شاہد آفریدی کی گیم چینجر۔۔۔۔ اسرار احمد

پچھلے کچھ دنوں سے شاہد آفریدی کی کتاب گیم چینجر پر خوب بحث ہو رہی ہے،اس کتاب میں جہاں انہوں نے عمران خان سمیت دوسرے کھلاڑیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا دوسری جانب تاریخ پیدائش کی وجہ سے اپنے ریکارڈ کو مشکوک ٹھہرا بیٹھے لیکن بعد میں اسے پرنٹنگ کی غلطی قرار دیا ۔گوتم گھمبیر پر ان کی تنقید کی وجہ سے بھارتی میڈیا غصے میں ہے اور عمران خان پر تنقید کی وجہ سے پاکستانی میڈیا خوش،پاکستانی میڈیا کا عمران خان سے پیار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں،

اگر کتاب کی بات کریں تو انہوں نے بہت سے سابقہ اور موجودہ کھلاڑیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے،ان میں وقار یونس،جاوید میانداد،عمران خان ،شعیب ملک اور بھارتی کھلاڑی گوتم گھمبیر شامل ہیں۔چند سال پہلے جاوید میانداد کے ساتھ ان کا تنازع شروع ہوا تھا اور دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف خوب بیان بازی کی تھی لیکن بعد میں صلح ہونے کے بعد یہ معاملہ دب گیا تھا لیکن اب کتاب میں انہوں نے دوبارہ جاوید میانداد کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے،وقار یونس اور گوتم گھمبیر کے ساتھ ان کے تنازعات سے سب واقف ہیں۔ لیکن شعیب ملک اور ان میں بظاہر کافی دوستی نظر آتی ہے اور اکٹھے کئی اشتہارات میں بھی کام کر چکے ہیں،ان کے ساتھ کشیدگی سمجھ سے بالاتر ہے۔اوراگر بات کریں عمران خان کی تو سب جانتے ہیں کہ چند برسوں سے شاہد آفریدی عمران خان پر کئی حوالوں سے تنقید کرتے آرہے ہیں ،یہ بات عمران خان کے مداحوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے لیے بھی تکلیف دہ ہے جو شاہد آفریدی اور عمران خان کے دونوں کے مداح ہیں،شاہد آفریدی شروع سے ہی عمران خان کے مداح رہے ہیں انکا عمران خان پر تنقید کرنا بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن بھی ہے اور اس حوالے سے بہت سی وجوہات بھی بیان کی جا رہی ہیں اور اسے انکا عمران خان سے حسد بھی قرار دیا جاتاہے۔

اگر ہم ماضی قریب میں نظر دوڑائیں تو 19 مار چ 2016 ورلڈ ٹی ٹونٹی کا کولکتہ میں پاکستان اور بھارت کے مابین ہونے والا مقابلہ سب کو یاد ہوگاجس میں عمران خان مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے اور میچ سے پہلے شاہد آفریدی کی درخواست پر پاکستانی ٹیم سے ملاقات کی اور ان کا حوصلہ بڑھایا۔اس میچ میں بھارت نے پاکستان کو 6 وکٹوں سے شکست دی۔وطن واپسی پر جب عمران خان سے پاکستان کی ہار کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پوری ٹیم پریشر میں تھی اور ٹیم پر پریشر اس وقت پڑتا ہے جب کپتان پریشر میں ہو،کپتان خود ڈرا ہوا تھا۔

شاید اپنے بارے میں عمران خان کے ریمارکس سن کر آفریدی کو اچھا نہ لگا ہو اور عمران خان سے تعلقات میں خرابی کی بہت سی دوسری وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہو۔

لیکن وجہ چاہے جو بھی ہو اور شاہد آفریدی پر تنقید بجا لیکن اس معاملے میں ان کی فیملی کو شامل کرنا بلا جواز ہے،اور یہ کہنا کہ اس معاملےمیں تحریک انصاف یا عمران خان کا ہاتھ  ہے سراسر غلط ہے کیونکہ عمران خان ہمیشہ سے ایسی چیزوں کے سخت مخالف ہیں اور ہمیشہ اپنے سپورٹر ز کو تنقید کا جواب دلیل سے دینے کی تلقین کرتے ہیں۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *