مونا لیزا کی پراسرار مسکراہٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسنین چوہدری

مونا لیزا ، ایک مشہور و معروف پینٹنگ جو تقریباً  ایک صدی سے دنیا کی سب سے عظیم پینٹنگ سمجھی جاتی ہے اور اس کا مصور لیونارڈو ڈوانچی تاریخ کا سب سے عظیم مصور سمجھا جاتا ہے۔یہ پینٹنگ تقریباً ساڑھے چار سو سال پرانی ہے مگر شہرت صرف ایک صدی قبل ملی۔۔حیرت ہوئی کہ ایسا کیوں؟

اٹلی کے ایک نواب نے اپنی نہایت حسین و جمیل بیوی لیزا کی ایک پینٹنگ بنانے کیلئے ڈوانچی کو بلایا۔اس زمانے میں مصوری عام تھی اور فرانس اور اٹلی وغیرہ تو اس کا گڑھ سمجھے جاتے تھے۔ڈوانچی نے جب اس کی خوبصورت بیوی کو دیکھا تو تصویر بنانے کی حامی بھر لی۔روایات میں آتا ہے کہ ڈوانچی اس کی محبت میں گرفتار ہوگیا تھا۔خیر ڈوانچی نے 1503/4 کے آس پاس بنانا شروع کی۔اچھی سے اچھی پینٹنگ چھ ماہ سے ایک سال میں بن جاتی تھی۔مگر ڈوانچی نے اس پر سولہ سال لگائے۔1519 کے آس پاس اس کی مونا لیزا مکمل ہوئی۔مونا لیزا میں اس نے مصوری کی وہ ٹیکنیکس استعمال کی کہ مصوری سمجھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔مگر اس وقت کسی نے اس پہ اتنا غور نہیں کیا۔یہاں پہ کئی روایات آتی ہیں۔۔کہتے ہیں کہ ڈوانچی نے دو مونا لیزائیں بنائی تھیں۔ایک تو نواب کو دینے کیلئے۔۔اور ایک وہ خود اپنے پاس بطور ثبوت رکھنا چاہتا تھا۔اور بعض کہتے ہیں کہ پینٹنگ اس قدر عمدہ بن گئی کہ اس نے کبھی نواب کو نہیں دی۔بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ لیزا نے بلڈنگ سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی تھی۔۔تو ڈوانچی نے پھر یہ پینٹنگ اپنے پاس رکھ لی۔دو تین سو سال تک یہ بالکل عام پینٹنگ کے طور پہ میوزیم میں پڑی رہی۔

اس پینٹنگ میں ڈوانچی نے ایک قدیم ٹیکنیک sfumato بھی استعمال کی۔اطالوی میں فوماٹو دھویں کو کہتے ہیں۔یہ ایک بہت لمبا اور تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔اس میں ایک نہایت ہی باریک لیئر بنائی جاتی ہے۔اور پھر مصور بیٹھ کر سوکھنے کا انتظار کرتا ہے۔جب خشک ہوجائے تو پھر اوپر ایک اور لیئر چڑھاتا ہے۔غرض یہ پراسیس سو سے زائد بار دہراتا ہے۔اس میں صرف ایک مربع انچ کے ایریا پہ کئی دن لگ سکتے ہیں۔اس سے ایک دھویں نما blurry effect پیدا ہوجاتا ہے۔گزشتہ صدی میں اس پہ بہت تحقیق ہوئی مگر اس ایفیکٹ کو کاپی نہیں کیا جاسکا

دوسری شے مونا لیزا کی پراسرار مسکراہٹ ہے۔ڈوانچی اپنے ناظرین کو اس طرح سے دھوکا دیتا ہے کہ جب کوئی شخص مونا لیزا کی آنکھوں میں دیکھتا ہے تو اس کے ہونٹ پر فوکس ختم ہوجاتا ہے۔اس کی آنکھیں صاف صاف مسکرا رہی ہیں۔جب ناظر آنکھوں سے نیچے ہونٹوں پہ فوکس کرتا ہے تو مسکراہٹ زائل ہوجاتی ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ مونا لیزا نے زبردستی اپنی مسکراہٹ چھپائی ہو۔بعض محققین کا اس پہ بھی اختلاف ہے کہ مونا لیزا مرد ہے یا عورت؟اگر آپ غور سے اس کو دیکھیں گے تو فیصلہ کرنا مشکل ہوجائے گا۔بعض محققین نے جب ڈوانچی کی تصویر کو مونا لیزا کی تصویر سے میچ کیا تو دونوں 99 پرسنٹ میچ کرتی ہیں۔۔بس ڈوانچی کی داڑھی اور بال تھے جبکہ مونا لیزا کا چہرہ صاف ستھرا ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ مونا لیزا کی بھنویں نہیں ہیں۔ڈوانچی نے اس کی بھنویں بنانے کی بجائے ایسا شیڈو بنایا ہے کہ بھنووں کا احساس ہی ختم ہوجاتا ہے۔محققین کا خیال ہے کہ بھنویں کسی زمانے میں ہوتی ہونگی مگر اب وہ ختم ہوگئی ہیں۔بس ان کا نشان رہ گیا ہے۔مونا لیزا کی ناک بھی عجیب قسم کی ہے۔عموما خواتین کی ناک ایسی نہیں ہوتی۔

مونا لیزا کا بیک گراونڈ ایک الگ بحث کا حامل ہے جس کا ذکر مناسب نہیں۔تین سو سال تک یہ وقت کی گرد میں دبی رہی۔1815 میں اس کو لوور louvre میوزیم میں لایا گیا تو یہ بالکل کونے میں لٹکی رہی۔حتی کہ اس پر فریم بھی نہیں کیا ہوا تھا۔1911 میں کسی نے کھونٹی سے اتاری اور مروڑ کر جیب میں ڈال لی اور بھاگ گیا۔کافی عرصہ تک اس کی گمشدگی کا پتا تک نہ چل سکا۔آپ جانتے ہیں مونا لیزا کی چوری کے الزام میں کون گرفتار ہوا تھا؟جی ہاں ، کیوبزم ، اور سریلزم کا سب سے بڑا نام ، la vie , guernica , girl before a mirror اور میری پسندیدہ ترین nightfishing جیسی عظیم پینٹنگز کا خالق پابیلو پکاسو – پابیلو پکاسو کو مونا لیزا کی چوری کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔مگر بعد میں اصل مجرموں کے پکڑے جانے پہ اس عظیم مصور کو چھوڑ دیا گیا۔جب ان تین چوروں سے پینٹنگ بازیاب کروائی گئی تو فرانس ، اٹلی ، سپین ، امریکا ، برطانیہ کے ہر اخبار کے فرنٹ پہ چھپی۔اور ہزاروں لوگ اس پینٹنگ کو دیکھنے آئے۔پھر محققین نے اس پہ تحقیق شروع کی جو آج تک جاری ہے۔سو سالوں میں اسے کئی دفعہ چرانے کی کوشش کی گئی اس کو تباہ کرنی کی بھی کوششیں بھی ہوئی مگر اب اس پینٹنگ کو میوزیم میں علیحدہ کمرہ ملا ہوا ہے۔جہاں بلٹ پروف ، بم پروف ، فائر پروف ، واٹر پروف ہر طرح کے شیشوں میں یہ بند ہے۔اس جس بکس میں یہ رکھی گئی ہے وہاں ٹمپریچر برقرار رکھنے کیلیے کافی خرچہ کیا جاتا ہے اور 43/44 فارن ہائیٹ کے قریب درجہ حرارت رکھا جاتا ہے۔۔اور لائٹنگ اس طریقے سے کی گئی ہے کہ اس کے اصل رنگ نظر آئیں۔یہ سچ مچ ایک شاہکار ہے۔۔ایک دو گھنٹے نکال کر کبھی اس کا مشاہدہ کیجیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *