ریاست ہوتی ہے بیٹی جیسی۔۔۔رمشا تبسم

مختلف دانشوروں نے لکھا کہ  “ریاست ہوتی ہے ماں جیسی” اور “ریاست کب بنے کی ماں جیسی”۔اعتزاز احسن نے ایک بار تقریر میں یہ نعرہ لگایا شہرت بھی پائی مگر پھر کیسی ماں کیسی ریاست بھلا سیاست دانوں کو بھی کوئی کہی ہوئی بات یا لگایا ہوا نعرہ یاد رہتا ہے۔اب تو حالات یہ ہیں کہ  بات کہنا اور بھول جانا کو تبدیلی کا نام دیا گیا ہے۔نعرے لگاتے جاؤ بڑھتے جاؤ بھولتے جاؤ اور ناکامی کا ملبہ گزشتہ حکومتوں پر ڈالتے جاؤ۔

بات  دراصل ہو رہی تھی ریاست کے ماں جیسی ہونے کی۔ہم بحیثیتِ مسلمان اس بات سے بخوبی واقف ہیں اگر ماں کے حقوق ہیں تو کچھ فرائض بھی ہیں۔ کچھ لوگوں کے نزدیک ریاست کے ماں جیسی ہونے  کا مطلب ماں کی شفقت ،ہمدردی ،لاڈ پیار اور برابری کا سلوک ہے جو کہ  ماں کے فرائض ہیں۔جبکہ کچھ کے نزدیک  ماں جیسی ریاست کا مطلب یہ ہے کہ  پاکستان کی سوہنی دھرتی کو ماں کی طرح رکھ کر ماں کے حقوق ادا کئے جائیں۔ریاست کو ماں کا رتبہ دے کر  وہ درجہ عطا کیا جائے کہ   جس کے قدموں تلے ہماری جنت رکھ دی گئی ہے۔

مگر افسوس صد افسوس کے نہ  تو کوئی ریاست کو ماں سمجھ کر ماں کےحقوق ادا کر رہا ہے اور نہ ہی جب ریاست ماں بن کر اپنے فرائض ادا کرتی ہے  تو کوئی اسکی قدر کرتا ہے۔جو پوچھتے ہیں کہ  ریاست کب بنے گی ماں جیسی ان سے سوال ہے کہ بہت سے لوگوں کے لئے ریاست ماں جیسی  بن چکی ہے لہذا وہ  کیا صلہ دے  رہے  ہیں ماں کو ؟ کونسا اپنا فرض نبھا رہے ہیں؟ کونسا ماں کی محبت ،شفقت، ہمدردی اور مہربانی کی قدر کر رہے ہیں؟

ریاست ہمیشہ سے ہی ماں جیسی رہی ہے۔کسی کے ساتھ  زیادہ شفقت اور کسی کے ساتھ سخت رویہ۔
مگر میرا خیال ہے ریاست ماں کی بجائے اب بیٹی جیسی ہے ۔ماں کے توکچھ حقوق و فرائض ہیں۔جن سے اگر کسی حد تک غفلت ہو بھی جائے تو ماں معاف کر کے پھر بھی سینے سے لگا ہی لیتی ہے۔عیب چھپا لیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ   موجودہ سیاست دان اور خاص طور پر حکمران  آج کل اپنے بے شمار عیبوں، غلطیوں اور کوتاہیوں کے باوجود ماں جیسی ہمدردی، شفقت اور سلوک سے لطف اندوذ ہو رہے ہیں۔
میرا ماننا ہے کہ  ریاست بیٹی جیسی ہے۔بیٹی کی حفاظت کی جاتی ہے۔زمانے کے شر سے بچانے کے جتن کئے جاتے ہیں۔بھٹک جائے تو  زمانے میں چرچا نہیں کیا جاتا بلکہ پسِ پردہ اصلاح کی جاتی ہے۔کسی غیر کے سامنے  بیٹی کی خامیوں کا ذکر نہیں کیا جاتا۔کوئی غیر آنکھ اٹھا کر دیکھ لے تو اسکی آنکھیں نوچ لی جاتی ہیں۔کوئی برائی پیدا ہو رہی ہو تو حکمتِ عملی سے دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہمیشہ اپنی شفقت ،محبت، اعتماد اور خلوص کی چادر میں ڈھانپ کر زمانے کی گردش سے محفوظ کیا جاتا ہے۔
مگر افسوس موجودہ حکمران جن کے لئے ریاست تو ماں بن گئی  مگر وہ  حکمران اپنے فرائض  نبھانے سے قاصر ہیں۔ اسی طرح وہ بیٹی جیسی ریاست کی عزت ،حرمت، پاکبازی  کا خیال رکھنے سے بھی قاصر ہیں۔

جہالت کے دور  میں لوگ بیٹی کو  زندہ درگور کرتے تھے۔بیٹی کو  زحمت سمجھا جاتا تھا۔دورِ حاضر میں بھی بیٹی کو بعض لوگ  زحمت سمجھتے ہیں یا اسکو پیدا ہی نہیں ہونے دیتے یا پیدا کر کے مار دیتے ہیں۔یا کچھ معاملات میں بیٹی کی عزت کا خیال نہیں رکھ سکتے نہ ہی اسکو اپناتے ہیں نہ ہی اپنا نام دیتے ہیں۔ پھر  زمانے بھر میں رسوا کر دیتے ہیں۔کچھ جگہوں پر یا کچھ معاملات میں غیرت کے نام پر بہت  آرام سے قتل بھی کردیتے ہیں۔ یہ ظالمانہ رویہ آج کے دور میں ریاست کے ساتھ موجودہ حکومت بھی کر رہی ہے۔
جو کہ اول تو بیٹی کو بیٹی مان ہی نہیں رہی۔اور اگر خفیہ طور پر مان رہی ہے تو اتنے نا اہل ہیں کہ اسکو عزت دینے سے بھی قاصر ہیں۔پھر   زمانے بھر  میں اس  کی رسوائی کا باعث بن رہے ہیں۔خود تو ماں جیسی ریاست میں عیش وعشرت کر رہے ہیں۔مگر بیٹی  کو وہ عزت شفقت ہمدردانہ سلوک اعتبار دینے میں ناکام ہیں ۔

ریاست بیٹی جیسی ہی ہے۔اور جس طرح لوگ بیٹی کو اپنانے سے انکار کرتے ہیں یا  زندہ درگو کر دیتے ہیں بیٹی کے عیب چھپانے کی بجائے چرچا کرتے ہیں یا بیٹی کی اصلاح کی بجائے غیرت کے نام پر قتل کرتے ہیں اسی طرح کا سلوک  موجودہ حکمران , ان کے نمائندے اور ان کے پیروکار  ریاستِ پاکستان کے ساتھ کر رہے ہیں۔
وذیراعظم عمران خان جس گلی کوچے ،محلے، شہر، صوبے یا بیرونِ ملک جاتے ہیں وہاں جا کر پاکستان کی خامیاں  چیخ چیخ کر بتاتے ہیں جو شائد اتنی موجود بھی نہیں ہیں۔ ہر جگہ اپنی تقاریر جو چاہے  پرچی پڑھ کر کریں یا بغیر پرچی کے دونوں ہی صورتوں میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ایک طرف یہ شور کیا جا رہا تھا کے دو سو ارب ڈالر ملک میں عمران خان کے آتے ہی آ جائیں گے ساتھ نوکریوں کی بارش ہو گی اور ٹیکس  زیادہ سے  زیادہ جمع ہو گا۔باہر سے لوگ پاکستان میں نا صرف سرمایہ کاری کریں گے بلکہ ملازمت کے حصول کے لئے بھی یہاں کا رخ کریں گے۔

دوسری طرف حکومت میں آنے سے پہلے اور حکومت سنبھالتے ہی عمران خان نے ملک کے ہر حصے میں جا کر یہ تاثر دیا کہ  پاکستان صرف چوروں کے ہاتھ میں تھا (جبکہ میری رائے کے مطابق اب بھی ہے)۔  یہاں ہر طرح کی بدعنوانی قدم جما چکی ہے۔یہاں حالات ناساز گار ہیں۔یہاں وسائل کی شدید کمی ہے۔صرف ملک میں ہی نہیں بلکہ غیر ملکی ہر دورے میں بھی عمران خان نے پاکستان  کا کوئی مثبت  پہلو کسی کے سامنے بیان نہیں کیا۔برائی کا خوب چرچا کیا۔پاکستان کو بدنام کیا۔لہذا نہ تو کوئی انویسٹمنٹ کرنے آیا نہ ہی بیرونِ ملک بیٹھے پاکستانیوں نے اپنے پیسے پاکستان منتقل کئے۔نہ کوئی یہاں نوکری کا خواہش مند ہے۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ  کوئی شخص اپنی بیٹی کی برائی بھی کرے جگہ جگہ جا کر اس کا  دامن داغدار بھی کرے۔اسکے حال کو اس کے ماضی کے قصے سنا کر اسکی عزت خاک میں ملا دے۔بیٹی کے دامن پر وہ داغ بھی لگا دے جو شائد حقائق کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف  فرضی ہیں یا۔کسی سے بغض کی وجہ سے اس داغ کا بھی چرچا کرے جو نہ تو کبھی موجود تھا نہ ہی کبھی رونما ہو گا مگر کیونکہ الزام دینے  والا باپ ہے لہذا   لوگ یقین کریں گے۔مگر کوئی کتنا بھی کم ظرف کیوں نہ ہو مگر بیٹی کا دامن داغدار نہیں کر سکتا۔
اسی طرح کا معاملہ ریاست کا ہے ۔وذیراعظم چاہے ذاتی طور پر پاکستان کو ایک ترقی پذیر ناکام ریاست اور بدعنوانی کی سر زمین سمجھتے ہیں مگر وہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں پاکستان کے نمائندے ہیں۔ان کی پاکستان پر الزام تراشی پاکستان کی سر زمین کو شَر زمین ثابت کرنے کی کوشش کسی اور کو نہیں پاکستان کو ہی نقصان پہنچا رہی ہے جس سے نہ صرف ان کی حکومت متاثر ہو رہی ہے بلکہ پاکستانی عوام مہنگائی کے بوجھ کے نیچے آکر مر رہی ہے۔

اب عمران خان کو بیٹی کو اپنانا ہو گا۔اب  بیٹی کے حقوق ادا کرنے ہونگے۔اب بیٹی کا سر بلند کر کے جینے کی طرف گامزن  کرنا ہوگا۔اب بیٹی کے مثبت پہلو لوگوں کے سامنے رکھنے ہونگے۔جی ہاں!عمران خان کو اب ریاست کو بیٹی جیسا ماننا ہوگا۔بیٹی جیسی حفاظت کرنی ہوگی۔برائی کی اصلاح کرنی ہوگی۔بدعنوانی کا چرچا نہیں بلکہ خاتمہ کرنا ہوگا۔ریاست بیٹی کی طرح ہی ہوتی ہے۔جس کو پروان چڑھانے کے لئے اسکے دامن کو داغدار نہیں کیا جا سکتا بلکہ اگر داغ دار ہو جائے تو اسکو صاف کرنے کی کوشش کی جاتی ہے نہ کہ  غیرت کے نام پر قتل کیا ہے۔موجودہ حکمران ریاست کو بیٹی جیسی  مان لیں اور ساتھ ہی   غیرت اور انا کی خاطر اسکا معاشی، سماجی، اقتصادی قتل روک دیں۔

ریاست پاکستان ہے  تو ہم ہیں ۔ہم ہیں تو حکمران ہیں ۔اور ہم ہیں تو ہی ہمارے ٹیکسوں پر  ان حکمرانوں کی عیش و عشرت جاری رہتی ہے ورنہ کسی غریب کی قسمت میں اڑھائی لاکھ کی چائے اور تیس لاکھ کا مشاعرہ نہیں ہوتا۔بلکہ غریب کی قسمت میں تو باون روپے والا ہیلی کاپٹر بھی نہیں ہوتا۔

نوٹ۔اس تحریر میں کسی کی ذاتی ذندگی کو نشانہ نہیں بنایا گیا یہ خالصتاً ایک سیاسی مضمون ہے۔اس کو غیر سیاسی قارئین کسی شخصیت کی ذات سے نہ جوڑیں۔ کیونکہ کسی کی ذاتی  زندگی سے مماثلت صرف اتفاقی ہے راقم  ایسے تمام غیر سیاسی قارئین سے لاتعلقی کا اعلان کرتی ہے۔۔اللہ ہمیں ہدایت دے۔آمین۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ریاست ہوتی ہے بیٹی جیسی۔۔۔رمشا تبسم

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم
    اسلام علیکم!
    تحریر بلا شبہ 👌قا بل تحسین۔۔۔ ۔۔۔ قابل تعریف ہے ۔۔۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ۔۔۔۔۔ ہم حکمرانوں سے ریاست کو اس جیساسمجھنے کے لیے کہہ رہے ہیں ۔۔۔ جس کی اپنی کوئی وقعت نہیں ہے نہ اس ریاست میں رہنے والے انسانوں کی نظر میں ،نہ ریاست کے حکمرانوں کی نظر میں۔۔۔ ۔۔ بیٹی جو ایک جیتا جاگتا وجود رکھتی ہے ۔۔۔ جو آواز رکھتی ہے ۔۔۔ اس پر ظلم کرنے سے ،اسکو گالی دینے سے ، اس کو زندہ در گور کرنے سے جب کوئی نہیں چوکتا ۔۔ کوئی شرمسار نہیں ہوتا ۔۔۔۔ تو ریاست تو پھر ایک بے جان خطہ ہے ۔۔۔ یہ وہ ملک ہے جس کا نام “پاکستان” ہے جو ملا تو سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ ملا ۔۔۔ غلامی سے آزادی کا سفر کوئی آسان بات نہ تھی ۔۔ ہمارے قائد اور ان کے تمام ساتھی جن کی کوششوں کی بدولت آج ہم اس آزاد ریاست میں آزادی سے سانس لے رہے ہیں۔۔۔ ان تمام کو سلام عظمت پیش کرتی ہوں ۔۔۔ اور ان سے دل سے شرمندہ ہوں کہ ان کی قربانیاں رائیگاں ہوتی جا رہی ہیں ۔۔۔ ہم بے قدرے ۔۔ بڑے دھڑلے سے اک دوسرے پہ الزام تراشی کر کے بی الذمہ ہو جاتے ہیں ۔۔۔ ریاست یا اس کے رہنے والوں کو برا کہنے کی بجائے ۔۔۔ اے سر زمین پاکستان کے حکمران ۔۔۔ اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کیجےکیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ من جد وجد۔۔(ترجمہ) جس نے کوشش کی اس نے پا لیا۔۔
    پرانے حکمرانوں نے کیا کیا؟۔۔۔ یہ سوچنے اور اس کی تشہیر کی بجائے ان خامیوں کو دور کیجے ۔۔۔ سانپ نکل جا ئے ۔۔تو لکیر پیٹنے کا فائدہ نہیں ہوتا ۔۔۔ صرف اور صرف وقت برباد ہوتا
    ہے۔۔ اے اہل پاکستان ۔۔۔۔وقت کی قدر کریں اور پاکستانی ہونے کا حق ادا کریں ۔۔۔ اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت کاملہ عطا فر مائے آمین یا ارحم الراحمین ۔۔
    رمشا جی !اللہ رحیم وکریم آپ پر اپنی رحمتیں نچھاور کرتا رہے آمین ثم آمین

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *