چاند، مولانا موصوف اور لاعلم وفاقی وزیر۔۔۔۔ذیشان محمود

کراچی میں ہمارے پڑوس میں ایک خاندان رہتاتھا ان کا تعلق پشاور سے نہیں تھا بلکہ وہ خالص سیالکوٹی پنجابی تھے لیکن ان کے گھر کا مطلع پشاور سے جا ملتا تھا۔ اس بات کا پتہ ہمیں رمضان میں نہیں لگتا تھا کیوں کہ وہ خاموشی سے روزہ رکھنا شروع کر دیتے تھے۔ لیکن عید پر انہیں خاصی دشواری کا سامنا اس لئے کرنا پڑتا تھا کہ وہ تیار ہوتے اور بچوں کو عیدی بھی دیتے۔ لیکن عید کے دن کا اصل یعنی نمازِ عید ان کو میسر نہ آتی یوں وہ عید الفطر یعنی کراچی کے 29ویں یا 30ویں روزے کو میٹھا بنا کراس عید کے دوسرے پہلو یعنی میٹھی عید ضرور منا لیتے تھے۔

ہر سال کی طرح اس سال بھی چاند متنازعہ ہو گیا۔ مفتیان کرام کے درمیان باہمی تنازع  مذہب اور مسلک کا ہے جس کی بناء پر حقیقی شرعی ریاستی پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک ہی ریاست میں دو مطلع مقرر کئے گئے ہیں۔رمضان اگر ایک ہی دن شروع ہو بھی جائے توسب کی نظر عید الفطر پر ٹھہر جاتی ہے کہ اس پر تو ضرور تنازع  ہو گا۔ ہم سب تو اس بات کے عادی ہو چکے ہیں لیکن اس بار دو شیروں کی کچھار میں ایک اور شیر داخل ہو گیا جس سے یہ معاملہ دلچسپ ہو گیا۔

سو کہانی میں نئے موڑ کے بیان سے قبل اس کا سیاق و سباق کا خلاصہ کر لیا جائے۔ قصہ مختصر کہ مرکزی روئتِ  ہلال کمیٹی ایک ریاستی ادارہ ہے جس کا کام ہر قمری مہینوں یا اسلامی مہینوں کا تعین چاند کو ننگی آنکھ سے دیکھ کر کرنا ہے۔ شنید ہے کہ عموماً یہ کام محکمہ موسمیات ہی   کرتا ہے لیکن اصل تنازع  قمری سال کے آغاز، رمضان اور عیدین کے موقع پر ہوتا ہے جب  اکثر عوام کی   نگاہ اس کمیٹی پر مرکوز ہوتی ہے۔ مرکزی روئتِ ہلال کمیٹی کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ تھا ۔ بچپن میں ہم سنتے تھے کہ پشاور کے لوگ سعودیہ کی متابعت میں رمضان اور عیدین مناتےہیں۔ لیکن اب میڈیا سے حقیقت معلوم ہوئی کہ اصل تنازع کیا ہے۔

اب کہانی میں نیا موڑ فواد چوہدری صاحب کی انٹری سے آیا۔ جن کو حال ہی میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی وفاقی وزارت کا قلمدان سونپا گیا ہے۔ اِدھر نئی وزارت کا قلمدان ملا اُدھر رمضان المبارک کے آغاز میں برسوں پرانے مسئلےنے پھر سر اٹھا لیا۔ تو جناب نئے وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے اپنی وزارت کے اختیارات اورحدود لوگوں پر آشکار کرنے پر کمر  کس لی۔ وزیر موصوف کی یہ نئی انٹری مرکزی روئیتِ ہلال کمیٹی کے چیئر مین مولانا موصوف کو ایک آنکھ نہ بھائی اور انہوں نے نئے وزیرکو ’’لاعلم ‘‘ قرار دے دیا۔
وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے اس بات کا عندیہ دیا کہ وہ نئی کمیٹی قائم کر یں گے جو آئندہ دس سال کے لئے قمری و اسلامی کیلنڈر مرتب کرے گی۔ کل وزیر موصوف نے یہ کمیٹی قائم کر دی جو 15 رمضان تک آئندہ 5 سال کا کیلنڈر مرتب کر کے کابینہ کو بھجوائے گی۔اس پانچ رکنی کمیٹی کا کنوینئر وزارتِ سائنس اور ٹیکنالوجی کے سائنسی مشیر کو مقرر کیا گیا ہے جبکہ دیگر ارکان میں محکمۂ موسمیات کے تین جبکہ سپارکو کا ایک نمائندہ شامل ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ اس کمیٹی میں علماء ضرور ہوں گے لیکن مذہب کے نہیں ۔ اس کمیٹی میں سائنس کے ، موسم کے، ٹیکنالوجی کے علماء ہوں گے جو سائنس کی مدد سے یہ کام کریں گے۔
وفاقی وزیر برائے سائینس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری صاحب نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں لکھا کہ

’’یہ فیصلہ کہ ملک کیسے چلنا ہے مولانا پر نہیں چھوڑا جا سکتا، اس رو سے پاکستان کا قیام ہی عمل میں نہ آتا کیونکہ تمام بڑے علماء تو پاکستان کے قیام کے مخالف تھے اور جناح صاحب کو کافر اعظم کہتے تھے، آگے کا سفر مولویوں نے نہیں نوجوانوں نے کرنا ہے اور ٹیکنالوجی ہی قوم کو آگے لے جا سکتی ہے۔‘‘

بے شک اسلامی عبادات میں سے اکثر کا تعلق چاند سے ہے علماء کرام کہتے ہیں کہ اگر ایک دن کا بھی فرق ہوجائے تو بعض اہم دینی امور کی ادائیگی میں حلال و حرام کی حد تک فرق پڑ سکتا ہے۔ ہم کئی چیزوں میں سائنس کے تابع ہیں۔ دنیا میں آنے سے لے کر مرنے تک، کھانے پینے ، دوا اور علاج اور ہمارے روز و شب اس سے پیوستہ ہیں۔ حتیٰ کہ رمضان المبارک میں بھی اسی سائنس کی مدد سے سحر و افطار کے اوقات مخصوص کئے جاتے ہیں۔ تو جب سورج کے نکلنے اور غروب ہونے کے اوقات کا تعین سائنس سے ہو سکتا ہے تو چاند کا کیوں نہیں۔ کئی ممالک میں ان کے مقامی مطلع کے مطابق کئی سالوں کے قمری کیلنڈر جاری ہیں اور ان ممالک میں بسنے والے مسلمان اس کے مطابق اپنے مذہبی تہوار منعقد کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے ہے کہ ہم بھی سائنس سے فائدہ اٹھا کر ترقی یافتہ قوموں سے اپنی میراث واپس لیں جس پر وہ قابض ہو کر ترقیات کے نئے سے نئے میدان کھوج رہے ہیں۔
سو اب ہم سب کی نظریں عید الفطر کے چاند پر مرکوز ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ ہمارے وفاقی وزیر اونٹ کو کروٹ دینے  میں کامیاب ہوتے ہیں یا ہنوز مرکزی روئیتِ ہلال کمیٹی اونٹ کو اسی طرح چلانے میں کامیاب رہتی ہے۔

Avatar
ذیشان محمود
طالب علم اور ایک عام قاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *