ہائے ۔۔لنگڑی قسمت۔۔۔۔۔رمشا تبسم

لوہے کی ٹرے میں  گولیاں,ٹافیاں بسکٹ برش، کنگھی رکھتے ہوئے بارہ سالہ جنید بار بار آج پیچھے مُڑ کر دیکھ رہا تھا جہاں اسکی ماں شبانہ  اسکے پانچ سالہ بھائی اکرم اور ایک سالہ بہن سلمہ کو روٹی کے نوالے بنا کر دے رہی تھی۔جنید نے ایک کاغد جیب سے نکالا جو کافی بری حالت میں تھا شاید کئی  بار کھولا اور بند کیا گیا ہو۔اس پر ہندسے بھی تقریباً غائب ہونے والے تھے۔جنید کاغذ کے اس بوسیدہ سے ٹکڑے کو انگوٹھے سے مسل رہا تھا اور مسلسل کسی سوچ میں گم  تھا۔وہ شاید اس کاغذ کے ہندسے مٹانا چاہتا تھا ۔۔۔
جنید  کی ماں نے ایک دم کہا : کیا ماجرا ہے آج کام پر جانے کا دل نہیں یا کوئی پریشانی ہے۔جنید ایک دم چونکا کاغذ کا ٹکڑا دیکھا اسکو فوراً  اس طرح جیب میں ڈالا جیسے کوئی بہت قیمتی چیز ہو۔جس کے گم ہونے سے شاید جنید کی  زندگی ختم ہو جائے۔جیب پر ہاتھ رکھ کر جنید کھڑا ہوگیا  ،ٹرے اسکی گود سے نیچے گر گئی ۔جس کو  سجانے کے لئے وہ بیٹھا ہوا تھا۔
اماں غصے سے چیخ اٹھی۔
ارے کمبخت کیوں ستیاناس کرنے لگا ہے چار چیزیں ہیں انہی کی بدولت بہانے سے بھیک مل جاتی ہے  اور تو ان کو بھی گرا دے۔ جنید نے فوراً چیزیں واپس ٹرے میں رکھنا شروع کر دیں۔ہاتھ جیب سے نہیں ہٹایا۔
ماں مسلسل جنید کو غصے ہو رہی تھی۔اور ساتھ ہی غربت کے رونے رو رہی تھی
جنید نے مُڑ کر کہا:اماں روز ہم روکھی سوکھی کھا کر ہی سوتے ہیں بھوکے نہیں سوتے تم کیوں خوامخواہ چیخ رہی ہو،  جنید ٹرے لے کر کھڑا ہوتا ہے۔
ہاں تو روکھی سوکھی ہی کھاتے ہیں کبھی اچھا کھایا ہے ہم نے۔رات کو تو کھا ہی لیتے ہیں کبھی دن میں دو وقت  کی روٹی نصیب نہیں ہوتی  آنسو صاف کرتے ہوئے جنید کی ماں نے کہا  آواز میں اتنی اذیت تھی کہ  دونوں چھوٹے بہن بھائیوں کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہونا شروع ہو گئے جو صرف اپنی ماں کو دیکھ  کر رونے لگ گئے۔
جنید نے جیب کو اتنی مضبوطی سے پکڑا کہ  جیسے کوئی اپنی  آخری سانس کو موت کے شکنجے  سے واپس لانا چاہتا ہو
جنید نے ٹرے رکھ کر ایک ایک  ٹافی بہن ،بھائی کو دی اور کہا اماں کا ہمیشہ خیال رکھنا۔
جنید کی ماں نے کہا:ان کا  تو کبھی نہ سوچنا میرا ان سے ہی کہنا جو آگے  اپنا منہ دھونے کے بھی قابل نہیں۔
جنید کے دروازے کی طرف جاتے قدم رک گئے ۔واپس مڑا آ کر ماں کو گلے لگایا ۔
ماں کیا میں نے کبھی تیرا خیال نہیں رکھا جنید نے ماں کو  زور سے اپنے ساتھ لگایا
ماں کو عجیب سی الجھن ہوئی۔
کیا بات ہے آج تجھے کیوں اتنا عجیب لگ رہا ہے ماں نے پریشانی سے پوچھا۔
اماں تو دیکھنا  سب ٹھیک ہو جائے گا تو روز  پیٹ بھر کر روٹی کھائے گی۔
ماں جنید کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ جنید ماں کی آنکھوں سے نظریں چرا رہا تھا
جنید ایک  دم جانے کے لئے اٹھا ماں کا دامن اسکی کلائی میں بندھی زنجیر سے اٹک گیا۔
جنید نے دامن دیکھا ماں کو دیکھا  ماں نے جنید کو دیکھا دونوں نظریں چرا رہے تھے جنید دامن چھڑوا کر جلدی سے دروزے کی طرف لپکا ٹرے اٹھائی چلا گیا۔
ماں دور تک جنید کو جاتے ہوئے دیکھتے رہی۔ سوچ میں گم ہاتھ دل پر رکھے عجیب سی نظروں سے دروازے کو دیکھتی رہی جیسے اب بھی جنید وہاں کھڑا تھا ۔
اچانک سلمی  کے رونے کی آواز پر  شبانہ چونک جاتی ہے جس نے پاؤں پر پانی کا مٹکا گرا لیا۔ارے بد بخت سکون کیوں نہیں تجھے۔پہلے ہی لنگڑی پیدا ہوئی ہے ہماری لنگڑی قسمت کی طرح اب دوسری ٹانگ بھی لنگڑی  کر لے آگے کم عذاب جھیل رہے ہیں اس لنگڑے نصیب کے ہم۔ شبانہ نے سلمی  کا منہ اور ناک ڈوپٹے سے صاف کئے اور پاؤں پر ہلدی لگانے لگ گئی ۔
جنید سڑک کنارے کھڑا آج گاہکوں کا انتظار  زیادہ شدت سے کر رہا تھا۔بار بارجیب پر ہاتھ رکھتا ساتھ ہی مزید بے چینی سے ادھر ادھر  گاہک دیکھنے لگ گیا۔ جنید کی نظر جتنی شدت سے گاہکوں کو ڈھونڈ رہی تھی اتنی ہی بے چینی سے پیچھے موجود دکان کی طرف بار بار دیکھ رہا تھا۔
برش لے لو ٹافی لے لو صاحب صرف ایک روپے میں دو ٹافیاں تین روپے کا برش صاحب لے لو جنید آوازیں لگاتا گاہکوں کے پیچھے بھاگ رہا ہے  سڑک سے ایک شیشے کا ٹکرا جوتی سے ہوتا ہوا جنید کے پاؤں کو  زخمی کرتا ہے جس سے اسکے بڑھتے قدم سڑک کے درمیان رک جاتے ہیں۔جنید شیشہ نکال کر جوتا ہاتھ میں پکڑتا ہے۔
۔اوئے جاہل بچے بیچ سڑک کھڑا ہے پیچھے ہو ورنہ چڑھاؤں گاڑی تجھ پر بیغرت بھیک منگے آ جاتے ہیں کہاں کہاں سے ایک  زور دار آواز آتی ہے جنید یک دم جوتی نیچے کرتا ہے دائیں طرف ایک گاڑی والا چیخ رہا ہوتا ہے۔۔
اچھا صاحب معاف کردیں غطی ہو گئی ۔یہ کہہ کر جنید  زخمی پاؤں سے تیزی سے سڑک سے   بھاگ کر اسی دکان کے آگے آجاتا ہے  جہاں بار بار اسکی نظر دکان پر جاتی ہے اور ہاتھ جیب پر۔ جنید ایک نظر جوتی پر ڈالتا ہے جو اب مکمل درمیان  سے ٹوٹ چکی ہے جنید بے بسی کے عالم میں جوتی  زور سے سڑک کنارے پھینک دیتا ہے۔ آج کوئی گاہک اس سے نہ چیز لے رہا ہے نہ ہی کوئی اسے ہمدردی سے پیسے دے رہا تھا۔
اچانک جنید کی قمیض کوئی کھینچتا ہے ایک چھوٹا سا بچہ ہاتھ میں جوتی لے کر کھڑا ہے جنید اسکے پیچھےآتے اس کے باپ کو دیکھتا ہے جو کار سے   اتر رہا ہے ۔بچے یہ جوتا پہن لو تمہارا پاؤں  زخمی ہے خون رس رہا ہے۔
خون ۔۔ جنید حیرانگی سے پوچھتا ہے۔۔۔
ہاں بچے خون تمہارا پاؤں  زخمی ہے جنید نیچے دیکھتا ہے پاؤں سے رستا خون  زمین  پر ہے۔
آدمی جنید کے کندھے کو پیار سے تھامتا ہے بچہ جوتی اسکی طرف بڑھاتا ہے جنید جوتی تھامتا ہے آدمی چند سو روپے جنید کی طرف کرتا ہے۔۔جنید کی آنکھیں چمک جاتی ہیں ۔جنید جوتی پہننا بھول کر پہلے پیسے پکڑتا ہے۔۔شکریہ صاحب ،بہت  ،بہت شکریہ۔جنید چہک کر کہتا ہے۔آدمی جنید کے سر پر پیار دیتا ہے۔۔۔۔جنید ایک ٹافی اس بچے کو دیتا ہے۔
اور بچہ اپنے باپ کا ہاتھ پکڑے گاڑی کی طرف روانہ ہوتا ہے جاتے جاتے وہ جنید کو ہاتھ ہلا کر بائے بائے کرتا ہے پھر ملیں گے ٹافی والے بھیا ۔جنید ایک مسکراہٹ بدلے میں اس بچے کو دیتا ہے۔
جنید جوتی ہاتھ میں پکڑے پیچھے دوکان کی طرف الٹے قدم بھاگتا ہے۔دوکان والے بھائی میرے پاس اب پیسے ہیں یہ دیکھے جنید پیسے دکاندار کو دکھاتا ہے اور جیب سے کاغذ نکال کر دکاندار کی طرف بڑھاتا ہے  جنید کی آنکھوں میں ایک فاتحانہ مسکراہٹ ہے۔
جنید بغیر رکے تیزی سے سیڑھیاں   اتر رہا ہے سڑک پر بھی  مسلسل بھاگتا  جا رہا ہے اِدھر اُدھر دیکھے بغیرہاتھ میں مضبوطی سے اپنی ٹرے اور ایک بند لفافہ پکڑے تقریباً تیس منٹ مسلسل بھاگ کر وہ رکتا ہے جھک کر گھٹنے پر ہاتھ رکھتا ہے سانس پھولا ہوا دھڑکن بے ترتیب ۔۔۔
جنید لفافے کو گھورتا ہے لمحہ بھر گہری سوچ میں جاتا ہے پیچھے جو رستہ ابھی طے کر کے آیا ہے اسے دیکھتا ہے ایک دم گھبرا کر  اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔
نہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا لفافہ اسکے ہاتھ سے گر جاتا ہے جنید  چند قدم پیچھے ہٹتا ہے پھر  آگے بڑھ کر  لفافہ اٹھاتا ہے اور واپس دوڑ لگاتا ہے اسی طرف جہاں سے وہ آیا تھا اب پہلے سے بھی  زیادہ تیز رفتار سے  وہ واپسی کا راستہ طے کرنا چاہتا ہے۔جنید جلدی پہنچنے کے لئے راستہ بدلتا ہے کیونکہ وہ جلد ا ز جلد  واپس اس جگہ جانا چاہتا ہےجہاں سے وہ آیا تھا وہ گلی سے ہوتا ہوا بڑی سڑک پر پہنچتا ہے تیزی سے بھاگتا ہوا کبھی آنسو صاف کرتا ہے کبھی ٹرے سنبھالتا ہے کبھی لفافے کو وحشت سے دیکھتا ہے۔جنید کے پاؤں کا خون اسکی جوتی کو مکمل طور پر رنگ چکا ہے ایک دم سڑک پر جنید رُک جاتا ہے۔
وہ جگہ جہاں تقریباً ایک سال پہلے ایک تیز رفتار گاڑی نے جنید کے باپ ارشد کو گولیاں, ٹافیاں بیچتے ہوئے کچل دیا جاتا۔جنید اکثر اپنے باپ کے ساتھ غبارے لے کر بیچنے آیا کرتا تھا۔اس دن بھی وہ کسی بچے کو غبارہ دے رہا تھا کہ  ایک چیخ سنائی دی بچے کو دیتے ہوئے غبارہ جنید  کے ہاتھ میں پھٹ جاتا ہے۔
جنید مُڑ کردیکھتا ہے اور سارے غبارے ہوا میں اڑا کر ابا ابا کی صدا لگاتا بھاگتا ہے جنید  کے ابا کے گرد ہجوم جمع ہے۔جنید کو ارشد تک پہنچنے کے لئے جگہ نہیں مل رہی وہ ہجوم میں جگہ بناتا کبھی دھکا کھاتا ہے کبھی گالی،  کوئی آواز آتی ہے یہ غریب اپنی غلطی سے ہی مر جاتے ہیں۔جنید کی چیخیں سسکیاں کسی کو سنائی نہیں دیتی۔کوئی کہتا ہے مر گیا لاوارث اب کون اسکو ہسپتال پہنچائے۔۔
جنید  زور  زور سے روتا  کسی طرح آگے پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
زمین  پر جیسے خون کی ندی بہہ رہی ہےخون لوگوں کے جوتوں تک آ چکا ہے چہرہ مسخ ہو چکا ہے لوگ توبہ توبہ کر رہے ہیں دماغ  مکمل طور پر    زمین پر مسلا جا چکا ہے ارشد کا جسم سڑک کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے مگر ایک رنگین حصہ ۔ارشد کو ایمبولینس لے جارہی ہے ۔جنید روتا ہوا اپنی ٹرے پکڑتا ہے جو تھوڑی دور پڑی ہے جسکی حالت بھی بری ہے۔وہی ٹرے اب بھی جنید کے ہاتھ میں ہیے۔جنید یہ سارے منظر یاد کر رہا ہے۔۔
قدم آگے جانے کی بجائے واپس مڑ رہے ہیں۔
سلمہ ارشد کی موت کی رات ہی شبانہ کی صدمے سے طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے ساتویں مہینے میں ہی پیدا ہوگئی تھی اسکی ٹانگ پیدا ہوتے ہی معذور تھی پیسے نہ ہونے پر علاج بھی ممکن نہ ہوا سلمیٰ کے پیدا ہوتے ہی شبانہ نے کہا لنگڑی پیدا ہوئی ہے لنگڑی قسمت والوں کے گھر اپنا لنگڑا نصیب لے کر یہ جملہ شبانہ اب بھی دن میں ہزار بار دہراتی ہے اور جنید کو ہر بار یہ جملہ سن کر اتنی اذیت ہوتی ہے جتنی ارشد کی موت کی رات  سلمیٰ  کے پیدا ہونے پر   یہ جملہ سن کر  ہوئی تھی۔
جنید اس جگہ کھڑا یہ سب یاد کر کے الٹے پاؤں واپس گھر کے راستے چل پڑتا ہے وہ اب لفافہ واپس کرنے نہیں جانا چاہتا۔
نہیں اب لنگڑی قسمت نہیں لنگڑا نصیب نہیں جنید لفافہ مضبوطی سے تھامتا ہے آنکھ سے آنسو جاری ہے جنید مسکرا  بھی رہا ہے اور بھاگتا ہوا گھر آجاتا ہے۔آتے ہی وہ شبانہ کو وہ پیسے دیتا ہے جو جوتی دینے والے نے دیئے ماں آج  اچھی روٹی بنا یہ کہہ کر جنید سامنے انگیٹھی کی طرف ٹرے رکھنے  جاتا ہے۔
ہاں ،آج اچھا کھالے پھر آگے چار دن فاقے کر لینا۔ چار پیسے  زیادہ آ ہی گئے ہیں تو ضائع کیوں کروں۔جنید عجیب نظروں سے ماں کو دیکھتا ہے اور لفافہ انگیٹھی پر پڑے ہوئے کپڑے کے نیچے چھپا کر رکھتا ہے۔
شبانہ روٹی لاتی ہے
ماں آج تو  اکرم اور سلمیٰ  کی طرح مجھے بھی نوالے خود بنا کر دے جنید انتہائی دھیمے محبت بھرے لہجے میں کہتا ہے۔
شبانہ حیرانگی سے عجیب نظروں سے دیکھتی ہے ارشد کی موت کے بار پہلی بار آج جنید  کچھ عجیب لگ رہا تھا
شبانہ نوالہ بنا کر جنید کو کھلاتی ہے وہ ماں سے نوالہ لے کر ہاتھ چومتا ہے
شبانہ جنید کے ماتھے کو چومتی ہے آنسو اسکی گالوں پر ٹپکتے ہیں جنید ننھی انگلی سے ماں کا چہرہ صاف کرتا ہے۔ اور نوالہ ماں کے منہ میں ڈالتا ہے شبانہ  زارو قطار رونے لگتی ہے جنید کے ہاتھ دیوانہ وار چومنے لگتی ہے یوں حیسے وہ اس روٹی کے لئےمحنت کرنے والے ان نازک  ہاتھوں کو آنسووں سے خراج تحسین پیش کر رہی ہے۔اکرم اور سلمیٰ  بھی ماں کو روتا دیکھ کر رونے لگ گئے۔جنید نے بہن بھائی کا ہاتھ پکڑ کر کہا بس کر اماں اب کیا گھر ڈبونا ہے آگے چھت ٹپکتی ہیں اب تیری آنکھیں جنید نے مسکرا کر کہا ۔شبانہ مسکرا دی۔
مگر سلمیٰ  اب چپ نہیں ہو رہی تھی۔۔
ایک تو ہمارے نصیب لنگڑے اوپر سے اسکا وحشیوں کی طرح ہر وقت رونا برداشت نہیں ہوتا مجھ سے شبانہ نے غصے سے سلمیٰ کو گود میں لیتے ہوئے  کہا۔
جنید نے پیچھے مڑ کر انگیٹھی کو دیکھا جہاں لفافہ تھا پھر ماں کو اور بہن بھائیوں کو۔۔۔۔۔
جنید تیرے پاؤں کو کیا ہوا شبانہ یک دم بولی جنید حیرانگی سے پاؤں کو دیکھتا ہے  جہاں اب بھی خون کے چند قطرے ہیں جنید نے نلکے سے پاؤں دھوئے تھے تاکہ  شبانہ پریشان نہ ہو مگر اسکو مکمل ہوش نہیں آج نہ درد کا نہ کسی بات کا۔وہ۔۔ اماں سڑک پر شیشہ تھا، لگ گیا۔سڑک ہائے۔۔ میری قسمت تیرے ابا کو کھا گئی اب تیرے پیچھے پڑ گئی ۔امیروں کی ہوتی ہے سڑک ہم غریبوں کی نہیں ہمارے لئے تو موت کا پروانہ ہے سڑک ۔
شبانہ ہلدی لگا کر کپڑا باندھتے مسلسل بول رہی ہے جنید کو کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی۔
جنید ساری رات جاگتا رہا ایک ہی جملہ اسکو یاد آ رہا تھا لنگڑی قسمت لنگڑا نصیب جنید کا وجود سرد ہو رہا تھا ۔اسی سوچ میں صبح ہو گئ۔جنید پہلے سے جلدی اٹھ کر بیٹھ گیا۔
اماں آج مجھے اپنے ہاتھ سے ناشتہ کروا۔
شبانہ نے حیرت بھری نظروں سے جنید کو دیکھا جو کل سے اسے کچھ  عجیب لگ رہا تھا۔
شبانہ نے روٹی  جنید کو کھلائی  جس کے حلق سے چند نوالے ہی اترے کے اس نے ماں کا ہاتھ چوما ۔شبانہ کے وجود میں ایک عجیب سی کپکپی آئی جنید کیا ہوا ۔اس نے جنید کے منہ کو ہاتھوں میں لیا۔
جنید نے اپنے چہرے کے گرد ماں کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھے اور دھیمے سے بولا ۔اماں۔ وہ دیکھ لنگڑے نصیب والوں کی لنگڑی قسمت لے کر پیدا ہونے والی لنگڑی سلمہ تیرا آٹا گرانے لگی ہے ساتھ ہی جنید نے قہقہہ لگایا۔۔
شبانہ یک دم جنید کا چہرہ چھوڑ کر سلمیٰ  کی طرف بھاگی جس کو جاتے ہی ایک تھپڑ  رسید کیااور اسکے رونے کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔ جنید اب بھی ماں کا لمس چہرے پر محسوس کر رہا تھا۔
جنید ٹرے لے کر کھڑا ہے ۔اماں ،نا ڈانٹا کر اسے ایک ہی توبہن ہے ہماری جنید سلمیٰ کا منہ چومتے ہوئے کہتا ہے۔ ایک ایک ٹافی دونوں کو دیتا ہے اوررخصت ہوتا ہے درواذے پر جا کر  رکتا ہے انگیٹھی کی طرف دیکھتا ہے پھر ماں سے مخاطب ہوتا ہے۔۔۔
اماں۔۔ اب تو دیکھی سب ٹھیک ہو جائے گا لنگڑا نصیب بھاگے گا اور لنگڑی قسمت والی بھی بھاگے گی ایک دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ جنید درواذے سے نکل جاتا ہے شبانہ ،سلمہ کو اٹھائے دور تک جنید کا  نظروں سے تعاقب کرتی ہے۔۔
جنید اسی عمارت کے پاس کھڑا ہے ۔تقریباً دو گھنٹے اسی عمارت کو گھورتا ہے پھر آہستہ آہستہ اوپر چڑھتا ہے کچھ لمحے بعد جنید اس عمارت سے نیچے آتا ہے۔ کل جو قدم اترتے ہوئے بھاگ رہے تھے وہ آج آہستہ تھے۔دھڑکن بے ترتیب نہیں تھی۔قدم پرسکون تھے۔جنید چلتا ہوا ٹرے تھامے شہر کے درمیان موجود ایک پارک میں پہنچتا ہے۔ قدم انتہائی پرسکون ۔۔۔۔
جنید ارد گرد ہنستے چہکتے خوشیاں مناتے چہرے دیکھ رہا ہے۔جنید کے قدم مزید آہستہ ہوتے ہیں  جنید کے دائیں جانب بچے  دائرہ بنا کر کھیل رہے ہیں۔بائیں طرف لوگ مختلف اقسام کے کھانوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔۔
جنید چند قدم آگے بڑھتا ہے ۔ہائے میرا بچہ کتنی شاندار قسمت ہے ہمارے علی کی ،جب سے پیدا ہوا ہے ہمارے دن بدل گئے ہیں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوا ہے کسی کی آواز جنید کے کان میں پڑی جنید نے  مڑ کر دیکھا ایک ماں اپنے بچے کے صدقے قربان جا رہی تھی۔
جنید نے نم آنکھوں سے دھیمی آواز میں دہرایا لنگڑی قسمت لنگڑا نصیب اور ساتھ ہی جنید نے تیزی سے قدم آگے بڑھائے  جھولوں کے درمیان سے ہوتا ہوا لوگوں کے ہجوم اور شوخیوں سے بچتا ہوا جنید تیزی سے آگے بڑھتا جاتا ہے۔۔
اچانک کوئی جنید کی قمیض کھینچتا ہے جنید یک دم ہوش میں آتا  ہے ۔ٹافی والے بھیا آپ آج ٹافی نہیں دو گے ۔جوتی دینے والا بچہ چہرے پر معصوم نظروں سے جنید سے بات کر رہا تھا۔جنید گُم سُم دیکھنے لگا ٹافی والے بھیا۔ بچہ پھر سے بولا :جنید نے یک دم اسے دیکھا ہاں ،ہاں کیوں نہیں اس بچے کے باپ نے جنید کو پوچھا اب تمہارا پاؤں کیسا ہے؟ جنید نے تیز دھڑکن  کو قابو کرتے ہوئے کہا جی بہتر ہے اب۔۔
آدمی نے آس پاس بچوں کو آواز دی آجاؤ بچو ٹافیاں خرید لو۔ساتھ ہی جنید کو چند ہزار روپے چپکے سے تھما دیئے۔بھائی یہ لو پیسے ٹافی دو ،بچے پبسے لے کر جنید کی طرف لپک پڑے ۔ٹافی والے بھائی ٹافی دو، کی آواذ بلند ہو گئی ۔جنید نے الجھن میں بچوں سے پیسے لئے بغیر ٹافی دینا شروع کی یہ لو تم بھی لو سب لو بچوں کے ہاتھوں میں تیزی سے  ٹافیاں رکھتا  جنید روتا جا رہا تھا۔۔
جنید الٹے پاؤں مُڑا بجلی کی سی رفتار سے بھاگا آنسو صاف کرتا جو بار بار اسکے چہرے پر ٹپک رہے تھے۔
نہیں ،نہیں ،کبھی نہیں، کبھی نہیں ،جنید بار بار دہرا رہا تھا روتا جا رہا تھا۔۔.
جنید کی ٹرے کا سامان  گرتا جا رہا تھا جنید بغیر کچھ دیکھے بھاگتا جا رہا تھا آنسووں کا سیلاب اسکے لئے ہر چیز دھندلی کر رہا تھا۔جنید اب پارک کے درمیان موجود سڑک پر تھا وہ پارک سے جلد اذ جلد نکل جانا چاہتا تھا۔۔
وہ روتا جا رہا تھا نہیں اماں نہیں، ابا ،میں کیا کرو میں کہاں جاؤں ،۔۔ابا ۔۔۔اسکی آنکھیں اسکا ہر منظر دھندلا کر چکی تھی۔
اچانک ایک ذور دار چیخ آئی ایک گاڑی پارک میں آتی ہوئی جنید کے وجود کو ٹکر مار چکی تھی جنید کا وجود ہوا میں تھا  اسکی ٹرے اسکا سامان بارش کی طرح نیچے گر رہا تھا۔۔
جنید کا منظر اب بھی دھندلا تھا لمحہ بھر کو ہوا میں اڑتے  سارا منظر فلم کی طرح  جنید کی نظروں میں گھوم رہا تھا۔۔۔۔
کاغذ دکاندار کو تھما کر اس نے ایک فون کال کی درخواست کی ساتھ دکاندارکو تیس روپے دیئے تاکہ وہ اسکی کال ملا دے۔نمبر ملا کر دکاندار فون جنید کو تھما دیتا ہے رنگ جا رہی ہے۔۔ ہیلو کون؟ ۔۔کال کی دوسری طرف سے آواز آئی ۔جنید میں جنید ہو انکل ۔جنید ایک سانس میں بولا آپ نے نمبر دیا تھا اس دن سڑک کنارے  کے آپ میری مدد کرینگے یاد ہے۔
۔۔وااہ ۔۔۔۔یاد آ گئی  تمہیں پندرہ دنوں بعد ٹھیک ہے، میں تمہیں پتہ دیتا ہوں ابھی پہنچو۔جنید  جوتی پہن کر  زخم کی پروا کئے بغیر دوڑ کر اس عمارت پہنچتا ہے جہاں کال پر آدمی اسے آنے کا کہتا ہے۔
شبانہ سلمیٰ کے پاؤں پر ہلدی لگا کر پٹی باندھ رہی ہے۔ایک کمرے کا گھر جس میں ایک اوپر  روشن دان  ہے جو نہ ہونے کے برابر اور پھر ذندگی میں اتنا اندھیرا کے لمحہ لمحہ اپنی لنگڑی قسمت پر غصہ آنا عام سی بات ہے  ایسے ہی جنید مجھ سے لڑتا ہے اب بندہ اور کچھ نہ سہی شکوہ تو کر سکتا ہے شبانہ اپنے آپ سے باتیں کر رہی ہے۔آج جنید آیا نہیں رات ہو گئی  ہے آج تو ہمسائے کے گھر سے شادی کا کھانا بھی آیا ہے آ جاتا کھا لیتا اچھا کھانا۔اکرم ذمین پر بیٹھا کھیل رہا ہے  ایک دم کسی نے  درواذہ بند کردیا شبانہ چونک گئی ۔
شبانہ  سلمیٰ  کو چارپائی پر بیٹھا کر کھڑی ہوئی دروازے کی طرف لپکی۔عجیب سی خوشبو شبانہ کو پریشان کر رہی تھی۔ شبانہ کے قدم رک رہے دھڑکن تیز ہو رہی۔ایک عجیب سا شور برپا ہو رہا ہے۔ شبانہ تیزی سے دروازے کی طرف لپکتی ہے دروازہ  باہر سے بند ہے شبانہ  زور لگاتی ہے دروازہ  بند ہے۔پٹرول اور مٹی کے تیل   کی عجیب سی خوشبو  شبانہ کو پریشان کر رہی ہے۔ دروادہ کھولو کون ہے۔۔۔کوئی ہے درواز ہ کھولو ۔۔شبانہ چیخ رہی ہے۔۔ اکرم گھبرا کرکھڑا ہو کر ماں کی طرف بھاگتا ہے شبانہ اکرم کو گود لے کر سلمیٰ   کی طرف بھاگتی ہے چیختی ہے کون ہے کھولو   دروازہ کھولوں۔۔۔
سلمیٰ  ،اکرم رونے لگتے ہیں شبانہ بھی  زارو قطار رونے لگتی ہے ۔ایک آگ کا شعلہ بلند ہوتا ہے شبانہ روشن دان کو روشن ہوتا دیکھتی ہےآگ آگ کون ہے کمبختوں ۔۔کھولوں دروازہ کیوں آگ لگائی۔ شبانہ بچوں کو کمرے کے درمیان بٹھا کر اِدھر اُدھر بھاگ رہی ہے ۔۔دیواروں  کو دھکے لگاتی۔  چیختی دروازے کو ٹھوکریں  مارتی ۔۔کھولو خدا کے واسطے یہ ظلم نہ کرو ۔۔میرے بچے شبانہ پیچھے مڑ کر بچوں کو دیکھتی ہے ۔۔جو  کمرے میں دھواں بھرنے سے بے ہوش ہو رہے ہیں ۔شبانہ بچوں کو چومتی ہے گود میں لیتی مدد کو پکار رہی ہےشبانہ کا سانس بھی اکھڑ رہا ہے سلمیٰ   بے ہوش ہو گئی  ہے اکرم بھی بے ہوش ہونے والا ہے ۔شبانہ دروازے کی طرف بھاگتی ہے میرے بچے مر جائیں گے کھولو ایک آواز آتی ہے مر جاؤ تم اور تمہارے بچے اگر تم لوگ  زندہ رہے تو ہم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شبانہ گُم صم ہو کر  بھاگتی ہے پیچھے انگیٹھی سے ٹکڑاتی ہے جہاں سے لفافہ نیچے گرتا ہےشبانہ لفافہ دیکھ کر اٹھاتی ہے ۔۔ہائے میری لنگڑی قسمت ۔۔۔شبانہ لفافہ  زور سے پھینک دیتی ہے  شبانہ اب دروازے پرگڑ گڑا رہی ہے کمرے میں آگ داخل ہو چکی ہے شبانہ بھی بے ہوش ہو رہی ہے شبانہ  کی نظریں لفافے سے نکلے۔۔۔۔
آخری بار شبانہ نے سلمیٰ   اور اکرم کا وجود آگ کی لپیٹ میں دیکھا۔ شبانہ بڑھنا چاہتی تھی بچوں کی طرف مگر دھواں اور آگ اب شبانہ کو کھا رہے تھے یوں ایک شور تھم گیا۔۔۔۔۔

جنید زمین کی طرف گر رہاہے۔۔منظراب بھی دھندلا ہے۔۔۔جنید آہستہ قدم لے کر  عمارت کی سیڑھیاں چڑھنا شروع کرتا ہےجہاں اوپر ایک کمرے میں سے آنے والی  آواز پر وہ رک جاتا ہے۔آ گئے تم ۔۔آ جاؤ ۔۔اندر  جنید گھبرا کر قدم پیچھے لیتا ہے ڈرو نہیں آجاؤ ۔جنید ،رکتا ہے کمرے سے ایک آدمی آتا ہے جنید کا باذو پکڑ کر  اندر لے جاتا ہے اندھیرے کمرے میں جنید کسی کا بھی چہرہ دیکھنے سے قاصر ہے۔۔
تم نے آنے میں کافی دیر کی اگر اب بھی تم واپس چلے گئے تو  تم کبھی وہ سب حاصل نہیں کر سکتے جو تمہیں تمہارے گھر والوں کے لئے چاہئیں ۔ میں ۔۔وہ۔۔آپ ۔۔جنید بات کرنے کے لئے الفاظ اور جملے ختم ہوتے محسوس  کرتا ہے۔
گھبراؤ نہیں وہ آدمی پانی کا گلاس جنید کی طرف کرتا ہے ایک ہی سانس میں جنید پانی پی جاتا ہے انکل مجھے کیا کرنا ہوگا ۔۔کچھ  خاص  نہیں تمہیں صرف ہمت کرنی ہے  باقی کام ہمارا ہے ۔۔آدمی جنید کو لفافہ دیتا ہے جنید لفافہ کھول کر دنگ رہ جاتا ہے۔۔۔
پندر ہ دن پہلے میں تمہیں ٹافی بیچتے دیکھا تم سے بات ہوئی تم نے بتایا کہ  تمہاری قسمت لنگڑی ہے وہ آدمی اب بول رہا تھا جنید خاموش تھا۔تمہاری قسمت بھاگنے لگے گی میں پندرہ دن سے تمہاری قسمت کو بھگانے  کے لئے  بیٹھا ہوں تم نے دیر کی ۔دیکھو بچے دنیا میں سب نہیں ملتا بعض اوقات اپنا حصہ چھیننا پڑتا ہے تم بھی چھینو۔ اپنوں کے لئے خوشیاں اپنوں کے لئے سکون۔جنید سن رہا تھا۔آدمی نے مزید کہا تمہیں بس ایک کام کرنا ہے تمہیں صرف۔۔۔۔
میں ۔نہیں۔۔ میں نہیں۔۔ کر سکتا جنید گھبرا گیا اور لفافہ واپس کیا،آج اگر تم واپس جاؤگے تو ساری عمر لنگڑی قسمت تم اور تمہارے گھر والے جیئے گے اب سوچ لو  آدمی نے ہاتھ سینے پر باندھ کر کہا۔۔
جنید نے لمحہ بھر سوچا آدمی کے ہاتھ سے لفافہ لیا بھاگ گیا۔

پارک کے لوگ جنید کا وجود ہوا میں اڑتا دیکھ رہے تھے۔جنید کا منظر آنسوؤں سے اب بھی دھندلا ہے۔جنید ذمین کی طرف آ رہا ہے۔لوگ لپک رہے ہیں جنید کی طرف۔ جنید کا جسم  زمین سے لگنے والا تھا ۔
جنید  لفافہ واپس کرنے بھاگتا ہے مگر ارشد کے حادثے کی جگہ پر  باپ کی موت یاد کر کے اس موت پر لوگوں کے تبصرے باتیں یاد کر کے اور اپنی لنگڑی قسمت بدلنے کی خاطر وہ ایک  بار پھر لفافہ رکھنے  اور اس آدمی کا بتایا ہوا کام کرنے کا ارادہ کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔
پارک میں ہنستے لوگ اسکو مزید الجھن میں مبتلا کرتے ہیں کیسے کسی کی اولاد سونے کا چمچہ اور میری بہن لنگڑی قسمت لے کر پیدا ہوئی۔وہ آگے بڑھتا ہے مگر ہنستے بچے خاص کر اسکو ٹافی والا بھیا کہنے والا بچہ جنید کو ہوش میں لے آتا ہے وہ خوف سے واپس بھاگتا ہے۔۔۔
جنید کا وجود جیسے ہی  زمین سے لگا ۔۔۔ایک ذور دار دھماکہ ہوا  ۔۔۔بم پھٹنے ۔۔سے  اب سارا منظر دھندلا تھا ۔۔جنید کے وجود سمیت آس پاس تمام انسان  چیتھڑے بن گئے۔ انسانوں کے وجود  اب پہچان میں نہیں تھے۔ہر جگہ خون گوشت کے لوتھڑے تھے۔۔۔۔۔
خود کش حملہ آور جنید کا چہرہ ٹی۔وی چینلز کی  زینت بن چکا تھا۔ہر جگہ اسی کا چرچا تھا۔۔۔۔
تم اور تمہارے بچے مر جاؤ اگر تم لوگ ذندہ رہے تو ہم میں سے کوئی  زندہ نہیں رہ پائے گا تمہارے جنید نے آج شہر کی پارک میں خودکش حملہ کیا ہے۔چند پیسوں کی خاطر سینکڑوں لوگ مار دیئے اس کمبخت نے۔۔۔۔
یہ آخری جملہ سننا تھا کہ  شبانہ انگیٹھی سے ٹکرائی لفافے سے نکلنے والے ہزاروں روپے اس نے دور پھینکے شبانہ کی نظریں جلتے ہوئے اکرم  اور سلمیٰ   کے وجود سے ہوتے ہوئے  لفافے سے نکلے پیسوں پر تھیں  جب  آگ نے اسکو لپیٹ میں لیا ۔۔ ہائے لنگڑی قسمت ۔۔۔آخری جملہ جو شبانہ کے منہ سے نکلا ۔۔جو شاید اس بار خود  شبانہ بھی سن نہیں سکی تھی ۔اب صرف ہر طرف راکھ تھی۔ہر منظر دھندلا تھا ۔۔لنگڑی قسمت ننگا ناچ کر چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 6 تبصرے برائے تحریر ”ہائے ۔۔لنگڑی قسمت۔۔۔۔۔رمشا تبسم

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم
    اسلام علیکم!
    (Fabulous )شاندار۔۔۔اور دل میں اتر جانے کی حد تک تاثیر ہے اس افسانے کی ۔۔۔۔ اک لمحے کے لیے تو سانس رک گئی۔۔۔۔اس حقیقت پر مبنی افسانے میں چھپے درد کو پڑھ کر .
    آپ کی تحریر کئی ساعتوں تک سوچنے پر مجبور کر گئی ۔۔۔ کہ اس افسانے میں قصور کس کا ہے ؟ جنید کا . ،غربت کا یا لنگڑی قسمت کا۔۔۔۔ .
    دیکھا جائے تو ہم بھی شاید قصور وار ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
    ہم خود اپنے اردگرد خود کش حملہ آور تیار کرنے میں برابر کے قصور وار ہیں۔۔۔ غور کریں تو ہمارے مذہب کے احکامات ہمارے لیے نعمت مترقبہ ہے۔۔۔ جن پر عمل کریں تو ہم بہت سی آفات سے محفوظ ہو سکتے ہیں ۔۔۔خود کش حملے بھی انھی آفات میں سے ہیں۔۔۔مثلا ۔۔ مال کی زکوة ادا کریں ۔۔۔۔۔ صدقہ فطر دیں ۔۔۔ علاوہ ازیں نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ” وہ شخص مومن نہیں ہو سکتا جو خود پیٹ بھر سوئے اور رات بھر اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔۔۔۔
    اگر ہم اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھیں،اپنے مال کی زکوة غرباء کودیں ۔۔۔۔ اور اس طرح کی چھوٹی چھوٹی امداد کرتے رہیں ۔۔۔تو قریب از ممکن ہے کہ نہ کوئی جنید خودکش حملہ آور ہونے پر رضا مند ہو گا۔۔۔۔۔ نہ کسی شبانہ کی آنکھ اپنے بچوں کی بے بسی پر نمناک ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔ اور نہ ہی کو ئی اپنی قسمت کے لنگڑی ہونے کی شکایت کرے گا ۔۔اک سوچ ، اک عمل وطن کی تقدیر بدلنے پر قادر ہے ۔۔اگر غور کریں تو اک آواز سنائی دے گی ۔۔۔اک آنکھ سوال کرتی محسوس ہو گی ۔۔۔۔ جو کہتی ہے کہ
    بقلم خود
    میرے وطن کے عزیز لوگو!
    نہ مجھ کو تم اتناحقیر سمجھو
    یہ ماں ،یہ بہن وبھائی میرے
    یہی میری دنیا ، ان ہی کی فکر ہے
    نہ کھانے کو کھانا نہ تن پہ قبا ہے
    میں وہ پرندہ ،جو بے بال و پر ہے
    لیکن یہ دل ہے جو کہتا ہے مجھ سے
    کہ یہ وطن مجھے بھی عزیز تر ہے
    میرے وطن کے عزیز لوگو!
    نہ مجھ کو تم اتناحقیر سمجھو ۔۔۔۔۔۔ نہ مجھ کو تم بے ضمیر سمجھو ۔۔۔
    رمشا جی ! آپ کی تحریر حساس دلوں کو چونکانے پر قادر ہے اور بے حسوں کے لیے تازیانہ ۔۔۔۔ اللہ پاک ۔۔۔ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے آمین یا ارحم الراحمین۔۔۔۔ اللہ رحیم ۔۔۔۔ ہم اہل پاکستان کے دل گداز کر دے آمین

    1. واعلیکم اسلام۔ عظمی آپ کی حوصلہ افزائی کی ہمیشہ کی طرح بہت مشکور ہوں۔آپ نے تحریر کی باریکیوں کا خلاصہ پیش کیا ہے۔آپ کی دعا کا شکریہ۔اللہ پاک آپ پر ڈھیروں رحمتیں ناذل فرمائے آمین۔

      1. بسم اللہ الرحمن الرحیم
        اسلام علیکم!
        آمین۔۔۔۔رمشا جی آپ کی دعا کے لیے شکریہ۔۔
        رہی بات افسانے کی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کی تحریر اپنی مثال آپ ہے۔ آپ کی کرداروں پر پکڑ بہت مضبوط ہے ۔۔۔۔۔۔لگا ہی نہیں کے یہ آپ کی پہلی کاوش ہے ۔۔۔۔۔۔آپ نے بڑے عمدہ طریقے سے غربت ، بےبسی ،لاچاری کی مسخ شدہ صورت کو لفظوں میں اک منجھے ہوئے لکھاری کی طرح ڈھال کر حساس دلوں کو ہلا ڈالا ہے۔۔۔۔۔
        ہر کردار اپنی اپنی جگہ۔۔۔افسانے کے آخر تک سانس لیتا محسوس ہوتا ہے ۔۔۔ یہ محض اک افسانہ نہیں وہ معاشرتی حقیقت ہے جو بے حسی کا لبادہ اوڑھے سو رہی ہے ۔۔۔۔ آج اگر اک گھر میں دھماکے سے کہرام مچا ہے ۔۔۔ اک ہماری بے حسی نے خود کش حملہ آور کو جنم دیا ہے جس کی تباہی کی لپیٹ میں کئی گھروں میں صف ماتم بچھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
        تو خدانخواستہ کل ہماری باری بھی ہو سکتی ہے ۔۔۔ابھی وقت ہے ۔۔اٹھیے اور برائی کو پنپنے سے روکیے ۔۔۔۔
        یا اللہ رحیم و کریم !پاکستان اور اہل پاکستان کو ہر ناگہانی آفات سے محفوظ رکھ ۔۔۔ آمین یا رب العالمین۔۔۔ یا ارحم الراحمین دعا گو ۔۔۔ اور مطلوب دعا ۔۔۔ عظمی سعید

  2. بہت ہی ذبردست ہے۔انتہائی خوبصورتی سے لکھا گیا۔ہر کردار کو بہت بہترین انداز سے بیان کیا گیا ہے۔شبانہ سلمہ جنید اس کے وہ کردار ہیں جو ہماری بے حسی پر انگلی اٹھا رہے ہیں۔ بہر حال ہر لحاظ سے ایک قابل ستائش تحریر ہے۔پڑھتے پڑھتے آنکھیں نم ہو گئی۔

  3. Bohat Khuuub kamal or jo likha haqiqat pr likha
    Great job dear
    Ya hmry mashry ki na insafi ha
    Agr hum sub apny masharti haquq ada kren to koi junaid asa kam krny pr majboor na ho or na he akram salmi or shubana aag ma jalty

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *