قمری کیلنڈر اور ہجری کیلنڈر میں فرق۔۔۔۔حافظ صفوان محمد

سوال: حضرت محمد علیہ السلام نے قبلِ نبوت اور بعد از نبوت ساری زندگی جولین کیلنڈر کے مطابق گزاری اور حج و روزہ و دیگر عبادات بھی فرمائیں اور سب صحابہ نے بھی آپ کے ساتھ یہ عبادات فرمائیں یہاں تک کہ آپ کا وصال ہوگیا اور دین مکمل ہوگیا جس میں اب کچھ شامل نہیں ہوسکتا۔ میرا سوال یہ ہے کہ حضرت محمد علیہ السلام کے وصال کے دس سال بعد قمری کیلنڈر شروع کرکے اسلامی عبادات کے نظام کو اس پر ڈالنا کیا حضرت عمر کی طرف سے دین میں نئی بات شامل کرنا نہ تھا؟

جواب: سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیجیے کہ قمری کیلنڈر اور ہجری کیلنڈر دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ بعثتِ نبوی کے وقت جولین کیلنڈر کے حجاز میں موجود اور جاری ہونے کے موضوع پر میری معلومات محدود ہیں تاہم قمری کیلنڈر پہلے سے چلا آرہا تھا جس کے مطابق اہلِ حجاز زندگی گزار رہے تھے۔ حضرت محمد علیہ السلام کی پیدائش کے وقت بھی قمری کیلنڈر موجود تھا اور ان چالیس سال میں بھی موجود رہا جب تک آپ نے دعوائے نبوت نہیں کیا تھا اور اس کے بعد بھی موجود رہا اور آج تک موجود ہے، اور مسلمان اور کافر سبھی اسے استعمال کرتے آئے اور آج تک کر رہے ہیں۔

مجھے اپنے مطالعے کے محدود ہونے کا اعتراف ہے تاہم مجھے ابھی تک ایک بھی حوالہ ایسا نہیں مل سکا کہ حضرت محمد علیہ السلام نے قبل و بعد از نبوت کبھی جولین کیلنڈر استعمال کیا ہو (گریگورین کیلنڈر اکتوبر 1582 سے شروع ہوا)۔ عربوں میں قمری کیلنڈر رائج تھا اور آپ علیہ السلام نے ساری زندگی اسی کو استعمال کیا۔ قرآن نے سورہ توبہ میں قمری کیلنڈر کا ذکر کیا ہے: ان عدة الشهور عند الله اثنا عشر شهراً۔ روزے فرض ہوئے تو نبی کریم نے ان کے لیے رمضان کو مختص کیا، حج فرض ہوا تو اس کے لیے ذی الحجہ کو مختص کیا گیا۔ المختصر قرآن نے قمری کیلنڈر ہی کو لوگوں کے لیے اوقات کا اور حج کا معیار قرار دیا: قل ہی مواقیت للناس والحج۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے شروع سے ہی اپنا حساب چاند پر رکھا نہ کہ سورج پر۔ چونکہ اسلام نے ایک مکمل نظامِ عبادت دیا ہے، اگر اسے شمسی حساب سے مرتب کیا جاتا تو ہر عبادت ایک ہی موسم کے ساتھ مختص ہوجاتی، قمری کیلنڈر کی خوبی یہ ہے کہ روزہ اور حج سال کے ہر موسم اور شمسی سال کے ہر مہینہ میں گھوم کر آتے ہیں جس سے اہل اسلام کو اپنی یہ اہم عبادات ہر موسم اور ہر ماہ میں ادا کرنے کا موقع ملتا ہے۔

حضرت عمر نے دین میں کوئی نئی بات شامل نہیں کی بلکہ اپنی دفتری و انتظامی آسانی کے لیے ہجرتِ مدینہ کے سال (نہ کہ دن) کو benchmark کرلیا تاکہ لوگوں کو یاد رہے۔ اس زمانے میں واقعات کو سال سے یاد کیا جاتا تھا جیسے عام الحزن، عام الفیل، عام الجماعہ، وغیرہ۔ یہ ترتیب آج بھی موجود ہے، جیسے آج کل دنیا کی تاریخ کو نائن الیون کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔

مکہ والوں کی ہجرت سے مدینہ کی سیاسی و معاشی صورتِ حال پر نہایت دور رس اثرات مرتب ہوئے تھے اور مدینہ کا قدیمی مرکزِ قیادت تبدیل ہوا تھا چنانچہ مدینہ میں یہ بات عام طور سے لوگوں کو یاد تھی کہ مکہ والے فلاں سال ہجرت کرکے آئے تھے۔ اس واقعے کی اہمیت کی وجہ سے اہل الرائے کی مشاورت سے حضرت عمر نے اس سال یعنی “عام الہجرہ” کا حوالہ سرکاری خطوط میں دینا شروع کر دیا۔ آج کے دور کے اعتبار سے اس کی مثال، برائے گفتگو صرف، یوں لیجیے جیسے گریگورین کیلنڈر کی دوسری ہزاری ختم ہونے کے بعد سے لوگ سال کو 2K کے سابقے سے لکھنا شروع کرتے ہیں۔ المختصر آمدہ انتظامی ضرورت کے تحت حضرت عمر کا سرکاری خطوط میں “عام الہجرہ” کا حوالہ لکھنا شروع کرنا ہی ان کی انمٹ یادگار ہے۔

واضح رہے کہ حضرت عمر نے حضرت علی کے مشورہ سے ہجری تقویم بنائی تھی اور ان ہی کے مشورہ سے محرم کو پہلا مہینہ قرار دیا تھا کیونکہ ہجرت کا آغاز محرم سے ہی ہوا تھا۔ بیعتِ عقبہ ذی الحجہ میں ہوئی تھی اور مسلمانوں نے محرم سے ہجرت شروع کر دی تھی۔ حضرت محمد علیہ السلام نے ہجرت ربیع الاول میں کی تھی۔ چنانچہ ہجری کیلنڈر کا آغاز ہجرت سے ہے نہ کہ ہجرتِ نبوی سے۔

رفتہ رفتہ یہ عام الہجرہ باقاعدہ کیلنڈر کی صورت اختیار کر گیا کیونکہ دنیا بھر کے مسلمانوں نے اپنی تاریخ کو اسی حوالے سے benchmark کرلیا۔ ورنہ حضرت محمد علیہ السلام پر پہلی وحی عام الہجرہ سے تیرہ سال پہلے اتری تھی اور عام الہجرہ کی bench-marking کے وقت اس واقعہ کو تینتیس سال گزر چکے تھے۔ اصولًا اسلامی تاریخ کو حضرت محمد علیہ السلام کی بعثت یعنی ہجری کیلنڈر سے تیرہ سال پہلے سے، یا آپ کی پیدائش یعنی ہجری کیلنڈر سے تریپن سال پہلے سے، شروع ہونا چاہیے۔

حضرت عمر نے عبادات کے نظام کو ہجری کیلنڈر پر منتقل نہیں کیا بلکہ جو جو عبادات قمری کیلنڈر کے مطابق ادا ہوتی تھیں، کیلنڈر میں سالِ ہجرت کی bench-marking شروع ہونے کے بعد بھی وہ پہلے کی طرح قمری کیلنڈر کے مطابق چلتی رہیں اور آج تک چل رہی ہیں۔

سادہ لفظوں میں یوں سمجھ لیجیے کہ ہجری کیلنڈر آج مسلمانوں کے صرف ذوقی استعمال کی چیز ہے ورنہ اسلامی عبادات کا نظام حضرت محمد علیہ السلام کے حینِ حیات ہی سے عند الضرورت قمری کیلنڈر کے مطابق چلا آرہا ہے، اور اگر حضرت عمر اپنے دور کی خط کتابت میں ہجرت کا حوالہ نہ بھی شامل فرماتے تب بھی یہ عبادات ویسے ہوتی آتیں جیسے دورِ نبوی میں ہو رہی تھیں۔ ہجری کیلنڈر مسلمانوں کو صرف یہ یاد کراتا ہے کہ ہجرتِ مدینہ کو آج اتنے سال ہوچکے ہیں اور بس۔

قمری کیلنڈر مسلمانوں کا اثاثہ نہیں بلکہ حجاز کے لوگ قمری کیلنڈر کو بطور مقامی کیلنڈر استعمال کر رہے تھے اور یہ وہاں کے مسلمان ہونے والوں کو وراثت میں ملا۔ چنانچہ آسانی کے لیے کہا جاسکتا ہے کہ قمری کیلنڈر انسانیت کا اثاثہ ہے جو حجاز اور دیگر بعض علاقوں کے باشندے بعثتِ نبوی سے بہت پہلے سے استعمال کر رہے تھے۔ قمری مہینوں کے نام بھی اسلام نے مقرر نہیں کیے بلکہ یہ عربوں میں پہلے سے موجود تھے، اور انہی کی طرف سورہ توبہ میں اشارہ کیا گیا۔

اس بحث سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ رویتِ ہلال کا مسئلہ قمری کیلنڈر کا مسئلہ ہے نہ کہ ہجری کیلنڈر کا، نیز رویتِ ہلال کی گواہی مسلم غیر مسلم مرد عورت سب دے سکتے ہیں۔ رویتِ ہلال میں دنیا بھر کے مسلمان ہجری کیلنڈر کو صرف محبت کی وجہ سے یاد رکھتے ہیں۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *