• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • تھیسز برائے ریسرچ پراجیکٹ “معیشت پر سفلی اثرات” ۔۔۔ معاذ بن محمود

تھیسز برائے ریسرچ پراجیکٹ “معیشت پر سفلی اثرات” ۔۔۔ معاذ بن محمود

تھیسز برائے ریسرچ پراجیکٹ “معیشت پر سفلی اثرات”

یونیورسٹی آف سپرسائینس اینڈ روحانیات

پراجیکٹ ممبران:
پیر عبداللہ قاضی نقشبندی
پیر عبد المناف چشتی
پیر موسی مستقیم جیلانی
ماہر مؤکل علم المالیات و معاشیات
ماہر مؤکل علم الکوانٹم فزکس
عامل ناگی بابا بنگالی ماہر سفلی علوم

سپانسرز:
عامل جنید بنگالی
عسکری کپورے ہاؤس

پراجیکٹ سرپرست اعلی:
جناب عزت مآب عمران احمد خان نیازی چانسلر، پروفیسر، ہیڈ آف ڈیپاراٹمنٹ ہیومین اینڈ گھوسٹ ریسورسز (پی کے ایل ایل بھی، گورنمنٹ عسکری یونیورسٹی)

پیش لفظ
زیر طبع پراجیکٹ زیرِاعظم پاکستان کی ذاتی و خصوصی توجہ کے نتیجے میں قائم ہونے والی پہلی یونیورسٹی آف سپر سائینسز اینڈ روحانیات کے پہلے پی ایچ ڈی تھیسز کا اہم ترین جزو ہے۔ مذکورہ یونیورسٹی کا خواب پاک پتن سے الٹے قدم واپسی کے دوران دیکھا گیا۔ اس سفر سے واپسی پر ابلیس کی ذاتی کاوشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے وسوسوں کے ردعمل میں زیرِاعظم نے خاتونِ سوئم سے استفسار فرمایا کہ “اے کی سینس (سائینس) اے؟” جس کے جواب میں خاتونِ سوئم نے انہیں سمجھایا کہ “اے سینس (سائینس) کوئی ناں نیازی، اے روحانیات اے”۔ ہونے والے زیرِاعظم نے اسی دن نیت فرما لی تھی کہ یہ معاملات سمجھنے سمجھانے واسطے بڑے ہوکر سپر سائینس اور روحانیات یونیورسٹی بنانی ہے۔

مثل مشہور ہے ایک بار شیطان جو کرنے کی ٹھان لے پھر وہ اپنی بھی نہیں سنتا۔ الحمد للّٰہ خان نے کسی کی نہ سنتے ہوئے وزیر سائینس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری اور خاتونِ سوئم کی مشاورت سے سنہ ۲۰۱۹ میں القادر یونیورسٹی آف سائینس اینڈ روحانیات کا قیام عمل پذیر فرمایا۔ آج تین سال گزر جانے کے بعد یہ جامعہ مدنی تکیے میں برف اور ہتھوڑے کی فعالی، ریاست مدینہ کی نظریاتی سرحدوں کی سائنسی و روحانی مانیٹرنگ، لفظ “روحانیت” کی مختلف غیر مروجہ طریقوں سے ادائیگی، پرچی کی کرامات، محکمۂ زراعت کی جانب سے فصلوں اور فصلی بٹیروں کی کٹائی کے نت نئے طریقے اور پشاور میٹرو کی روزِ قیامت تکمیل پر اہم ریسرچ جاری رکھے ہوئے ہے۔

مسئلۂ معاشیات و سفلی اثرات
معاشیات کا مسئلہ گمبھیر ہے، پچیدہ ہے مگر یہ گتھی سلجھانا ناممکنات میں سے ہرگز نہیں۔ بنیادی مسئلہ حساب کتاب کا ہے۔ جامعہ سائینس و روحانیات نے شدھ ریسرچ سے ثابت کیا کہ تمام معاشی برائیوں کی جڑ معیشت کے ضمن میں تحقیق کی کمی ہے جس کی بنیادی وجہ بازار میں دس ہندسوں سے زیادہ والا کیلکولیٹر دستیاب نہ ہونا ہے۔ مغرب میں اس مسئلے کا حل سپر کمپیوٹر ہوا کرتا ہے لیکن ہم مغربی لوگ سستے سشیل سندر اور ٹکاؤ حل کی جانب رخ کرتے ہیں۔ سپر کمپیوٹر پر اربوں ڈالر لگتے ہیں۔ فی الوقت ہمارے پاس عرب تو ہیں مگر ارب نہیں۔ لہذا سپر کمپیوٹر کی بجائے ہم نے جدید خطوط پر استوار مؤکل قابو کیے اور انہیں زیرِاعظم کی جامعہ روحانیات میں مفت داخلہ دیا۔

تھیسز کے سلسلے میں ماہر معاشیات مؤکل نے ماہر کوانٹم فزکس مؤکل کے ساتھ صلاح مشورہ کیا۔ باقی کے پراجیکٹ ممبران کا کام فقط انہیں حاضر کرنا اور ان کی میٹنگ سیٹ کرانا تھا۔ دونوں مؤکلوں نے گیم آف تھرونز کی دوسری اور تیسری قسط پر سیر لاحاصل تبصرہ کرنے کے بعد اٹھتے ہوئے ہاتھ ملایا اور دو گھڑی پراجیکٹ پر بات کی۔ فیصلہ یہ ہوا کہ ماہر معاشیات مؤکل کو معیشت کا جائزہ لینے کے لیے ریاست زندہ انسان کی شکل میں درکار ہوگی۔ ریاست کا تجزیہ کرنے کے لیے یہ انسانی جسم فراہم کرنا ماہر کوانٹم فزکس کی ذمہ داری تھی۔

اگلے چند ماہ اس کام پر لگے۔ اس دوران ٹیم کو ایک چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جب معلوم ہوا کہ ریاست پر ایک مخصوص قسم کا سفلی عمل ہے جس کی وجہ سے کوانٹم فزکس کا مجاہد مؤکل ریاست کو جسم میں تبدیل کرنے سے قاصر ہے۔ جدید روحانی لیبارٹری میں کئی ناکام تجربات کے بعد یہ معاملہ عامل ناگی بابا بنگالی کے سپرد کیا گیا کہ کھوجا جائے یہ معاملہ کہاں سے جڑا ہے۔

عامل نے لیبارٹری کے سفید شفاف سنگ مرمر پر کالے مرغوں کی قربانی کی خواہش کا اظہار کیا۔ مرغوں سے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ عالم رویا جناب طاہر القادری صاحب کو کسی قسم کی الرجی تھی کہ کسی زمانے میں لاہور ہائی کورٹ نے مرغی کے خون کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف ایک فیصلہ دیا تھا۔ پروفیسر نے عامل سے بکروں کی بات کی تو معلوم ہوا بکرے کا گوشت عامل ناگی بابا بنگالی پر بوجہ کولیسٹرول کی زیادتی بند ہے لہذا آج کل دھندا کالے مرغوں پر چلتا ہے۔ آخر کار سرکاری خزانے سے عامل ناگی بابا بنگالی کو کالے مرغوں کی فراہمی کی گئی۔

عامل نے مرغے حرام کرنے کے بعد ماہر معاشیات موکل کے لیے معیشت پر لگی کاٹ کا پاسورڈ کریک کیا۔ شدید اتفاق ہے کہ پاسورڈ “مارخور” تھا۔ اب مؤکل نے اپنی تحقیق کا آغاز کیا جو کئی راتیں جاری رہنے کے بعد ختم ہوا۔ نتائج انتہائی چونکا دینے والے ثابت ہوئے۔ معلوم ہوا کہ سابق وزیر خزانہ اسد عمر صاحب کو حکومت میں آنے سے پہلے معیشت میں ملنے والی ہڈیاں اسی کاٹ کا نتیجہ تھیں۔ پرتھوی بھانڈ چوہان کے گھر میں نکلنے والی ہڈیاں البتہ ان کا ذاتی معاملہ تھا۔ ماہر معاشیات مؤکل نے بالآخر ریاست کو ایک جسم کی شکل میں حاضر کیا تاکہ خرابی پکڑی جا سکے۔ ریاست قحط کے شکار انسان کے حلیے میں سامنے آئی جس کے گال پچکے ہوئے اور گوشت جگہ جگہ سے اندر دھنسا ہوا تھا۔ ریاست کے کپڑے پھٹے ہوئے مگر جیب ثابت تھی۔ جیب میں البتہ رقم کی بجائے غلیل پڑی تھی۔ ریاست کی غربت کی اصل وجہ جیب میں رقم کی بجائے غلیل کا استعمال تھی۔

*[%}%<|€\€€[%|?|ؔ*[*^}<<|€~ؔ※~~+*[€!,!?!ؔ{+[+]+*]!,!,€^}*[+※\ؔ!~!€|※[※ؔ[※}ؔؔ~※{+※}ؔ~!{€ؔ}※[※[※※|ؔ~€>*+{+}※]※+\++~€>€#!※{※[※[+[+]※\※€,€|ؔ[€

(اس کے بعد کا تھیسز سینسر شدہ ہے اور اس کی کاپی حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کے ساتھ نتھی ہے)۔

سمری

ڈالر کی موجودہ قیمت ۱۴۱۰۴۹ ہے۔ یعنی یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایک ڈالر ایک سو اکتالیس روپے اور انچاس پیسے کے برابر ہوتا ہے۔ ایک سو اکتالیس روپے کو بھی اگر پیسے میں تبدیل کیا جائے تو فی ڈالر چودہ ہزار ایک سو انچاس پیسے کے برابر ہوا کرتا ہے۔ “روحونیت” کے شیدائی اور پاک روح عزت مآب عمران خان صاحب زیرِاعظم پاکستان کے ماننے والے پیارے پیارے بچے یہ حقیقت جانتے ہیں کہ پیسہ ہاتھ کا میل ہے۔ یوں ۱۴۱۴۹ پیسے ڈھیر سارا میل بنتے ہیں۔ پس یونیورسٹی برائے سپر سائینس اور روحانیت کی اس تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ڈالر کے بارے میں پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں۔ میل جتنا کم ہو اتنا اچھا ہوا کرتا ہے۔

اس ضمن میں بشری تحقیق بس یہیں تک ممکن رہی۔ تحقیق کا اگلا حصہ مؤکلوں کے حوالے کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں ماہر مؤکل معاشیات و مالیات کے سامنے انسانی سکالرز جناب نقشبندی، چشتی و گیلانی کی تحقیقات رکھی گئیں۔ مؤکل نے “ہمیں آپ کی تحقیق بالکل پسند نہیں آئی” کہہ کر مزید تحقیق سے انکار کر ڈالا۔ خوب ترلوں کے بعد ماہر مؤکل معاشیات و مالیات نے عالم ارواح میں خصوصی ریسرچ کے بعد دو سطری نتیجہ نکالا کہ “یہ ان کی اپنی خر مستی ہے جس نے مچائی ہے ہلچل مسئلہ عمر اسد میں ہوتا تو نہ ناچتے وہ سب”۔ اس نتیجے میں “ان” کی بابت استفسار پر معلوم ہوا کہ مؤکل کی اپنی حدود ہیں جو پیرانِ مانیکا شریف کی بندش کے زیراثر ہیں۔ کم و بیش یہی اشارے دوسرے مؤکل و ماہر سفلی علوم سے بھی ملتے رہے۔ معیشت کی جیب میں روپے کی جگہ غلیل سے ثابت ہوتا ہے کہ جس کی غلیل اس کی معیشت۔ ریاستی معیشت کی روح جس خاکی طوطے میں قید ہے وہ غلیل بردار دیو کے پاس محفوظ ہے۔ یہ تھیسز ثابت کرتا ہے کہ اس “سپر سائینس” کو سمجھنے کے لیے ہم نے ریاستی وسائل تیل ہی کیے۔ یہ حقیقت یونیورسٹی کے ناقدین پہلے سے ہی جانتے تھے۔ ہمیں یہ ادراک کرتے تین سال لگ گئے۔ اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *