فوج کو گالی کی روایت۔۔۔اورنگزیب وٹو

فوج کو گالیاں وہی لوگ دیتے ہیں جو پاکستان کو گالی دینا چاہتے ہیں۔جس طرح اسلام کوگالی دینے کی خواہش مولوی کو گالی دے کر پوری کر لی جاتی ہے۔فوج کو گالی دو قسم کے لوگ دیتے ہیں۔ایک وہ جن کے اجداد پاکستان کے خلاف تھے اور انہوں نے دل سے قیام پاکستان کو تسلیم نہیں کیا۔ان میں سرخ پوش،بلوچی گاندھی کہلانے والے صمد اچکزئی  کے صاحبزادے،جمیعت علما ہند کے اکابرین مفتی محمود اور جماعت اسلامی کے مودودی صاحب کے پیروکار اس گروہ میں شامل ہیں۔سرخ پوشوں اور اچکزئی کے دلوں میں افغانستان کے ساتھ الحاق کی پرانی خواہش موجود ہے جبکہ جمیعت علما اور جماعت اسلامی کے پیروکار قیام پاکستان کو اپنی نظریاتی شکست سمجھتے ہیں۔ دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے بادل ناخواستہ پاکستان کو تسلیم تو کر لیا ہے مگر پاکستان کی اکثریت جو کہ معتدل مزاج مسلمان ہے،کی خواہش کے برعکس پاکستان میں سیکولر سیاسی سماجی اور معاشی نظام چاہتی ہے۔پیپلز پارٹی متحدہ نام نہاد لبرل سوچ رکھنے والا گروہ (اگرچہ وہ صرف اپنی رائے  کے حوالے سے لبرل ہیں مگر اکثریت کی رائے  کا احترام ان کو گوارا نہیں) اس قبیل میں شامل ہیں۔یہ فرقہ بھارتی سیکولرازم اور جدیدیت کا دلدادہ ہے اور چاہتا ہے کہ پاکستان بھی اسی رنگ میں رنگ جائے ۔ان کو اپنے راستے کی رکاوٹ پاکستان کی فوج نظر آتی ہے ۔رہ گئی  پاکستان کی عوام تو انہوں نے نہ کبھی ملاؤں  کی پیروی کی اور نہ کبھی لادینیت کو قبول کیا۔ایوب کی لادینیت اور ضیا کی ملائیت دونوں کو پاکستان کے عوام نے رد کیا۔یہی اعتدال پسند مسلمان ہی پاکستان کا بانی بھی ہے اور اس کی بقاء کی خاطر ہمیشہ تیار بھی رہتا ہےاور یہی وہ طبقہ ہے جس کی بھرپور حمایت پاک فوج کو بھی حاصل ہے۔پشتون تحفظ موومنٹ کے نام سے ایک تحریک اٹھی اور فوج کی مخالفت میں سب سے آگے نکل گئی۔

اس تحریک کی بنیاد وزیرستان میں رکھی گئی  مگر جلد ہی یہ تحریک اور اسکے نوجوان قائدین فوج مخالف طبقات کے محبوب بن گئے۔جن سیاسی جماعتوں کے  کردار اور اعمال عوام کے سامنے آ چکے ہیں ، انہوں نے پی ٹی ایم کے پلیٹ فارم سے ریاست کو بلیک میل کرنے کی پالیسی اختیار کررکھی ہے۔پی ٹی ایم کی اعانت اور حوصلہ افزائی  میں امریکی اور ہندوستانی حکومت بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔افغانستان کی حکومت کا نام میں اس لیے نہیں لوں گا کہ تین چوتھائی  ملک میں ریاست کی عملداری نہیں اور باقی ماندہ افغانستان میں امریکی اور بھارتی حکومتیں اپنا کھیل کھیل رہی ہیں۔

پی ٹی ایم دہشتگردی کے خلاف ہونے والے آپریشن میں مقامی لوگوں کے نقصانات کو بنیاد بنا رہی ہے۔اس تحریک کا دارومدار نسلی منافرت اور پاکستان مخالفت پر ہے۔پی ٹی ایم کے ساتھ اے این پی کے مسترد شدہ عناصر بھی بیٹھے ہیں جن کی حکومتوں میں پختونوں کےخون کے دریا بہا دیے گئے ۔مسلم لیگ ن کے حامی اپنی جماعت کی نا اہلی اور بدعنوانی بے نقاب ہونے کی وجہ سے زخم خوردہ ہیں،وہ سوشل میڈیا اور سیاسی اجتماعوں میں پی ٹی ایم کو مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ان حالات میں پی ٹی ایم کے وہ مطالبات اپنی اہمیت کھوچکے ہیں جو بڑی حد تک درست ہیں۔ان مطالبات حکمران جماعت،پاک فوج اور میڈیا میں بھی حمایت اور پزیرائی حاصل ہے لیکن ان مطالبات کی آڑ میں پاکستان دشمنی کا جو کھیل شروع کیا گیا اسکے بعد یہاں مقابلہ ایک دفعہ پھر پاکستان کی سالمیت کے دشمنوں اور پاکستان کی بقا کے ضامنوں کے درمیان ہے۔امریکہ بھارت اور اسرائیل تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ساتھ اب پی ٹی ایم کو میدان میں اتار چکے ہیں۔بھارتی میڈیا اس حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔اس تحریک کو آپ باچا خان کی قوم پرست تحریک سے مماثلت دے سکتے ہیں جو ایک زمانے میں عدم تشدد کی علمبردار ہونے کی دعویدار تھی اور اسی جماعت کے کارکن افغانستان کی اعانت سے پاکستان میں کاروائیاں کرتے تھے۔ایسے ہی ایک حملے میں حیات محمد خان شیر پاؤ  مارے گئے  تھے۔ پی ٹی ایم بھی فوج کے حامیوں کے قتل پر خاموش ہے جو ان کی رضامندی کا اظہار سمجھا جا رہا ہے۔اس تحریک کی کامیابی جو کہ بہرحال ایک الگ پشتون ریاست کا قیام ہو گا،بعید از قیاس ہے لیکن اس نئے شوشے کے بعد وہ تمام حلقے جو شکست خوردگہ زخم چاٹ رہے تھے اب ایک ساتھ فوج اور ریاست پاکستان کے سامنے آ کھڑے ہوئے ہیں۔دیکھتے ہیں فوج کو گالی دینے والے قبیلے کا عزم اور استطاعت اسے کہاں تک لے جاتے ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *