چکن کڑاہی۔۔۔اسرار احمد

صبح سویرے ککڑو باغ میں تمام مرغ قبیلہ جمع تھا،سب کے چہرے پریشانی اور غصے سے تمتما رہے تھے،اتنے میں ان کے سربراہ کنگ ککڑو باغ میں اپنے باڈی گارڈ مرغوں کے ساتھ تشریف لے آئے،پورا قبیلہ ان کے احترام میں کھڑی ہوگیا۔۔۔۔کنگ ککڑو نے اپنے پروں کے اشارے سے سب کو بیٹھنے کو کہا اور خود ڈائس کی طرف بڑھ گئے۔اجلاس بلانے کا مقصد ایک ہارر(ڈراؤنی) فلم چکن کڑاہی تھی جس میں انسانی دنیا میں مرغی کے گوشت سے بننے والی ایک ڈش چکن کڑاہی کو بنتے دکھایا گیا تھا،اور پوری فلم مرغ قبیلے کے انسانی دنیا میں ہونے والی قتل و غارت کے متعلق تھی۔۔۔۔اس فلم کا ڈائریکٹر پانڈو پرنس نامی ایک بندر تھا جو کہ کافی عرصہ انسانی دنیا کے چڑیا گھروں میں رہ چکا تھا اور وہاں کی کئی فلموں میں جانور اداکار کے طور پر کام کر چکا تھا،اس نے انسانی دنیا کا کافی قریب سے مشاہدہ کیا تھا،وہاں سے بھاگ کر وہ جب جنگل آیا تو اپنا فلم پروڈکشن ہاؤس کھول لیا۔کامیابی کی سیڑھیاں طے کر کے وہ صف اول کا فلمساز بن چکا تھا،سینکڑوں کامیاب فلموں کی بدولت وہ کئی ایوارڈ اپنے نام کرچکا تھا۔۔۔۔پانڈو پرنس کی فلم چکن ککڑو اپنے ٹریلر کے ریلیز ہونے کے بعد سے ہی تنازعات کا شکار تھی،ریلیز کے بعد سے تو کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔مرغ قبیلے کا موقف تھا کہ اس فلم کا مقصد ان کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنا ہے،تاکہ ہماری نوجوان نسل ترقی نہ کرسکے،اور دیگر جانوروں کو ہمارے قتل پر اکسانا ہے۔
تمام مرغ قبیلہ شدید غم و غصے کا شکار تھا اور اپنا لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے اجلاس بلایا گیا تھا۔۔۔
کنگ ککڑو مائیک تھام کر گویا ہوئے: اس اجلاس کے بلانے کا مقصد آپ سب بخوبی جانتے ہیں،آپ کو پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں،پانڈو پرنس کو اپنے اس قبیح عمل کی سزا ضرور ملے گی اور تب تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے،اس فلم کے ذریعے ہمارے خلاف جو سازش ہو رہی ہے اس سے ہم ناواقف نہیں اور اس کے پیچھے جو عناصر ہیں ان کو بے نقاب کرکے رہیں گے۔ہم ہر عدالت کا دروازے کھٹکھٹائیں گے،اور انصاف ملنے تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔۔مرغ قبیلے نے ککڑو کی پرزور تائید کی اور اپنی حمایت کا یقین دلایا۔۔۔اس کے بعد کنگ ککڑو کی سربراہی میں جنگل میں مذمتی ریلی نکالی گئی،مقررین نے اپنے خطاب میں فلم کی پرزور مذمت کی،اس موقع پر نوجوان مرغوں نے خوب نعرہ بازی کی اور گھاس کو آگ لگا کر پگڈنڈیاں بلاک کردیں،جنگل میڈیا نے بھی ریلی کو خوب کوریج دی،ساری صورتحال دیکھ کر جنگل کے بادشاہ کنگ شیرا نے واقعے کا نوٹس لے لیا اور کنگ ککڑو کو فون کر کے اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
دوسرے دن کنگ ککڑو کی اپیل پر الو کی سربراہی میں عدالت لگائی گئی۔۔۔عدالت باغ کچھا کھچ بھرا ہوا تھا دوسری کمیونٹی کے جانور بھی کثیر تعداد میں کاروائی دیکھنے کے لیے موجود تھے۔
کنگ شیرا ساری صورتحال کی مانیٹرنگ کر رہے تھے کیونکہ کنگ ککڑو اور کنگ شیرا کے دوستانہ مراسم تھے اور کنگ شیرا اہم امور پر ان کی رائے کو اہمیت دیتے تھے۔۔
کنگ ککڑو عدالت باغ میں پہنچے تو ان کے ساتھ مرغ قبیلے کی کثیر تعداد تھی،سب پانڈو پرنس کے خلاف شدید نعرہ بازی کر رہے تھے،سکیورٹی پر مامور چیتا فورس کی مداخلت سے عدالتی کارروائی شروع ہوئی,الو نے اپنا موقف پیش کرنے کے لیے سب سے پہلے کنگ ککڑو کو موقع دیا۔انہوں نے کٹہرے میں آ کر حلف اٹھایا اور فلم پر اپنے اعتراضات پیش کیے،انہوں نے اسے مرغ کمیونٹی کی بقاء پر حملہ قرار دیا اور فلم کے کچھ مناظر کی کاپیاں پیش کیں،انہوں نے کہا کہ اس فلم کا مقصد جنگل کے جانوروں کو ہمارے قتل عام پر اکسانا ہے۔۔۔تاکہ ہمارے علاقے پر قبضہ کیا جا سکے،مگر سب یہ جان لیں ہم کمزور نہیں یہ سازشیں ہم کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔۔۔ابھی اس فلم کو ریلیز ہوئے ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا  اور ہمارے دو نوجوان مرغے پہلے اغوا ہوئے پھر ندی کنارے ان کی ہڈیاں ملیں،ہوسکتا ہے فلم کے لئے استعمال ہونے والا گوشت انہی مرغوں کا ہو۔اور ہمارے خیال میں اس سب کا  ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ پانڈو پرنس ہے،میں عدالت سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ اس فلم پر فوراً پابندی لگا کر اسے سینما باغوں سے ہٹایا جائے،اور پانڈو پرنس اور اس کی پوری ٹیم کو فی الفور گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے،
کنگ ککڑو کے بعد پانڈو پرنس سخت سیکورٹی کے حصار میں لایا گیا کیونکہ مرغوں کی جانب سے حملے کا خطرہ تھا۔۔۔۔گلے میں سونے کی چین،آنکھوں پر سیاہ چشمہ لگائے جب پانڈو کٹہرے کی طرف بڑھا تو مرغ کمیونٹی نے شدید نعرہ بازی شروع کردی۔۔۔کنگ ککڑو نے ان کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ انہیں بندر کمیونٹی کے تیور درست نظر نہیں آرہے تھے,اگر صورتحال ویسی رہتی تو وہ ان پر حملہ کر سکتے تھے،جس کے وہ کسی صورت متحمل نہیں ہو سکتے۔۔۔
پانڈو پرنس نے کہا کہ آپ سب بخوبی جانتے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ انسانی دنیا میں گزارا ہے وہاں ایک عام جانور اور پرندے سے لیکر کنگ شیرا کی فیملی کے ساتھ بھی بہت برا سلوک کیا جاتا ہے،ان کو پنجروں میں بند رکھا جاتا ہے،ان کا شکار کرکے مختلف اقسام کے پکوان تیار کیے جاتے ہیں،سب سے زیادہ ظلم مرغ کمیونٹی کے ساتھ کیا جاتا ہے،اور سب سے زیادہ ان کا گوشت استعمال ہوتا ہے،چکن کڑاہی وہاں کا سب سے مقبول پکوان ہے،اس کے لیے مرغ قبیلے کے گوشت کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے،اور فلم میں مرغ تو کیا کسی بھی جانور کا گوشت استعمال نہیں ہوا بلکہ یہ پوری فلم وی ایف ایکس (VFX) کے استعمال سے بنائی گئی ہے،فلم کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ نوجوان نسل کو انسانی دنیا کے خطرات سے آگاہ کرنا ہے،ہمارے جنگل کے کتنے ہی نو عمر جانور اور پرندے انسانی دنیا کے خواب سجائے بیٹھے ہیں،اور اس ضمن میں کتنے ہی انسانی دنیا کی نذر ہوچکے،کوئی نہیں جانتا کہ وہ وہاں کس حال میں ہیں،زندہ ہیں یا مرچکے۔۔۔ہجوم میں سے ہلکی ہلکی سسکیاں گونجنے لگی،اپنے پیاروں کو یاد کر کے   کوئی  بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔۔۔
چکن ککڑو تو ایک آغاز تھی،میں تو اس سلسلے کو بڑھانا چاہتا تھا اور دیگر جانوروں کے ساتھ ہونے والے مظالم کو پیش کرنا چاہتا تھا،وہاں ان سے محنت و مشقت کرائی جاتی ہے،بوجھ اٹھاتے اٹھاتے کئی جانور جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں،وہاں کتنے ہی جانور چڑیا گھروں میں قید ہیں ،روزانہ لاکھوں جانوروں کو ذبح کر کے پکا یا جاتا ہے،میں تو یہ سب دکھانا چاہتا تھا اور کچھ نہیں یہ کہہ کر پانڈو پرنس کی آواز بھرا گئی۔اس نے چشمہ اتار کر ٹشو پیپر سے آنکھوں کو صاف کیا۔۔۔الو صاحب میں نے اپنا موقف پیش کردیا میری وجہ سے جس کی بھی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معافی مانگتا ہوں،میں نے یہ فلم کسی غلط نظریے یا سو چ کو پروان چڑھانے کے لئےنہیں بنائی میری نیت صاف تھی۔۔
یہ سچ ہے کہ تمہاری نیت صاف تھی۔۔۔۔
مجمع میں سے ایک بھاری آواز گونجی۔تمام جانور مؤدب انداز میں کھڑے ہوگئے۔جنگل کے روحانی پیشوا دنبہ سرکار نزدیکی جنگل سے ایک تبلیغی دورے سے واپس اسی وقت وہاں پہنچے تھے اور تقریباً ساری کارروائی سن چکے تھے۔مگر تم نے تصویر کا ایک رخ دکھایا ہے۔انہوں نے آگے بڑھتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔الو نے دنبہ سرکار کی تعظیم میں اپنی نشست ان کو پیش کردی۔شاید تم اللہ کے حکم کو بھول گئے ہو ہمیں انسانوں کے لیے ہی پیدا کیا گیا،دنبہ سرکار نے اشارے سے سب کو بیٹھنے کو کہا۔۔یہی وجہ ہے کہ عید کے موقع پر بھینس اور بیل کے علاوہ اونٹ جیسا اڑیل جانور بھی ہنسی خوشی اللّٰہ کی راہ میں قربان ہوجاتا ہے میں خود عید کے موقع پر انسانی دنیا کے قریب چلا جاتا ہوں تاکہ کوئی مجھے اللہ کی راہ میں قربان کر سکے،تم اندازہ نہیں کر سکتے اس خوشی کا جب ایک غریب انسان ہمارے گوشت سے پیٹ بھرتا ہے،معصوم انسانی بچے چڑیا گھروں میں ہمیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔۔۔۔ہاں یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان اب ان جانوروں تک کو ذبح کر کے کھا رہے ہیں جن کے کھانے سے منع کیا گیا ہے،کچھ سال پہلے انسانی دنیا کے ایک مشہور شہر میں بیچارے گدھوں کو ذبح کر کے لوگوں کو کھلایا جاتا رہا،یہ سن کر عدالت باغ ڈھینچوں ڈھینچوں کی آوازوں سے گونج اٹھا۔۔صدمے سے عدالت باغ میں موجود گدھوں کی حالت غیر ہوگئی اور انہیں فوری طور پر اسپتال باغ منتقل کیا گیا۔دنبہ سرکار نے ان کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک پرانا واقعہ ہے اب حالات ٹھیک ہوچکے ہیں ڈفرو نامی گدھے نے دھاڑیں مار کر ڈھینچوں ڈھینچوں کرتے ہوئے کہا کہ محنت مشقت سے بات اب ہماری نسل کشی تک پہنچ گئی اور ہمیں پتہ ہی نہیں سب نے ڈفرو کا حوصلہ بڑھا کر اسے چپ کرایا۔۔
دنبہ سرکار کی باتوں سے متاثر ہو کر مرغ قبیلے نے پانڈو پرنس کو معاف کر دیا،جس پر پانڈو نے ان کا شکریہ ادا کیا۔۔۔دنبہ سرکار نے پانڈو کو نصحیت کی کہ وہ متنازع موضوعات سے ہٹ کر اصلاحی اور تفریحی فلمیں بنائے۔۔پانڈو پرنس نے دنبہ سرکار سے وعدہ کیا اور سب اپنے گھروں کو چل دیئے،کنگ شیرا نے اپنے ٹوئیٹ میں معاملہ سلجھانے پر دنبہ سرکار کا شکریہ ادا کیا۔۔۔۔اسی شام معروف لومڑی اینکر سے بات کرتے ہوئے دنبہ سرکار نے کہا کہ اللہ نے تو ہم جانوروں کے حقوق متعین کیے ہیں لیکن انسان جو ایک دوسرے کے حقوق ادا نہیں کرتے وہ ہم جانوروں کے کیا حقوق ادا کریں گے۔۔۔

اسرار احمد
اسرار احمد
اسرار احمد،گیلانی لاء کالج (بی زیڈ یو) ملتان میں طالب علم ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *