• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • عید کے بعد اپوزیشن کی ممکنہ احتجاجی تحریک بمقابلہ ملکی حالات بہتر کرنے کے حکومتی دعوے۔۔ غیور شاہ ترمذی

عید کے بعد اپوزیشن کی ممکنہ احتجاجی تحریک بمقابلہ ملکی حالات بہتر کرنے کے حکومتی دعوے۔۔ غیور شاہ ترمذی

تاریخ، پولیٹیکل سائنس سے وابستہ لوگ جانتے ہیں کہ فرانس میں 18 ویں صدی یعنی روشن خیالی کی صدی میں Montesquieu نے ریاست میں اختیارات کی تقسیم کے حوالہ سے گرجا گھروں کے کردار اور آرمی کے رول کے متعلق بہت کچھ لکھا تھا۔ معاشرے میں گرجا گھر اور آرمی کا یقیناً اہم کردار ہے لیکن ریاستی معاملات میں یہ کردار واضح طورپر الگ ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے ہم 71 سالوں سے مذہبی افلاطونوں کی جعلی اور خودساختہ توضیحات کے بدترین شکنجہ اور ملکی معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے زیر اثر ہیں۔ بلاشبہ مذہبی ہونا قابل فخر ہے اور مذہب ایک بہت بڑی حقیقت ہے لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ حقیقی جمہوری نظام کبھی بھی ریاست اور مذہب کی آمیزش اور مداخلت ایک دوسرے میں قبول نہیں کر سکتے۔ اسی طرح ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ فوج ملکی دفاع کی بہترین ضامن ہے لیکن اس کے ساتھ جب آپ فوج کو سیاسی کردار دیتے ہیں تو یہ آمریت کہلاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ فوج، ریاست اور سیاست کی علیحدگی بھی نہایت اہم ہے۔ جو ریاستیں بھی سیاست، مذہب اور فوج کے مشترکہ نظام کو بنانے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہیں وہ ہمیشہ مغالطہ کا شکار رہتی ہیں۔ وہاں قانون پر عمل داری بہت مشکل ہوتی ہے اور لوگوں میں بے چینی، خراب معاشی حالات اور شدید ترین مہنگائی عامۃ الناس کا مقدر بن جاتی ہیں۔

پاکستان بھی اسی وجہ سے مسائل کا شکار ہے۔ گیس، بجلی اور اب پٹرول کی قیمتیں اوپر لے جانے سے مہنگائی کا جو طوفان برپا ہوا ہے، اُس سے عوام بلبلا اُٹھے ہیں۔ اشیائے خوردونوش ہی مہنگی نہیں ہوئیں بلکہ اونٹ کی کمر پر آخری تنکا دوائیوں کی قیمتوں میں 300% تک کا اضافہ ثابت ہوا ہے، جس نے عام آدمی کو رلا دیا ہے۔ رمضان المبارک سے پہلے جو سیب 150 روپے تک فروخت کئے جا رہے تھے، اب 300 روپے سے 380 روپے تک فروخت ہو رہے ہیں۔ مرغی کے نام پر جو ہائی برڈ، مصنوعی فیڈ سے تیار شدہ جانور گوشت کے لئے فروخت کیا جاتا ہے، اُس کی قیمت بھی 200 روپے سے بڑھ کر 320 روپے کلو تک پہنچ چکی ہے اور شنید یہ ہے کہ عید تک اِس کی قیمت میں کمی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ لیموں 400 روپے کلو، چھوٹا گوشت 1000 روپے کلو اور موسمی سبزیاں 70، 80 روپے کلو کی بجائے 200 روپے کلو تک فروخت ہو رہی ہیں۔ راقم نے بذات خود مارکیٹوں میں پرائز  کنٹرول کمیٹیوں کے اراکین ڈھونڈنے کی سرتوڑ کوششیں کیں مگر صد افسوس کہ چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہ کوئی مجسٹریٹ مل سکا اور نہ ان کمیٹیوں کا کوئی اہلکار۔ حکومت اس ہوش ربا مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ عوام کے برانگیختہ جذبات کو اپوزیشن راہنماؤں نے عید کے بعد مشترکہ تحریک چلانے کے لئے استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تقریبا’’ 9 سے 10 مہینوں تک عمران خاں حکومت کے وزیر باتیں کرتے رہے اور خان صاحب قوم اور صحافیوں سے وقت مانگتے رہے۔ پہلے سو دن کا کہا گیا‘ پھر چھ ماہ کا‘ جب کچھ نہ ہوسکا تو نو ماہ بعد انہوں نے وزارتوں میں تبدیلی کر دی۔ بقول برادر رؤف کلاسرہ کے ’’جو وزیر ایک وزارت چلانے میں ناکام رہا اسے کہا گیا: بیٹا کوئی بات نہیں تم دوسری ٹرائی کرو۔ ماسوائے عامر کیانی کے کسی اور وزیر کو گھر نہ بھیجا گیا‘‘۔ ان وزیروں نے زیادہ تر وقت ٹی وی شوز پر گزارا اور اپنے مخالفین کو بتاتے رہے کہ وہ کرپٹ تھے اور انہوں نے ملک کو برباد کر دیا۔ قوم نے نو دس ماہ تک تو یہ سب کچھ سنا لیکن پھر لوگوں کو احساس ہوا کہ یہ تو محض باتوں سے آگے نہیں بڑھ پا رہے۔ عوام میں پیدا  ہوتی اس بےچینی کے خاتمہ کے لئے آخری حل یہی بچ گیا تھا کہ عمران خان چند وزیروں کے محکمے تبدیل کریں۔ مرکز کے بعد پنجاب اور خبیر پختونخوا میں بھی وزیر ہٹائے اور کچھ نئے لائے جانے والے ہیں۔ واقفان حال کہتے ہیں کہ عمران خان نے اسٹیبشمنٹ سے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ فنانشل پالیسی بنانے اور اس پر عمل کرنے کے اختیارات منتخب نمائندوں سے لے کر ایسے پروفیشنلز کے حوالہ کئے جائیں جو جانتے ہیں کہ کیسے ڈیلیور کیا جاتا ہے۔ پوری فنانشل ٹیم لائی گئی ہے جس کے سربراہ حفیظ شیخ ہیں اور پھر گورنر سٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر کو بھی ہٹا دیا گیا۔ اب تحریک انصاف کے ایجنڈا  پر عمل کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ اس نئی فنانشل ٹیم کے ساتھ رابطہ رہے، اِس کے لئے اسد عمر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا چیئرمین لگایا جا رہا ہے جس کے لئے پہلے انہیں اِس کا رُکن بنایا جائے گا، پھر چیئر مین منتخب کیا جائے گا۔

عمران خان  نے اپنے وزراء سے کہا ہے کہ معاشی اصلاحات اور اُسے سدھارنے کے سارے کام اب کچھ اور لوگ کریں گے اور اس لئے وزراء اپنے اصلی ایجنڈے پر کام کریں۔ عمران خاں اپنے حلقوں میں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس سال کے اختتام تک پاکستان کے حالات بہت بہتر ہو جائیں گے۔ وہ بہت پُر امید دکھائی دیتے ہیں مگر کیا ایسا ہونا ممکن ہو گا، کیا اپوزیشن انہیں اتنا وقت دے گی، یہ وہ سوال ہے جو سب تجزیہ نگاروں کے اذہان میں گونج رہا ہے۔ پچھلے سال سے اپوزیشن واضح طور پر منقسم تھی اور اب بھی شاید مکمل طور پر متحد نہیں ہے۔ عمران خان  کی حکومت جس وقت قائم ہوئی، اُس وقت پیپلز پارٹی قیادت نواز شریف سے اپنی سیاسی رقابت اور چوہدری نثار کی وجہ سے پیدا کردہ کچھ معاملات پر شدید اختلافات کی وجہ سے نون لیگ کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کے ڈیزائنڈ کریک ڈاؤن کی خاموش حمایت کر رہی تھی۔ دوسری طرف نون لیگ میں شہباز شریف گروپ (بشمول چوہدری نثار کی خاموش حمایت) اِس کوشش میں تھے کہ اصلی اپوزیشن کردار کی بجائے اسٹیبلشمنٹ سے معاملات پر ڈیل (deal) کر لی جائے۔ میاں نواز شریف اور مریم نواز کو شاید اچھی طرح اندازہ تھا کہ شہباز شریف کی یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی مگر پھر بھی انہوں نے شہباز شریف کو وقت اور اختیار دیا۔ یہ واضح ہے کہ اگر سپریم کورٹ کی طرف سے میاں نواز شریف کو لندن جانے کی اجازت مل جاتی تو وہ اپنی اس گونگی اور بے ضرر اپوزیشن کا سلسلہ جاری رکھتے۔ نون لیگ کے اندرونی ذرائع کہتے ہیں کہ اب انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ عمران خان حکومت کی ان کمزور اور بدترین کارکردگی سے بگڑتے حالات کا فائدہ اٹھایا جائے۔ مریم نواز کی بطور مرکزی نائب صدر تقرری، نواز شریف کی جیل واپسی کے لئے نکالے جانے والے بڑے پاور شو سے اسٹیبلشمنٹ کو یہ اشارہ دے دیا گیا ہے کہ عید کے بعد نون لیگ عمران خان  حکومت گرانے کے مجوزہ منصوبہ پر اپوزیشن کے مشترکہ اتحاد میں شمولیت اختیار کرے گی۔

یہ وہ مقام ہے جسے اگر پی ٹی آئی حکومت چاہتی تو اس سےگریز کر سکتی تھی۔ عمران خان  حکومت کے وزراء نے ان 10 مہینوں کے دوران اپنی تقاریر، مضحکہ خیز بیانات اور پیپلز پارٹی قیادت کو دباؤ میں لانے کے لئے جس طرح کے مقدمات اور انکوائریوں کا سلسلہ شروع کیا ہے، اُس کی وجہ سے معاملات بگاڑ کی طرف چل پڑے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے نوجوان چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے سیاسی تجزیہ نگاروں کو اپنی کارکردگی اور نپے تلے بیانات سے بہت متاثر کیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمنٹ میں صرف اپنی کارکردگی سے ہی اپنے آپ کو نہیں منوایا بلکہ اپنی پرجوش رابطہ عوام مہم سے عوام میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔ بلاول بھٹو کی اس رابطہ عوام مہم کی مقبولیت کی وجہ سے یہ عین ممکن ہے کہ وہ سندھ کے ساتھ ساتھ پنجاب اور خیبرپختونخوا  میں بھی ایسی مہمیں شروع کریں۔ اگر میاں نواز شریف کی جانب سے عید کے بعد مشترکہ اپوزیشن میں شمولیت کا فیصلہ حتمی رہا تو پیپلز پارٹی اسے دما دم مست قلندر کا ماحول بنانے کے لئے پُر امید ہے۔

اسٹیبلشمنٹ اپنے ایجنڈے کے اسیر نہ بننے والے آصف علی زرداری اور پی پی پی چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کو سبق سکھانا چاہتی ہے تو پی ٹی آئی حکومت اسٹیبلشمنٹ کے اس ایجنڈے پر آنکھیں بند کرکے عمل پیرا ہونا چاہتی ہے۔ عمران خان اور ان کی سرپرست قوتیں نواز شریف کے بعد آصف علی زرداری کو جیل بھیجنے کا جو خواب دیکھ رہے ہیں اس کا انجام بھی اسٹیبلشمنٹ کی کئی دفعہ پہلے کی ناکام کوششوں میں ایک اور ناکام کوشش ہی ثابت ہوگا۔ جسے اس بات کا یقین نہ ہو، اُسے چاہیے کہ وہ مردِِِ  بحران آصف زارداری کا عدالت سے پیشی کے بعد مسکراتا ہوا چہرہ ضرور دیکھے جو عید کے بعد مشترکہ اپوزیشن کے قیام اور حکومت کے خلاف زوردار تحریک چلانے کے اُن کے عزم کی گواہی دیتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *