پندرہ جھوٹ، اور تنہائی کی دھوپ۔۔۔۔ محمداقبال دیوان/قسط2

SHOPPING

یہ کہانی ہمارے مشفق و مہرباں دیوان صاحب کی ”تیسری کتاب پندرہ جھوٹ اورتنہائی کی دھوپ“کی فلیگ۔ شپ اسٹوری ہے۔ ہم سات اقساط پر مبنی یہ کہانی مکالمہ کی  دوست  پروفیسر نویدہ کوثر، کی فرمائش پر شائع کرر ہے ہیں۔ امید ہے پسند آئے گی ۔ چیف ایڈیٹر۔انعام رانا

تعارف

پروفیسر نویدہ کوثر
فیصل آباد
اقبال دیوان کی تحریر کمال ہی کمال ہے۔
پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ۔
بے مثال کہ محبت کی اتنی دلنشین صورت پہلے کبھی پڑھی ہی نہیں بالکل ایسے جیسے سرمئی سی شام ہو،دودھیاصبح کی مسکرا ہٹ میں غنودگی کا رس بھرا ذائقہ ہو،جیسے بادل زمین پہ اتر آئے اور کسی کو آغوش میں لے ،بھگو کر شرارت سے مسکاتا چلا جائے۔

پندرہ حھوٹ اور تنہاءی کی دھوپ
سولی ٹیئر انگوٹھی
فیروزے کی انگوٹھی
گلوکارہ شکیرہ

اس سحر آفرین کہانی میں تو محبوب ایک طرف رہا،خود عاشق بھی ایسا ہے کہ جس پہ عشق عاشق ہو جائے؎۔۔۔۔جنون اسے باہوں میں بھر لے اور اپنی بیخودی کا مزہ چکھ لے۔
ان گنت رنگوں کی بارش سے رنگا یہ عاشق کمال ہے کہ شرابور ہو کر بھی سوکھے چمک دار سپید لباس میں اجلے پن کی مثال ہے۔۔محبوب کی نسائیت اور حسن فتنہ ساز کا بیان مرد تو مرد۔خواتین کے دل کے ساز پر بھی استاد ولایت حسین کا راگ شنکراسنوا دیتا ہے۔۔یہ عالم کہ گدگدا ہٹ اور اکساہٹ میں ایسی نزاکت بھر ا سراپا سمو کر رکھ دیا ہے کہ سسکی کو چٹکی میں بھر کر اس بدن پہ پھونک دو تو نیل پڑ جائے۔۔آپ نے ایسا دیکھا کبھی۔نہیں ناں۔ چلیں بسم اللہ پڑھ کر چلتی گاڑی میں سوار ہوجائیں اور یہ نظارے اقبال دیوان کی کہانی میں دیکھ لیں۔سرشار بوسے،جسمانی تعلق کی الوہیت اور محبت کے جزیروں کی یہ مثلث آپ کو صحرا میں سمندر کا تجربہ کراتی ہے کیونکہ اقبال دیوان کی تحریر کمال ہی کمال ہے۔
سن  2000 ء  کی یہ کہانی کمپیوٹر کے ان دنوں کی یاد ہے جب یاہو میسنجر بغیر فون اور بغیر کیمرے کے ہوتا تھا۔اس وجہ سے خود سے دور ہٹ کر کوئی اور روپ دھار کر  جینا بہت آسان تھا۔

بہت پیار
مسحور و مسرور
آپ کی دعا کی طلب گار
نویدہ کوثر

۔۔۔۔۔۔
گزشتہ اختتام
اپنی آ ئی۔ لائنر پنسل وہ غسل خانے میں ہی بھول گئی اور تیار ہوکر اپنی امی کی طرف چلی گئی۔شام کو جب وہ اور امجد گھر واپس آئے تو اس نے ماہم کو غسل خانے سے لاکر پنسل لوٹاتے ہوئے غور سے دیکھا۔ماہم کو لگا کہ اس کی کوئی چوری نادانستگی میں پکڑی گئی ہے مگر امجد میں صبر بہت تھا۔ اس نے اس حوالے سے مزیدکوئی بات نہ کی۔ماہم اب اسے پیار سے اے۔ بی۔ جے (ABJ)ہی کہتی ہے۔ یہ تین حروف امجد بھٹی جیولرز کا مخفف ہیں۔ امجد کو اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں۔ ایک معمولی سے اضافے سے وہ اکثر یہ بھی سوچتی ہے کہ اس کی امّی ٹھیک ہی کہتی تھیں کہ۔۔ایسے مرد جو مالی طور پر خوشحال ہوں۔محبتیلے ہوں، جن کے ساتھ کوئی Excess Baggage بھی نہ ہو اور پھر شریف ہونے کے ساتھ ساتھ   تمام تر دشواریوں اور اختلافی حقیقتوں کے باوجود شادی کو عمدگی سے نبھانا بھی جانتے ہوں یقینا ً ایک جنس نایاب ہیں۔
دوسری قسط
امجد بھٹی، اس شادی سے بہت خوش ہے۔ اس کی مسرتوں کا  کوئی ٹھکانہ اس وقت   نہ رہا جب اسے ماہم کی والدہ کے ذریعے یہ پتہ چلا کہ ماہم اس کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔اس بات کا اسے ہلکا سا قلق رہا کہ ماہم نے یہ خوشخبری اسے خود کیوں نہیں سنائی۔اس نے بچے کے ماہم کے پیٹ میں آنے کا سن کر اسے ہیرے کی ایک تین قیراط کی Solitaire انگوٹھی تحفے میں دی۔
اس رات جب وہ اس کی بانہوں میں کسمسارہی تھی اس نے یہ انگوٹھی اسے بہت پیار سے پہنائی۔اس رات وہ اس کے کاندھے پر سر رکھ کر رافع کے دسویں جھوٹ کو یاد کرکے چپ چاپ روتی رہی۔یہ انگوٹھی، بریسلیٹ اور لاکٹ والا جھوٹ تھا۔امجد نے اس سے پوچھا کہ” کیا وہ اس کے بچے کی ماں بننے پر خوش نہیں؟”ماہم نے لجاہٹ سے جواب دیا” نہیں بہت خوش ہوں۔دیکھو میں کیسی اچھی لگ رہی ہوں۔ سلمان کے پیدا ہوجانے کے بعد وہ ہمیشہ یہ سوچتی تھی کہ شاید وہ اب کبھی دوبارہ ماں نہ بن پائے گی۔ امجد نے اسے خود سے پیار کرنا سکھا دیا اور ماں بنا دیا”۔ یہ سب کچھ ماہم نے اسے گلے لگا کر کہا۔ اس کی یہ بات سن کرامجد نے اسے آئینے کے سامنے کرکے اس بات پر بہت دیر تک جا بجاچوما۔ اس سے مزید تین بچوں کو اور پیدا کرنے کی نوید دی۔بند آنکھوں سے ماہم نے سوچا کہ رافع نے اگر جھوٹ موٹ کی ہی سہی ، فیروزے کی ایک انگوٹھی اس دن جب وہ پہلے پہل ملے تھے، وہ ہی پہن لی ہوتی تو شاید اس کے پندرہ جھوٹ میں اس کا دل رکھنے کے  لئے ایک جھوٹ کم ہوسکتا تھا

سائبر آباد،حیدر آباد دکن

دوسرے مہینے سے ماہم کی طبیعت خراب رہنے لگی۔ مکرم جاہ سے شادی کے عرصے میں سلمان کے وقت بھی اس کا یہی مسئلہ تھا۔اسے دن کے دس بجے سے رات گئے تک نیند ہی آتی رہتی تھی۔وہ صبح چار بجے ہی اٹھ جاتی۔ اپنی تہجد کی نماز اور قرآن پڑھتی رہتی تھی۔مکرم کو اس کا یہ بے وقت سونا ،جاگنابہت برا لگتا تھا۔ ان کی پہلی لڑائی بھی اسی بات پر ہوئی تھی۔وہ ان مردوں میں سے تھا جن کی مردانگی کو جوش جنوں،اعلی الصباح نصیب ہوتا تھا۔ رات کو اس کا Metabolismبہت معدوم ہوتا تھا۔ صبح صبح اس کے بدن میں خواہشات کے وحشی جن بیدار ہوکر بلیدان مانگتے تھے۔صبح کو اس کے موڈ میں ایسی تراوٹ اور بے محابا جولانی ہوتی کہ اگر اسے آپ مشہور و معروف گلوکارہ شکیرہ کے اغوا برائے تاوان کے لئے کی جانے والی واردات کے ارتکاب میں شریک ہونے کا کہتے تو وہ اس میں ٖضرورشریک ہو جاتا۔ اسکے برعکس ماہم شادی سے پہلے ان عورتوں  میں سے تھی جنہوں نے فجر کی نماز، ہمیشہ طلوع آفتاب کے بعد، نیند سے بیدار ہونے پر پڑھی تھی۔ مکرم کو ماہم سے یہ گلہ تھا کہ نہ تو وہ اس کے ساتھ ان دنوں کہیں آتی جاتی ہے نہ اس کی آمد پر اس کا استقبال کرتی ہے، نہ ہی اسے خدا حافظ کہتی ہے۔
ان دنوں،مکرم کی نوکری کا مسئلہ بھی چل رہا تھا۔ جو سلمان کی پیدائش کے تین دن بعد ختم ہوگئی۔وہ چاہتا تو اسے دوبئی یا کسی اور خلیجی ریاست میں اچھی نوکری مل سکتی تھی مگر بنگلور اور اس کے اپنے حیدرآباد میں،ان دنوں کمپوئٹرز کی ان کی تیزرفتاری سے پھیلتی انڈسٹری کی وجہ سے بہت عمدہ ملازمتیں نکلیں تھیں۔وہ وہاں ملازمت کرنے کا خواہشمند تھا اور اپنی امی اور تین عدد غیر شادی شدہ بہنوں کو بھی اپنے پاس وہاں  بلا کر رکھنا چاہتا تھا۔

ماہم اپنے حمل کے دنوں میں بہت تنہائی پسند ہوگئی تھی۔ چھٹی والے دن مکرم گھر پر بھی ہوتا تو بھی وہ زیادہ بات نہ کرتی تھی۔وہ تنگ آکر گھر سے چلا جاتا اور پورا دن باہر گزار کر اس وقت واپس آتا جب وہ سورہی ہوتی۔وہ آہستہ سے فلیٹ کا دروازہ کھلنے کی آواز سنتی۔ سوئی جاگی آنکھوں سے اسے کپڑے تبدیل کرتے اور باتھ روم میں آتے جاتے دیکھتی تھی۔وہ چپ چاپ اس کے برابر آن کر لیٹ جاتا۔ اس کی نیند میں اس وقت خلل آتا،جب ماہم کے نماز کے لئے جاگنے کا وقت ہوتا۔ اس وقت وہ رفاقتوں کا طلب گار ہوتا اور ماہم کا انکار، اسے غصہ دلاتا تھا۔ کئی دفعہ مکرم اسے جتلا بھی چکا تھا کہ حاملہ ماہم ہوئی ہے۔ خود اس میں کوئی فرق نہیں آیا اور میاں کے بھی بیوی پر کچھ حقوق ہوتے ہیں۔ماہم اسے جھٹک کر علیحدہ ہوتے ہوئے زچ ہوکر کہتی کہ ” اگر یہ حق جتلانے کا شوق تھا،تو احتیاط کرتے۔” اس بات کا اس کے پاس سوائے ایک غصہ بھری شٹ اپ کے   کوئی جواب نہ ہوتا۔

اس کی دوست رولا کے ہاں لاکھ علاج اور کوشش کے باوجود کوئی بچہ نہ تھا۔اسے اکثر یہ بھی محسوس ہوتا تھا کہ رولا کو اس ان چاہے اضافے کے معاملے میں ماہم سے کچھ حسد بھی تھا۔ڈورتھی نے اسے ہلکے سے اشاروں میں سمجھایا کہ ماہم کی ماں بننے کی کوئی مرضی نہ تھی۔ڈورتھی کا معاملہ البتہ دوسرا تھا۔ وہ تہیہ کئے بیٹھی تھی کہ جب تک وہ بتیس برس کی نہیں ہوجاتی، امریکہ،انڈونیشیا اور برازیل نہیں دیکھ لیتی اور اپنی بیرسٹری کی تربیت برطانیہ سے مکمل نہیں کرلیتی وہ کسی کا بچہ ہرگز پیدا نہیں کرے گی۔

ماہم کو لگا کہ یہ تنہائی اب اس کی فطرت کا کچھ حصہ بن گئی ہے۔ مکرم جاہ کی ضد تھی کہ ماہم اس کے ساتھ حیدرآباد جسے وہ ایک لٹکن سے اسے چڑانے کے لئے ہمارا سائبر آباد پکارتا تھا۔ وہاں جاکر رہے، پروہ سوچتی تھی کہ ان سب اجنبی لوگوں کے ساتھ، اپنی امی ابو اور بہن اور بچپن کی دوستوں کے بغیر کیسے رہے گی؟!اس نے مکرم کو یہاں تک پیشکش کی کہ وہ چاہے تو اپنی پوری تنخواہ اپنی امی اور بہنوں کوعادل آباد (آندھرا پردیش) بھیج سکتا ہے، ماہم خود نوکری کرکے گھر کا اور بچے کا خرچہ چلالیں گے۔وہ مگروہاں جاکر اپنی ذمہ داریوں اور وہاں کیرئیر کے حوالے سے  تیزی سے نکلتے ہوئے مواقع کی تلاش میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ابوظہبی وہ ملازمت کے کنڑیکٹ پر آیا تھا۔ اس میں ماہم سے شادی کی وجہ سے ایک نیا رخ آگیا مگر وہ یہاں ہمیشہ ہمیشہ بسنے نہیں آیا۔ ساری دنیا میں ہمیشہ سے طریقہ کار یہی ہے کہ میاں کا گھر ہی بیوی کا گھر ہوتا ہے۔ بیوی کو وہیں رہنا ہوگا جہاں میاں رہے۔اس کی باتیں سن کر ماہم کہتی تھی کہ ” اگر وہ یہ بات اس کے والدین کو شادی سے پہلے بتادیتا تو شاید وہ شادی کی حامی نہیں بھرتی۔”

مکرم ایسے موقعوں پر وہی کمینی بات کہتا تھا کہ” وہ اس کی بیوی کہاں ہے؟!وہ تو ڈورتھی، رولا اور جانے کن انجان لوگوں کے وجود سے وابستہ ہے؟اسے تو اس نے محض نائٹ واچ مین کے طور پر اپنایا ہے۔”ماہم بھی اسے تنک کر کہتی کہ “اس نے تو کبھی یہ نہیں کہا کہ اسے اس شادی میں کتنے لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اس کی بیوی ہے،اس کی ماں اور بہنوں کی نہیں۔”
روز روز کی اس چخ چخ کا بالآخر نتیجہ یہ نکلا کہ ایک دن مکرم نے اسے غصے میں آن کر حیدرآبادیوں کی طرح  “طلاخ !طلاخ! طلاخ!(طلاق!طلاق! طلاق)کہا اور وہ دو مہینے کے سلمان کو لے کر خاموشی سے اپنی امی کے گھر آگئی۔ اسکی یہ حرکت جب اس نے اپنے امی ابو کو بتائی،تو اسے اپنے ابو کا یہ مذاق بہت برا لگا کہ حیدرآبادی مرد جب تک لکھ کر طلاق نہ دیں۔ شریعت کی رو سے ان کے تلفظ کی وجہ سے زبانی طلاق نہیں ہوتی۔

ابوظبی کا جم
جم کے جلوے
سفید و سرخ کارنیشن کے پھول
موم بتی والے ڈنر
آرمانی کا گاؤن
فیشن ڈیزائنر جے جے ولایا
الیکٹرک بلیو ساڑھی

اس نے اس بھونڈے مذاق کی وجہ سے اپنے ابو سے دو دن تک بات نہ کی۔اس کی امی نے اسے سمجھایا کہ مردوں کے ہاں طلاق اتنا سیریس مسئلہ نہیں ہوتی۔ تب اس نے انہیں   معاف کردیا اور ان کے لئے حیدرآبادی بریانی بہت چاؤسے بنائی۔ جسے انہوں نے بہت مزے لے لے کر کھایا۔رولا کے بھائی کی وجہ سے جو وہاں پولیس کا بڑا افسر تھا مکرم نے اس کا سامان تو لوٹا دیا مگر ماہم کی کچھ جیولری اس نے سلمان کی پیدائش پر اٹھنے والے اخراجات اور دیگر بہانوں سے رکھ لی۔ماہم کی امی کی مرضی تو اسے سبق سکھانے کی تھی مگر ماہم نے کہا کہ اگر وہ بچے کے حق سے مستقلاً دست بردار ہوجائے تو وہ اپنا جیولری والا مطالبہ چھوڑ دے گی۔ وہ مان گیا۔رولا کے بھائی کے دباؤ پر وہ جلد ہی ابوظہبی سے بنگلور روانہ ہوگیا۔

دوسرے مہینے سے ماہم کی طبیعت امجد کے بچے کے وقت بھی خراب رہنے لگی ہے۔امجد اس وجہ سے پریشان ہے۔وہ مکرم کی طرح بے جا مطالبے نہیں کرتا۔ماہم کو لگتا ہے کہ اس کی طبیعت میں یہ دھیما پن اور سلجھاؤ، شاید اس کی گاہکوں سے ڈیل کرنے کی صبر آزما صلاحیت کی وجہ سے آیا ہے۔ کسی بھی سنار کو عورتیں زیورات خریدتے وقت بہت تنگ کرتی ہیں۔ممکن ہے یہ عمر کا بھی تقاضا ہو۔وہ ماہم کی امی سے پورے پانچ سال چھوٹا ہے اور اس سے پورے پندرہ سال بڑا۔امجد کے ساتھ مکرم کی طرح کوئی Excess Baggage نہیں۔یہ بات ماہم کی امی نے اسے زور دے کر سمجھائی تھی۔ اس کی دو بہنیں اور دو بھائی ہیں۔لاہور اور سرگودھا میں ان کا سنار کا اچھا خاصا کام ہے۔

اس کی امی نے امجد کو جتا دیا تھا کہ اگر وہ ماہم سے شادی کا خواہشمند ہے تونکاح نامے میں یہ درج ہوگا کہ لڑکی اپنی مرضی سے جہاں چاہے رہے گی۔طلاق کی صورت میں وہ اس کی جائداد میں برابر کی حصہ دار ہوگی اور بچوں کا  خرچہ بھی فی بچہ دو ہزار درہم،جب تک وہ کمانے نہیں لگ جاتے یا اپنے گھروں کے نہیں ہوتے وہ اٹھا ئے گا۔اس طرح کے معاہدے پر وکیل کے دفتر میں سائین کرنے کے بعد جب وہ ماہم کی بہن اور امی کو کھانے پر لے گیا۔تواس نے کہا کہ باجی اس کے معاملے میں انہیں طلاق کا ناپاک خیال کیسے ذہن میں آیا؟وہ ماہم کی امی کو باجی کہتا ہے۔
امجد کی بہن اور ماہم کی نند، سعدیہ ان دنوں اس کے پاس آن کر قیام پذیر ہے۔اس کے میاں امجد بھٹی نے اپنی اس بہن کو اس کی دیکھ بھال کے لئے خاص طور پر خوشاب، سرگودھا سے بلوالیا ہے۔وہ خود دن بھر سوق میں اپنی جیولری کی دکان پر رہتا ہے۔

دیوار چین بلندیوں سے
جسامت کا تعلق نقطہ نظر سے ہے
جسامت کا تعلق نقطہ نظر سے ہے
یاہو میسنجر مرحوم

سعدیہ اچھی خوش طبع لڑکی ہے۔خوب صورت بھی ہے۔گو اسٹائل کی اس میں کمی ہے۔اب تک اپنے لمبے بالوں کی چوٹی گوندھتی ہے اور اس میں ہر وقت ایک پراندہ بھی باندھتی ہے۔ماہم اپنی کھڑکی کے ساتھ بیٹھی اسے اکثر تکتی ہے، اپنے بیس سال والے سراپے کا موازنہ اس کے موجودہ سراپے سے کرتی ہے۔ماہم کا خیال ہے کہ وہ اس کی عمر میں اس سے زیادہ دلفریب اور حسین تھی، اس کی طرح کاندھے آگے جھکا کر نہ چلتی تھی۔ اس کی کمر بھی بڑی تراشیدہ تھی۔شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ ابوظہبی میں ہوٹل کے جم میں باقاعدگی سے جاتی تھی اور ایک گھنٹہ تیراکی بھی ضرور کرتی تھی۔اسے معلوم تھا کہ بدن کو بھی پالنا پڑتا ہے۔کلیوں کا چمن تب بنتا ہے۔
وہ سوچتی ہے کہ وہ زچگی کے بعد پھر سے فٹنیس کلب جائے گی اور اپنے پرانے سراپے والی پیمائشوں پر لوٹ جائے گی۔ اس غیر سود مند پروگرام کے بارے میں وہ ایک حسرت و یاس سے یہ بھی سوچتی ہے کہ یہ تو پھر ایک ایسی دعوت ہوگی،جس میں کھانا میز پر سجا ہو،میزبان نے سرخ تازہ گلاب اورسفید کارنیشن پھولوں کے گلدستے اور چاندی کے اسٹینڈ میں نارنجی موم بتیاں جلائی ہوں اورانجلینا جولی یا ودیا بالن جیسی میزبان نے ایک عریاں کاندھے والا آرمانی کا شفون کا سامنے سے کھلا کھلا سا گاؤن یا مشہور بھارتی فیشن ڈئیزائنر جے۔ جے والیا کی پیور سلک کی الیکٹرک بلیوساڑھی نوڈل اسٹریپ والے چسپاں چسپاں سے بلاؤز کو پہن کے میز پر بیٹھ کر مہمان کا انتظار کیا ہو اور وہ پروگرام میں دفتری مجبوری کی وجہ سے اچانک اس دلربا دعوت میں نہ پہنچ پایا ہو۔
سعدیہ کا مسئلہ یہ ہے کہ ہر ایک آدھ گھنٹے بعد وہ کمپیوٹر کا پیغاماتی پروگرام ‘یاہو ۔مسینجر’ ضرور آن کرتی ہے۔
ماہم کو معلوم ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے عشق کے کیا کیا سلسلے چلتے ہیں۔ رافع سلیم سے اس کا عشق اسی ‘یاہو۔ میسنجر’ پر چلا تھا۔وہ ان کے بہت سے چیٹ روم میں سے ایک روم میں اسے ملی تھی۔
ہفتے والے دن ماہم اٹھی تو اس کی طبیعت خلاف معمول بہت بشاش تھی۔لاؤنج میں ماہم کا جو لیپ ٹاپ ہے وہ سعدیہ باقاعدگی سے استعمال کرتی ہے۔سعدیہ نے شام ہی سے یہ ضد پکڑی تھی کہ وہ ہفتے والے دن دوبئی میں ابن بطوطہ مال دیکھنا چاہتی ہے اور شام میں وہ موسیقار اے آر رحمن کے میوزک کنسرٹ میں بھی جاناچاہتی ہے جس کے لئے ٹکٹ اس نے آتے ہی آن لائن خرید لئے تھے۔ سعدیہ کی مرضی تھی کہ ماہم بھی ان کے ساتھ جائے مگر اس نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ایک تو سلمان آج گھر پر ہوگا وہ اس کے اسکول کی پروگریس بھی چیک کرنا چاہتی ہے، دوسرے اس کی امی کے کچھ رشتہ دار پاکستان سے آئے ہوئے ہیں جن کی آج ہی شام انہوں نے دعوت کی ہے وہ ان کا ہاتھ بھی بٹانا چاہتی ہے۔وہ کچھ دیر بعد لانڈری اور غسل کرے گی اور پھر ٹہلتی ہوئی اپنی امی کے گھر چلی جائے گی۔
سعدیہ،دوبئی جانے کی جلدی میں ٹھیک سے کمپیوٹر بندکرنا بھول گئی اور وہ سلیپ موڈ (Sleep Mode)میں چلا گیا۔ اس وجہ سے اسے شایداپنا یاہو۔ مسینجر بھی سائن آف کرنا یاد نہ رہا۔ماہم نے ان کے جانے کے بعد جب کمپیوٹر بند کرنا چاہا تو اسے اس کی چیٹ کا تھریڈ مل گیا۔ سعدیہ کا مرد مقابل لاہور کا کوئی دلبر جانی مانی تھا۔ لگتا تھا کہ دونوں کی کئی دفعہ کچھ کھل کے ملاقات بھی ہوچکی تھی اس لئے کہ سعدیہ کے بدن کے کئی حوالے بھی تھے۔
ماہم کو یہ خیال تو ضرور آیا کہ اس نے ایک غیر اخلاقی حرکت کی ہے مگر وہ خوش تھی کہ اسے ایک راز کا علم ہوگیا ہے۔وہ سوچنے لگی رافع سلیم سے اس کی جب بات اسی یاہو میسینجر پر ہوتی تھی تو بدن کا کوئی حوالہ نہ ہوتا تھا۔

وہ چونکہ خود ان تمام مراحل سے گزر چکی ہے لہذا اسے اچھی طرح پتہ ہے کہ مانی اور اس کی نند سعدیہ کے درمیان بات کہاں تک پہنچ گئی ہے۔اس راز کے انکشاف کے بعد اس نے کئی دفعہ سعدیہ اور مانی کی جسمانی قربتوں کا سوچا اور خود کو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ شاید اس کا واہمہ ہو۔
ہم جب کسی بلند و بالا عمارت سے نیچے دیکھتے ہیں تو سڑک پر بہتے ہوئے ٹریفک میں مختلف قسم کی گاڑیاں اور وہاں اپنی ہی دھن میں مگن چلتے ہوئے لوگ، بہت چھوٹے سے دکھائی دیتے ہیں۔ حقیقتاً وہ چھوٹے نہیں ہوتے ہیں بس ہمیں چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔بہت دن پہلے اس نے ایک پوسٹر دیکھا تھا جو اسے بہت بھلا لگا تھا۔ چاند پر سے دیوار چین کی تصویر کھینچی گئی تھی۔ یہ عظیم الشان دیوار اس تصویر میں کسی خاتون کی چمکتی ہوئی مانگ دکھائی دیتی تھی۔ باریک اور احتیاط سے جمائے گئے بالوں کے درمیان خاموشی سے اپنا سفر طے کرتی ہوئی۔اس کے نیچے لکھا تھا Size is the matter of perspective(جسامت محض ایک نقطہ ء نظر کی بات ہے)۔
یہ سنجیدہ بات اس نے جب رافع کو سنائی تو وہ کہنے لگا کہ ” ایک چوہا تھا جس کی ملاقات ایک ہاتھی سے ہوئی۔ چوہے نے ہاتھی سے پوچھا کہ اس کی عمر کتنی ہے تو ہاتھی نے کہا وہ محض دو سال کا ہے۔اب ہاتھی کی باری تھی کہ وہ چوہے کی عمر پوچھے۔ چوہے نے اپنی خفت مٹانے کے لئے جواب دیا کہ عمر تو میری بھی دو سال ہی ہے مگر میں اکثر بیمار رہتا ہوں۔”وہ اس لطیفے کو یاد کرکے اکثر مسکراتی ہے۔اس کی امی کہتی ہیں کہ ماں کے خوشگوار موڈ کا پیٹ کے بچے پر اچھا اثر پڑتا ہے۔

اس کا ذہن پھر مانی اور سعدیہ کے تعلقات کی جانب چلا جاتا ہے۔انہیں سوچوں کے حوالے سے یادوں کے کچھ اور سست رفتار دریا بہہ نکلتے ہیں۔
اس نے رافع کو کئی دفعہ اپنے خوبصورت، تراشیدہ بدن کے حوالے دیئے۔اپنے لباس، اپنی بچوں کو پسند کرنے کی کمزوری  کا بھی  ذکر کیا۔اپنی پیراکی اور ورزش کا بھی گھما پھرا کر کئی دفعہ ذکر کیا مگر وہ عجیب مٹی کا بنا تھا۔ اپنی جم کی ایک تصویر جو اس نے رافع کو بھیجی تھی وہ ایسی تھی کہ اور کوئی مرد ہوتا تو اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور سوچتا اور کسی نہ کسی طور اس کا حوالہ دیتا۔یہ تصویر اس کی دوست،رولا نے شرارتاً اپنے سیل فون سے کھینچی تھی۔رولا کو اسطرح کی شرارتوں کی عادت تھی۔
وہ حیران ہوتی تھی کہ رافع نے اس کے بدن کے حوالے سے کبھی کوئی بات نہیں کی۔وہ اسے اس ایک باب میں بہت Under Expressed سا مرد لگتا تھا۔اس نے کہیں پڑھا کہ یہ جو ہندوستان کے مشہور گلوکار محمد رفیع تھے۔وہ بہت شرمیلے اور کم گو تھے۔ ان سے بات چیت بالکل نہیں ہوتی تھی۔اپنے گیتوں میں جتنے بھرپور اور رومانٹک لگتے تھے اصل زندگی میں اتنے ہی سادہ لوح اور شرمیلے تھے۔کسی انٹرویو میں انہوں نے اپنے ایک گیت ع سہانی رات ڈھل چکی، نہ جانے تم کب آؤگے، کو اپنے بہترین گیتوں میں شمار کیا تھا۔ بی بی سی کی اردو سروس نے جب ان کا انٹرویو کیا تو ان سے پوچھا کہ کیا یہ گیت انہیں اپنے گائے ہوئے گیتوں میں سب سے اچھا لگتا ہے تو اس کے جواب میں انہوں نے صرف اتنا کہا کہ” ہاں جی سویٹ سانگ ہے”۔

رافع نے اسے اتنا بھی کبھی نہ کہا کہ وہ خوش ہوجاتی۔اس نے تہیہ کیا کہ جب ان دونوں کی شادی ہوجائے گی تو وہ رافع سے اس بے حسی اور لاتعلقی کا انتقام لے گی۔اسے بہت تڑپائے گی۔اس نے مردوں کو اس حوالے سے کیسے تڑپاتے ہیں۔اس کے بارے میں انٹر  نیٹ پر بہت کچھ پڑھا بھی تھا اور رولا اور ڈورتھی، اس کی دو نوں دوستوں نے اس ہی کی بتائی ہوئی کچھ باتوں پر عمل کرکے بہتر لطف لیئے تھے۔
ایسا نہ تھا کہ رافع کو اس کی تعریف کے لئے الفاظ نہ ملتے تھے۔ وہ جب اس کی تعریف پر اترتا تو وہ زچ ہوجاتی تھی۔اصل میں انٹرنیٹ پر جہاں وہ پہلے پہل کسی چیٹ روم میں ملے اس کا پہلا تعارف ہی اس کا الفاظ کا چناؤ اور انہیں برتنے کا سلیقہ تھا۔ اس نے جھوٹ بھی بولا تھا کہ وہ کوئی کتاب لکھ رہا ہے۔اسے  یاد آیا کہ اس کی ہر بات جھوٹ تھی،سفید جھوٹ۔ جن سے اسے ایک ایسی آنکھوں کو خیرہ کرنے و الی دودھیا روشنی پھوٹتی دکھائی دیتی تھی جو ہر اس سچ پر بھاری تھی جو اب اس کی زندگی اور اس کے وجود کا حصہ تھے۔

ان ہی دنوں جب ان دونوں کی محبت کا ایک سیلاب اسے انجانے راستوں پر بہا کر لے جارہا تھا۔ وہ جب بھی اپنی دو بہترین دوستوں رولا اور ڈورتھی کے ساتھ جانے کے لئے کسی پارٹی، کسی تقریب یا یوں ہی تیار ہورہی ہوتی اسے وہ سب کچھ بتاتی تھی۔ اس نے کیا پہنا ہے۔ وہ کیسی لگ رہی ہے۔ پہناوے  کے حوالے سے اسے وہ ہر تفصیل بتایا کرتی تھی۔ حتی کہ Lingerie (لاں ژرے۔۔فرینچ۔ لباس کے نیچے پہنے جانے والے ملبوسات)کی بھی۔
ا یسی تفصیل کے جس بارے میں نہ اس نے مکرم کو نہ ہی امجد کو کبھی بتایا۔سچ یہ ہے کہ انہوں نے کچھ پوچھا بھی نہیں۔نہ اس بارے میں کبھی کوئی توجہ دی۔ایسا کیوں ہے تو اسے ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے اور یہ بات بھی اسے رافع نے ہی بتائی تھی کہ ” دیگ کو کھانا پکانے کے دوران،بار بار دیکھنا، باورچی کے لئے تو لازم ہے مگر مہمان خصوصی کو یہ ہرگز زیب نہیں دیتا۔”اس وقت یہ بات سن کر وہ خوش بھی ہوئی تھی اور حیران بھی۔اس نے اگلی صبح ہی آئینے کے سامنے اسی کے لہجے میں اپنے چہرے پر اپنے خوشبو دار صابن سے جھاگ بنا کر اور اپنا ٹوتھ برش ڈنڈ ی کے پاس سے الٹا پکڑ کر نقل کرتے ہوئے کہا تھا: ” دیگ کو کھانا پکانے کے دوران،بار بار دیکھنا، باورچی کے لئے تو لازم ہے مہمان خصوصی کو زیب نہیں دیتا۔”۔۔اور پھر خود ہی ہنستے ہوئے کہا کہ” بڑے آئے کہیں کے بن بلائے مہمان خصوصی۔۔دیکھنا میں بھی کیسا بھوکا مارتی ہوں تمہیں۔”

رافع کی اس حوالے سے خاموشی ایک دیوارِ گریہ تھی۔جس سے اس کی تمنائیں لپٹ لپٹ کر گڑگڑاتی رہیں،روتی رہیں پر دیواریں اور آئینے کہاں جواب دیتے ہیں۔عجب بات تھی کہ رافع کے بعد وہ جن دو ازدواجی رشتوں میں جڑ گئی تھی ان میں اس حوالے سے بہت دوریاں تھیں۔مکرم اور امجد بھٹی کی جسم کے واسطے داریوں کی ان وحشتوں میں وہ لطف نہ تھا جو رافع کے اُس محتاط سے اجتناب میں تھا۔۔کالج میں اس کی ایک ہندو سندھی دوست کی بار بار کی سنائی ہوئی کہاوت اسے بہت یاد آتی تھی کہ “کسی کا ہنسنا بھی خواری لگتا ہے تو کسی کا رونا بھی راحت۔”
وہ سوچتی تھی کہ مکرم اور امجد سے اس کی یہ کیسی قربتیں ہیں کہ ان میں دوریوں کا ایک سلگتا صحرا موجود ہے اور رافع کے ساتھ اس کا وہ تعلق، دوری کا کیسا روح پرور سمندر تھا کہ جس میں قربتوں نے خود ہی راستہ بنا لیا تھا۔

رافع سے جب اسے پیار ہوا تو ایک دم ہوا اور بہت سارا پیار ہوا۔کچھ دن پہلے ڈورتھی کو بھی کسی سے پیار ہوا تھا۔ وہاں سب معاملات پلک جھپکتے ہی طے ہوگئے۔انہیں دنوں رولا کی بھی اپنے کزن سے شادی ہوگئی۔ دونوں ہی اسے ہر بات بتاتی تھیں،یہ جانتے ہوئے بھی کہ رفاقتوں کے حوالے سے وہ با لکل ہی ناآشنا اور نا تجربہ کار تھی۔ اپنی شادی کے بارے میں نہ اس نے سوچا تھا اور اگر اس کی امی نے کبھی اس کے بارے میں سوچا بھی ہو تو اسے بتایا تک نہ تھا۔
ان دونوں دوستوں کی رفاقت کی ان باتوں نے اس کے ذہن و دل میں ایک عجب طوفان برپا کردیا تھا۔اسے یکایک بہت تنہائی کا احساس ہونے لگا۔اسی احسا  س تنہائی کو مٹانے کے لئے وہ یاہو کے چیٹ رومز میں اجنبی لوگوں سے بات کرنے لگی اور اسے رافع، رسک فیکٹر(خطرے کا خدشہ ) کے نک نیم (شناختی نام)سے مل گیا۔اسے یہ نام اس دن اس روم میں موجود دیگر مردوں کے ناموں سے مختلف لگا اور یوں ایک تعلق سا بن گیا۔

وسط دسمبر کی خوشگوار دھوپ میں وہ جب کھڑکی کے پاس بیٹھ کر لیمسی پلازا کے سامنے ہوکر بیٹھ جاتی ہے۔ صبح صبح کی دھوپ اسے بہت اچھی لگتی ہے۔ یہ دھوپ اس کی ننگی بانہوں اور کھلے کھلے سینے پر (جو اس کی ڈھیلی ڈھالی نائیٹی سے جس کے تسمے وہ سامنے سے بہت کم باندھتی ہے) اور اس کے تیزی سے ابھرتے ہوئے پیٹ پر پڑتی ہے تو اسے اپنے اندر ایک حرارت بھری توانائی کا احساس ہوتا ہے۔اس کی امی نے اسے بتایا ہے کہ دھوپ سے جلد کے بالکل نیچے موجود کیمکل تحریک پا کر وٹامن ڈی پیدا کرتے ہیں جو بچے کی ہڈیوں کے لئے بہت مفید ہوتا ہے۔اس سے دیگر فائدے بھی ہوتے ہیں۔
وہ گاہے بہ گاہے اپنی پرانی ڈائری لے کر کھڑکی میں بیٹھ جاتی ہے۔اس میں رافع کے حوالے سے کچھ اہم باتیں درج ہیں۔اب جب اس کی زندگی میں ہر طرف سچ کا راج ہے، وہ اس کے مندرجات پڑھ پڑھ کر رافع کے بولے گئے مختلف جھوٹ شمار کرتی ہے۔
انٹرنیٹ پر قائم ہونے والا رافع کا ابتدائی تعارف بھی ایسا تھا کہ اسے اکساتا رہا کہ  وہ اس کی زندگی سے پیوست ہوتی ہی چلی جائے۔وہ کہہ رہا تھا کہ جب وہ تین برس کا تھا اس کی امی کا انتقال ہوگیا۔ماں کے پیار سے وہ بچپن ہی سے محروم رہا۔وہ ان کی اکلوتی اولاد ہے۔سوتیلے بھائی بہن گو اس کے ساتھ ہمیشہ عمدگی سے پیش آئے مگر وہ خود کو ہمیشہ سے بہت تنہا محسوس کرتا ہے۔
یہ پہلا جھوٹ تھا۔ رافع کی اس محرومی نے ماہم میں فطری طور پر خوابیدہ ممتا کے جذبات کو بہت ہوا دی۔ اس نے ایک دور کا سپنا جلدی سے دیکھ ڈالا کہ جب ان دونوں کی شادی ہوجائے گی تو وہ اسے جلدی سے باپ بنا کر  اس کی زندگی میں ایک فیملی کا جو خلا ہے اسے پورا کردے گی اس منصوبے نے اس کے بدن کے حوالے سے شدید قسم کے جذبات کو جنم دیا۔

رافع کا دوسرا اور تیسراجھوٹ یہ تھا کہ وہ غیر شادی شدہ ہے۔ جب کہ حقیقت میں وہ نہ صرف شادی شدہ تھا بلکہ وہ دو بچوں کا باپ بھی تھا۔ وہ حقیقتاً بیالیس برس کا تھا مگر اس نے اپنی عمر اسے کل تیس برس بتائی جب کہ ماہم کی اپنی عمر کل انیس برس تھی۔ بلکہ سچ پوچھو تو انیسواں برس ابھی لگا ہی تھا۔ڈورتھی نے گیارہ برس کی اس تفاوت کے بارے میں اسے آگاہ بھی کیا مگر وہ یہ کہہ کر ٹال گئی کہ مرد کی عمر تو بس ایک نمبر ہوتی ہے۔ عورت یوں بھی اپنی عمر کے مرد کے مقابلے میں زیادہ میچیور Mature ہوتی ہے۔
اس کا چوتھا جھوٹ یہ تھا کہ وہ خراب عورتوں کی صحبت،شراب اور منشیات کے استعمال کا عادی ہے۔شراب تو ماہم کے والد بھی پیتے تھے۔ان کی اس عادت سے وہ یا اس کی  فیملی کبھی کسی پریشانی کا
شکار نہیں ہوئی تھی۔منشیات کے بارے میں اس نے سوچا یہاں جب وہ آن کر بس جائے گا تو نہ منشیات آسانی سے یہاں دستیاب ہو  گی ماہم کی مستقل نگرانی میں رہنے کی وجہ سے اس عادت کو جاری نہ  رکھ پائے گا۔اسی باب میں اس کی خراب عورتوں سے مختلف محفلوں میں جسمانی رفاقت قائم کرنے والی بات کو بھی ماہم نے شامل کرکے نظر انداز کردیا۔

ایک اور جھوٹ جو اس نے بولا، ماہم نے آہستہ سے۔۔ Hmmmm کہا اور جھوٹ کے آگے اس نے پانچواں نمبر ڈالدیا۔وہ جھوٹ یہ تھا کہ وہ کوئی کام نہیں کرتا۔ وہ ایک اسکول ڈراپ آؤٹ ہے۔اس لئے اسے کہیں نوکری نہیں ملتی۔ اس کی اپنے والد سے نہیں بنتی لہذا وہ ان کے کسٹم کلیرنگ اور فارورڈنگ کے بزنس میں شامل نہیں ہوتا۔اسے اپنی خالہ کی طرف سے کچھ جائداد ملی ہوئی ہے جس کے کرائے سے اس کا خرچہ باآسانی چل جاتا ہے۔ اصل حقیقت  یہ تھی کہ وہ کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں مارکیٹنگ منیجر تھا۔

اس کے اسکول ڈراپ آؤٹ ہونے نے ایک اور ستم یہ ڈھایا اور ماہم یہ سوچنے لگی رافع کتنا ذہین بچہ تھا۔باپ کی دوسری شادی اور سوتیلی ماں کے روئیے سے تنگ آکر شاید اس کا دل پڑھائی اور اسکول سے اچاٹ ہوگیا۔وہ جب شادی کرلیں گے تو وہ کوشش کرے گی کہ اس کی تخلیقی صلاحیتیں جن میں موسیقی، ادب،مصوری اور جانے کیا کچھ تھا ان کو ایک مناسب رخ دے کر ان صلاحیتوں کو دنیا پر اجاگر کرنے میں اس کی مدد دے گی۔ آخر غالب، رومی، شکیسپئر، ایڈیسن اور لیو نارڈو ڈاونچی کونسے یونی ورسٹیوں کے گریجویٹ تھے۔اس کے اندر وہ ماں جو قدرت نے فطری طور پر ہر عورت میں چھپا کر رکھی ہوتی ہے اس ممتا کو اور بھی اکسایا۔

SHOPPING

جاری ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *