کلائیو کی واپسی اور فرار۔۔۔۔محمداظہار الحق

ضمیر جعفری نے کہا تھا ؎ کلائیو کی یہ بات آئی پسند کہ وہ مر گیا مگر کچھ معجزے ضمیر جعفری کی وفات کے بعد رونما ہوئے۔ ان میں ایک معجزہ کلائیو کی واپسی تھی۔ رابرٹ کلائیو اورنگ زیب عالمگیر کی وفات کے اٹھارہ سال بعد انگلستان میں پیدا ہوا، بد دماغی باپ سے ورثے میں ملی۔ کچھ عرصہ خالہ کے پاس رہا۔ خالو کی رپورٹ یہ تھی کہ لڑکے کے مزاج میں دنگا فساد ہے۔ جس سکول میں بھی گیا، گینگ بنایا، دکانوں سے بھتہ بھی لیتا رہا۔ 1744 ء میں ہندوستان آیا۔ ابتدائی ملازمت ’’اسسٹنٹ شاپ کیپر‘‘ کی تھی۔ محنت اور بے خوفی نے ترقی دلوائی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب جنوبی ہند میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا فرانسیسیوں سے مقابلہ تھا۔ کلائیو نے انہیں شکست دی۔ پلاسی کی لڑائی میں کلائیو نے میر جعفر سے ساز باز کرکے سراج الدولہ کو دھوکہ دیا۔ اس نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو استحکام بخشا مگر بہادری سے زیادہ اس استحکام میں کلائیو نے دھوکے، فریب، بدعہدی، جھوٹ اور سازش کو استعمال کیا اور خوب استعمال کیا۔ واپس برطانیہ پہنچا تو اس کے پاس دولت کے انبار تھے۔ پارلیمنٹ میں اس کے خلاف انکوائری ہوئی۔ 1770 ء میں بنگال میں جو خوفناک قحط پڑا اور لاکھوں افراد مر گئے، اس کا ذمے دار کلائیو اور اس کی پالیسیوں کو ٹھہرایا گیا۔ اس پر الزام لگا کہ اس نے ناجائز دولت کمائی۔ کلائیو نے اپنا دفاع کیا اور تقریر کے آخر میں اپنا مشہور جملہ کہا… ’’میری دولت لے لو مگر میری عزت بچی رہنے دو‘‘ پارلیمنٹ نے اسے بری کر دیا مگر غیر جانبدار مورخ تصدیق کرتے ہیں کہ اس نے لوٹ مار کرکے خوب دولت اکٹھی کی اور اس کے ظلم و ستم کی وجہ ہی سے بنگال میں قحط پڑا۔ ہندوستان میں لوٹی ہوئی دولت سے کلائیو نے آئر لینڈ میں بہت بڑی جائیداد خریدی اور اس کا نام ’’پلاسی‘‘ رکھا۔ کلائیو دو بار واپس برطانیہ گیا۔ پھر تیسری بار ہندوستان آیا۔ آخری بار 1767 ء میں واپس گیا۔ تقریباً دو سو اٹھارہ سال بعد کلائیو ایک بار پھر برصغیر میں وارد ہوا۔ دو سو سال پہلے اس کے مستقر جنوبی ہند میں کلکتہ اور مدراس (چنائی) تھے۔ اب کے اس نے پنجاب کے مغربی حصے میں پڑاؤ کیا اور مشرقی پنجاب کے گاؤں کے نام پر نیا شہر بسایا۔ دو سو برس میں دھوکے فریب اور جھوٹ کی صورتیں بدل چکی تھیں۔ پہلے وہ معاہدے کرتا تھا اور دستخط کرنے کے بعد ان معاہدوںٕ کو کاغذ کے ایک بیکار ٹکڑے سے زیادہ نہ اہمیت دیتا تھا۔ ضرورت پڑنے پر جعلی معاہدہ تیار کر لیتا تھا مگر اب زمانہ ترقی کر چکا تھا۔ عیاری کی نئی نئی نفیس صورتیں ظاہر ہو چکی تھیں، یہ کمیشن اور کک بیک کھانے کا زمانہ تھا۔ اب چوری کی ایک نئی قسم ’’منی لانڈرنگ‘‘ دریافت ہو چکی تھی۔ چنانچہ کلائیو نے اس سے خوب خوب فائدہ اٹھایا۔ فولاد کے کارخانے لگائے۔ پھر ہر وہ ’’ترقیاتی‘‘ کام کیا جس میں فولاد استعمال ہوتا تھا۔ وہ جہاں بھی فراڈ کرتا، عمارت میں آگ بھڑک اٹھتی اور ریکارڈ جل جاتا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی میں وہ اکیلا تھا۔ اب دو سو سال بعد اس نے بڑے بھائی اور اپنے بیٹوں کو بھی لوٹ مار میں ساتھ رکھا۔ کیونکہ ’’کام‘‘ اتنا زیادہ تھا کہ اکیلے اس کے بس کی بات نہ تھی۔ چھپن کمپنیاں بنائیں۔ ان کمپنیوں کے سرکاری اجلاسوں میں اس کا بیٹا پارٹی کے ’’عام کارکن‘‘ کی حیثیت میں شامل ہوتا اور فیصلے کرتا۔ صوبے کے اکثر اضلاع میں اس نے ترقیاتی کام تو کیا کرانے تھے، پاؤں تک نہ رکھا۔ ساری توجہ ایک شہر پر تھی۔ اب اس نے جھوٹ کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ کسی سیاسی حریف کے خلاف ہزاروں کے مجمع میں اعلان کرتا کہ میں اس کا پیٹ پھاڑ کر اندر سے دولت نکالوں گا اور اسے سڑکوں پر گھسیٹوں گا۔ ایسا کہتے وقت وہ جنونیوں کی طرح ہاتھ مار کر سارے مائک گرا دیتا۔ پھر اسی حریف کے آگے ستر پکوانوں پر مشتمل دسترخوان بچھا دیتا۔ اب کے کلائیو نے ایسے کارنامے بھی سرانجام دیے جو کلکتہ اور مدراس میں اسے نہیں سوجھے تھے۔ جو عورت پسند آئی اس سے شادی رچا لیتا۔ تین تین جن کے بچے ہوتے، طلاق دلواتا اور ان سے خود شادیاں کر لیتا۔ دوسرے بھائی نے ایک مغنیہ کی ازدواجی زندگی کو تاراج کیا۔ دوسو سال پہلے چیرہ دستی کا جو اسلوب رائج تھا۔ کلائیو کو اس کا تلخ تجربہ ہو چکا تھا جس بحری بیڑے کی قیادت وہ کر رہا تھا، اس کا ایک جہاز تباہ ہو گیا۔ اس میں کلائیو کا طلائی سکوں سے بھرا صندوق بھی لہروں کی نذر ہو گیا۔ اس کی مالیت 33 ہزار پاؤنڈ تھی۔ چنانچہ اب کے کلائیو نے ایسی کوئی حماقت نہ کی۔ اس نے مروج بنکاری اور منی لانڈرنگ کے طریقے استعمال کیے۔ ایک اور طریقہ یہ نکالا کہ ہر بیگم کو الگ محل میں رکھ کر محل کو سرکاری قیام گاہ قرار دیا۔ یوں اخراجات سرکاری خزانے سے ادا ہونے لگے۔ بیٹے نے بھی ایسا ہی کیا۔ پھر کارخانے لگائے۔ دودھ دہی سے لے کر مرغیوں تک کے کاروبار پر اجارہ داری حاصل کر لی۔ یہ لوگ زمیندارہ بھی کرنے لگے۔ کلائیو نے پہلے دو غلطیاں کی تھیں۔ ایک یہ کہ زمین آئر لینڈ میں خریدی تھی۔ آئر لینڈ برطانیہ کی گرفت سے نکل کر آزاد ہو گیا۔ دوسری غلطی یہ کی کہ پارلیمنٹ میں اعلان کر دیا کہ دولت لے لو مگر عزت رہنے دو۔ اب کے اس نے ان دونوں غلطیوں سے مکمل احتراز کیا۔ خریداری کا مرکز لندن کو بنایا۔ لندن کے مقبول ترین حصوں میں رہائش گاہیں خریدیں، جائیدادیں بنائیں۔ ذریت کو وہاں آباد کر دیا۔ عزت کیلئے دولت قربان کرنے کا آپشن اس بار اس نے بالکل نہ برتا۔ اب کے اصول بدل چکے تھے۔ اب اصول وہ اچھا تھا جس سے کچھ وصول ہو۔ ٹیپو سلطان کا زمانہ لد چکاتھا جب شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے افضل تھی۔ اب گیدڑ تھے اور سو سو سال کی عیاشیاں! عدالت میں شرم و حیا کے بغیر اس نے مان لیا کہ صاف پانی کی کمپنی ایک قطرہ صاف پانی مہیا نہ کر سکی۔ اس نے پارٹی کو بھاڑ میں جھونکا۔ پارلیمانی لیڈر شپ سے توبہ کی، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی بے بضاعت صدارت کو ردی کی ٹوکری میں ڈالا۔ عزت قربان کرکے بھگوڑا کہلوانے کو ترجیح دی۔ کلائیو نے ہیٹ پہنا اور لندن بھاگ گیا۔ پس نوشت کم سنی کی شادی کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل نے اگرچہ عمر کے تعین سے اتفاق نہیں کیا مگر کم عمری کی شادی کی مخالفت کی ہے۔ کونسل کی رائے مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع مرحوم کی رائے پر مبنی ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا تھا کہ کم سنی کی شادی کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ یہ متعدد مفاسد اور مسائل کا باعث بنتی ہے۔ کونسل نے تجویز کیا ہے کہ حکومت چائلڈ میرج کی حوصلہ شکنی کیلئے عوام میں آگاہی کی مہم شروع کرے اور اس کیلئے اسلامی سکالرز اور علماء کرام کی مدد حاصل کرے۔ اس ابتدائی مرحلے میں کونسل کا چائلڈ میرج سے پیدا شدہ مفاسد اور مسائل کو تسلیم کرنا ایک مثبت قدم ہے۔ کونسل نے کہا ہے کہ قانون سازی سے پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ امید کرنی چاہئے کہ مستقبل قریب میں ان پیچیدگیوں کے حوالے سے ٹھوس تجاویز پیش کی جائیں گی تاکہ قانون سازی کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *