• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • چندہ مانگنا چھوڑئیے اور ملک پر حکمرانی کرنا شروع کیجئے۔ ۔۔۔حصّہ دوئم/ چوہدری سرور اسپیشل ۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

چندہ مانگنا چھوڑئیے اور ملک پر حکمرانی کرنا شروع کیجئے۔ ۔۔۔حصّہ دوئم/ چوہدری سرور اسپیشل ۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

چندہ جمع کرنے کے بارے لکھے کالم پر ابھی بات ختم نہیں ہوئی۔ اس لئے ٹھہرئیے جناب، اور بات پوری سُن لیں۔ چندہ جمع کرنے اور اس میں ہونے والی ان تمام خرابیوں کے عین درمیان اب گورنر پنجاب چوہدری سرور کا نیا سکینڈل بھی سامنے آگیا ہے جس پر تجزیہ نگار نجم سیٹھی نےگزشتہ دنوں اپنے ٹی وی پروگرام میں کافی تفصیل سے روشنی ڈالی تھی۔ گورنر صاحب نواز شریف کے دور ہی سے صاف پانی منصوبے کے بڑے شدید حامی رہے ہیں اور ان کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ انھیں اس منصوبے کا انچارج بنایا جائے۔ چوہدری سرور صاحب نے اس ضمن میں شہباز شریف حکومت سے کہا تھا کہ وہ اپنی این جی او ’’سرور فاؤنڈیشن‘‘ سے پنجاب بھر کے تمام سرکاری سکولوں، دیہی مراکز صحت اور ڈسپنسریوں، ہسپتالوں میں پانی صاف کرنے  کے فلٹریشن پلانٹس لگائیں گے جبکہ وہ حکومت سے اس سلسلہ میں فنڈز بھی طلب نہ کرنے کے دعوے دار رہے ہیں۔ دوسری طرف نون لیگ کے ذرائع کہتے ہیں کہ چوہدری سرور اس منصوبہ کے لئے بہت زیادہ فنڈز مانگ رہے تھے اور ان فنڈز کو ’’سرور فاؤنڈیشن‘‘ کے لئے مختص کئے جانے کے لئے زور دیتے رہے۔ نون لیگ سے علیحدگی اور تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد پنجاب کی گورنری اُن کی جھولی میں واپس آ چکی ہے۔ اب انہوں نے اس پراجیکٹ کو ازسرِ نو بحال کیا ہے اور عمران خاں کی ہدایت پر اس منصوبہ کا سربراہ بنائے جانے کے بعد گورنر چوہدری سرور صاحب اس منصوبے کی مد میں اپنے ذاتی ٹرسٹ “سرور فاؤنڈیشن” کے لئے فنڈ ریزنگ کر رہے ہیں۔ وہ حال ہی میں اس سلسلے میں امریکہ سے بھی ہو کر آئے ہیں۔ نجم سیٹھی کے پروگرام کے ذریعے اس فنڈ ریزنگ کی تفصیلات سامنے آئیں تو گورنر چوہدری سرور صاحب نے پریس کانفرنس کے ذریعے اعلان کیا کہ وہ جب تک گورنر رہیں گے وہ اپنی اس فاؤنڈیشن سے علیحدگی رکھیں گے اور اس فاؤنڈیشن نے اب تک جو پندرہ، سولہ (15/16) کروڑ روپے جمع کئے ہیں وہ بھی سرکاری فنڈ میں جمع کروا دیں گے۔

سکولوںِ، ہسپتالوں اور دیہاتوں میں صاف اور موذی جراثیم سے پاک پانی فراہم کرنا یقیناً ایک بہترین پراجیکٹ ہے لیکن گورنر پنجاب چوہدری سرور کی طرف سے اس کے لئے فنڈ ریزنگ، چندہ جمع کرنے کے ضمن میں کچھ سوالات ضرور اٹھتے ہیں۔ جیسا کہ:۔

julia rana solicitors london

1- گورنر اور حکومتی پارٹی کا اہم حصہ ہونے کے باوجود اس طرح کے بہترین منصوبہ کے لئے حکومتی وسائل استعمال کیوں نہیں ہو رہے؟۔

2- کیا ایک حاضر سروس گورنر ایسے بیرون ملک فنڈ ریزنگ کرسکتا ہے؟۔

3- اگر کر بھی سکتا ہے تو کیا اپنی پرائیویٹ این جی او کے تحت کر سکتا ہے جس کا آڈٹ بھی حکومتی ذمہ داری نہ ہو۔ کیا یہ “کنفلکٹ آف انٹرسٹ” نہیں بنتا؟۔

4- اگر حکومتی گورنر کے طور پر یہ پراجیکٹ نہیں کرسکتے تو استعفیٰ دے کر اسے کیوں نہیں کرتے تاکہ لوگ اس کے لئے بھرپور تعاون کریں؟۔

گورنر چوہدری سرور صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ پنجاب بھر میں واٹر فلٹریشن پلانٹس سے پانی صاف کرنے کی ٹیکنالوجی تو مل جائے گی مگر ہمارا اصل مسئلہ پانی کی صفائی کے ساتھ ساتھ اس کی جراثیم کشی یعنی ڈس انفیکشن بھی ہے۔ گورنر صاحب برطانیہ میں گلاسکو میں جہاں رہائش پذیر رہے ہیں، وہاں کی کمپنی سکاٹ ماس (Scotmass) دنیا بھر میں واٹر ڈس انفیکشن کی ماہر ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کلورین ڈائی آکسائیڈ گیس پر مشتمل ہے جو کہ ہمارے یہاں استعمال ہونے والی مائع کلورین سے کئی گنا زیادہ بہتر کارکردگی اور قیمت استعمال میں اُس سے سستی بھی ہے۔ اس پراجیکٹ کی انچارج گورنر صاحب ہی کی طرح فارن سے درآمد کردہ اُن کی پی ایس او رابعہ ضیاء ہیں جو لندن میں پلی بڑھی ہیں۔ رابعہ پاکستان میں کام کرنے کے لئے سسٹم سے نابلد ہیں اُردو زبان بھی لکھ اور پڑھ نہیں سکتیں۔ اس لئے یہ بات بھی اُن تک پہنچنا ممکن نہیں لگ رہا۔

تحریک انصاف والوں میں یہ مینوفیکچرنگ نقص بھی بدرجہ اتم پایا جاتا ہے کہ وہ اپنی ہی دھن میں سب کچھ کئے جاتے ہیں اور کچھ نہ جاننے کے باوجود بھی اس شعبہ کے ماہرین کی سننا پسند نہیں کرتے۔ مگر پھر بھی اتمام حجت کے لئے مشورہ پیش خدمت کرنا واجب ہے کہ اپنے اردگرد موجود بیوروکریسی کی پرانی دقیانوسی ٹیکنالوجی پر مبنی پروپوزل پر اندھا دھند عمل کرنے کی بجائے متحدہ عرب امارات، عمان، قطر، سعودی عرب میں لگی ’’کلورین ڈائی آکسائیڈ‘‘ گیس ٹیکنالوجی کے منصوبوں پر ایک نظر ڈال لیں۔ کلورین ڈائی آکسائیڈ گیس ٹیکنالوجی نہ صرف مائع کلورین سے 40% سستی ہے بلکہ یہ مائع کلورین سے 10 گنا زیادہ بہتر ہے۔ مائع کلورین کو پانی میں شامل کرنے کی وجہ سے پانی میں اس کی بُو اور ذائقہ بھی شامل رہتا ہے۔ جبکہ کلورین ڈائی آکسائیڈ گیس کے استعمال سے پانی میں نہ اس کا ذائقہ شامل ہوتا ہے، نہ اِس کی بُو اور نہ ہی دیگر مضر اثرات۔

سکولوں، ہسپتالوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب کے لئے فنڈز جمع کرنے اور کتنے جمع ہوئے کے بارے میں تو خیر گورنر صاحب ہی بہتر بتا سکتے ہیں لیکن نجم سیٹھی نے اپنے پروگرام میں ایک اور بڑا انکشاف یہ بھی کیا ہے کہ لگائے جانے والے تمام فلٹریشن پلانٹس کی خریداری بھی گورنر چوہدری سرور صاحب اپنے ذریعہ کروانا چاہتے تھے اور اس سلسلے میں ان کا بیٹا چوہدری عاطف سرور فلٹریشن پلانٹس کا تمام سامان بھی خرید کر لا چکا ہے جو اس وقت پاکستان میں ہی کسی وئیر ہاؤس میں پڑا ہے۔ اب جب ان فلٹریشن پلانٹس کے لئے خریداری ہو گی تو یہ ممکنات میں سے ہے کہ گورنر چوہدری سرور یا اُن کا بیٹا اپنے کسی فرنٹ مین یا آف شور کمپنی کے ذریعہ یہی پلانٹس حکومت پنجاب کو بیچ کر اپنا لمبا منافع وصول کر لیں۔

چوہدری محمد سرور ایک محنت کش انسان ہیں۔ لگ بھگ چالیس برس قبل گلاسکو، سکاٹ لینڈ تشریف لے گئے، اپنا کاروبار شروع کیا اور اس کے ساتھ ہی کونسلر کے الیکشن سے ان دونوں سیاست میں قدم رکھ دیا جن دنوں بیرون ملک سیاست کا رواج نہیں تھا۔ برطانیہ کے پہلے مسلمان اور ایشین ممبر پارلیمنٹ بنے اور پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا۔ وہ 1997-2010ء تک ممبر پارلیمنٹ رہے جبکہ 1998ء میں انھیں اور ان کے دوست ممتاز حسین کو مخالف سیاستدان کو بٹھانے کے لئے رشوت دینے پر ان کی رکنیت معطل کردی گئی جو کہ بعد میں بحال ہوئی۔ اُن کے بیٹے عاطف سرور پر آٹھ (8) لاکھ پچاس (50) ہزار پاؤنڈ کے فراڈ کا الزام لگا اور یہ کیس گلاسکو ہائی کورٹ میں بھی چلا اور الزام ثابت ہوگیا۔ عاطف سرور کو پانچ (5) لاکھ پینسٹھ (65) ہزار پاؤنڈ “واٹ فراڈ اسکیم” اور دو (2) لاکھ اسی (80) ہزار پاؤنڈ دھوکے سے ٹرانسفر کرنے کے جرم میں مئی 2007ء میں سزا ہوئی اور انہوں نے تین سال کی جیل کاٹی۔

یہ وہ زمانہ تھا جب شریف برادران لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے اور انہیں مالی مشکلات کا بھی سامنا تھا۔ ان دنوں چوہدری سرور کی میاں برادران سے ملاقات ہوئی اور میاں نواز شریف چوہدری سرور کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم ہو گئے۔ میاں شہباز شریف کے پہلے دن سے چوہدری سرور کے حوالے سے تحفظات تھے لیکن ٹونی بلئیر کے ساتھ چوہدری صاحب کی تصاویر اور فون پر بات چیت نے بڑے میاں کو چت کردیا تھا۔ میاں نوازشریف کی پاکستان واپسی کی پہلی کوشش کے موقع پر بھی مبینہ طور پر چوہدری سرور صاحب کے دعوے تھے کہ مشرف کو “اوپر” سے فون جا چکے ہیں لیکن جب میاں نواز شریف پاکستانی سرزمین پر پہنچے تو جنرل مشرف نے میاں صاحب کو اُسی دن دوسرے جہاز سے سعودی عرب بھیج دیا۔ قصہ مختصر میاں صاحب 2007ء میں تو حکومت نہ بنا سکے لیکن چوہدری سرور سے وعدہ کرلیا کہ اگر وفاقی حکومت بنی تو وہ گورنر ہوں گے۔ اسی لئے 2013ء کے الیکشنز میں چوہدری سرور نے ن لیگ کے لئے برطانیہ میں فنڈ ریزنگ کی اور خوش قسمتی کے ساتھ ساتھ بہترین پلاننگ کرتے ہوئے دوسروں کے پیسوں سے خود گورنر بن گئے۔

اب چوہدری صاحب گورنر تھے اور وہ بھی میاں شہباز شریف کے ساتھ جو آئی جی سے لیکر ایس ایچ او کے تبادلے پر نظر رکھتے ہیں۔ چوہدری صاحب بغیر الیکشن جیتے بلکہ پاکستان کی حد تک پتا ہلائے بغیر گورنر بن گئے تھے اور ان کا خیال تھا کہ ان کے پاس کچھ اختیارات بھی ہوں گے۔ لیکن میاں شہباز شریف نے ان کو بلا کر صاف کہہ دیا کہ وہ محض یونیورسٹیوں میں ڈگریاں بانٹ سکتے ہیں اور مہمان خصوصی بن سکتے ہیں۔ شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ پنجاب کے سکولوں، ہسپتالوں اور دیہی مراکز میں جو واٹر فلٹریشن پلاٹس لگانے کا منصوبہ ہے، اُسے بھی چوہدری سرور کو پنجاب حکومت کے ’’صاف پانی منصوبہ‘‘ میں ضم کرنا پڑے گا۔ اس معاملہ اور دیگر معاملات میں وعدے پورے نہ ہونے پر خصوصاً  علامہ طاہر القادری کی پاکستان آمد کے حوالے سے اُن کے مفاہمانہ کردار پر شریف برادران کی مخالفت اور بارک اوباما کے انڈیا کے دورے کو نواز حکومت کی ناکامی قرار دینے پر اختلافات اتنے بڑھے کہ چوہدری سرور نے گورنری سے استعفی دے کر عمران خان ی تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ تحریک انصاف میں شمولیت کے وقت چوہدری صاحب کو اختیارات کے ساتھ دوبارہ گورنر بنانے، واٹر فلٹریشن پلانٹس پراجیکٹ کا انچارج بنائے جانے کا وعدہ کیا گیا تھا جس میں وہ کامیاب ٹھہرے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

چوہدری سرور کے پاس وہ ہمت موجود ہے کہ وہ ان تمام الزامات کی نفی کے لئے اس پراجیکٹ کو ہر طرح شفاف بنانے کے لئے حکمت عملی ترتیب دیں۔ وہ چاہیں تو اس پراجیکٹ کو اپنی این جی او ’’سرور فاؤنڈیشن‘‘ کے ذریعہ ہی سرانجام دیں مگر پھر خود کو اس کی سرگرمیوں سے علیحدہ کر لیں۔ اور اگر وہ اس پراجیکٹ کرنے میں اپنی گورنری سے زیادہ دلچسپی لیتے ہیں تو پھر گورنری چھوڑ کر تن من دھن سے اس منصوبہ کو کامیاب کروانے کے لئے سرگرم ہو جائیں۔ امریکی صدر بل کلنٹن کے دوسرے دور صدارت میں اُن کے نائب صدر الگور کو دنیا شاید اب اُن کے سیاسی کردار کی وجہ سے یاد نہ رکھتی ہو مگر الگور نے جو گرین ہاؤس گیسز کے اخراج سے متعلق دنیا کے 150 سے زیادہ ممالک بشمول پاکستان کے لئے کیوٹو پروٹوکول فائنل کروایا، اُس کی وجہ سے انسانیت اور ماحولیات والے انہیں ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ چوہدری سرور بھی پنجاب کے سکولوں، ہسپتالوں اور دیہی مراکز صحت کے لئے واٹر فلٹریشن پلانٹس لگوا کر تاریخ میں خود کو امر کر سکتے ہیں۔

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply