رُہانسوں کا راگ باں باں ۔۔۔۔ حافظ صفوان محمد 

کوئی آپ کو اَن فرینڈ یا بلاک کرتا ہے تو یہ اس کا جمہوری حق ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ کسی کا اپنے گھر یا اپنے ڈرائنگ روم یا اپنے بیڈ روم میں داخلہ بند کر دیں۔ سماجی طور پر جہاں آپ کو یہ اختیار ہےکہ آپ کسی دوست/ سہیلی یا عزیز ناتے دار کو اپنے گھر آنے اور اپنے گھر کے معاملات میں درجہ بدرجہ دخیل ہونے کی اجازت دیتے ہیں اسی طرح آپ کو انھیں روکنے اور محدود کرنے کا بھی اختیار ہے۔ ایک دوست کو آپ اپنی بیوی سے پردہ نہیں کراتے اور دوسرے کو آپ نے گھر آنے سے بھی روک رکھا ہے تو یہ آپ کا ذاتی اختیار ہے جسے آپ استعمال کرتے ہیں، اور آپ خاتون ہیں تو اگر آپ نے اپنی کسی سہیلی کو اپنے بیڈ روم تک رسائی دے رکھی ہے تو یہ آپ کا ذاتی اختیار ہے۔ آپ کسی بھی وقت ان دوستوں سہیلیوں کی فرینکنیس کو کم اور کچھ اور دوستوں سہیلیوں کو زیادہ فرینک کر سکتے ہیں۔ آپ کے ذاتی اختیار کو آپ کے/ کی رفیقِ حیات (اور غیر شادی زدہ ہیں تو ماں باپ) کے علاوہ کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔

اپنے فیسبک پروفائل اور پیج پر آپ کا اختیار ہے۔ آپ جس فیسبک دوست کو چاہیں اور جس حد تک چاہیں فرینک کریں، اور جب چاہیں اس کی فرینکنیس کی سطح کو بڑھا گھٹا لیں۔ اَن فرینڈنگ یا بلاکنگ خود تک رسائی کو محدود یا مسدود کرنے کی مختلف سطحیں ہیں، اور جیسا کہ عرض کیا، یہ آپ کا جمہوری حق ہیں۔ جسے اَن فرینڈ یا بلاک کیا گیا ہے وہ اگر سنجیدہ خاتون یا بندہ ہے تو بجائے شور مچانے اور دُہائیاں دینے کے اسے چاہیے کہ وہ وجہ دور کرے جس کی بنا پر اس کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا گیا۔ آپ کی ریکوئسٹ اگر قبول نہیں کی جا رہی تو آپ کو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ اس کے پیچھے بھی کچھ ایسے ہی عوامل ہوں گے۔

فرینڈ ریکوئسٹ قبول کرنا اور ڈیلیٹ کرنا بھی آپ کا ذاتی حق اور اختیار ہے جس پر کسی کو چوں کرنے کا بھی حق نہیں ہے۔ جسے آپ مناسب سمجھتے ہیں اسے ریکوئسٹ بھیج دیجیے۔ وہ اگر آپ کی ریکوئسٹ قبول کرلے تو ٹھیک، ورنہ اپنے اندر اس کمی یا نااہلیت کو تلاش کیجیے اور دور کرنے کی کوشش کیجیے جس کی وجہ سے آپ کی رسائی ناواجب قرار پائی۔ اس میں جزبز ہونے والی کیا بات ہے؟ بعینہٖ کوئی آپ کو ریکوئسٹ بھیجتا ہے لیکن آپ خود کو اس کے ساتھ فیسبک تعلق میں ناراحتی محسوس کرتے ہیں تو آپ اسے رسائی مت دیجیے۔ اس میں کووں کی طرح شور مچا مچا کر محلے کو سر پر اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ نے بلاک نہیں ہونا تو بلاک ہونے والی حرکتوں سے گریز کیجیے۔ یہ چیز آپ کے اختیار میں ہے۔

یاد رکھیے لوگ آپ کو تب تک برداشت کر سکتے ہیں جب یا تو آپ انھیں نقصان پہنچا سکتے ہوں یا پھر کوئی فائدہ دے سکتے ہوں۔ فیسبک کے ذریعے مشہور ہونے والے لوگ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد نئے افق تلاش کرتے ہیں چنانچہ اپنی موجود سطح سے بلند ہونا ان کا مطمحِ نظر ہوتا ہے۔ اس موجودہ سطح سے اوپر اٹھنے کے لیے فالتو بوجھ گرانا پڑتا ہے، یعنی ایسے دوستوں کو خدا حافظ کہنا پڑتا ہے جو اپنی مطلوبہ نئی سطح پر کارآمد نہ ہوں۔ آج نہیں تو کل ہر کوئی ایسا کرتا ہے۔ یہ اس کا حق ہے، جسے استعمال کرنے پر آپ کو تنگ دل یا نالاں نہیں ہونا چاہیے۔ سمجھ لیجیے کہ اب آپ کے اندر وہ اہلیت باقی نہیں رہی جس کی اس دوست کو ضرورت تھی۔ اب آپ بھی نئے دوست تلاش کیجیے، یعنی ایسے لوگ جو آپ کو آپ کے موجودہ skill-set کے ساتھ قبول کر سکیں۔ یا پھر اپنا skill-set بڑھائیے۔ یہ چیز آپ کے اختیار میں ہے۔

نیز یہ حقیقت تسلیم کیجیے کہ جو جو بندہ کسی بھی شعبے میں آگے نکلے گا اور اپنی معروف پہچان بنا لے گا، لوگ خود بخود اسے ٹچ کرتے رہیں گے اور تعلقات قائم رکھیں گے. آگے بڑھنا ہر ایک کا حق ہے. جو رشتہ ناتہ تعلق واسطہ اس راہ میں حائل ہوتا ہے اسے مسدود کرنا ہر ایک کا بنیادی انسانی جمہوری حق ہے. جانے والوں کو دعا دے کر رخصت کیجیے. اپنی دنیا آپ پیدا کیجیے۔ اس نئی دنیا میں اگر کسی کے لیے کچھ ہوگا تو وہ آپ کی طرف متوجہ ہوگا۔ اس متوجہ ہونے والے کو کوالٹی فراہم کیجیے اور اس کی عزت کیجیے۔ اور اگر کوئی متوجہ نہ ہو تو اپنی پراڈکٹ بدلیے، یا پراڈکٹ کی پیشکش کو بدلیے۔

دنیا کارآمد کو آنکھوں پر بٹھاتی ہے، ناکارہ کو ہر کوئی جھٹکتا ہے۔ دنیا ہنستے کے ساتھ ہنستی ہے، رونے والا اکیلا روتا ہے۔ راگ باں باں میں کوئی سنگت نہیں کرتا، نغہء شادی میں ہر کوئی تانیں اڑاتا ہے۔

حافظ صفوان آئی ٹی کنسلٹنٹ، مبلغ اور سماجی کارکن ہیں جو معاشرے کی نبض پہ ہاتھ رکھتے ہیں۔ 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ” رُہانسوں کا راگ باں باں ۔۔۔۔ حافظ صفوان محمد 

  1. No doubt we have no right to trespass other people. Every one has its own choice. We must respect each other on human grounds wherever we are, home, at work pr at social media platform. Don’t know why people develop grudges. We must shun such vices.

  2. تجربہ بولتا ہے۔
    ” دنیا کارآمد کو آنکھوں پر بٹھاتی ہے، ناکارہ کو ہر کوئی جھٹکتا ہے۔ دنیا ہنستے کے ساتھ ہنستی ہے، رونے والا اکیلا روتا ہے۔ راگ باں باں میں کوئی سنگت نہیں کرتا، نغہء شادی میں ہر کوئی تانیں اڑاتا ہے”
    یہ الفاظ تو آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *