کیا روزے کے جسمانی فوائد ہیں ؟۔۔۔۔۔محمد شہزاد قریشی

ہمارے ہاں کہاجاتا ہے کہ اسلام ہی مکمل ضابطہ حیات ہے.قرآن میں کائنات کے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔تمام بیماریوں کا علاج کلونجی میں ہے۔نماز سے کینسر سے بچا جاسکتا ہے اور اس سے فلاں فلاں بیماری سے نجات ملتی ہے۔روزہ تندرستی اور صحت کا ضامن ہے۔ روزے سے انسانوں کو ہزاروں جسمانی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔اس سے ملتی جلتی بہت ساری باتیں بہت تواتر سے کہی جاتی ہیں لیکن انکا حقیقت سے کوئی  تعلق نہیں ہوتا اور نہ وہ Proven Facts ہوتے ہیں۔

میں سر دست صرف روزے کے متعلق ہی عرض کرنا چاہوں گا۔قرآن میں اللہ نے روزے فرض کرنے کی ایک ہی شاندار توجیہہ بیان کی ہے کہ ہم نے انسانوں کو متقی بنانے کے لیئے روزے فرض کیے  ہیں۔ اسکے علاوہ قرآن میں روزے کے جسمانی فوائد کے بارے میں کوئی  بات نہیں فرمائی  گئی  اور میرے علم کے مطابق احادیث میں بھی ایسا کچھ نہیں کہا گیا۔

سائنسی اور طبی طور پر یہ بات ثابت شدہ ہے کہ معدے کو ہر تین گھنٹے کے بعد کچھ نہ کچھ خواراک ملتے رہنا چاہیئے جس سے اسکی فنکشننگ اچھی رہتی ہے اور میٹابولزم تیز ہوجاتا ہے جس سے کھانا جلدی اور اچھے طریقے سے جسم کا حصہ بنتا ہے اور وزن نہیں بڑھتا۔۔ اگر آپ کو کوئی  بیماری نہیں، روزانہ کچھ پیدل چلتے ہیں متوازن کھاتے ہیں تو چانسز یہی ہیں کہ آپ صحت مند رہیں گے ۔۔۔

لیکن روزے میں اسکے برعکس ہوتا ہے۔۔ بالخصوص گرمیوں کے روزوں میں آپ کو مسلسل 15-16 گھنٹے بھوکا پیاسا رہنا پڑتا ہے۔۔ اگر آپ محنت مزدوری یا جسمانی مشقت والا کام کرتے ہیں تو آپ کے لیئے یہ اور بھی مشکل کام ہے۔ آپکو سحری اس وقت کھانا پڑتی ہے جب آپکے سونے کا وقت ہوتا ہے ، اور معدے میں رات والا کھانا بھی موجود ہوتا ہے۔
جب آپ کو دوبارہ کھانے کی شدید حاجت ہوتی ہے تو آپ کو روک دیاجاتا ہے۔۔گرمیوں میں بار بار پانی پینا آپکی ضرورت ہے لیکن آپ افطار سے پہلے نہیں پی سکتے۔یہ بھی ہوتا ہے کہ گیارہ بارہ بجےکے بعد آپکو پیاس ستانا شروع کردیتی ہے۔۔ آپ تھوک نگل کر   حلق تر کرتے ہیں کبھی کلی سے دل کو بہلاتے ہیں، کبھی شاور لے لیتے ہیں، دن کو دو تین بجے کے بعد طبعیت میں مزید اضمحلال آجاتا ہے، چڑچڑا پن اجاتا ہے، کام کرنے کی استعداد کم ہوجاتی ہے۔پیشاب پیلا ہوجاتا ہے، شوگر لیول کم ہوجاتا ہے۔ بعض لوگوں کا بی پی لو ہوجاتا ہے۔۔ خواتین اس سے بھی زیادہ مشکلات کا شکار ہوجاتی ہیں۔۔

یہ  وہ مسائل ہیں جو میں نے خود ایکپیرنس کیئے ہیں،جہاں تک وزن کم کرنے کی بات ہے تو زیادہ تر لوگ رمضان میں  بے اعتدالی کی وجہ سے اپنا وزن بڑھا لیتے ہیں۔ کچھ کم بھی کرلیتے ہیں۔۔
جو لوگ اپنا وزن کم کرلیتے ہیں عید کے ایک ہفتے بعد دوبارہ ویسے ہی ہوجاتے ہیں کیونکہ بھوکا پیاسا رہنے سے انکے جسم سے پانی اور نمکیات کی کچھ کمی ہوگئی  تھی جو پوری ہوگئی  اور وزن دوبارہ پرانی جگہ پر چلا گیا۔
ہمیں یہ اچھے سے سمجھ لینا چاہیے کہ یہ تمام باتیں انسان کے لیئے اللہ کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہیں۔ اگر روزے میں بھوک بھی نہ لگتی،پیاس بھی نہ ستاتی جسمانی مسائل بھی نہ ہوتےسب ٹھیک رہتا تو پھر آزمائش کس بات کی ہوتی؟
اگر روزہ جسمانی لحاظ سے بہت بہتر ہوتا تو اللہ بیماروں کو چھوٹ نہ دیتا، مسافر کو چھوٹ نہ دیتا۔پانی پینے کی اجازت دے دیتا۔ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابی کو یہ کبھی نہ فرماتے کہ اگر نکاح کی استطاعت نہیں تو روزے رکھ لو کیونکہ اس سے  اضمحلال آتا ہے اور جنسی معاملات میں رغبت کم ہوجاتی ہے۔۔۔

اس لیئے جو بات جس تناظر میں کہی جائے اسے اسی طرح اپلائی  کیا جائے، روزے اللہ نے فرض کیئے، نبیﷺ نے رکھ کے ہمیں بتائے، ان دونوں ہستیوں نے کہیں انکے جسمانی فوائد نہیں گنوائے۔ اگر کسی کو بہت فائدہ ملتا ہے تو وہ ایکسپشن ہوگی لیکن اسے ہر کسی پر اپلائی  نہیں کیا جاسکتا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *