ہمارے قائد، مولانا فضل الرحمان۔۔۔۔ طارق علی شاہ

کسی گمنام رعایت اللہ صدیقی کی کچھ تحاریر محترم انعام رانا کے مکالمہ کی زینت بنیں۔ میرے خیال میں تو یہ جماعتی معاملہ ہے اس کو جماعت میں ہی زیر بحث لانا چاہیئے نہ کہ عام مکالمے کی صورت دینی چاہیئے۔ لکھنے والے کا نام کوئی ایسا معروف نہیں لیکن جمعیت علماء کی مقبولیت، جو اس وقت کافی بلندی پر جارہی ہے، وجہ تحریر ہو سکتی ہے۔ کیونکہ یار لوگوں کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح راستہ روکیں، مگر الحمد للّٰہ جمعیت علماء اور اس کے قائدین کے خلاف ان کے سب حربے ناکام ہوئے ہیں۔ اگرچہ بعض مواقع پر جماعت کو سخت نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے، خود قائد جمعیت پر کتنے بڑے بڑے الزامات لگائے گئے مگر ناکامی ہوئی بلکہ ان لوگوں نے آکر معافیاں پھرمانگیں۔ قائد کے درجات اللہ تعالی نے اور بلند کئے اور اسوقت میں یہ کہ سکتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمن پورے ملک کے بڑے بڑے علماء کی آنکھوں کے تارے بن چکے ہیں۔ جو لوگ مفکر اسلام مفتی محمود رحمہم اللہ سے اختلاف رکھتے تھے، آج وہ بھی قائد جمعیت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کے شاندار کردار پر ان کو سلام پیش کرتے ہیں ۔

 جب وہ ہند کی سرزمین پر پہنچےتوبارڈر سے لیکر دیوبند تک اور پھر دیوبند سے دلی تک مسلمانان ہند جو ان کا استقبال کیا وہ انہی کا استحقاق تھا ذرا یہ غور کریں کہ 1857 کے بعد دین احمد کی حفاظت کے لئے جو سب سے پہلا مورچہ سرزمین ہند میں قائم ہوا اور اس کو دنیا دارالعلوم دیوبند کے نام سے پہچانتی ہے، وہاں مین گیٹ سے مہمان خانے تک چند منٹ کا فاصلہ گھنٹے سے زیادہ میں طے ہوا اور اس طرح کہ آپ کی گاڑی ہاتھوں میں اٹھادی تھی۔ آج میرے خیال سے اگر کوئی مثبت خیال سے سوچے (مثبت اس لئے میں نے کہا کہ اکثر ہماری سوچ آج منفی ہے ) تو یہ معلوم ہوگا کہ اسوقت مملکت خداداد کو ان کی ضرورت ہے۔

باقی ایل ایف او کی منظوری کا قصہ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آمر نے جو آرڈر کئے تھے اور عدلیہ نے پہلے ہی نظریہ ضرورت کے تحت اس کی آمریت کو سلامی دے دی تھی، اب ان باتوں کو اسمبلی لایا جائے اور بحث کی جائے۔ اگر اسمبلی منظور کرے تو قانون کا حصہ بنایا جائے اور ویسے ہی ایک آمر کا آرڈر قانون کا حصہ نہ بنے جیسے پہلے ہوا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے تقریباً ۲۹ پر سب جماعتیں متفق تھیں پی پی بھی مسلم لیگ نواز بھی چار پانچ پر اختلاف تھا۔ اب جب ایم ایم اے نے انہیںown کیا تو لوگوں کو تکلیف ہوگئی۔ مولوی تو ان کو پہلے ہی نہ بھاتا تھا اب “الحرب خدعۃ” کہ جنگ ایک چال ہے۔ انہوں نے الٹی چال چلنی شروع کی اور میڈیا تو پہلے ہی دجالی قوتوں کا لے پالک بن چکا ہے۔ سو اس نے موقع سے خوب فائدہ اٹھایا اور بدنام کرنے کی پوری سر توڑ کوشش کی۔ ایم ایم اے کی ایک اچھی کوشش کو جس پر ان کو سلام کرنا چاہئے تھا کہ ایک آمر کو انہوں نے مطلق العنان نہیں چھوڑا بلکہ پارلیمنٹ کا پابند کیا، خراب کرنے کی سعی کی۔

مولانا محمد خان شیرانی جمعیت علماء کے سینیئر رہنما اور ہمارے بزرگ ہیں، مگر ان کی بعض باتیں مفروضوں پر مبنی تھیں۔ میں بھی بعض اجلاسوں میں شامل ہوا ہوں، میں نے بھی سب کو دیکھا ہے۔ ہماری اصطلاح میں بعض ان کے تفردات ہیں اور یہ بڑے بڑے علماء کے ہیں اور بات قابل عمل جمہور کی ہوتی ہے نہ کہ ایک کی۔ اور یہ تو دنیا جانتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو مولانا فضل الرحمن صاحب سے کتنی محبت ہےاور مولانا اسٹیبلشمنٹ کے کتنے دلدادہ ہیں، ایسے ہی تو ان پر بڑے بڑے خودکش حملے نہیں ہوتے ہیں۔

دوسری بات دین اسلام نے ہی وراثت متعارف کرائی ہے۔ اپنے بڑوں کا وارث ہونا اچھی بات ہے، قابل فخر بات ہے، بری نہیں۔ ایک ڈاکٹر کا بیٹا پہلی ترجیح میں ڈاکٹر بنتا ہے، وکیل کا بیٹا وکیل، مولوی کا بیٹا مولوی۔ جمعیت علماء کے الیکشن میں کوئی کسی عہدے کے لئےاپنا نام نہیں پیش کرسکتا اور نہ کوئی اپنے لئے لابنگ کرسکتا ہے،تو مولانا فضل الرحمن کیسے اپنے کسی بھائی کو عہدہ دلاسکتے ہیں۔ یہ تو کارکن جس کو بنائیں وہ بن سکتا ہے۔ اگر مولانا کے کسی رشتہ دار میں یہ صلاحیت ہے تو ان کا راستہ روکنا بھی تو زیادتی ہے۔ ذرا اس پر بھی تو غور ہو کہ موسی علیہ السلام اللہ تعالی سے وزیر مانگ رہے ہیں اور درخواست کس کے نام کی دے رہے ہیں؟ حضرت ہارون علیہ السلام کی، اپنے بھائی کی، کہ یہ زیادہ موزوں ہیں۔ مولانا محمد خان شیرانی صاحب کا اس موضوع پر مولانا فضل الرحمن سے کوئی اختلاف نہیں اور یہ سراسر جھوٹ ہے۔ مولانا شیرانی بلوچستان کی جماعت کے ابھی تک ذمہ دار تھے اور یہ حضرات کے پی کے کے ہیں۔ باقی الیکشن میں جس کا نام ساتھی پیش کریں اس پر عمومی میں اراکین اپنا ووٹ جس کو چاہیں پیش کریں۔ مولانا فضل الرحمن نے خواہش کبھی بھی نہیں کی بلکہ ہمارے تو ہر بزرگ نے یہ کہا ہے کہ میں اس عہدے کا اہل نہیں۔ ہاں جماعت نے ذمہ داری ڈال دی تو انہوں نے اسے ذمہ داری سمجھ کر نبھایا۔

ہاں اس مرتبہ جب جماعتی الیکشن ہوئے تو ان میں کچھ بدمزگی ہوئی۔ وہ اس بات پر نہ تھی کہ مولانا فضل الرحمن صاحب کے مقابلہ میں کوئی آرہا ہے بلکہ عمومی کے ممبران کے علاوہ کچھ لوگ آگئے تھے اور مولانا کے مقابل پینل لابنگ بھی کھل کر کررہا تھا جو جمعیت کے مزاج کے خلاف تھا۔ باقی جس وکیل کی طرف اشارہ کیا ہے محترم نے وہ ایک بڑا وکیل ہے اور دنیا میں دیندار آدمی ہے اور ابھی تک مولانا شیرانی صاحب کا خاص الخاص رہا ہے۔ لکھنے والا شاید جمعیت کی تاریخ سے نابلد ہے یا کوئی شرارتی جو پردے سے وار کر رہا ہے۔

 یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ جب بھی کوئی آمر آیا اس نے سازشیں کر کے سیاسی جماعتوں میں اپنی ناجائز اولاد پیدا کی۔ مشرف نے تو خیر مکمل تحریک انصاف کو ہی جنم دیا مگر دیگر جماعتیں بھی کچھ نہ کچھ نقصان اٹھاتی رہیں۔ اسی طرح جمعیت پر بھی حملے ہوئے اور کوئی بڑی کامیابی یہاں تو ان کو نہیں ملی مگر گروپ بندی میں کامیاب ہوئے۔ تو جس طرح دوسری جماعتیں مختلف ناموں سے رجسٹر ہیں اسی طرح جمعیت بھی ہے اور یہ آج کی بات نہیں کافی پرانی ہے۔

مولانا شیرانی اور مولانا فضل الرحمن دونوں ہمارے بزرگ ہیں۔ جو لوگ ان کو لڑانے کی کوشش کرتے ہیں وہ ناکام ہوں گے۔ مولانا فضل الرحمن، اللہ تعالی کے سپاہی ہیں، محمد رسول اللہ کے جانثار، دین اسلام کے محافظ، اسلامی نظام کے داعی، دینی مدارس کے محافظ و پشتی بان اور علماء اور طلباء کے دلوں کی آواز۔

اللہ تعالی رعایت اللہ اور اسکی قبیل کے “باپردہ دشمنوں” کو بے پردہ کرے گا۔ اور کبھی مولانا کو رسوا وذلیل نہیں کرے گا بلکہ ان کو مزید عزت دےگا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *