گھٹیا افسانہ نمبر 26۔۔ ۔کامریڈ فاروق بلوچ

میں افتخار صاحب کی بیٹھک میں بیٹھا ہوں. ہم کوئی چھ سے سات افراد ہیں. میں آج پہلی مرتبہ اُن کے ہاں آیا ہوا ہوں. افتخار صاحب کے دونوں صاحبزادے بھی وہیں دستیاب ہیں. ایک تو عبدالباری ہےجس سے صدیقہ کے رشتے کی بات چل رہی ہے. یہ تو افتخار صاحب کی شخصیت نے مجھے مجبور کیا تو میں ایسی محفل میں شرکت کر رہا ہوں. وگرنہ ایسی باتونی محفلوں سے دور ہی بھاگتا ہوں. اب افتخار صاحب جو گفتگو کر رہے ہیں وہ میری سمجھ سے اس لیے بالا ہے کیونکہ مجھے اُن کی کوئی ایک بات قابل عمل نہیں لگتی. مجھے کیا پڑی ہے کہ میں شاہ ولی اللہ کے افکار پڑھوں یا سمجھوں. میرا مسئلہ گھر کے دن بہ دن بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں. ماسٹرز میں کارل مارکس کو پڑھ کر کیا کر لیا ہے. ہائی گیٹ قبرستان لندن میں مارکس کی قبر پر لکھا ہوا ہے کہ دنیا بھر کے مزدور متحد ہو جاو. لیکن آج کی حقیقت کیا ہے؟ آج سرمایہ دارانہ نظام عالمی پیمانہ پر جگمگا رہا ہے. آج بھی مارکسی نظریات زندہ اور روشن ہیں جن کی مدد سے موجودہ استحصال کا صرف تجزیہ کیا ہے مگر مقابلہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اب مجوزہ بہنوئی صاحب بتا رہے ہیں کہ شاہ ولی اللہ کے اقتصادی اصول کیا ہیں. یہی چیزیں ہی تو انسان کی تخلیقیت کو ٹَکے ٹوکری کرتی ہیں. ایسا جرات مندانہ لہجہ، کیسا بارعب لہجہ اور کیسی متین گفتگو کر رہا ہے یہ لڑکا، کہیں کسی فرم میں موٹیویشنل سپیکر ہوتا یا کہیں ایونٹ مینیج کر رہا ہوتا تو لاکھوں کما رہا ہوتا، لیکن نہیں ہائی سکول میں استاد بنے رہنا ہے. شاہ ولی اللہ کی تعلیمات سے انقلاب برپا کرنا ہے. لیکن میرا وہی سوال ہے، میں کیوں یہ سیکھوں کہ شاہ ولی اللہ کے مطابق دولت کی اصل بنیاد محنت ہے۔ مزدور اور کاشت کار قوت کاسبہ ہیں۔ یا مجھے یہ جان کر کہ باہمی مدنیت کی روحِ رواں باہمی تعاون ہے، جب تک کوئی شخص ملک و قوم کے لیے کام نہ کرے ملک کی دولت میں اس کا کوئی حصہ نہیں کیا فائدہ ہو گا. مجھے اس بات سے غرض ہے کہ اس مقابلہ بازی کے دور میں خود کو زندہ رکھنا ہے. شاہ ولی اللہ چاہتا تھا کہ جوا، سٹہ اور عیاشی کے اڈے ختم کیے جائیں جن کی موجودگی میں تقسیم دولت کا صحیح نظام قائم نہیں رہ سکتا اور بجائے اس کے کہ قوم اور ملک کی دولت میں اضافہ ہو، دولت بہت سی جیبوں سے نکل کر ایک طرف سمٹ آتی ہے. یہاں جوا ہو سٹہ ہو عیاشی ہو مجھے کوئی پروا نہیں. دبئی میں بھی سب کچھ ہے. کیا کچھ نہیں ہے. جو جو کچھ کرنا ہے آزادی ہے. بس مجھے کوئی تنگ نہ کرے. عبدالباری کے مطابق شاہ ولی اللہ کہتا تھا کہ مزدور، کاشت کار اور جو لوگ قوم کے لیے دماغی کام کریں، دولت کے اصل مستحق ہیں اُن کی ترقی و خوشحالی ملک و  قوم کی ترقی و خوش حالی ہے، جو نظام ان قوتوں کو دبائے وہ ملک کے لیے خطرہ ہے اس کو ختم ہوجانا چاہیے. اچھا ٹھیک ہے شاہ ولی جو کہتے تھے ٹھیک کہتے تھے. مان لیا. اب؟ کیا ہو جائے گا اب؟ ہمیں اپنی اوقات اور اپنی حدود کو سمجھنا چاہیے. ہم انقلاب نہیں برپا کر سکتے. ہم اپنے بچوں کی فیس بھر نہیں سکتے، انقلاب کیا لائیں گے.

ہال کی کرسیاں پُر ہیں. شاید ہی کوئی نشست ہو جو خالی ہو. عجیب ملک ہے عجیب سماج ہے، پیسوں سے ٹکٹ خرید کر کانفرنس میں عالموں کی باتیں سننے اتنی تعداد میں شرکت کرتے ہیں. شاید اسی لیے ہم سے بہتر ہیں. خیر مجھے اپنی یونیورسٹی نے امریکہ میں بطور پناہ گزین طالب علم اپنے تاثرات بیان کرنے کے لیے بھیجا ہے. جب مجھے یونیورسٹی انتظامیہ نے میرے نام کے انتخاب کا نوٹس بھیجا تب سے اب تک میرے ذہن میں ایسا کچھ نہیں جو اِن لوگوں کے سامنے بیان کروں. خیر تین چار تقاریر کے بعد میرے ذہن میں گفتگو کا کچھ نہ کچھ نقشہ تیار ہو رہا ہے. آخر میری باری آ گئی، میرا مائیک کھولا گیا. مجھے نہیں معلوم کب میری گفتگو میں ردھم آ گیا، مجھے نہیں معلوم کب الفاظ فقروں میں ڈھلنے لگے. “ہم کبھی کبھار کہیں نہ کہیں سے یہ سن لیتے ہیں کہ ہمارے ملک نے پناہ گزینوں کا کوئی ٹھیکہ اٹھایا ہوا، جہاں سے یہ لوگ آئے ہیں انہیں واپس بھیج دو، ایک بات تو طے ہے کہ ہم آپ کے ملک میں آپ کی جگہ گھیرنے نہیں آئے، آپ اپنے بھرے گلاس میں جگہ کی کمیابی پہ پریشان نہ ہوں ، ہم آپ کے گلاس میں شکر کی طرح گُھل کر اُس کو میٹھا کر دیں گے”. ایک دو بار سامعین میں سے کسی نے کوئی بات بھی کہی ہے، مگر اُس کی سمجھ کوئی نہیں آئی. اب ایسا بھی نہیں کہ میں کوئی فقروں کو ترتیب دے کر بہت بڑی لفاظی کر رہا ہوں، میں تو جو ذہن میں آ رہا ہے بول رہا ہوں. ” ہم مہاجر آپکی قوم کو بہتر بنانے کی سکت رکھتے ہیں بد تر نہیں. ہم مہاجر بہت محنت کر رہے ہیں اور آپ کی دن رات خدمت کرتے ہیں. ہم بہت سے ایسے کام بھی کر رہے ہیں جو باقی آپ یہاں کے مقیمی نہیں کرنا چاہتے”. یہاں پہ مجھے لگا کہ لوگ مجھے سنجیدہ لینے لگ گئے ہیں. “ہم اپنے آبائی ملک اور گھر کو یاد کرتے ہیں، جیسے یہاں آپ اپنے ملک اور اپنے گھر میں   خوش رہتے ہیں، ایسے ہی ہمیں اپنا ملک اور اپنا گھر یاد آتا ہے، مجھے اپنا بچپن یاد آتا ہے، ہمارے گھر کے صحن میں بہن بھائی اور دیگر عزیزوں کے بچے کھیلا کرتے تھے، پھر ہمارے حالات بدل گئے، ہمارا یہاں آپ کے ملک میں پناہ گزین بننا شوق کا فیصلہ نہیں ہے، یہاں ہر مقام پہ ہر چوک پہ ہر معاملے پہ ہم پناہ گزین دوہرے عذاب کا شکار ہو جاتے ہیں، ایک ہمیں اپنا سابقہ گھر یاد آتا ہے اور ہم یہاں موازنہ کرتے ہیں، گھر کو یاد کریں تو رونا آتا ہے، اور جہاں ہم محنت کر رہے ہیں وہاں ہم اجنبی و پناہ گزین ہیں”. میں نے دیکھا ہے کہ تیر سیدھا نشانے پہ لگ رہا ہے. میں نے بات جاری رکھی ہوئی ہے.”یہ درست ہے کہ ہماری زندگیاں بچ گئیں ہیں لیکن ہمارے مسائل بڑھ گئے ہیں، کیونکہ اکثر پناہ گزینوں کے پاس کرنے کا کوئی روزگار نہیں ہے. ہوٹلوں ریستورانوں اور فیول سٹیشنوں پہ چودہ چودہ گھنٹے کام کرنے والے پناہ گزین اپنے ملکوں میں پڑھے لکھے باشعور اور بااثر لوگ رہے ہیں. مثلاً میں ایک افغان پناہ گزین کو جانتا ہوں جو اپنے ملک میں ریاضی کا استاد تھا، مگر یہاں ریستورانوں میں ڈِش واشنگ کی نوکری کی درخواست دینے کے لیے میلوں پیدل سفر کرتا رہا”. میں زیادہ وقت اپنی مشکلات بتانے پہ صرف نہیں کرنا چاہتا، لہذا امریکی معاشرے میں امن اور اُن کی برداشت کی تعریف کرکے گفتگو کو خاتمے کی طرف لے جا رہا ہوں.

پورا گاؤں جانتا ہے کہ میرا نشو کے ساتھ معاشقہ ہے. ویسے لوگوں کے لیے یہ ایک شغل بن گیا ہے کیونکہ میں گونگا اور نشو بہری ہے. ویسے بڑی پھپھو نے مذاق اڑاتے ہوئے کیا خوب کہا کہ یہ اپنی معشوق کو گانے سناتا ہے اور وہ اِس کے گانے سن سن کے اِس پہ عاشق ہوئی ہے. ایک دن شہر سے چاچا اقبال کے گھر والے آئے ہوئے تھے. دادی بشیراں سے چاچے کی دوسری بیوی نے پوچھا کہ اِن آدھ بندوں کا آپسی عشق ہوا کیسے؟ دادی نے بتایا کہ انہوں نے کیسے عشق کیا کسی کو نہیں معلوم، یہ بتا سکتا ہے نہ وہ سن سکتی ہے، یہ تو نشو کا دادا جو معذور ہے نے ایک رات چلنے کے لیے زور لگا تو وہ چارپائی سے گر گیا اور اُس کے شور کی وجہ سے گھر والے بھی جاگ گئے، اُس رات گونگا نشو کے پاس چارپائی پہ سویا ہوا تھا، نشو کے گھر والوں نے گونگے کو بھاگتے ہوئے دیکھ لیا تھا، اگلے دن نشو کے گھر والے ہمارے گھر شکایت کرنے آئے تو ہمیں پتہ چلا، اِس کو اِسکے باپ نے مارنے کی کوشش کی تو گونگا بھاگ گیا. اب سارے گاؤں کو پتہ چل گیا ہے کہ گونگے نے نشو کے ساتھ پکا ٹانکہ لگایا ہوا ہے. چاچی بھی اب مجھے دیکھتی ہے تو بےاختیار ہنس پڑتی ہے. بس یہی ہنسی ہمارے فائدے کی ہے. اگر میں گونگا نہ ہوتا اور نشو بھی معذور نہ ہوتی تو ہم یوں کھلم کھلا عشق نہ کر سکتے  . لوگوں کا یہی کہنا ہے کہ گونگے کو نشو کے علاوہ کس نے اپنانا ہے اور نشو کو گونگے کے علاوہ کون پسند کرنے والا ہے. لہذا لوگ اب آہستہ آہستہ ہمارے عشق کو قبول رہے ہیں. ایک دن مجھے اسماعیل خان نے بلایا ہے. میں حیران کہ  اسماعیل خان کو کیا پڑی ہے وہ مجھے بلائے. میں ڈرتا ڈرتا اسماعیل خان کے پاس پہنچ گیا ہوں. وہ کہہ رہا ہے  کہ موجودہ سرپنچ بہت جاہل ہے. بہت چولیاں مار رہا ہے. اور تو اور چوری بھی کرتا ہے. ہم چاہتے ہیں کہ گونگے تمہیں سرپنچ بنایا جائے. مجھے تو جیسے جھٹکا لگا ہے. میں حیران ہوں. وہ کہہ رہا ہے کہ ہم تیرے لیے پورے گاؤں میں لوگوں کا ذہن تبدیل کریں گے. ہمیں بھی اپنے گاؤں میں تبدیلی چاہیے. یہ سرپنچ ذلیل و رسوا ہوئے بغیر معاملات طے نہیں کر رہا. اِس کو ذلیل ہی کرنا پڑے گا. مجھے مزید ڈر لگ رہا ہے. کہتا ہے اگر تم سرپنچ بن جاؤ تو تیری شادی نشو کے ساتھ دھوم دھام سے ہو گی. پورے گاؤں  میں چراغاں کیا جائے گا. ہر گھر کو اُس دن پکا پکایا کھانا اور میٹھا بھیجا جائے گا. ہر ایک بندہ گونگے سرپنچ کی شادی میں شریک ہو گا. جبکہ موجودہ سرپنج کئی مرتبہ میرے سامنے یہ ذکر کر چکا ہے کہ گونگے کی حرکتیں نہ صرف ہماری روایات کے خلاف ہیں بلکہ مذہب بھی اِن چیزوں کے خلاف ہے. میں اسماعیل خان کے پاس سے اٹھ کر دریا والے بَند پہ آکر بیٹھ گیا ہوں. میں نے خان کو  اشاروں میں بات کرکے بتایا بھی تھا کہ سرپنچ والے فیصلے کیسے سناؤں گا. خان نے کہا وہ ہم پہ چھوڑ دو، گاؤں کے فیصلے ہم کریں گے، باقی سارے کام بھی ہم کریں گے، تم بس نشو سے پیار کرنا.

میں اُس کے سامنے یوں بیٹھا ہوں جیسے میں نے سر جھکایا ہوا ہو، نثار میرے سامنے بیٹھا مسلسل بول رہا ہے. “تم کوانٹم فزکس جیسی جدید ترین سائنس کے ماہر ہو. تم سائنسدانوں اور انجینئرز کو طبیعات کی حقیقتوں کی ایک نئی اور گہری تفہیم عطا کرتے ہو. تم الیکٹرانوں، ایٹموں اور مالیکیولز کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہو. کیمیائی تعمل کی نوعیت، روشنی اور مادے کے باہمی تعلق، ستاروں کے ارتقاء، زندگی کی حیاتیاتی کیمیاء اور خود بنی نوع انسان کے ارتقاء کو سمجھنے میں ہم جیسوں کی مدد کرتے ہو. انیسویں صدی کی طبیعت کی دنیا میں جو اختلافات پیدا ہوئے اُس کا تجرباتی و نظریاتی جواب دیتے ہو. لیکن میرے بھائی جب یہ سائنس بیش قیمت کامیابیاں سمیٹنے کے باوجود متنازع  ترین تھیوری ہے کیونکہ یہ الیکٹرانوں اور فوٹانوں کی تنظیم کی عمومی رائے کی نفی کرتی ہے. لیکن صرف تم جیسے لوگ اِس حقیقت کا ادراک رکھتے ہیں کہ ارتقاء کیلئے اختلاف ہونا لازم ہے. جب اتنی ساری باتیں سمجھتے ہو پھر تمہاری بیوی کے تمہارے ساتھ پیدا ہونے والے اختلافات کا تجزیہ کرنے سے کیوں قاصر ہو”. میں اب نثار کو کیا بتاؤں. میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آ رہا. میری بیوی کے اختلافات سائنسی بنیادوں پر نہیں ہیں. یہ کبھی کہاں جا رہا ہے کبھی کہاں جا رہا ہے بیوی بچوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے جیسے فضول اختلافات کا کیا جواب دوں. “نثار بھئی میں فزکس کا استاد ہوں مطلب یہ نہیں کہ گھریلو معاملات پہ فزکس کے قوانین لاگو کروں، کوانٹم فزکس نے بھی بہت سے تنازعات پیدا کر دیے ہیں، خصوصاً بہت چھوٹے عناصر کی ہیت و تحرک کے حوالے سے خاصی الجھنیں پیدا ہوئی ہیں. بہت باریک اور چھوٹے عناصر بڑے عناصر کی نسبت مختلف طریقہ کار اور برتاؤ ظاہر کرتے ہیں. روشنی ایک لہر کی مانند بہتی ہوئی نظر آتی ہے، لیکن دوسری طرف روشنی جب ڈیٹیکٹنگ سکرین سے ٹکراتی ہے تو اِس کی  ذرے والی خصوصیات بھی ظاہر ہوتی ہیں. جب ایک کرسٹل بہت سے الیکٹران بکھیرتا ہے تو عجیب تماشا دیکھنے کو ملتا ہے، ایسے لگتا ہے کہ الیکٹران ایک  ذرے کی بجائے ایک لہر کی مانند حرکت کرتے ہیں. یہ تضادات اور تنازعات بھی کوانٹم فزکس کی ہی دَین ہیں”. نثار بھائی کو شاید اچھی خاصی پٹیاں پڑھائی گئی ہیں کیونکہ وہ بھی چپ نہیں کر رہے، مزید مصیبت کہ فزکس کو درمیان میں نجانے کیوں گھسیٹ رہے ہیں. “بالکل میرے بھائی لیکن تم ہی ہمیں بتاتے ہو کہ کوانٹم فزکس مادے کے اندر ایٹم کی انتہائی ذیلی سطحوں پہ ہونے والے تحرک کی وضاحت کرتی ہے. سیمی کنڈکٹر، ٹرانسسٹر، کمپیوٹر، پلاسٹک وغیرہ کوانٹم فزکس کی بصیرت ہی کے نتائج ہیں. تجرباتی بنیادوں پہ تو اِس کی صحتِ قیاس غیر معمولی سطح تک کامیاب ہے. کوانٹم فزکس بیسویں صدی میں طبیعات کے میدان میں ہونے والی دوسری کئی پیش رفت کے ساتھ مل کر انسانی سماج کو بیش بہا ترقی دے رہی ہے، خصوصاً نیوکلیئر فیوژن سے بےپناہ توانائی کی پیداوار ممکن ہو رہی ہے. یہی میں کہتا ہوں کہ تم بیوی کے ساتھ باریک بینی سے تعلق کا جائزہ لو اور رشتے کو ترقی دو”. میں نے جان چھڑوانے میں ہی عافیت سمجھی ہے، لہذا عاجزی سے عرض کر کے چائے لینے چلا گیا کہ “جی نثار بھائی آپ نے یہ بات کیا خوب بیان کی ہے، واقعی مجھے بیوی کے ساتھ تعلق کی ذیلی سطحوں پہ دوبارہ غور کرنا ہو گا۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *