• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • شاہیں پرواز تو اونچی کر لے، مگر بناتا نہیں ٹھکانا۔۔۔۔خالد حسین مرزا

شاہیں پرواز تو اونچی کر لے، مگر بناتا نہیں ٹھکانا۔۔۔۔خالد حسین مرزا

چیمہ یاد آ رہا ہے، وہ اکثر کہتا ہے کہ حسین بندے کا پتر بن! اور اُس کی ایک دبک ہوش میں لے کر آنے کے لیے کافی ہوتی ہے، میں  اُسے ہمیشہ کہتا تھا کہ  میں ! اپنے ابو جیسا بننا چاہتا ہوں جس طرح اُنہوں نے ساری زندگی انتھک محنت کی ہے اور اپنی زندگی میں کامیابیاں حاصل کی ہیں بس میں بھی کم از کم اُس مقام تک پہنچنا چاہتا ہوں، ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جب میں  ! ایس۔ ای۔ او کی کلاسس لینے جایا کرتا تھا مجھے ابھی وہ سر کا نام نہیں یاد آرہا وہ ایک دفعہ مجھ سے باتیں کرتے ہوئے کہتے کہ  جو نسل ابھی چل رہی ہے، مطلب کہ  پاکستان کی نوجوان نسل ( جو ۲۵سے آگے اب جو بھی عمر لگا لیں)، کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔ وہ کہتے کہ  ہم اپنے والدین جتنی محنت نہیں کر سکتے۔
بات بتاؤں کیا ہے! میں حلفاٌ یہ بات کہہ  سکتا ہوں کہ میں نے   لکھاری بننے کے لیے ا تنی  محنت کی ہے کہ   بعض دفعہ اپنے آپ کو دوسروں کی نسبت پاگل تصور کرنے لگتا ہوں۔
ایک فلاسفی ذہن میں آرہی ہے کہ  ہم سے جب کوئی خوبی چھینی جا رہی ہوتی ہے  ! ہمیں تکلیف ضرور ہوتی ہے، چاہے ہم رضا مندی سے ہار مان رہے ہوں یا پھر کوئی مجبوریوں کا بہانا بنا کے۔ خیر! میں بات کر رہا تھا کہ  اُن کے مطابق ہم محنت نہیں کر سکتے۔
میرے مطابق ہم میں ہمت ہے اور ہم اُس کے مطابق کچھ نہ کچھ کر بھی لیتے ہیں مگر جو مقام ہم نے اپنے بڑوں کو دیکھ کر   اپنے ذہن میں بنایا ہوا ہے، اُسے حاصل کرنے تک ہم سے اگلی نسل کے آنے کا ہمیں انتظار کرنا ہوگا اور بہت سے لالچ دل سے نکال کر محنت کرنا ہوگی، شاید تب جا کر احساس ہو کر اپنی محنت کاصلہ خود سراہنے کے لیئے دیکھے ہوئے نتائج کا پرکھاؤ بہترین طریقے سے آنا چاہیے۔
پھر جا کر کہیں نہ کہیں وہ والی تسلی ہوتی ہے جب کوئی لڑکی چوری چوری نظروں سے آپکو دیکھ رہی ہو اور آپ کو اپنی خوبصورتی پر خوشی ہو رہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *