پرائمری تعلیم کو فروغ دیں۔۔۔محمد حسین آزاد

کسی بھی ملک و قوم کی ترقی کا دارومدار تعلیم پر ہوتا ہے۔ جن قوموں نے تعلیم حاصل کی وہ ترقی کے عروج تک پہنچ چکے ہیں۔ اور پاکستان جیسے تقلید کرنے والے ممالک جن کی تعلیمی نظام کو ایسے دلدل میں پھنسا دیا ہیں جس سے سو سال میں بھی نکلنے کی کوئی امید نظر نہیں آرہی۔ جب انگريز ہندوستان سے جا رہے تھے تو انہوں نے ہندوستان کو ہمیشہ ہمیشہ پسماندہ رکھنے کے لئے ایک دستور دیا جس میں تعلیمی نظام وغیرہ بھی تھا اور ان کا وضع کردہ نظام بھی جو آج بھی چل رہا ہے۔

قارئین، ہمارے وطن عزیز پاکستان میں تعلیمی شرح خواندگی بہت کم ہے۔ اوسطاً شرح خواندگی اٹھاون فیصد بتائی جاتی ہے لیکن ہمارے ملک کے زیادہ تر علاقوں میں یہ شرح تیس پینتیس فیصد ہوتا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ جن علاقوں میں لوگ تعلیم کو اہمیت دیتے ہیں وہاں پر لوگ اپنے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں حصول تعلیم کے لئے بھیجتے ہیں اور جن علاقوں کے لوگ تعلیم کی اہميت سے ناواقف ہیں وہاں پر نجی سکولوں کا نظام نہیں ہے اوراکثر سرکاری سکولوں کی حالت بھی ناگفتہ بہ  ہے ۔

دراصل پرائمری سکولز تو تقریباً ملک کے کونے کونے میں ہیں جن میں بچے بھی کافی تعداد میں پڑھتے ہیں لیکن ان سکولوں کا معیار زیرو ہے۔ اکثر سکولوں میں اساتذہ کی کمی ہوتی ہے  اور بعض سکولوں میں تو صرف ایک ہی استاد ہوتا ہے جو بہ یک وقت استاد، ہیڈ ٹیچر، چوکیدار اور سویپر بھی ہوتا ہے۔ حکومت کی  پالیسی کے مطابق پرائمری سکول میں چالیس طالب علموں کے سر ایک استاد ہوتا ہے جو کہ پرائمری تعلیم کے ساتھ ایک مذاق سے کم نہیں۔ جن سکولوں میں تعداد سو سے کم ہوتی ہے ان میں چھ کلاسز کے لئے ایک یا دو اساتذہ ہوتے ہیں۔ اور جن سکولوں میں تعداد زیادہ ہو اسی کے مطابق وہاں پر اساتذہ کی تعداد بھی ہوتی ہے۔ محکمہ تعلیم نے پرائمری سکولوں کے اساتذہ کے ذمے بہت کام لگائے  ہیں۔سکول کا ریکارڈ برابر کرنا، سکولوں میں تعمیری کام کرنا۔ داخلہ مہم چلانا۔ بچوں کی حاضری یقینی بنانا( سزا نہیں دینا)،روزانہ کی بنیاد پر بچوں کو ہوم ورک دینا، اورچیک کرنا، غیر حاضر بچوں کے والدین سے رابطہ کرنا، بچوں کو اچھی طرح پڑھانا اور اپنا  رزلٹ بہتر بنانا وغیرہ وغیرہ۔لیکن یہ سب ہدایات صرف باتوں تک محدود ہیں۔ کیونکہ دو تین اساتذہ کے لئے یہ کوئی معمولی کام نہیں ۔ محکمے کو بھی یہ پتہ ہے کہ یہ کام ممکن نہیں جو وہ اساتذہ سے لینا چاہتی ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ سب فارمیلٹیز ہیں۔

قارئین، ترقی یافتہ ممالک میں پرائمری تعلیم کو بہت اہمت دی جاتی ہے کیونکہ وہاں کے لوگ جانتے ہیں جس بلڈنگ کی بنیاد مضبوط ہوگی وہ بلڈنگ بھی مضبوط ہوگی۔ اور جس بلڈنگ کی بنیاد کمزور ہوگی وہ بلڈنگ بہت جلد گر جائے گی۔ وہاں پر پرائمری سکولوں کے بچوں کو پڑھانے کے لئے سپیشل اساتذہ بھرتی کئے جاتے ہیں اور ان کو بہت اہميت دی جاتی ہے۔ اس وجہ سے ان ممالک میں سو فیصد تعلیم ہے  اور وہاں کے لوگ سوشل اور مہذب بھی ہیں۔ اور ایک تو ہمارا پاکستان ہے کہ جہاں پر محکمہ تعلیم میں بھی سب کے سب آفیسرز کی تقرریاں سیاسی بنیادوں پر ہوتی ہے جو کہ اپنے آقاؤں کو خوش کرنے اور اپنی جیبیں بھرنے کے علاوه کچھ بھی نہیں کرنا جانتے۔یہاں پر محکمہ تعلیم کے ملازمین تو کیا عام لوگ بھی ان موسمی آفیسرز سے ڈرتے ہیں تاکہ کل سیاسی بنیاد پر ان کے لئے کوئی مسئلہ کھڑا نہ کردیں۔ دوسری طرف سکولوں کے اساتذہ کو ایسی  ٹریننگ نہیں دی گئی  ہے جو بچوں کو اچھی طرح پڑھا سکیں۔ مجھ جیسے لوگ جو بچوں کو الف، ب تک پڑھانے کا گر نہیں جانتے ، بھی پرائمری سکولوں میں بھرتی کئے گئے ہیں۔ اور پرائمری سکولوں کے پچاس فیصد سے زیادہ اساتذہ اس کوشش میں ہیں کہ کب ان کی کہیں  اور نوکری ہوجائے  گی اور وہ یہ جاب چھوڑیں  گے۔پرائمری سکولوں کے اساتذہ کی تنخواہ بھی بہت کم ہوتی ہے۔ تقریباً سب محکموں میں اساتذہ کی تنخواہ کم ہوتی ہے لیکن ان میں ایسے اساتذہ بھی ہیں  جو کام پچاس روپے کا نہیں کرتے اور تنخواہ پچاس ہزار سے زیادہ لیتے ہیں۔

پرائمری سکول کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو پڑھانا آسان کام نہیں، اس کے لئے اعلی تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی ٹریننگ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہیے  کہ پرائمری تعلیم کو فروغ دیں۔پرائمری سکولوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔تربیت یافتہ اساتذہ کو بھرتی کیا جائے ۔ اساتذہ کی تنخواہیں اور سکیلز بڑھا دیے  جائیں اور ان سے تنخواہ کے مطابق کام لیا جائے ۔ پرائمری سکولوں پر ہائی سکولز اور کالجز سے زیادہ توجہ دی  جائے ۔کیونکہ جب بنیاد مضبوط ہوگی تو پوری بلڈنگ مضبوط ہوگی۔ جب ہماری پرائمری تعلیم مضبوط ہوگی تو شرح خواندگی بھی بڑھ جائے گی اور ملک میں ایکسپرٹس بھی پیدا ہوجائیں گے۔ کیونکہ ملک کی ترقی وخوشحالی کا دارومدار ملک کے ایکسپرٹس اور ایماندار حکمرانوں پر ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *