• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستان میں”لکڑی کی شاعری کا دنیا کا اکلوتا دلکش محل”، فن تعمیر کا شاہکار و نادر نمونہ “عمر حیات محل، چنیوٹ” ۔۔۔۔۔۔شاہد محمود

پاکستان میں”لکڑی کی شاعری کا دنیا کا اکلوتا دلکش محل”، فن تعمیر کا شاہکار و نادر نمونہ “عمر حیات محل، چنیوٹ” ۔۔۔۔۔۔شاہد محمود

عمر حیات محل جو گلزار منزل اور گلزار محل کے نام سے بھی معروف ہے، دنیا بھر میں پاکستان کے شہر چنیوٹ کی خاص پہچان ہے جسے دیکھنے کے لئے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

چنیوٹ شہر کے وسط میں بنی لکڑی کی یہ عمارت نایاب مغل و ایرانی فن تعمیر کا حسین نمونہ ہے۔ اس کے دروازوں، کھڑکیوں، دیواروں، چھت و فرش پر بنے نقش و نگار انتہائی نایاب، خوبصورت و دلکش ہیں۔ خوبصورت رنگوں والی کھڑکیوں پر سے نظر ہٹائے نہیں ہٹتی۔ عمارت کی دیواریں، سیڑھیاں، بالکونیاں، چبوترا اور چھتیں بھی فن تعمیر کا نادر و نایاب حسین نمونہ ہیں جو اپنے بنانے والوں کے ہنر کی داد والوں تحسین کا آج بھی دنیا بھر میں باعث ہیں۔ عمارت میں خوبصورت سنگ مرمر کا کام بھی اس کے حسن کو جلا بخشتا ہے۔

اٹھارھویں صدی عیسوی کے اواخر اور انیسویں صدی عیسوی کی شروعات میں برصغیر پاک و ہند کی مایہ ناز کاروباری شیخ برادری کے کئی افراد نے کلکتہ سے چنیوٹ ہجرت کی جن میں سے ایک ممتاز نام شیخ عمر حیات کا ہے جو اپنے وقت کے ایک انتہائی کامیاب و خوشحال تاجر تھے۔
چنیوٹ کی شیخ برادری بلاشبہ انسانی قابلیت کے اعلیٰ  معیار کا نمونہ ہے۔ یہ لوگ اپنی محنت، کاروباری فطانت اور محتاط رویوں کے سبب پچھلے تین سو سال سے برصغیر پاک و ہند کی تجارت میں نمایاں ترین مقام رکھتے ہیں۔ چھوٹی عمر کی شادیاں، بزرگوں کا احترام اور انتہائی منظم طور پر ایک دوسرے سے پیوستہ خانگی زندگیاں، ان کی شناختی علامات ہیں۔ شیخ عمر حیات کا تعلق بھی انسانوں کے اسی باکمال گروہ سے تھا۔ دوسری طرف چنیوٹ میں ہی الٰہی بخش پرجھا جیسا فن کار بھی اپنی طرز کا ایک جداگانہ منعم تھا، جس کے ہاتھ میں آتے ہی لکڑی موم ہو جاتی تھی اور اس کی شہرت برطانیہ کے بکنگھم پیلس تک پھیل چکی تھی اور ملکہ برطانیہ اپنے محل کی تزئین و آرایش کے لئے بھی الٰہی بخش کے ہنر کی دلدادہ تھی۔

شیخ عمر حیات نے اپنے اکلوتے پیارے و لاڈلے بیٹے گلزار کے لیے ایک شاندار محل بنانے کا فیصلہ کیا تو نظر انتخاب الٰہی بخش پرجھا پر پڑی تو اس کو بلا کر کہا کہ وہ اپنے بیٹے کے لئے شاندار و منفرد محل تعمیر کروانا چاہتا ہے، جو شان و شوکت اور خوب صورتی کا نادر نمونہ ہو۔ کہتے ہیں کہ الٰہی بخش نے جواب دیا کہ تمھارا سرمایہ میرے فن کا بوجھ نہیں ا ٹھا سکتا۔ لیکن بالآخر دونوں کی گفتگو کا حاصل عمر حیات محل کی صورت سن 1922ء میں بننا شروع ہوا۔ عمر حیات نے اپنے وقت کی معروف شخصیت سید حسن شاه کو نگرانی پر مامور کیا۔ جنہوں نے الٰہی بخش پرجھا اور برصغیر پاک و ہند سے اپنے اپنے فن کے ماہر کاریگروں کی مدد سے دس سال کی شبانہ روز محنت سے سن 1935ء میں محل کی تعمیر و تزئین مکمل کی لیکن شومئی قسمت کہ محل کی تعمیر مکمل ہونے سے صرف دو ماہ قبل (بعض روایات کے مطابق دو سال قبل) عمر حیات کا انتقال ہو گیا جب کہ اس کا بیٹا کہا جاتا ہے کی صرف پندرہ برس کا تھا۔


اس زمانے میں چار لاکھ روپے کی خطیر رقم سے تیار ہونے والے اس محل میں تہ خانوں کو ملا کے پانچ منزلیں ہیں۔ چودہ مرلے پر محیط اس عمارت کے باہر بعد میں شاندار باغ بھی تعمیر کیا گیا۔
عمر حیات کی بیوہ نے تین سال بعد اپنے بیٹے گلزار محمد کی 1938ء میں شاہانہ انداز میں شادی کی جس میں کہا جاتا ہے کہ چنیوٹ کا ہر خاص و عام مدعو تھا لیکن قسمت کے کھیل دیکھیں کہ گلزار محمد اپنی شادی کے اگلے ہی دن پراسرار طور پر موت کا شکار ہو گیا۔ اپنے اکلوتے بیٹے کی ناگہانی موت سے گلزار محمد کی والدہ کو ایک اور بڑا صدمہ پہنچا۔ ماں نے اپنے بیٹے کو محل کے صحن میں دفن کروایا اور اُس کی موت کا صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے خود بھی اس دُنیا سے جلد ہی رُخصت ہو گئی اور وصیت کے مطابق انھیں بھی بیٹے کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔ یوں یہ محل اپنے ہی مکینوں کا مقبرہ بن گیا۔ ان سانحات کے بعد خاندان کے باقی لوگ اس محل کو منحوس تصور کر کے اس محل کو چھوڑ گئے۔ کچھ عرصہ کے لئے اس محل میں یتیم خانہ قائم رہا لیکن محل کی نگہداشت نہ ہونے کے باعث عمارت زبوں حالی کا شکار ہوتی گئی اور بالائی حصے کی چھت گر کر تباہ ہو گئی تو یتیم خانہ کہیں اور منتقل ہو گیا اور امتداد زمانہ کے ہاتھوں اس محل پر عرصہ تک مختلف لوگوں نے قبضہ کیے رکھا اور عمارت کو کافی نقصان پہنچایا۔ لیکن اس محل کی خوبصورتی، شہرت و تاریخی اہمیت کے پیش نظر نظر حکومت نے سن 1989ء میں اس محل کو اپنی حفاظت میں لیتے یہاں سے ناجائز قبضہ ختم کیا اور خطیر رقم سے محل کی ازسرنو تعمیر و تزئین کی۔ اب اس محل میں لائبریری، ثقافتی مرکز اور میوزیم قائم ہے۔ 7 جون 1990ء میں اسے عام لوگوں اور سیاحوں کے لئے کھول دیا گیا اور اب شہر کے عین وسط میں واقع اس محل میں قائم لائبریری میں علم کی پیاس بُجھانے والوں کا رش لگا رہتا ہے۔

محل میں میوزیم بھی قائم کیا گیا ہے جہاں عمر حیات اور ان کے اہل خانہ کے استعمال میں آنے والی چیزیں رکھی گئی ہیں۔

عمر حیات محل کے احاطے میں داخل ہوں تو نظر ایک شاہکار جھروکے پر جا رکتی ہے، جس کے نیچے داخلی دروازہ ہے۔ محل کے اس مرکزی دروازے کے ساتھ ایک تختی پر ان کاریگروں کے نام درج ہیں جنھوں نے اس ہنرمندی کے شاہکار اس محل کے خواب کو تعبیر سے ہم کنار کیا اور دوسری طرف ایک تختی پر ان اصحاب کا ذکر ہے، جنھوں نے اس تاریخی ورثے کو موجودہ شکل میں بحال کیا۔
اب بات ہو جائے فن کے شاہکار جھروکے کی۔ پانچ کھڑکیوں اور دوپہلو دریچوں پر مشتمل اس جھروکے کو فن کے دلدادہ لکڑی کی شاعری کہتے ہیں۔ دیوار سے قدرے باہر کو نکلتے ہوئے اس چوبی شاہ کار کو سہارا دینے کے لیے لکڑی کے آٹھ ستون بنائے گئے ہیں۔ پانچوں کھڑکیوں کے پٹ جُڑے ہوئے ہیں، جو باہر کو بند ہونے پر ایک بیل کی شکل بناتے ہیں اور اندر کو کھلنے پر پھول کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔

محل کے درمیان خوبصورت صحن میں محل کے تمام کمروں کے دروازے کھلتے ہیں اور ہر کمرے کا فرش اور چھت کا طرز تعمیر ہر دوسرے کمرے سے یک سر مختلف اور انتہائی دل کش ہے۔ عمر حیات نے اکثر کمروں میں اپنے نام کے حروف مختلف انداز میں کندہ کروا رکھے تھے۔ کسی کمرے میں U کے درمیان H پیوست ہے، تو کہیں پھول کی پتیوں میں U اور H کی تکرار ہے۔ کھڑکیوں پر چڑھا طلائی رنگ اب بھی ماند پڑنے سے منکر ہے۔ اور اٹلی سے منگوائے کھڑکیوں میں جڑے شیشے اب بھی رنگ و نور کی داستان بکھیر دیتے ہیں۔ ایک کمرے میں ٹائل اپنی جگہ سے اکھڑی تو اس کی پشت پر جاپان کی کسی فیکٹری کی مہر ثبت تھی۔ اس محل کی تعمیر میں کوئی ایک چیز ایسی نہیں تھی جو اعلٰی ترین معیار کی نہ ہو۔ محل کی سیڑھیوں پر لکڑی کے تختے منڈھے ہیں تا کہ سیڑھیاں چڑھتے اترتے وقت دھمک کا احساس دماغ تک نہ پہنچے۔ جس رنگ کی پچی کاری نیچے کی دیواروں پر چلی ہے، ویسے ہی نقش نگاری اوپر کی منزل میں بھی ہوئی ہے۔ پہلی منزل کی چھت اطالوی کلیسائوں کی طرز پر بنائی گئی ہے، جس پہ چاروں اطراف ہندوستان کے تاریخی مناظر کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ تاج محل سے شالامار باغ اور کانگڑہ کی پہاڑیوں سے جے پور کے مناطر تک بنانے والے نے اس وقت کا پورا ہندوستان اس چھت میں سنیاسی ندرت و مہارت سے بنا ڈالا ہے۔ دروازوں کے قبضوں سے لے کر درزوں اور چوکھٹوں تک لکڑی پر شاعری کا گمان ہوتا ہے۔
یہ وہ محل ہے جو اپنے مکینوں کا مزار بھی ہے اور دیا بھر میں پاکستان کی ثقافت و ہنرمندی کا اخبار بھی ہے۔ اس کی مسلسل تزئین و آرائش و بحالی و بین الاقوامی سطح پر اس کی تاریخی اہمیت اجاگر کرتے رہنے سے “لکڑی کی شاعری کے دنیا کے اکلوتے دلکش محل” کی طرف سیاح بے ساختہ کھنچے چلیں آئیں گے۔

سب احباب کے لئے سلامتیاں، ڈھیروں پیار اور محبت بھری پرخلوص دعائیں۔
دعا گو ‘ طالب دعا شاہد محمود، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
(تصاویر بشکریہ گوگل)

19th century Umer Hayat Palace, Chiniot, Pakistan, is a world renowned wonder of “wooden music” as it is the masterpiece of wooden architectural in the world. It is also known as Gulzar Palace as Gulzar was the only son of Umer Hayat for whom this wonderful palace was constructed. This wooden carved palace has great tourist attraction.
Sheikh Umer Hayat who was a successful rich trader decided to build a magnificent palace in 1923 for his newborn son named Gulzar Muhammad.
Construction work of palace was carried out by the popular artisans of different places. The wood carving work was done by the famous Elahi Bakhsh Pirja who was mater of this work. Umer Hayat died in the year 1935, just a couple of months before the completion of Palace.
Umer Hayat constructed this palace for his only son Gulzar Muhammad. Gulzar Muhammad got married in 1938 and next day of Gulzar’s marriage, he found dead in the palace. His mother buried him in the courtyard of palace and she herself died soon after that remembering her son and buried beside his son’s grave.. The palace was considered a subject of bad luck for the Sheikh family by the relatives who then left the palace.

The palce is unique winder of wooden art. It is the “Music of Wood”. The doors, windows and jhirokas have their own attraction because of the unique carving work. A perfect interior is made by the balconies, roofs, terraces, stairways and the stucco designs. The front of the palace is decorated with the shining marbles and is finely inlaid with the bricks.
Umer Hayat palace, after Hayat’s relatives left it , then an orphanage was established here but soon abandoned by them after the collapse of the top story. Later different groups occupied the building and destroyed most of the building. Later on Government of Pakistan took over it’s charge and after renovation of palace established a library, museum and civic center in the palace and now it is opened for general public and nd tourists.

Blessings, Prayers and Best Wishes for all readers with lots of Love.
Ever Praying
Shahid Mahmood,
Advocate High Court.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *