پندرہ جھوٹ، اور تنہائی کی دھوپ۔۔۔۔ محمداقبال دیوان/قسط1

یہ کہانی ہمارے مشفق و مہرباں دیوان صاحب کی ”تیسری کتاب پندرہ جھوٹ اورتنہائی کی دھوپ“کی فلیگ۔ شپ اسٹوری ہے۔ ہم سات اقساط پر مبنی یہ کہانی مکالمہ کی  دوست  پروفیسر نویدہ کوثر، کی فرمائش پر شائع کرر ہے ہیں۔ امید ہے پسند آئے گی ۔ چیف ایڈیٹر۔انعام رانا

پندرہ حھوٹ اور تنہائی کی دھوپ

تعارف
پروفیسر نویدہ کوثر
فیصل آباد
اقبال دیوان کی تحریر کمال ہی کمال ہے۔
پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ۔
بے مثال کہ محبت کی اتنی دلنشین صورت پہلے کبھی پڑھی ہی نہیں بالکل ایسے جیسے سرمئی سی شام ہو،دودھیاصبح کی مسکرا ہٹ میں غنودگی کا رس بھرا ذائقہ ہو،جیسے بادل زمین پہ اتر آئے اور کسی کو آغوش میں لے ،بھگو کر شرارت سے مسکاتا چلا جائے۔
اس سحر آفرین کہانی میں تو محبوب ایک طرف رہا،خود عاشق بھی ایسا ہے کہ جس پہ عشق عاشق ہو جائے؎۔۔۔۔جنون اسے باہوں میں بھر لے اور اپنی بیخودی کا مزہ چکھ لے۔
ان گنت رنگوں کی بارش سے رنگا یہ عاشق کمال ہے کہ شرابور ہو کر بھی سوکھے چمک دار سپید لباس میں اجلے پن کی مثال ہے۔۔محبوب کی نسائیت اور حسن فتنہ ساز کا بیان مرد تو مرد۔خواتین کے دل کے ساز پر بھی استاد ولایت حسین کا راگ شنکراسنوا دیتا ہے۔۔یہ عالم کہ گدگدا ہٹ اور اکساہٹ میں ایسی نزاکت بھر ا سراپا سمو کر رکھ دیا ہے کہ سسکی کو چٹکی میں بھر کر اس بدن پہ پھونک دو تو نیل پڑ جائے۔۔آپ نے ایسا دیکھا کبھی۔نہیں ناں۔ چلیں بسم اللہ پڑھ کر چلتی گاڑی میں سوار ہوجائیں اور یہ نظارے اقبال دیوان کی کہانی میں دیکھ لیں۔سرشار بوسے،جسمانی تعلق کی الوہیت اور محبت کے جزیروں کی یہ مثلث آپ کو صحرا میں سمندر کا تجربہ کراتی ہے کیونکہ اقبال دیوان کی تحریر کمال ہی کمال ہے۔
سن  2000 ء  کی یہ کہانی کمپیوٹر کے ان دنوں کی یاد ہے جب یاہو میسنجر بغیر فون اور بغیر کیمرے کے ہوتا تھا۔اس وجہ سے خود سے دور ہٹ کر کوئی اور روپ دھار کر  جینا بہت آسان تھا۔

بہت پیار
مسحور و مسرور
آپ کی دعا کی طلب گار
نویدہ کوثر

مصنف Eye Dee in New York
اس شوخ کے پاؤں ہیں بھاری ہم راز

آگرہ کے قلعے کا وہ جھروکہ جہاں سے شاہ جہاں تاج محل دیکھا کرتا تھا
ڈیجیٹل کارڈ
کمپیوٹر کا مدر بورڈ

قسط اول
فرض کریں آپ بھی ماہم کی طرح پانچویں مہینے کے حمل سے ہوتے تو سردیوں میں آپ کو صبح صبح کی دھوپ کیسی لگتی؟یہ بات سن کر آپ کہیں گے “بھئی ہم تو مرد ہیں ہمارا اس بات سے کیا تعلق؟”مردوں کی ایک غالب اکثریت یہ ہی کچھ کہہ کر بات کو ٹال دیا کرتی ہے۔وہ باتیں جن کا ان سے براہ راست کوئی تعلق نہ ہو، وہ اس کے بارے میں ذرا سی دیر کے لئے سوچنا بھی گوارا نہیں کرتی۔کچھ عورتیں اس بات کو سن کر کہیں گی کہ ان کی شادی نہیں ہوئی یا وہ اب عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں بچہ نہ ہونا ایک جسمانی مجبوری تو یقیناًہے، تمنا اور طلب کی بات ہرگز نہیں۔ عورتیں بہرحال اس کے بارے میں سوچیں گی ضرور۔ہم نے آپ سے کہا تھا فرض کریں:آپ بھی ماہم کی طرح پانچویں مہینے کے حمل سے ہوتے تو سردیوں میں آپ کو صبح صبح کی دھوپ کیسی لگتی؟! وسط دسمبر کے گلابی جاڑوں کی ایسی دھوپ جو آپ کی تنہائی کے احساس کو اُجلا بنا کر مزیدخوشگوار کردیتی۔
ماہم،ان دنوں حاملہ ہے۔اس کی طبیعت اکثر خراب ہوجاتی ہے۔ صبح صبح اس کی طبیعت بہت گری گری رہتی ہے۔ یہ مارننگ بلیوز Morning Blues اسے اس کی پہلوٹھی کی اولاد سلمان کے وقت میں بھی تنگ کرتے تھے۔ اب جب سے اس کے موجودہ شوہر امجد بھٹی کا بچہ اس کے پیٹ میں آیا ہے،صبح کے وقت اس کی طبیعت بہت مالش کرتی ہے۔پہلے جب وہ اٹھتی تھی تو اسے چائے کی فوراً طلب ہوتی تھی۔یہ چائے اسے اس کا پہلا شوہر مکرم جاہ بستر میں لاکر دیا کرتا تھا۔ بچے کے حوالے سے وہ اپنے اس کارنامے پر کچھ زیادہ ہی خوش تھا۔
اب کی دفعہ کے حمل میں، صبح کے وقت اسے چائے کا خیال آتے ہی اس کا جی متلانے لگتا ہے۔ پہلے وہ صبح، اخبار بہت شوق سے پڑھا کرتی تھی۔اب اُسے اخبار کے کاغذ سے بھی عجیب قسم کی بو آتی ہے۔ مردہ مچھلی کی بو جو کئی دن سے دھوپ میں سوکھ رہی ہو۔وہ صبح اٹھ کرچپ چاپ اٹھ کر اپنی کھڑکی کے پاس آن کر بیٹھ جاتی ہے۔بلڈنگ میں اس کی کھڑکی کے بالکل سامنے لیمسی پلازا ہے، جسے و ہ وہاں بیٹھی، تکتی رہتی ہے۔رافع سلیم سے وہ اس پلازہ میں واقع فارمیسی کے سامنے، پہلے پہل ملی تھی۔ بدقسمتی سے اس کے اپارٹمنٹ کی یہ کھڑکی ایسے رخ پر ہے ، کہ لیمسی پلازا والی فارمیسی وہاں سے دکھائی نہیں دیتی۔

اس کا دوسرا شوہر امجد بھٹی اور وہ جب یہاں فلیٹ لینے کی تگ و دو کر رہے تھے تو اس کی بڑی آرزو تھی کہ فلیٹ کی کوئی کھڑکی یا جھروکہ ایسا ہو جو اس فارمیسی کا منظر اسے دکھادیا کرے۔ مغل بادشاہ شاہجہاں کے آگرہ کے قلعے کے ایام اسیری  کی طرح وہ بھی اپنے اس قید خانے کی کھڑکی سے اپنی تمناؤں کا یہ شکستہ تاج محل دیکھنا چاہتی تھی۔اسے لگا وقت اس کے معاملے میں شہنشاہ اورنگ زیب سے بھی زیادہ بے رحم نکلا۔اس نظارے کو روزانہ  دیکھنے کے لئے اس نے پورے تین مہینے، اپنے میاں امجدبھٹی کو ٹالا بھی کہ شاید بلڈنگ کا مالک انہیں سامنے کے رخ کا کوئی فلیٹ کرائے پر دے دے مگر جب کرائے بڑھنے لگے تو امجد کے سمجھانے پر وہ مان گئی۔اسکے گھر کے سامنے والے لیمسی پلازا نے اس کی بیوی ماہم کی زندگی میں سچ کا کیا زہر گھولا ہے اس کا امجد کو کچھ پتہ نہیں تھا۔

ماہم کی تنہائی پسند طبیعت میں اس حمل کے بعد اور بھی شدت آگئی ہے۔ماں بننے کا عمل بہت سی نفسیاتی تبدیلوں کا بھی دور ہوتا ہے۔ یہ نئے اضافے جسم میں پیدا شدہ تبدیلیوں کی وجہ سے مزاج کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔ان تبدیلیوں کے سرکٹ، ڈیجیٹل کارڈز کی طرح ہوتے ہیں۔یہ ڈیجیٹل کارڈز ان تمام اشیا کے لازمی جز و  ہوتے ہیں جو ڈیجیٹل ڈیواسئز Digital Devices کہلاتی ہیں۔ماہم کو ایسا لگتا ہے کہ کسی نے کمپیوٹر کی طرح اس کا مدر بورڈ بھی تبدیل کردیا ہے جس کی وجہ سے اسمیں یاداشت کی RAM کئی گنا بڑھ گئی ہے۔وہ کئی دفعہ حیرت سے مسکراکر سوچتی ہے کہ یہ اچھی Up-gradation ہے کہ اس میں زندگی کے موجودہ سچ جو اب اس کے وجود کا لازمی حصہ ہیں، اسکرین پر Bad Sectors کے طور پر دکھائے جاتے ہیں۔
اس کا پہلا میاں مکرم جس کو کمپیوٹرز کے بارے میں بہت کچھ علم رہتا تھا۔اب بھی اس کی زندگی میں کہیں آس پاس ہوتا تو اسے ضرور کہتا کہ اس میں وائرس آگیا ہے۔
اسے صبح کی دھوپ بہت اچھی لگتی ہے۔ ان دنوں سردیاں ہیں تو یہ اجلی اجلی، کم کم سی حدت والی،ایک نئی صبح کا پیغام دیتی ہوئی دھوپ اور بھی بھلی لگتی ہے۔وہ سوچتی ہے کہ یہ دھوپ پاکستان میں رافع پر بھی چمکتی ہوگی۔
اس کے ذہن میں رافع دو حصوں میں منقسم ہے۔ایک ایام محبت کے دنوں والا جھوٹارافع۔
دوسرا ملاقات کی شام والاسچا رافع جس کا اصلی نام سلمان تھا ۔ایک رافع تو وہ ہے جو اسے بہت عزیز ہے۔ اس رافع نے جھوٹ کی کوکھ سے جنم لیا۔دوسرا رافع وہ ہے جو اس کے کرچی کرچی ہوکر بکھر جانے کا باعث بنا اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی پہلے مکرم اور بعد میں امجد سے شادی کے بے لطف بندھن میں بندھ کر رہ گئی۔اس جھوٹے رافع نے ایک سچے سلمان کے روپ میں اُس کی نظروں کے سامنے ایک بھیانک حقیقت کی گود میں دم توڑ دیا۔

وہ پہلے حمل کے آغاز سے ہی خود شناسی کے ایک سفر پر تنہا چل پڑی تھی۔ اس بے جا مسافت کا الزام وہ رافع کو دیتی ہے۔
رافع کی موجودگی میں اس سے متعارف ہونے والا پاکستان میں ہنستا بستا عامر ہینڈ سم تھا، مالدار تھا اور اس میں دل چسپی بھی فوراً لینے لگا تھا یہاں تک اس کا ارادہ شادی کا بھی تھا۔اس کو اپنی محبت کے ابتدائی ایام میں،اس نے اس لئے ٹھکرایا تھا کہ وہ اس کے رافع والے تعلق میں تیزی سے آڑے آ رہا تھا۔ماہم نے سوچا کہ پیار کے یہ Siamese Twins(ایک وجود اور دو جسموں والے جڑواں بچے) یعنی رافع اور عامر وہ کہاں تک سنبھالتی پھرے گی۔
مکرم کا دامن ازدواج اس نے Bounce Back والی کیفیت میں رافع سے ٹوٹ جانے کے بعد تھاما تھا۔ وہ کامیاب تھا۔ بہت ریگولر سا مرد تھا۔ رافع کی طرح نہ تو وہ شراب اور عورتوں کا رسیا تھا،نہ فوراً دکھائی دینے والی کوئی قابل ذکر برائی اس کے والدین کو مکرم میں نظر آئی۔ سب سے بڑھ کر  اس میں کوئی ایسی خرابی نہ تھی جو اس رشتے کو رد کرنے میں ماہم کی مدد گار ثابت ہوتی۔ اس پر مزید یہ کہ وہ اوراس کے والد، ماہم کے ابو کے جانے پہچانے لوگ تھے۔امجد بھٹی کو جو اس کا دوسرا شوہر ہے اس نے صرف اپنی امی کے اس خوف دلانے پر اپنا شوہر بنانا قبول کیا تھا کہ وہ مرد کے بغیر پہاڑ جیسی زندگی تنہا کیسے گزارے گی؟

دوسر ی شادی سے اس کا پہلا بچہ ہونے کو ہے۔اس کا پہلوٹھی کا بیٹا سلمان اب پانچ برس کا ہے۔وہ اس کے پہلے شوہر مکرم جاہ کی اولاد ہے۔ مکرم جاہ اسے طلاق دے کر اب حیدرآباد دکن واپس جاچکاہے۔ماہم نے،جب اس کے ساتھ جانے سے انکار کیا تو اس رشتہ ء ازدواج میں دراڑ آگئی یہاں تک کہ  نوبت طلاق کی حد تک جاپہنچی  ۔اسے جانے کیوں یہ گمان ہو چلا تھا کہ ماہم اب تک رافع سلیم کے عشق میں مبتلا ہے۔ اردو کی مشہور ادیبہ بانو قدسیہ نے لکھا تھا:
“بچے جب شرارت کرتے ہیں تو کنڈے بند کرلیتے ہیں،میاں بیوی جب چوری چوری کسی اور سے محبت کرتے ہیں۔ غسل خانے اور لیوٹری میں نہیں سوچتے۔ایک دوسرے کے پاس لیٹ کر فرارہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوئے اسی محبت سے منکر ہوجاتے ہیں “۔

مکرم جاہ کو اکثر یہ گمان ہوتا تھاکہ ان لمحاتِ وصل میں، جب ماہم کا بدن اس کے مکمل تصرف میں ہوتا وہ خود اس کی بانہوں سے پھسل کر اپنے وجود کی عقبی دیوار پھلانگ کر کہیں بہت دور فرار ہو گئی ہے۔ان لمحات میں اسے شکوہ ہوتا تھا کہ ماہم نے وصل کی ان وحشتوں میں کبھی اسے آنکھ کھول کر نہیں دیکھا۔ماہم ابتدا میں تو اس کا یہ شکوہ سن کر دل ہی دل میں مسرور ہوتی تھی۔ اسے خوب اچھی طرح پتہ تھا کہ وہ قربت کے ان مدہوشی بھرے لمحات میں اپنی یادوں کے کن رولر کوسٹرز پر چڑھی خلاؤں کی سیر میں مصروف ہوتی ہے۔
مکرم اسے طلاْق دے کر چلا گیا تو ماہم اپنی امی کے پاس چلی آئی۔ گھر میں صرف دو بہنیں تھیں۔ چھوٹی بہن پونم جب پڑھنے باہر چلی گئی تو ماں اور باپ کی مکمل توجہ اور پیار پھر سے ماہم کو مل گیا۔اس کا خیال تھا کہ مرد اب اس کی زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رخصت ہوگئے ہیں۔اب اس کی ساری زندگی میں، واحد مرد،اس کا بیٹاسلمان ہے جس پر وہ پوری توجہ دے گی اور اسے اچھی طرح سے پال پوس کر بڑا کرے گی مگر پھر سادہ لوح اور بہت ہی محبت کرنے والا،ا مجدبھٹی اس کی زندگی میں آگیا اور یوں وہ شادی کے بندھن میں اپنی امی کے سمجھانے پر پھر سے بندھ گئی۔

امجد بھٹی کے شادی سے  فیصلے کے وقت سب سے بڑا مسئلہ سلمان کا تھا جوامجد بھٹی کو دیکھتے ہی پریشان ہوگیا تھا۔اسے لگا کہ یہ شخص اب اس کی ماں کی اکلوتی توجہ کا دعویدار بن جائے گا۔ماں نے اس کا رشتہ آنے پر ماہم کو بہت سمجھایا تھا۔ وہ دوبارہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔امجد ایک تو عمر میں اس سے پورے پندرہ سال بڑا تھا۔وہ خود محض پچیس برس کی تھی۔شادی سے چند دن پہلے جب ایک رات امجد اسے کھانے پر لے جانے کے لئے آیا تو اس نے تجویز پیش کی کہ وہ چاہے تواس ڈیٹ پر سلمان کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں،مگر سلمان نہیں مانا گو کہ وہ اس وقت صرف پانچ برس کا تھا۔ہم بچوں کے بارے میں ہمیشہ اس غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں کہ وہ بہت ساری باتیں نہیں سمجھتے۔ ان کے بارے میں یہ ہماری خام خیالی ہے۔وہ محسوس سب کچھ کرتے ہیں، بہت کچھ سمجھتے بھی ہیں مگر بڑوں کی طرح وہ ہر بات کو الفاظ کا جامہ نہیں پہنا سکتے۔
سلمان، اس نے محسوس کیا،ہر وقت امجد بھٹی کے چہرے اور آنکھوں کی طرف دیکھتا رہتا ہے۔
شاید اُسے امجد کی ان آنکھوں میں ماہم کے لئے لگاؤ اور ہوس کے سمند رمیں اپنے لئے اجنبیت کے بڑے بڑے آئس برگ تیرتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ انہیں آنکھوں کو دیکھ کر اس نے اندازہ لگایا کہ اب اس کی امی کی محبت اور توجہ کا کوئی اور بھی دعوے دار آگیا ہے۔
امجد بھٹی کا رشتہ آنے پر ماہم اپنی امی کے یک طرفہ دلائل سن کر بہت جز بز ہوئی۔ اُسے اب دوبارہ گھر بسانے میں بہت تامل تھا۔ امجد کو ماہم کے لیے بطور شوہر قبول کرنا دل غمگیں کے لیے اک سنگِ گراں تھا۔ امی نے اسے سمجھایا کہ ایسے مرد جو مالی طور پر خوشحال ہوں۔محبتیلے ہوں، جن کے ساتھ کوئی Excess Baggage بھی نہ ہو اور پھر شریف ہونے کے ساتھ ساتھ  تمام تر دشواریوں اور اختلافی حقیقتوں کے باوجود شادی کے بھی خواہشمند ہوں،آج کے اس حریص اور پر ا ٓشوب دور میں ایک جنس نایاب ہیں۔
ماہم ان تمام باتوں کے باوجود کچھ دن اداس اور چپ چپ سی رہی۔ا مجد بھٹی اس دوران اس کی والدہ سے اس رشتے کی منظوری کا متقاضی رہا۔اس کی امی جو امجد سے عمر میں صرف پانچ سال بڑی ہیں انہوں نے اس کی ضد سے تنگ آکر سونے سے کچھ دیر پہلے ایک رات،ماہم کو سمجھانے کے لئے وہی کچھ کہا جو اکثر مائیں اپنی اس طرح کے حالات کی شکار بیٹیوں سے کہتی ہیں کہ زندگی موت کا کوئی بھروسہ نہیں، تمہارے ابو کو پہلے ہی ہارٹ اٹیک ہوچکا ہے۔ ان کی اور میری زندگی کا کیا بھروسہ، وہ پہاڑ سی زندگی،تنہا کیسے کاٹے گی؟
امجد بھٹی کی چالیس سال کی عمر اور اپنی والدہ کی پینتالیس کی عمر کے حوالے سے اس نے ایک عجیب بات یہ سوچی کہ فرض کریں وقت تھم گیا ہو تو اس کی اپنی شادی اپنی امی کے کل پانچ برس بعد ہورہی ہے۔وہ اس رات خاموشی سے پہلو میں لیٹے ہوئے سلمان کو بہت حسرت و یاس سے دیکھتی رہی۔
اگلے دن جب اس کے والد دفتر چلے گئے اور وہ ناشتے کی میز پر بیٹھی تھی تو امی نے اس کی رائے، رات کی گئی نصحیتوں کے حوالے سے جاننا چاہی۔ماہم نے بے چارگی کی ایک نگاہ اُن پر ڈالی۔سلمان اس وقت اپنے کنڈر گارٹن اسکول میں تھا۔وہ اس کی نگاہوں کے سامنے ہوتاتو شاید اسے یہ رشتہ قبول کرنے میں کچھ ہچکچاہٹ سی ہوتی۔اس نے بمشکل اپنی آنکھوں میں اشک چھپاتے ہوئے سر جھکا کر ہاں کہہ دی۔انہوں نے اسے مزید سوچنے کا کہا تو ماہم کہنے لگی کہ ” ضلع خوشاب سرگودھاکے ایک کامیاب سنار امجد بھٹی کے بارے میں سوچنے کو کیا رہ گیاہے؟!وہ مرد جو مالی طور پر خوشحال ہوں۔محبتیلے ہوں، جن کے ساتھ کوئی Excess Baggage بھی نہ ہو اور اس کے ساتھ ساتھ وہ شریف بھی ہوں اور تمام تر دشواریوں اور اختلافی حقیقتوں کے باوجود شادی کے بھی خواہشمند ہوں.۔وہ واقعی ایک جنس نایاب ہیں۔وہ مرد کے بغیر پہاڑ سی زندگی کیسے اکیلے کاٹے گی؟”
سلمان جب اسکول سے واپس آیا تو اس نے اسے بے تحاشا چومتے ہوئے ایک عجیب بات کہی کہ” شے! زندگی میں جب عورت کو کسی مرد کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے وہ عورت کے پاس نہیں ہوتا”۔سلمان جسے وہ پیار سے شے کہتی ہے اس کی بات سن کر حیرت سے اس کا منہ تکنے لگا۔
ماہم نے ہاں کہہ دینے کے بعد بھی اپنی امی سے صرف ایک اعتراض کیا تھا کہ” امجد بھٹی بمشکل انٹر پاس ہے۔ ” اس کی امی نے اس کی یہ بات یہ کہہ کر رد کردی کہ ” مکرم جاہ تو یونی ورسٹی آف ایڈنبرا کا پڑھا ہوا تھا۔ وہ کونسا بھلا مانس نکلا؟مرد کی محبت اور اس کی مالی آسودگی، آرام دہ ازدواجی زندگی کے لئے زیادہ ضروری ہے نہ کہ اس کی تعلیم ۔اس کھوکھلی انا پرستی سے بچو۔یہ یاد رکھو کہ وہ تم پر دل و جان سے فریفتہ ہے۔ ہماری نانی اماں کہا کرتی تھیں کہ مرد کی محبت راج کراتی ہے عورت کی محبت آنسو رلاتی ہے۔تم نے رافع کے معاملے میں دل لگانے کا تجربہ کرکے بھگت لیا۔اب تو ہوش کے ناخن لو۔اب اس مرد کو دیوتا سمجھو جو تمہیں چاہتا ہے۔ تمہاری ہر بھول معاف کرکے تمہیں اپنی رفیق حیات بنانا چاہتا ہے۔ ان سب باتوں سے بڑھ کر وہ مسلمان ہے، سنّی ہے،دیکھا بھالا ہے۔میں نے تمہاری مکرم سے شادی کے زیورات بھی اسی سے بنوائے تھے۔مجال ہے سونے میں ایک رتی کھوٹ کی ہو۔وہ خود بھی تو محض ایک معمولی سی گریجویٹ ہے۔ ”
امجد بھٹی جیولرز کے حق میں اپنی امی کے اتنے سارے بیان کردہ اوصاف سن کر ماہم کو لگا کہ وہ بہت تنہا، کمزور اور بے آسرا ہے۔کاش وہ اپنی نانی والی نصیحت اسے رافع  کے وقت میں کرتیں  تو اس کی شخصیت، اس شکست و ریخت کے دکھ بھرے بھنور میں پھنسنے سے محفوظ رہ پاتی۔اس کی امی اسے جتلانے لگیں کہ ” تعلیم اور کلاس کے حوالے سے اسے امجد میں جو کمزوری دکھائی دیتی ہے وہ اب سلمان اور بعد کی اولاد سے پوری کرلے۔نپولین کہتا تھا کہ اگر آپ مجھے اچھی مائیں دے دیں تو میں آپ کو ایک بہترین قوم واپس کروں گا۔ بس اب سارا فوکس سلمان اور بعد کی اولاد پر کرو اینڈ پلیز ٹرائی ٹو سیٹل ڈاؤن”۔

ملینیم ہوٹل
آئس رنک

 

شہشواری کا کلب

اگلی شام امجد منگنی کی ایک قیمتی انگوٹھی لے آیا اور دو ہفتے بعد ان کی شادی ہوگئی۔سلمان اس کی شادی کی شام روتا رہا مگر اس کی اماراتی دوست رولا تو اس کے ساتھ ہی رہی اورماہم کو سنبھالتی رہی۔ دوسری گوری دوست، ڈورتھی عین نکاح سے کچھ دیر پہلے، سلمان کو المدینہ الریاضیہ کے آئس رنک لے گئی۔اس بے چاری نے اس کی شادی بھی اٹینڈنہیں کی۔ وہ سلمان کو لے کر اپنے گھر اس وقت واپس لوٹی جب ماہم، امجد بھٹی کے حجلہء عروسی میں پہنچ چکی تھی۔
اس نے تین دن بعد ماہم کو بتایا کہ سلمان آئس رنک میں بھی اداس تھا اور گھر واپس جانے کی ضد کر رہا تھا۔وہ بار بار اس سے پوچھ رہا تھا کہ Dorthy Khala is that man Amjad going to take my mom away forever?

(کیا وہ شخص امجد میری امی کو ہمیشہ کے لئے دور لے جائے گا؟)۔ماہم کو اس کی بات سن کر بہت دکھ ہوا۔ اسے اپنی امی پر غصہ بھی آیا کہ انہوں نے اس کی یہ بات کیوں نظر انداز کی کہ اس شادی کا سلمان پر منفی اثر مرتب ہوگا۔ ڈورتھی نے انکشاف کیا کہ وہ سلمان کا موڈ دیکھ کر اسے نادی ابوظہبی للفروسیۃ Abu Dhabi Equestrian Club لے گئی جس کی وہ ممبر تھی۔ اس میں گوناگوں قسم کی تفریحات تھیں جس سے سلمان کا دل بہل گیا۔وہ رات اسے اپنے ساتھ ہی گھرلے گئی تھی۔وہ کار ہی میں واپسی کے وقت سوگیا تھا۔
اب وہ ہر ہفتے باقاعدگی سے اسے وہیں لے جاتی ہے۔اس کا پینتالیس سالہ بوائے فرینڈ جیمس رو لنگ پاس ہی واقع میلینیم ہوٹل،خلیفہ اسٹریٹ پر اتر جاتا ہے جہاں وہ پورا دن اپنے دوستوں کے ساتھ برج کھیلتا ہے۔سلمان اور ڈورتھی اپنے گھڑ سواری کے شوق پورے کرتے ہیں۔وہ اب ڈورتھی کو “ڈورتھی خالہ” ہی کہتا ہے۔ وہ اسے” مائی لٹل مین” کہتی ہے۔
مانچسٹر کی ڈورتھی کا کہنا ہے کہ” سلمان کوعربی گھوڑوں کا اس مختصر عرصے میں اتنا علم ہوگیا ہے جتنا علم اسے اپنے باپ مکرم جاہ کے بارے میں نہیں “۔ماہم اسے کہتی ہے کہ” عربی گھوڑے بہت سمجھدار اور رکھ رکھاؤ والے ہوتے ہیں ان میں وفا داری بھی بہت ہوتی ہے”۔ڈورتھی اسے جتلاتی ہے کہ “کچھ بھی ہو گھوڑا اپنی جسمانی ساخت کے حساب سے دونوں سروں (ends) پر خطرناک اور درمیان میں بہت تکلیف دہ جانور ہے”ماہم اسے جواباً کہتی ہے کہ” اکثر  شوہر بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔

عادل آباد- آندحرا پردیش ۔بھارت
بظاہر مردہ کبوتر
سوکھتی مچھلی
اسٹیلتھ بمبار b-52

رولا کو ماہم کی اس دلیل سے مکمل اتفاق ہے۔ شادی کے تیسرے برس ہی اس کے میاں کو دمشق کی ایک عیسائی عورت جینی ،جو اس سے عمر میں پورے نو سال بڑی ہے، اچھی لگنے لگی ہے۔اس کے دو مختلف شوہروں سے دو بچے پہلے سے ہی ہیں۔رولا کے میاں کے لئے یہ بات تسلیم کرنا ذرا مشکل ہے کہ رولا کے ہاں اولاد نہ ہونا اس کی اپنی بھی  مزوری ہوسکتی ہے۔وہ اسے جینی سے شادی کے لئے ایک عمدہ وجہ سمجھتا ہے کیوں کہ وہ پہلے ہی سے دو بچوں کی ماں ہے۔
ان دونوں کے شوہر صاحبان پر تبصرے سن کر ڈورتھی نے انگریزی میں ا للہ کا شکرادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ابھی تک پتی پرمیشور یعنی مجازی خدا کا بے جا روگ نہیں پالا۔
ماہم کی امی کو سلمان کی اس قدر جلد پیدائش پر بہت اعتراض تھا۔ یہ کیا گھونگٹ اٹھاتے ہی اولاد کا روگ پال لیا ابھی وہ بمشکل انیس برس کی ہے یہ اس کے کھیلنے اور گھومنے کے دن ہیں نہ کہ ماں بننے کے، مکرم بھی کل چھبیس برس کا ہی ہے۔مگر اس نے انہیں یہ کہہ کر چپ کردیا کہ وہ اپنے پرانے غم بھلانے کے لئے جلد ہی ماں بننا چاہتی تھی۔
مکرم جاہ سے شاد ی والی  شام وہ بہت اداس تھی۔ ایک شام پہلے تو رولا کے  ساتھ مل کر وہ رافع کو یاد کرکے بہت روئی بھی۔رولا اور ڈورتھی نے اسے بہت سمجھایا کہ اس کی رافع سے محبت ایک بھیانک سپنا تھا۔بہت سے مرد اور عورتیں اپنے اعمال کے برے جج ہوتے ہیں وہ ان سے پیدا ہونے والے نتائج کا کم ہی ادراک رکھتے ہیں۔ وہ اسے بھول جائے تو اچھا ہے۔وہ اب اپنی نئی زندگی سے جتنی جلدی ایڈجسٹ کرلے، اتنا ہی اس کے حق میں اچھا ہوگا۔

اس نے ڈورتھی کو کہہ کر اسی کے مشورے سے ایک دوائی Lamictalمنگوالی۔ یہ ذہن میں سوچ کے تیز رفتار عمل کو بہت آہستہ کردیتی ہے۔اسے ایک بیماری جسے بائی پولر ڈس آرڈر کہتے ہیں، اس کے مریض ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کرتے ہیں۔ماہم اس رات اپنے سجے ہوئے کمرے میں بہت چپ چپ تھی جس پر مکرم جاہ نے جو اس کے ابو کی طرح عادل آباد، حیدرآباد دکن کا تھا اسے وہاں کے مخصوص لہجے میں کہا کہ” ہمارے عادل آباد میں تو پوٹیاں (لڑکیاں) اس رات بہت اج باتاں کرے ہیں۔ آپ تو بہت چپ ہو”۔
اس نے اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا،وہ سوچتی رہی کہ عادل آباد میں پوٹیوں (لڑکیاں) کے اس رات بہت اج باتاں کرنے کا مکرم کو کیسے علم ہوا؟جب وہ کپڑے تبدیل کررہا تھا تو اس نے خاموشی سے Lamictal کی گولی پانی کا گھونٹ بھر کر حلق میں انڈیل لی یوں اس کا ذہن خاموشی سے ایک بلیک آؤٹ کی کیفیت میں چلا گیا۔ شاید انہیں لمحات میں سلمان اس کے وجود کا حصہ بن گیا۔ماہم کو لگا کہ وہ اس رات ایک ایساکبوتر بن گئی تھی جس نے مکرم کے روپ میں آسمان پر ایک تند و تیز بھوکے باز کو منڈلاتے دیکھا اور وہ جھوٹ موٹ مردہ بن کر زمین ہی پر گرد ن ڈال کر لیٹ گیا ہو۔باز نے اسے زمین پر دیکھا، اترا، چونچ اور ٹھونگیں ماری اور اسے ادھ موئی کرکے چھوڑ گیا آخر تک مکر م کے ساتھ گزاری ہوئی کئی راتیں اسے ایک ایسافضائی حملہ لگیں جس میں بی باون اسٹیلتھ بمبار کا مشن، زمینی تسلط سے زیادہ بمباری کرکے تنصیبات اور انفرااسٹرکچر کو تباہ کرنامقصود ہوتا ہے۔
امجد بھٹی سے شادی ہوجانے کے بعد اس کا بیٹا سلمان اب نانی کے ساتھ رہتا  ہے۔ اس کے والد کا گھر اس کے خالدیہ اسٹریٹ والے فلیٹ کے بالکل پیچھے خلیج العربی اسٹریٹ پر روتانا مال کے ساتھ ایک بلڈنگ میں ہے۔وہ جب حاملہ نہیں تھی تو امجد بھٹی کے سوق میں اپنی دکان پر جاتے ہی واک کرتی ہوئی امی کے پاس چلی جاتی تھی۔

برانڈیڈ گائے

رات کو جب وہ بن سنور رہی ہوتی اور اسے امجد لینے آتا تو سلمان اسے دیکھ کر چھپ جایا کرتا تھا۔ وہ یہ سب کچھ اپنی امی کے کہنے پر کرتی تھی۔ تنگ آکر وہ جب اپنے بننے سنورنے کے اس اہتمام پر معترض ہوتی، تو وہ اسے سمجھاتی تھیں کہ اگر عورت اپنے ابتدائی دنوں میں مرد کے لئے سجاوٹ کا اہتمام نہ کرے تو وہ شک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ وہ اسے اس بات کا خوف دلاتی تھیں کہ جس طرح مکرم جاہ کو یہ شبہ تھا کہ وہ پوری طرح اس کی نہیں بن پائی۔ ممکن ہے امجد بھی اس کی خود سے اس غفلت شعاری کو دیکھ کر شک کے ایسے ہی اژدھے دل میں پال لے جو ایک دن خاموشی سے اس شادی کو پوری کی  پوری نگل لیں۔جب تک ایک آدھ بچہ نہ ہوجائے عورت کی پوزیشن، شادی کے بندھن میں بہت نازک ہوتی ہے۔
وہ ان سے مسکراکرسوال کرتی تھی کہ ” یہ سب مرد اتنے Possessive کیوں ہوتے ہیں؟” وہ کہتی تھیں کہ ” یہ ان کی مردانہ فطرت کا حصہ ہے۔ ” اسے لگتا تھا کہ اس کا سلمان بھی بہت Possessive ہے۔ وہ اسے سمجھانے کے لئے کہہ دیتی تھی کہ وہ یہ سب کچھ اس کے لئے ایک ننھا سا بھائی یا بہن لانے کے لئے کررہی ہے۔اس بات کو سن کر وہ سوالات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کردیتا۔جن میں سے کچھ کے جواب اس کے پاس تھے اور کچھ کے جواب دینے سے وہ ہمیشہ کی طرح قاصر تھی۔سلمان کا ایک سوال یہ ضرور ہوتا تھا کہ ” اس کے ابو کہاں ہیں؟”۔نانی نے اسے کہا ہوا تھا کہ ” وہ اللہ میاں کو پیارے ہوگئے ہیں۔”
ماہم کے دل میں ایک خوف البتہ ہمیشہ پھنکارتا رہتا کہ اگر کبھی مکرم جاہ کے دل میں سلمان کا پیار جاگ گیا اور وہ اس سے ملنے پہنچ گیا تو وہ نانی کی سلمان کو بتائی ہوئی بات کا کیا جواب دے گی۔
بناوٹ اور سنگھار کے اس اہتمام میں ماہم کے ساتھ ایک زیادتی ہوئی۔امجد بھٹی کی ضد ہوتی تھی کہ وہ اس کے تحفے میں دیئے ہوئے شادی کے اکثر زیورات پہنے۔
ماہم کو لگتا تھا کہ یہ زیورات وہ نشانات ہیں جو ساری دنیا میں مویشیوں کے مالکان اپنے مویشیوں کی کھال پر داغ دیتے ہیں۔ انہیں وہاں برانڈنگ (Branding) کہا جاتا ہے۔ایک رات ایسا ہوا کہ ماہم کانوں کی ایک بالی Ear Ring کھل کر بستر میں گر گئی اورامجد کی بے تابانہ وحشت اورزور آزمائی کی وجہ سے اس کی کمر میں بری طرح چبھ گئی جس سے وہ تڑپ کر رہ گئی۔جب کچھ دیر بعد اسکے اوسان بحال ہوئے تو اس نے امجد کے اس تکلیف دہ طریقہ ء واردات کے حوالے سے ایک ہلکا سا طنز کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہوگا کہ ” اپنا حق جتانے کے لیے وہ اس کی آئی لائنر پنسل سے اس کے سارے بدن پراے۔بی۔جیولرز خوشاب والے(امجد بھٹی جیولرز)لکھ دے۔” خوشاب کا وہ ملک التجار یہ بات سن کر زور سے ہنس دیا اور کہنے لگا کہ ” میرا تو دل چاہتا ہے کہ اس کے حسن جواں سال، کس کر آگے پیچھے سے نکلے ہوئے بدن اور اس کی لگاوٹ بھری تازگی دیکھ کر اس پر وہی عبارت لکھوادے جو اس نے ایک نئی ائیرکنڈیشنڈ بس پر ٹاور کراچی کے پاس لکھی دیکھی تھی کہ” قسمت وتی وتی۔”(بلوچی زبان میں قسمت اپنی اپنی)۔

امجد کی اس رفاقت میں ماہم اب خا موشی سے Lamictalکی گولی پانی کا گھونٹ بھر کر حلق میں نہیں اتارتی مگر وہ اپنے فلیٹ واپسی کے بعد امجد کا موڈ اور آنکھوں میں تلاطم خیز جنسی وحشتیں دیکھ کر NYTOL کی پچاس ایم جی کی  ایک ٹیبلٹ چپ چاپ اس وقت پھانک لیتی ہے,جب وہ بستر میں اس کے پاس آنے سے پہلے غسل خانے میں برش وغیرہ کررہا ہوتا ہے۔امجد اس حوالے سے بہت تفصیل طلب مرد نہیں۔وہ دونوں جلد ہی گہری نیند سو رہے ہوتے ہیں۔امجد اپنے اعمال کی تھکاوٹ اور دن بھر کی مصروفیت کی وجہ سے اور ماہم اس گولی کی اور بدن کی بے لطف پامالی کی وجہ سے۔
ماہم نے جس رات امجد پر پہلی دفعہ ایک گہرا طنز کیا تھا اور وہ اسے سمجھ نہ پایا اور وہ نیند کی وادیوں میں رافع کے ساتھ بھٹکنے لگی مگر امجد نے واقعی اس کے سینے کے اوپر اس کی آ ئی لائنر پنسل سے انگریزی میں بڑا بڑا ABJلکھ دیا جس کا جے کچھ شکستہ تھا اور اس نے خوشاب والے کا اضافہ غیر ضروری سمجھا۔ماہم نے یہ تحریر غسل خانے کے قد آدم آئینے میں اس وقت دیکھی جب وہ شاور کھول کر نہانے کے لئے نیچے کھڑی ہونے جارہی تھی۔اس نے ایک دم شاور بند کیا اور غور سے اس تحریر کو دیکھا۔ اس کا حرف Jجے کچھ ایسا بنا تھا جیسے کسیDyslexia(وہ بیماری جس میں بچوں کو پڑھنے لکھنے اور الفاظ شناخت کرنے میں مشکل پیش آتی ہے) نے انگریزی کا الٹا C بمشکل اپنی ٹیچر کے ضد کرنے پر لکھا ہو۔

وہ تولیہ لپیٹے بغیر واپس بیڈ روم میں گئی اور وہی آ ئی لائنر پنسل اٹھا لائی اس نے امجد کی تحریر کو باڈی واش سے اچھی طرح رگڑ کر دھویا اور تولیئے سے جلد خشک کرکے اپنے پیٹ پر سینے کے بالکل نیچے ایک لمبی لکیر کھینچی پھر اس کے دونوں کونوں پر چھوٹی سی دو لکیریں لگائیں۔ان میں سے ایک کے نیچے رافع اور دوسرے کے نیچے ماہم انگریزی میں لکھا اور پھر دونوں جانب دو لمبی لکیریں ناف تک کھینچ کر الٹا مثلث بناکر ان کے نیچے سلمان لکھ دیا۔یہ ایسا شجرہ نسب تھا جو وہ کسی کو بھی بتانانہیں چاہتی۔وہ کچھ دیر تک تو اپنی اس حرکت پر مسکراتی رہی پھر جانے کیا ہوا اس کی آنکھوں سے ٹپاٹپ آنسو بہنے لگے۔اس نے شاور کھولا تو وہ یہ فیصلہ نہ کرپائی کہ وہ پانی سے نہائی ہے کہ اپنے آنسوؤں سے۔جب وہ تولیئے سے اپنا بدن پونچھ رہی تھی تو نہ امجد کا لکھا ہوا ABJ اس کے بدن پر کہیں دکھائی دے رہا تھا نہ اس کا اپنا ترتیب دیا ہوا شجرہ نسب۔
اپنی آ ئی۔ لائنر پنسل وہ غسل خانے میں ہی بھول گئی اور تیار ہوکر اپنی امی کی طرف چلی گئی۔شام کو جب وہ اور امجد گھر واپس آئے تو اس نے ماہم کو غسل خانے سے لاکر پنسل لوٹاتے ہوئے غور سے دیکھا۔ماہم کو لگا کہ اس کی کوئی چوری نادانستگی میں پکڑی گئی ہے مگر امجد میں صبر بہت تھا۔ اس نے اس حوالے سے مزیدکوئی بات نہ کی۔ماہم اب اسے پیار سے اے۔ بی۔ جے (ABJ)ہی کہتی ہے۔ یہ تین حروف امجد بھٹی جیولرز کا مخفف ہیں۔ امجد کو اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں۔ ایک معمولی سے اضافے سے وہ اکثر یہ بھی سوچتی ہے کہ اس کی امّی ٹھیک ہی کہتی تھیں کہ۔۔ایسے مرد جو مالی طور پر خوشحال ہوں۔محبتیلے ہوں، جن کے ساتھ کوئی Excess Baggage بھی نہ ہو اور پھر شریف ہونے کے ساتھ ساتھ کے تمام تر دشواریوں اور اختلافی حقیقتوں کے باوجود شادی کو عمدگی سے نبھانا بھی جانتے ہوں یقینا ایک جنس نایاب ہیں۔

(جاری ہے)

 

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *