کھوٹا پینڈا۔۔۔۔سلیم مرزا

سفر ۔۔۔چاہے انگلش والا سمجھ لیں ،چاہے اردو والا ۔
ہوتا “پینڈا “ہی ہے۔

موجودہ حکومت کاخیال ہے کہ ترقی کا یہ سفر عوام کو دوٹانگوں پہ چلا کر کروانے کی بجائے ، نئے پاکستان میں بالکل اسی طرح ایک ٹانگ سے پکڑ کر گھسٹتے ہوئے لیجایا جائے جیسے مجھے پرائمری اسکول میں لیجایا جاتا تھا ۔تبدیلی کا قطعاً  مطلب وہ نہیں تھا جو عمران کو رٹا کر کنٹینر پہ چڑھایا جاتا تھا، بلکہ وہ ہے جو دھرناٹوؤں کا اصل مطمع نظر تھا،
ایک ایسا دوقومی نظریہ جس کے ایک طرف یوتھیے ہوں، دوسری طرف پٹواری۔۔۔۔چنانچہ اب بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ہر دو فریق کا “ہاسا “نکل رہا ہے ۔
یوتھیے اسے اپنے لیڈر کا چیخیں نکلوانے کا وعدہ سمجھ کر پٹرول کی قیمت پہ خوش ہو لیتے ہیں کہ پٹواریوں کی “چانگریں “نکل رہی ہیں ۔
پٹواری اس بات پہ مطمئن ہیں کہ عوامی احتساب کا یہ عمل تو کم ازکم سیاسی تفریق سے مبرا ہے ۔
سوئی گیس یا بجلی کے بل پہ ماتم یوتھیوں کے گھروں میں بھی  ہوتا ہے ۔
مہنگائی اور بیروزگاری کی اس علاقائی جنگ میں دونوں اطراف کے کولیٹرل ڈیمیج میں ہی  ملکی سالمیت کا راز مضمر ہے ۔
تین ہزار کروڑ کی مبینہ کرپشن کہانی اور اس کی مبینہ ادائیگی،ڈیڑھ کروڑ گھرانوں سے کروانا با لکل ایسے ہی ہے جیسے طوائف کا، خسارہ کھسرے سے پورا کیا جائے ۔
اور کھسرے اس پہ بھی خوش ہیں کہ انہیں شناخت مل رہی ہے ۔

معاشیات کی شعبدہ گری کے اس کھیل میں تھیلے سے کوئی کبوتر نہیں نکل رہا، بلکہ سات ہزار ارب کے نئے ٹیکس نکل رہے ہیں ۔
ہمارا پرانا جادوگر اسد عمر، جسے اب قائمہ کمیٹی سونپی گئی ہے، قائم رہ سکے گا ؟
سابقہ وزیر خزانہ وہ اکاؤنٹنٹ تھا جو اپنی سیٹ پہ سورہا تھا ۔جسے منیجر نے جگا کر کہا۔۔۔۔”سوری، میں کبھی بھی آپ کو ڈسٹرب نہ کرتا اگر معاملہ اہم  نوعیت کا نہ ہوتا، آپ کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے ”
اور اب اس کے بدلے بلامعاوضہ معاشی ماہرین لائے جارہے ہیں ۔ان کی قابلیت بھی صرف اتنی ہی ہے کہ بلامعاوضہ آئے ہیں ۔
اگر بلا معاوضہ کام کرنا اہلیت ہے تو مجھے دس روپے نہ دیں ،وزیر اعلی پنجاب لگا دیں ۔
کم ازکم پنجاب خاموش فلموں کے دور سے تو نکلے،میں تو آئٹم سونگ بھی کر سکتا ہوں ۔
گوکہ بہت ساری وزارتوں میں قابلیت کا خیال بھی رکھا گیا ہے جیسے فردوس عاشق اعوان کی قابلیت وعدہ معاف گواہ کی ہے ۔
عامر کیانی بارے ان کا بیان” مدعی سست گواہ چست کے زمرے میں آتا ہے۔”
لیکن اس سے دوائیوں کی قیمت کم نہیں  ہوسکی اور عوام سمجھ گئے کہ ماں سے زیادہ محبت جتانے والی “پھپھے کٹنی “ہوتی ہے،
نجانے کیوں حکومت ابھی تک اس بابے کے موڈ میں ہے جس نے ایک نوجوان جوڑے کو کھیتوں میں رنگ رلیاں مناتے پکڑلیا تھا، اور شکایت لگانے کی دھمکی دی ۔
جوڑے نے کہا “بزرگو، ڈیل کر لیتے ہیں، ”
بابا جی مان تو گئے مگر کسی طرح کے این آر او کی پوزیشن میں نہیں تھے،
لہذا انہوں نے اٹل فیصلہ دیدیا کہ “ڈیل نہیں کروں گا، اب شکایت ہی لگاؤں گا “۔۔۔۔
چنانچہ نو ماہ سے بزرگ جہاں گئے، شکایت ہی لگا رہے ہیں ،گاؤں والے بھی اتنے سمجھدار ہوگئے ہیں کہ اب شکایت پہ کان نہیں دھرتے کیونکہ جانتے ہیں۔۔،
این آر او کا جب بھی وقت ہوا، چوہدری خود ہی دیدے گا ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کھوٹا پینڈا۔۔۔۔سلیم مرزا

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *