سیاسی استحکام ملتا کیوں نہیں؟۔۔۔اسلم اعوان

پچھلے دس سالوں کے دوران جس سرعت کے ساتھ معاشی بحران کے دوائر وسیع ہوئے،اسی تیزی سے سیاسی تنازعات کی لکیر بھی گہری ہوتی گئی،جسکی تلخیاں اب آخری حدّوں کو چھونے والی ہیں،بظاہر یوں لگتا ہے کہ رمضان کے مقدس مہینہ میں سیاسی سرگرمیاں کچھ ماند پڑیں گی لیکن جون میں نئے بجٹ کی منظوری کے بعد جب مہنگائی کی ممکنہ لہر نچلی سطح کی تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کرے گی تو غریب اور متوسط طبقہ کے اندر پیدا ہونے والا اضطراب ہمہ جہت سیاسی تنازعات کی شدت کو دوچند کر دے گا،اس لئے کارکنان قضا و قدر بجٹ کی منظوری سے قبل ہر صورت میں سیاسی تنازعات کو ریگولیٹ کرنے کےلئے سرگرداں نظر آتے ہیں،یہ بات اب کوئی راز نہیں رہی کہ مقتدرہ نے کسی نہ کسی سطح پہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے علاوہ جے یو آئی کو بھی انگیج رکھا ہوا ہے، اس وقت ہماری سیاسی اشرافیہ کے پیش نظر تین آپشن زیر غور ہو سکتے ہیں،جن میں پہلا وسیع تر سیاسی مفاہمت کے ذریعے عمران خان کی حکومت کو کام کرنے کا موقع دینا لیکن مفاہمت پہ منحصر حل خود پی ٹی آئی کی بنیادی ساخت اور سیاسی تربیت سے میل نہیں کھاتا،دوسرے اِن ہاوس تبدیلی جس پہ اپوزیشن جماعتوں میں اتفاق رائے ممکن نہیں ہو گا خاص کر مولانا فضل الرحمٰن سمیت دیوار سے لگی علاقائی جماعتیں اسے تسلیم نہیں کریں گی،تیسرے وسطی مدت کے انتخابات جس پہ وسیع تر سیاسی اتفاق رائے تو ممکن ہو جائے گا لیکن فری اینڈ فیئر الیکشن کے انعقاد کی ضمانت کون دے گا؟اگر مڈٹرم الیکشن کے نتائج بھی متنازعہ بن گئے تو سیاسی عمل بند گلی میں داخل ہو جائے گا۔چنانچہ فوری طور پہ معاشی وسیاسی بحرانوں پہ قابو پانے کے امکانات بعید ہیں لیکن امید ہے جلد یا بدیرمقتدرہ اورسیاستدان مل بیٹھ کے کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال لیں گے ۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اپنے تمام تر دعووں کے باوجود پی ٹی آئی حکومت ملکی معیشت میں بہتری اور سیاست پہ اپنی گرفت مضبوط نہیں بنا سکی اور پہ در پہ ناکامیوں کے باوجود بھی وہ مثالی سیاست کے اس رومانس سے نکل کے پاور پالیٹیکس کی عملیت پسندی کو گلے لگانے کو تیار نہیں،جس کے خواب انہیں اپوزیشن کی رومانوی زندگی میں دیکھائے گئے تھے۔عام خیال یہی تھا کہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کی قیادت کی سوچ چونکہ ریاست کی اجتماعی خواہش سے متصادم رہتی ہے،اس لئے مملکت کے نظام کو قرار نہیں ملتا لیکن اب تو عنان حکومت ایسی منتخب لیڈرشپ کے ہاتھ ہے جس کی سوچ مقتدر اداروں کی پالیسیز سے پوری طرح ہم آہنگ اور انکی حکمت عملی ریاست کی مرضی کے تابع نظر آتی ہے لیکن پھر بھی معاشی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں اور سیاسی بحران کم ہونے کا نام نہیں لیتا،اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ صرف جمہوریت ہی نہیں ”ہم“خود بھی ناکام ہو گئے ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے سیاسی ماحول میں مفاد عامہ کی خاطر باہمی استفادہ کی روایات معدوم رہیں،یہاں کی اپوزیشن جماعتیں اصلاح دینے میں بخیل لیکن حکومتیں گرانے میں نہایت فعالیت سے کام لیکر سیاسی عمل کے صحت مند ارتقاءکی رخ گردانی کرنے میں باک محسوس نہیں کرتیں،جس کے مضمرات لامحالہ انکے اپنے ہی سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں،عمران خان بھی ماضی کے انہی رویہ کی بدولت اپوزیشن کی جانب دست تعاون بڑھانے کا اخلاقی حق گنوا چکے ہیں،اس لئے سیاسی مفاہمت کےلئے جو کچھ کرنا ہے وہ پس چلمن حلقے ہی کریں گے تاہم اپوزیشن کے ساتھ معاملات اگر مقتدرہ طے کرے گی تو حکومت خود بخود غیر اہم ہوتی جائے گی،شاید ہماری سیاسی پارٹیاں بھی سیاستدانوں کی بجائے ریاستی اداروں کے ساتھ بات چیت میں سہولت محسوس کرتی ہے۔کیا تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی سیاسی و معاشی ابتری کے بعد ان معدودِ چند افراد کی رائے سچ ثابت نہیں ہو رہی؟جنہوں نے چند سال پہلے،ملک میں قومی حکومت کے قیام کا مطالبہ اٹھایا تھا لیکن اس وقت جمہوریت نوازسیاستدان،جنہیں سیاسی قوت پہ ناز اوراپنی اہلیت پہ کامل اعتماد تھا وہ ایسی تجاویز کو پاءحقارت سے ٹھکراتے رہے،یہ بجا کے قومی حکومت بھی ان معاشی مسائل کا مستقل حل نہیں دے سکتی جن سے ہم دوچار ہیں لیکن اس سے ملکی پالیسیز میں چند بنیادی اصلاحات بالخصوص انتہا پسندی کے عفریت پہ قابو پانے میں تو مدد مل سکتی تھی۔بلاشبہ اب اگر سیاسی نظام میں ہنگامی بنیادوں پہ اصلاحات اور وسیع پیمانے پہ سیاسی مفاہمت کی راہ نہ نکالی گئی تو روایتی سیاسی جماعتیں طاقت کی حکمرانی کے خلاف صف آراءہو سکتی ہیں،اپوزیشن جماعتوں میں درپردہ روابط موجود ہیں،وہ بات چیت کے ذریعے معاملات کے حل میں ناکامی کی صورت میں کسی متبادل پلان پہ عمل پیرا ہو جائیں گی۔سوموار کے دن ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں جزوی طور پہ سیاسی و انتظامی اصلاحات کی بات کی گئی جسمیں دینی مدارس کے نظام کو قومی دھارے کی تعلیمی پالیسی کے تحت لانے اور پشتون تحفظ موومنٹ کے تلخ بیانیہ کے خلاف ممکنہ قانونی کاروائی کا عندیہ دیا گیا جو بظاہر ایک نئی کشمکش کا ابتدائیہ نظر آیا لیکن اہل مغرب کہتے ہیں کہ سیاست کی سطح کے اوپر جتنا بھی شور و غوغا برپا ہو لیکن یہ سطح کے نیچے سمندر کی مانند نہایت خاموش اور پرسکون رہتی ہے۔جن اصلاحات پہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بات کی،ان پہ نواز لیگ کے سوا پیپلزپارٹی اور جے یو آئی نے تو ردعمل دے دیا لیکن حکومتی ایوانوں پہ ایک معنی خیز خاموشی چھائی ہوئی ہے،جو اس امر کی غماض ہے کہ جاری سیاسی کشمکش سے پی ٹی آئی آوٹ ہوتی جا رہی ہے۔اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ معاملات مقتدرہ خود طے کرے گی لیکن سیاسی مفاہمت کے ٹرانزٹ عمل کے دوران ریاست ان امور کو نمٹانے کی کوشش بھی کرنا چاہتی ہے،سیاستدانوں میں جنہیں سمجھانے کی سکت نہیں،مقتدرہ اب خوف و ترغیب کے ہتھیاروں سے مرکز گریز قوتوں کے علاوہ ان مذہبی اداروں کو بھی ریگولیٹ کرے گی جو نظریاتی جدوجہد کی آڑ میں ریاست کے متوازی بیانیہ کی آبیاری کرتے رہے۔اسی طرح ضم شدہ قبائلی اضلاع میں حادثاتی طور پہ پروان چڑھنے والی پشتون تحفظ موومنٹ بھی محل نظر ہو گی،جس کے نامطلوب نعرے اور متنازعہ عزائم مغربی سرحدوں  پہ نئے سیاسی تنازعات کی بنیاد بن رہے ہیں،بعض جہاں دیدہ قبائلی رہنما جنگ دہشتگردی سے متاثرہ اس خطہ میں طاقت کے استعمال کی راہ روکنے کی خاطر ناراض نوجوان کو مملکت سے ہم آہنگ رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں،شاید اسی رابطہ کاری کی بدولت منظور پشتین نے برطانیوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویوز میں ملکی آئین کی بالادستی تسلیم کرنے کے علاوہ ریاستی اداروں کے خلاف لگائے جانے والے ان متنازعہ نعروں سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور ریاستی اداروں کے اعتراض کے بعد غیرملکی این جی اوز کے ساتھ کام کرنے والی خواتین سے بھی فاصلہ بڑھا لیا،قبائلی مشران کی مداخلت کے نتیجہ میں پی ٹی ایم کی قیادت نے ابھی حال ہی میں سینٹ کی انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی سے مذاکرات کر کے اپنے مطالبات پیش کئے۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جنگ زدہ قبائلی عوام کے کچھ حقیقی مسائل موجود ہیں جن کے حل کی ضرورت کو خود آرمی چیف نے بھی تسلیم کیا،ان میں سب سے اہم قبائلی اضلاع سے بارودی سرنگوں کے خاتمہ کا مطالبہ ہے،جس سے انسانی جانوں کے زیاں کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ فاٹا انضمام کے بعد صوبائی حکومت آپریشن کے متاثرین کےلئے زرتلافی کی ادائیگی اور چیک پوسٹوں کے معاملات کو تو کسی حدتک نمٹا لے گی لیکن لاپتہ افراد کی بازیابی کا معاملہ زیادہ پیچیدہ اور فوری توجہ کا حامل ہے لیکن بدقسمتی سے یہ معاملہ ملکی سطح کا ایشو ہے،مسنگ پرسنز میں مبینہ طور پہ سندھ،بلوچستان اور پنجاب کے لوگوں بھی شامل ہیں،اس تنازعہ کو ملکی تناظر سے الگ کر کے دیکھنا اور حل کرنا ممکن نہیں ہو گا۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *