں ماہم کی پسندیدہ کہانی Innocent Erendira and Her Heartless Grandmother بھی شامل ہے۔
وہ کہنے لگا کہ ” شاید وہ Memories of My Melancholy Whores پاکستان سے نہ لا سکے کیوں کہ وہ اس کے پاس براستہ ایران آئے گا۔ ممکن ہے ان کی کسٹم بھی یہ کتاب ضبط کرلے۔” یہ بھی ایک جھوٹ تھا۔اگر اس کی ڈائری کے صحفے پر لائنیں ختم نہ ہو رہی ہوتیں تو وہ اسے ایک علیحدہ جھوٹ شمار کرتی مگر اس نے یہ ٹال دیا اور اسے اس بڑے جھوٹ کا ہی حصہ مانا جو اب اس کی زندگی کے ہر سچ کا حوالہ بن گیاہے۔
نوبل انعام یافتہ کولمبئین مصنف مارکیز کی تحریروں سے اس کا تعارف رافع نے ہی کرایا تھا۔وہ کہنے لگا کہ” وہ یہ بتائے کہ کولمبیا نے دنیا کو کون سی دو مشہور ترین ہستیاں دیں ہیں؟!” ماہم بہت دیر تک سوچتی رہی کہ وہ کون سی ہستیاں ہیں تو وہ کہنے لگا “گلوکارہ شکیرہ اور وہ لاجواب ادیب گابرئیل گارسیا مارکیز”۔اسے دونوں ہی بہت پسند ہیں۔
شکیرہ جب اپنے اسکول کے گانے کے مقابلے میں حصہ لینا چاہتی تھی۔ اسے اسکول کی موسیقی کی استاد نے یہ کہہ کر جھڑک دیا تھا کہ اس کی آواز بکری جیسی ہے۔اسی طرح مارکیز جب اپنا شہرہ آفاق ناول One Hundred Years of Solitude لکھ رہا تھا۔اس کی غربت کا یہ عالم تھا کہ اس کی بیوی مرسڈیز،محلے ولوں سے ادھار مانگ مانگ کر گھر کا خرچ چلاتی تھی۔ہسپانوی زبان کے مشہور شاعر پابلو نرودا نے مارکیز کے اس ناول کے بارے میں کہا تھا کہ

SHOPPING

“perhaps the greatest revelation in the Spanish language since the Don Quixote of Cervantes
شاید یہ ہسپانوی زبان میں سروناٹس کی شہرہ آفاق تصنیف ڈان کی ہوٹے کے بعد نازل ہونے والی سب سے عظیم کتاب ہے
ماہم نے پوچھا کہ” کیا سب بڑے لوگوں پر اپنے آپ کو منوانے کا عرصہ اتنا ہی سخت گزرتا ہے؟ “تو اس نے کہا “جی ہاں ” اس پر ماہم کہنے لگی کہ” وہ جب لکھے گا یا مصوری کرے گا تو ماہم نوکری کرے گی اور اسے کسی فضول کام میں مصروف ہونے کا طعنہ کبھی نہ دے گی۔”
ماہم جب مارکیز کے اس آخری ناول Memories of My Melancholy Whoresکو پڑھتی ہے (اور امجد سے شادی کے بعد اس نے یہ تین دفعہ پڑھا ہے) تو وہ اپنا موازنہ ناول کی ہیروئین چودہ سالہ دیل گدینہ (Delgadina)سے اور خود امجد کا موازنہ اس کے مرکزی کردار نوے سالہ اسکالر صحافی سے کرتی ہے۔ جس نے اپنی سالگرہ کے دن اپنے آپ کو دیلگدینہ کا تحفہ خود ہی خرید کر سب باشی کے لئے پیش کیا تھا،مگر پھر وہ اپنی سوچ کو یہیں پر لگام دیتی ہے۔اس کی طبیعت کی اداسی اور ایک روانی سے بہتی ہوئی تنہائی کو مارکیز کی تحریریں بہت سہارا دیتی ہیں۔
ماہم نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ مختصر سا ناول لانڈری کرتے ہوئے پڑھ لے گی۔ لانڈری میں تھوڑے سے ہی کپڑے ہیں۔ امجد کے دو تین سفاری سوٹ، اس کی اپنی چند نائٹیاں اور ایک دو شلوا رقمیص اور چند ایک دوپٹے۔ وہ انہیں مشین میں ڈال کر پھر سے کرسی پر آن کر بیٹھ جاتی ہے۔ یہ مختصر ساناولٹ بھی لانڈری کا بزر بجتے ہی ختم ہوجاتا ہے اور وہ غسل کرنے لگ جاتی ہے۔آئینے میں اپنا سراپا دیکھ کر  اسے خیال آتا ہے کہ ابھی کی دفعہ بھی شاید وہ بیٹے کی ہی ماں بننے والی ہے۔یہ بات اسے رکمنی بائی نے اس کے پیٹ کا مخصوص ابھار دیکھ کر بتائی ہے۔
رکمنی بائی نے اسے یہ بات اس سونوگراف سے پہلے بتائی تھی جو اس نے اپنی امی کے کہنے پر چپ چاپ رولا کے ساتھ جاکر کرایا تھا۔ ا ن کا خیال تھا کہ ہونے والی ماں کو بچے کی پیدائش سے پہلے کچھ تیاریاں کرنی ہوتی ہیں۔ پیٹ میں اگر لڑکا ہے تو سلمان کے وقت کی چیزیں انہوں نے سنبھال کر رکھی ہوئی ہیں لہذا تردد کی کوئی بات نہیں، اگر لڑکی ہوگی تو انہیں کچھ کپڑے بنانے ہوں گے۔ وہ کمرے سے باہر آئی تو رولا بچے کی جنس کے بارے میں جاننے کے لئے امجد ہی کی طرح بے تاب تھی۔ماہم نے مسکر کر اسے کہا He wins again. Its a boy (وہ جیت گیا۔ اب کی دفعہ بھی لڑکا ہی ہے) رولا بہت دیر تک اسے واپس گھر کی طرف لے جاتے ہوئے سوچتی رہی کہ یہ جیت ماہم نے کس سے منسوب کی ہے؟۔۔
وہ جب بھی رکمنی بائی کے سامنے جاتی ہے، پیٹ پراپنا نماز کا دوپٹہ ڈال لیتی ہے۔شاید اس کی وجہ اسکی امی نے اسے سمجھایا ہوا ہے کہ پیٹ کے بچوں کو نظر بہت جلدی لگتی ہے۔ اس دوپٹے کو اوڑھ کر اب وہ باقاعدگی سے تہجد، اشراق،چاشت اور اوابین کی نفلی نمازیں بھی پڑھتی ہے۔
جاری ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *