خامہ بدست غالب ۔۔ نیو سیریز۔۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

دیکھ کر در پردہ گرم ِ دامن افشانی مجھے
کر گئی وابستہؑ تن میری عریانی مجھے

ستیہ پال آنند پوچھتا ہے۔۔

بے لباسی من کی تھی یا تن کی؟ غالب، کچھ کہیں تو
کیسی عریانی تھی یہ؟ سرمدؔ کی سی؟ ۔۔۔ یا
نانگا سادھو کی سی جوخود ننگا رہنے
کو ہی ّمسلک ٗ یا ّریاضت ٗ مانتا ہے؟
جسم تو آراستہ تھا آپ کا، پر
خوش لباسی سے مبرا ۔۔۔
اک رؤُف و نرم خو تھی روح، لیکن
ننگی بُچی
روح تھی وہ؟ جوع تھی وہ؟
آپ، غالؔب،یہ حقیقت بھی نہیں پہچانتے، پر
جانتے تو ہیں کہ پھر وابستہؑ تن ہو کے خود کو ڈھانپنا
اس جوع (انتر آتما) کی
اک نئے فاضل بدن میں
داخلے کی آرزو، حسرت تھی شاید؟
مسئلہ آوا گمن ۔ ابداع یا ّکایا بدلٗ کا ۔۔۔۔۔۔
کیا کہیں تحت الشعوری رو میں بہتا اور پھٹتا بُلبُلہ تھا
جس نے ایسے شعر کا چولا پہن کر
خود کو یوں ظاہر کیا تھا؟
دل تو میرا بھی، چچا غالب، نہیں تسلیم کرتا
آپ پر بھی ؟ حیف! یہ الزام آئے?
(بُدھ کے رستے پہ چلنے کا )
مگر، غالب چچا،

ّّدر پردہ گرم ِ دامن افشانی تو خود کو

ڈھانپ کر رکھنے کا بھی ۔۔۔ اور

کھول کر رکھنے کا بھی ایسا عمل ہے
جس کو ہم “گنجینہ ؑ معنی ” کہیں، تو کیا غلط ہے؟

جانتا ہوں

آپ، غالبؔ، شعر کی چلمن کے پیچھے خندہ زن ہیں
اس لیے شاید کہ مجھ جیسے کئی شاعر بھتیجے
ایسے فرسودہ (غلط؟) “کایا بدل” (ابداع) جیسےمسئلے کا
آپ پر اطلاق قطعاً کر نہیں پائے ابھی تک
(ہم سبھی ان پڑھ جو ٹھہرے)

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *