سرسید، علی گڑھ اور دیوبند۔۔۔۔ عباس شاد

دو چار روز قبل سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا در کھلا اور اس پر بات چل نکلی کہ عصر حاضر میں علی گڑھ تحریک اور اس کے بانی کی تفہیم کس کس زاویہ نظر سے ممکن ہے. اس سلسلے میں چند خیالات اصحابِ فکرو نظر کی خدمت میں پیش ہیں. مکالمہ کا حسن یہ ہی ہے کہ دونوں طرف کا نکتہ نظر بیان ہو۔ یہ مضمون ایک تنقید سے زیادہ ایک مختلف نکتہ نظر ہے، البتہ سر سید مرحوم کو پڑھے بغیر محض ان کی عقیدت میں لوگوں سے الجھنے والوں سے پیشگی معذرت.

 سید احمد خان مرحوم نے جب شعور کی آ نکھ کھولی تو دہلی میں علم وشعور کے دو بڑے مراکز تھے. ایک شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی جو ولی اللہی فکرو نظریہ کے ترجمان اور مربی تھے اور دوسرے مرزا مظہر جان جاناں شہید کے جانشین شاہ غلام علی کی خانقاہ جو طریقہ نقشبندیہ مجددیہ کے معمولات پر عمل پیرا تھی. ہمارے سید کو دونوں سے وافر فیض ملا کیونکہ ان کی ننھیال ولی اللہی فکر کے سرخیل شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے عقیدت رکھتے تھے اور والد شاہ غلام علی کے چہیتے مرید تھے.

ہمارے سید کی زندگی بہت ہمہ جہت پہلو لیے ہوئے ہے اور ہمارے سامنے جگہ کی تنگ دامنی دامن پھیلائے کھڑی ہے ان کے ان ابتدائی حالات کے بعد ہمارے سامنے اختصار کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں.

ہمارے سید کی تعلیم ہندوستان میں موجود پرانے اصولوں پر ہوئی تھی انہوں نے پہلے قرآن مجید پھر فارسی درسی کتابیں کریما، خالق باری، آمد نامہ، گلستان، بوستان پڑھیں اور عربی میں شرح ملا، شرح تہذیب، میبذی، مختصر معانی اور مطول کا کچھ حصہ پڑھا. گویا ہمارے ممدوح سید مولوی ہی تھے لیکن وہ اپنی یہ تعلیم بھی مکمل نہ کرسکے تھے. ان کی یہ پرانی طرز کی تعلیم بھی ادھوری رہ گئی تھی. ان کی ادھوری تعلیم والی بات کے لیے ملاحظہ ہو( سر سید احمد خان کا نیا مذہبی طرز فکر از پروفیسر عمرالدین )

ہمارے سید آ غاز میں سید احمد شہید کی تحریک اصلاح سے بہت متاثر تھے سید احمد شہید اور سید اسماعیل شہید سے محبت اور عقیدت رکھتے تھے لیکن بعد ازاں آپ نے بوجوہ اپنا راستہ بالکل جدا کرلیا کیونکہ آپ کمپنی کے ملازم تھے اور کمپنی کی خیر خواہی میں انہوں نے ہندوستانیوں کے مقابلے میں ہر محاذ پر کمپنی بہادر اور ان کے مفادات کو ترجیح دینا شروع کردیا تھا. ہمارے ممدوح سر سید انتہائی بہادر، نڈر اور بے خوف انسان تھے جسے وہ درست سمجھتے تھے بلا تامل کہہ ڈالتے تھے اس لیے جس بات کو لوگ غلط سمجھتے تھے لیکن سید کی نظر میں وہ درست تھی تو وہ ڈنکے کی چوٹ پر کہتے رہے خواہ بعد میں اس کے جو بھی نتائج نکلے. سید تو اپنی تحریروں میں بہت واضح ہیں لیکن لوگوں نے ان کے قالب کو اپنی مرضی کی شخصیت میں ڈھالنے کے لیے بہت سی غلط فہمیوں کو جنم دیا ہے.

سب سے پہلی غلط فہمی تو یہ پیدا کی گئی ہے کہ علماء نے سر سید کی مخالفت اس لیے کی کہ علما جدید تعلیم کے مخالف تھے. اس پر شیخ اکرام اپنی معروف کتاب موج کوثر میں لکھتے ہیں.

        ہم نے سر سید کے موافق اور مخالف دونوں تحریریوں کا مطالعہ کیا ہے. ہماری رائے میں یہ خیال غلط ہے اور علما اور اسلام کے ساتھ صریح بے انصافی ہے. وہ مزید لکھتے ہیں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے انگریزی کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے کے متعلق فتوی لیا گیا تھا تو انہوں نے بزور کہا تھا “جاؤ انگریزی کالجوں میں پڑھو اور انگریزی زبان سیکھو شرعاً ہر طرح جائز ہے. تو پھر لوگ سر سید کی جدید تعلیم کی دعوت پر کیوں مخالفت کریں گے. بلکہ شیخ اکرام نے حاشیے میں شیخ الہند مو لانا محمود حسن کا مشہور زمانہ قول بھی نقل کیا ہے کہ انہوں نے جامعہ ملیہ کے خطبہ افتتاحیہ میں فرمایا تھا “آپ میں سے جو حضرات محقق اور با خبر ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ میرے بزرگوں نے کسی وقت بھی کسی اجنبی زبان سیکھنے یا دوسری قوموں کے علوم و فنون حاصل کرنے پر کفر کا فتوی نہیں دیا”

پھر بالآخر یہ کیوں تصور پیدا کرلیا گیا کہ علماء تعلیم کے مخالف ہیں سر سید نہ ہوتے تو ساری قوم جاہل رہ جاتی. ویسے تو پاکستان میں جتنی تعلیم عام ہے وہ سب ہی جانتے ہیں پھر اس میں ہمارے سید کی کونسی خوبی ہے جبکہ ان سے پہلے ولی اللہی جماعت کے علما جدید تعلیم کے لیے فتوے صادر فرمارہے تھے. پھرمدرستہ العلوم کی مخالفت بھی سب سے پہلے جدید تعلیم یافتہ دو بزرگوں نے کی تھی اور وہ دونوں معزز سرکاری ملازم تھے یعنی مولوی امدادالعلی ڈپٹی کلکٹر اور مولوی علی بخش سب جج. بلکہ اول الذکر بزرگ نے تو سب سے پہلے ہمارے سید کے خلاف کتاب بھی لکھی تھی جس کا نام تھا “امدادالافاق برجم اہل نفاق بجواب پرچہ تہذیب الاخلاق” پھر بلا وجہ اکا بر دیوبند کو تعلیم کے بالمقابل کھڑا کرنا یہ تاریخ کی سب سے بڑی نا انصافی ہے.

دیوبند والے تو اتنے فراخ دل تھے کہ اسلامیات پڑھانے کو علی گڑھ کو بندہ بھی دیا اور ان کی فراخ دلی پر تو جون ایلیا نے بھی کہیں لکھا ہے کہ ان کے پاس دہریہ نوجوان بھی جاتے تھے تو یہ لوگ گلے لگاتے تھے اور الٹے سیدھے سوالات کرنے پر کہتے تھے لگتا ہے کچھ زیادہ پڑھ لیا ہے مزید پڑھتے رہو بے چینی ختم ہوجائے گی.

پھر ہمارے سید بابا کے اپنے ہی ساتھیوں نے جب علی گڑھ جاکر تجربہ کرلیا تو اسے محض کوٹ پتلون کی پیمائش گاہ قرار دیا. چنانچہ سید سلیمان ندوی نے حیات شبلی میں لکھا ہے. کہ مولانا شبلی اپنے ایک دوست کو لکھتے ہیں کہ :یہاں آ کر میرے تمام خیالات مضبوط ہوگئے، معلوم ہوا کہ انگریزی خواں فرقہ نہایت مہمل فرقہ ہے، مذہب کو جانے دو، خیالات کی وسعت، سچی آزادی، بلند ہمتی، ترقی کا جوش برائے نام نہیں، یہاں ان چیزوں کا ذکر تک نہیں آ تا، بس خالی کوٹ پتلون کی پیمائش گاہ ہے.( صفحہ 131(

اور پھر علی گڑھ کو نقصان بھی سید بادشاہ کی اپنی غلط پالیسیوں سے پہنچا مثلاً ایک عرصے تک کالج کا انتظام ایک مینجنگ کمیٹی چلا رہی تھی جس کے سیکرٹری خود سر سید تھے 1889میں سر سید مرحوم نے ایک ٹرسٹی بل تجویز کیا جس کی ایک دفعہ یہ تھی کہ بورڈ آف ٹرسٹیز کے سیکرٹری سرسید ہوں اور اس کے جائنٹ سیکرٹری ان کے صاحبزادے سید محمود ہوں تاکہ سرسید کے بعد وہ سیکرٹری ہوسکیں مولوی سمیع اللہ خان، نواب وقار الملک اور دوسرے بزرگوں نے بہت مخالفت کی لیکن سید بابا نے کسی کی نہ چلنے دی اور بیٹے کو جوائنٹ سیکرٹری بناکے چھوڑا اور پھر وہی ہوا جس کا خدشہ دوسرے بزرگ ظاہر کررہے تھے موصوف کثرت شراب نوشی سے ذہنی توازن کھوبیٹھے یورپین سٹاف سے خوب دوستی تھی اور پھر جب کسی قابل نہ رہے تو علی گڑھ چھوڑ لکھنو کو سدھارگئے اور سید بابا اسی صدمے سے چل بسے.

اچھا وہ بات وہیں رہی کہ پھر عوام اور مذہبی مزاج کے لوگوں میں سید بابا کی اتنی مخالفت کیوں بڑھی وہ سید مرحوم کی دعوت تعلیم کی وجہ سے نہیں بلکہ ہمارے سید بادشاہ کے مذہبی معاملات میں بے احتیاطی اور بلا جواز حساس معاملات کی پرواہ نہ کرنے کی وجہ بنی بہت سے معاملات ہیں میں ایک معاملے کی مثال دیتا ہوں. الفنٹس کی کتاب “تاریخ ہند” کا ترجمہ شائع کرتے وقت اس کتاب میں جہاں مصنف نے ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر کیا تھا اس نے وہاں آ پ کے متعلق(العیاذبا اللہ )”پیغمبر باطل “کا لفظ لکھا تھا سر سید نے بلا کم وکاست یہ لفظ اسی طرح ترجمے میں لکھ دیا. بس پھر کیا تھا ان کے خلاف طوفان کھڑا ہوگیا.اسی طرح سید موصوف عام بول چال میں محمد صاحب ہی کہا کرتے تھے جس کا جواز یہ بتا یا جا تا ہے کہ وہ عموماً انگریز کی ایلیٹ کلاس کے ساتھ رہتے تھے تو وہاں کے بول چال کا محاورہ یہی تھا لیکن حیرت ہے وہ اپنے نبی کے بارے میں صاحب پر اکتفا کرتے لیکن جب سر ولیم مور کو خط لکھتے ہیں تو انہیں حضور کہہ کے مخاطب کرتے ہیں اسی طرح انگریزسرکار کو پیش کئے گئے ان کے سپاس ناموں کی زبان دیکھ لی جائے کس طرح وہ واری صدقے جاتے تھے. میں ان کے جذبہ حب رسول کو چیلنج نہیں کرتا لیکن کوئی احتیاط کا بھی تقاضا ہوتا ہے. میرا ذاتی خیال ہے کہ سید مرحوم نے مذہبی معاملات میں اپنے آپ کو الجھا کر اپنی بہت سی توانائیاں ضائع کردیں انہیں اگر وہ سلیقے سے کہیں اور خرچ کرتے تو شاید بہتر نتائج دے پاتے. کیونکہ مذہبی معاملات میں بھی وہ کوئی بلند پایہ فکر پیش نہیں کرسکے جہاں جہاں ان کی مذہبی تشریحات میں عقل پسندی یا فلسفیانہ رنگ نظر آتا ہے یہ جوہر شاہ ولی اللہ دہلوی کے ہاں پورے اور مکمل توازن کے ساتھ موجود ہے لیکن سرسید توازن کھوکر عدم توازن کا شکار ہوکر اصولی اور مسلمہ عقائد کا انکار کر بیٹھتے ہیں. امام شاہ ولی اللہ دہلوی نے بھی ہمارے سید سے پہلے ہستی وصفات باری تعالٰی، روح اور جسم، مسئلہ جبروقدر، مسئلہ حسن وقبح، نبوت، وحی، الہام، معجزات، ملائکہ، شیطان، عالم غیب، عالم مثال، ملاء اعلٰی، حظیرہ القدس، خیر، شر سعادت معاد، جنت دوزخ اور قصص الانبیا ء پر کلام کیا ہے اور قدیم فلاسفہ کے علمی غرور کو توڑا ہے لیکن مجال ہے کہ کہیں پھسل جائیں مگر سرسید مرحوم نے جس دلیری سے تسلسل، اجماع اور دیگر مسلمات کی دھجیاں بکھیری ہیں وہی انہیں لے ڈوبیں. حالانکہ سر سید اور مولانا قاسم نانوتوی ایک ہی چشمے سے سیراب ہوئے تھے اور اس چشمے کا امتیاز ہی یہ تھا عقلیت کے ساتھ ساتھ سلف کا تتبع مولانا قاسم نانوتوی نے دونوں امتیازات کو بخوبی نبھایا لیکن سید مرحوم نے جہاں سلف سے رشتہ توڑا وہاں عقلیت کے معیارات بھی قائم رکھنے میں ٹھوکر کھائی.

اب آ ئیے ان کی تعلیمی پالیسی کی طرف ان کا اپنے تئیں مسلمانوں کی تعلیم کے لئے فکر مند ہونا قابل تحسین ہے لیکن ان کی ان کاوشوں کے نتائج کیا رہے یہ قابل غور امر ہے انہوں نے انگریزی تعلیم کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو جو فکرو نظریہ دیا وہی ان کے حق میں زہر ثابت ہوا جو طبقہ ان سے متاثر ہوا وہ اپنی تمدنی وتہذیبی روایات سے بیگانہ ہوکر استعمار کی غلامی و خوشنودی میں اپنی عزت و وقار کو ڈھونڈنے لگا مرحوم نے صرف انگریزی کی تعلیم ہی نہیں دی بلکہ اپنی قوم کو انگریزی تہذیب و تمدن اور معاشرت کی تلقین بھی کی. ان کے نزدیک حق وباطل کا معیار صرف یہ رہ گیا تھا کہ انگریز ایسا کرتے ہیں یا نہیں کرتے وہ اپنے زیر اثر طلبا کو جہاں انگریزوں کی طرح اٹھنا بیٹھنا اور کھانا پینا سکھاتے تھے وہاں دینی نظریے میں اعتزال بنیادی عقائد میں اضمحلال اور اسلامی علوم فنون کی تضحیک اورتمسخر بھی اڑاتے تھے. سید بابا نے مسلمانوں کی سیاسی غلامی کے ساتھ ساتھ ذہنی اور فکری غلامی کا راستہ بھی ہموار کیا.

علی گڑھ ہی کے پروفیسر سعید احمد اکبر آبادی نے لکھا ہے کہ :انگریزی تعلیم کی اشاعت سے لارڈ میکالے کے قول کے مطابق انگریزوں کا جو اصل مقصد تھا یعنی ایک ایسی درمیانی مخلوق پیدا کرنا جو صورت، شکل اور رنگ کے اعتبار سے ہندوستانی ہو مگر ذہن اور دماغ کے لحاظ سے انگریز ہو. وہ سر سید کی کوششوں سے پایہ تکمیل کو پہنچ گیا.

اس نقد وتبصرہ کے آ خری مرحلے میں سب اہم بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ سر سید کا فلسفہ تعلیم ادھورا، ناقص اور بے جان ہے اور اس میں تین بنیادی نقص ہیں.

سر سید عوام کو تعلیم دینے کے خلاف ہیں وہ صرف ایلیٹ کلاس اور نوابوں کی اولاد کو تعلیم دلانا چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ علی گڑھ کی فیس ایک اچھے خاصے ملازم کی تنخواہ سے چار گنا زیادہ تھی ظاہر ہے اس میں صرف نوابوں کے بچے ہی پڑھیں گے.

وہ خواتین کی تعلیم کے سخت خلاف ہیں ان کا خیال ہے تعلیم یافتہ خواتین خود سر اور باغی ہو جائیں گی انہوں نے خواتین کے حقوق پہ مولوی ممتاز علی کی کتاب پھاڑ ڈالی تھی کہ اس سے گمراہی پھیلے گی یاد رہے خواتین کی جدید تعلیم وتربیت کے لیے کوشاں یہ مولوی ممتاز علی دیوبند کے رہنے والے اور شیخ الہند کے عقیدت مند تھے.

ان کے ہاں فنی اور سائنسی تعلیم کا کوئی تصور نہیں ہے علی گڑھ کے سلیبس اور اس کی تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ علی گڑھ میں اساتذہ ایف اے، بی اے تھے کوئی بھی ایف ایس سی اور بی ایس سی نہیں تھا علی گڑھ کے مقابلے میں تو دلی کالج میں زیادہ سائنس پڑھائی جاتی تھی.

پروفیسر امجد علی شاکر ایک جگہ لکھتے ہیں کہ

سر سید کا تصور سماج بہت آوٹ آف ڈیٹڈ تھا وہ جاگیردار معاشرے کا احیا چاہتے تھے تبھی تو نوابوں اور ایلیٹ کلاس کو تعلیم دینے کے حق میں تھے. جاگیر داری معاشرے کی اخلاقیات وروایات کی وہ حمایت کرتے اور اس کے علمبرداربھی تھے.

کیا کوئی معاشرہ ان تین چیزوں کے بغیر ترقی کرسکتا ہے. جب کہ اس کے مقابلے میں دیوبند کا ایک عالم اپنے فلسفہ تعلیم میں یہ تینوں چیزیں دے رہا ہے.

عبیداللہ سندھی کہتے ہیں کہ سر سید خواص کے لیے تعلیم کا تصور لے کر آئے تھے لیکن میں اپنے مزدور اور کسان کو اتنا ہی تعلیم یافتہ بنانا چاہتا ہوں جتنا کہ ایک زمیندار اور صنعت کار ہوسکتا ہے. اسی طرح سے وہ یورپ سے فنی مہارتیں سیکھنے کی بات کرتے ہیں.

سر سید پہ شروع ہونے والا مکالمہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ نئی نسل کو ایک عظیم شخصیت سے متعارف کروا رہا ہے۔ 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”سرسید، علی گڑھ اور دیوبند۔۔۔۔ عباس شاد

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *