بیٹھک۔۔۔محمد خان چوہدری

دیہاتی ماحول سے جُڑی ماضی کی ایک کہانی۔
شیر دل ہمسایہ، ہم جماعت اور دوست تھا۔اس کی  پیدائش کے دوران اسکی ماں فوت ہو گئ تھی۔میٹرک تک اسے پھوپھی نے پالا جو ہمارے محلے میں ہی رہتی تھیں۔اُس کے دادا کو آپ شاہجہان کہہ سکتے ہیں۔
شہر سے باہر کوئی  ایک کوس دور ان کی زمین تھی۔تقسیم ہند ہوئی  تو شہر میں ہندوؤں اور سکھوں کے جانے کے بعد  ان کے مکان گراۓ گۓ اور ملبہ نیلام ہوا تو اس کے دادا نے اس زمین پر وہ ملبہ ،جس میں لکڑی کی پرانی چھتیں دروازے، کھڑکیاں اور پختہ اینٹیں
شامل تھیں خرید کے بڑا سا ڈیرہ ، ڈنگروں کی بہک ،بیٹھک اور حویلی تعمیر کرائی،اور وہاں کنواں تو پہلے سے تھا۔
، شیر دل کا والد، دادا دادی وہاں شفٹ ہو گۓ تھے۔ہم جب کالج میں داخل ہوۓ تو شیر دل کو سائیکل مل گئی اور وہ بھی دادا کے پاس رہنے لگا،اور اس کی بیٹھک ہم دونوں کے استعمال میں آگئی۔
تین شہتیر کی چھت ،اس کے سامنے چار محراب کا برآمدہ ،اس کے اندر کھلتا نقاشی زنجیر والا دروازہ اور لوہے کی سلاخوں والی کھڑکیاں، اور سامنے کھلا دالان اور اس میں لگے شیشم کے پیڑ،کسی بھی رومانوی سین کا مکمل سیٹ تھے۔۔
 اس پر  ایک عجیب رومانس نے جنم لیا، شیر دل کے دادا کے پاس با با شریف نوکر تھا،اس کی پوتی ہماری ہم عمر تھی ،کھانا چاۓ لسی ہمیشہ وہ ہی لے کے آتی، تو ان دونوں کی جسمانی حرارت سے بیٹھک کا درجہ حرارت بڑھ جاتا !
کالج سے ایف اے کرنے کے ہم نے لاہور یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور چار سال وہاں رہے،اس دوران ہر ہفتے نہیں تو دوسرے ہفتے شیردل مجھے مجبور کر دیتا ،تو ہم اپنے شہر آتے تھے،دوستی کا تقاضا تھا ہم اس کے ہمیشہ شامل سفر رہے،ہم اسکی مصروفیات بارے جانتے تھے،  بابا شریف کی پوتی سے بے تکلفی کا اندازہ تھا،
کئی بار ہمیں انکی قربت سے آگے تک کے امور کا شک گزرا
لیکن بیٹھک کا  یہ عقدہ ہم پہ بہت دیر بعد کھلا۔۔
ہمارے بزرگ مکانوں سے قبرستان منتقل ہوتے رہے، حویلیوں کو کوٹھیوں میں تبدیل کیا گیا،لیکن شیردل کی ضد پہ  وہ بیٹھک اسی حالت میں رکھی گئی۔ہمارا آبائی  شہر جانا کم ہوتا گیا،عید بقر عید سے محرم اور پھر خوشی غمی سے کم ہو کے صرف تقریبات تک محدود ہو گیا
ایک دن شیردل نے وہ پرانی ضد کو دہرایا، ہمیں شک گزرا کہ شاید کوئی  اہم ذاتی کام ہے جس میں اسے ہماری معاونت درکار ہے
کہ وہ اتنی ضد کر رہا ہے کہ یہ ویک اینڈ اپنے آبائی شہر میں گزارنا ہے
مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق ہم نے حامی بھر لی۔۔
اور ہم اس کے ہمراہ اپناساز و سامان اور توشہ شام لے کے اُس بیٹھک میں شب نشین ہوۓ۔
رات ہو گئ ی اور بارش بھی ہو رہی تھی،شیر دل کی بے چینی بہت تھی، ہمارے کئی بار پوچھنے پر ایک ہی جواب دیتا
۔۔کچھ نہیں یار ! دعا کرو سب ٹھیک ہو ۔۔۔۔
دستک ہوئی  شیردل نے بے صبری سے بیٹھک کا دروازہ کھولا،
تو ایک سن رسیدہ ،خاتون اور ایک جوان سال دوشیزہ  بارش میں بھیگی ہوئی   وارد ہوئیں ۔۔
ہم نے جلدی سے اوراق ماضی کو دیکھا ۔۔
تو خاتون  مانوس سی نظر آئیں۔وہ وہی بابا شریف کی پوتی تھی  اور جو اس نے کہا وہ بس یہ تھا۔۔
شیردل جی میں نے جو آپ سے پیار کیا تھا یہ اس کی نشانی ہے جوان ہو گئی  ہے اس کا رشتہ آیا ہے اگر آپ کی اجازت ہو تو اس کو پرنا دوں۔۔
شیر دل اور اسکے درمیان تفصیلات پر مکالمہ ہم نہ سننا چاہتے تھے، نہ سن پائے۔
ہمیں تو بس ان لمحات میں احساس ہوا کہ ۔۔۔ یہ پرانی عمارتیں آسیب زدہ کیوں ہوتی ہیں۔ ان میں آسیب کیسے جنم لیتے ہیں !

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *