تھری ڈی گلاسز۔۔۔روبینہ فیصل

جب بزرگوں نے اخلاقیات کے معیار مقررکئے تھے تو جدید ٹیکنالوجی نہیں تھی، اب جو بچے کچھے بزرگ ہیں وہ جدیدیت اور قدیمیت میں الجھ کر رہ گئے ہیں اور اس میں انہیں دھیان ہی نہیں کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کو مد نظر رکھتے ہو ئے اخلاقیات کے کچھ قوانین ہی وضع کر دیں۔
ایک چھوٹی سی مثال ہے وٹس ایپ گروپ بنائے جاتے ہیں۔ جنہیں ہم جانتے ہیں، دو چار مل کر ایسا کو ئی گروپ بنا لیں اور پو چھے بغیر ایڈ کر دیں تو کم حرج ہوتا ہے، آپ کو حصہ نہیں بننا تو آپ دو چار انہیں بلاتکلف سنا کر گروپ چھوڑ دیتے ہیں یا وہ آپ کو نکال دیتے ہیں، تو بے تکلفی کی وجہ سے عزت کا نقصان دونوں پارٹیوں کو کچھ زیادہ محسوس نہیں ہوتا۔ مگر یہ کیا کہ جنہیں ہم دور پار سے جانتے ہیں وہ بھی کوئی گروپ بنانے کا سوچیں تو بغیر کسی کی اجازت کے کھٹ پھٹ ایڈ کر لیں اب اس بلا اجازت ملنے والی عزت افزائی پر گھر بیٹھا انسان خوش ہو کہ غمگین، ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا ہو تا ہے کہ اس گروپ میں میسجز کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔ایک دو تین۔ لاتعداد۔ مجھ جیسے کچھ آدم بیزار جنہوں نے حال ہی میں اپنا فون نمبر فقط اس لئے تبدیل کیا ہو کہ بس خود کو محدود لوگوں تک محدود رکھنا ہے اور جنہوں نے فیس بک بھی اس لئے چھوڑ دی ہو کہ ٹو مچ انفارمیشن ان سے سنبھالے نہیں سنبھلتی اور دل کی حالت ابتر اور دماغ کی ابتر ترین ہو نے لگتی ہے، ایسے لوگوں کو جب بلا اجازت کسی بھی گروپ میں ایڈ کر کے ان پر وہی فیس بک والا تشدد شروع ہو جاتا ہے تو بتائیے ایسے بیچاروں کی اس روئے زمین پر کہاں جان کی امان ہے۔ فوراً  گروپ چھوڑو تو ایڈمن جو ظاہر ہے آپ کا دور پار کا ہی سہی مگر جاننے والا ہو تا ہے حیران پریشان ہوتا ہے اور  اسے پرسنل لے کر آپ سے ناراض بھی ہو سکتا ہے۔۔ پھر گروپ ایڈمن کسی بھی وجہ سے یہ فیصلہ کر لے کہ آپ اس کے معیار پر پو رے نہیں اتر رہے، خاموش ہیں یا زیادہ بول رہے ہیں تو وہ آپ کو بغیر کسی وارننگ کے گروپ سے نکالتے ہو ئے آپ کے گزشتہ جذبات کی عصمت دری کے لمحات کو بھول کر آپ کا سر ِ عام قتل کر دے گا۔لو جی جن کی عزت کی وجہ سے آپ صبر کا کڑوا گھونٹ بھرے بیٹھے تھے انہوں نے آپ کے جذبات کا گلا پل بھر میں گھونٹ گھانٹ کے آپ کے ہاتھ میں تھما دیا ہے۔۔۔

انٹر نیٹ کے کمالات اور سوشل میڈیا کے معجزات اور ان سب کے ثمرات، آپ نہ بھی کھانا چاہیں تو بچت پھر بھی ممکن نہیں۔ بھلے وقتوں میں شادی ایسا لڈو تھی جسے کھانے اور نہ کھانے والے دونوں پچھتاتے رہتے تھے، آجکل شادی کی جگہ سوشل میڈیا نے لے لی ہے۔کہنے والے یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ کیا کبھی شادی کی اخلاقیات بنائی گئی ہیں جو سوشل میڈیا کی بن جائیں۔۔ یہ بھی ٹھیک ہے لیکن شادی کا نقصان دو افراد تک محیط ہو تا ہے، سوشل میڈیا کی تباہی کی رینج بہت وسیع و عریض ہے۔ ایک بات اور ہے اس انٹرنیٹ کے دور میں اب بے عزتی کرنا کتنا سہل ہو گیا ہے اس کے لئے نہ تو کسی کے پاس جانا پڑتا ہے اور نہ بلانا پڑتا ہے۔ ایک بٹن دبانے کی دیر ہے اور متعلقہ شخص تک آپ کی بے عزتی ایک پل میں جا پہنچتی ہے۔ اس سے پہلے کسی کی بے عزتی کرنا اتنا آسان کبھی بھی نہ تھا۔

شادی کے حوالے سے ایک اور بات یاد آئی ہے جب کسی کا رشتہ ہونا ہو تا ہے اور شکار ہونے والے مشورے کے طالب ہو تے ہیں، اس وقت زیادہ تر لوگ انہیں ہرا ہرا دکھاتے ہیں جو وہ سننا چاہتے ہیں بالکل ویسا ہی انہیں سنا دیتے ہیں تب کوئی نہ ماضی کے مردے اکھاڑ کر لاتا ہے اور نہ ہی حال کی داستان کو حقیقی آنکھوں سے دیکھتا ہے، تھری ڈی گلاسسز پہنا کر سب کچھ دلکش اور دل پذیر۔۔ نہ کوئی مستقبل کے اندیشے نہ کوئی حساب کتاب نکالتا ہے۔۔ بس رشتہ اذدواج میں بندھنے والوں کو کہہ دیا جاتا ہے بسم اللہ کریں جی سب اچھا ہو گا بلکہ زمین آسمان کے قلابے ملانے کا آغاز ایسی ہی کسی مہم سے ہو ا ہو گا۔۔ کچھ کنزرویٹوز سوچ کے حامل پلس مائنس، ماضی اور حال کی کچھ کڑیوں کو ملاتے ہو ئے حقیقت دکھانے کی کوشش کر تے ہیں کہ ایسا تھا، ایسا ہے تو ایسا ہو سکتا ہے مگر اس وقت ان کی باتوں کو دیوانے کی بڑ کہہ کر جھٹلا دیا جاتا ہے اور وہ کڑ کڑ کر کے کڑک مل کر دم سادھے بیٹھ جا تے ہیں اورشادی ظہور پذیر ہو جاتی ہے اور ہو تے ہی آسمان کیا رنگ بدلتا ہو گا جو وہی لوگ جو اس شادی کو لے خوابوں کی ایک حسین وادی دلہا دلہن اور ان کے خاندانوں کے سپرد کر چکے ہو تے ہیں ایکدم سے بدلتے ہیں ہیں جیسے تین دفعہ قبول میں کوئی ایسی طاقت ہو جو کھوئی ہو ئی بینائی کو واپس لے آتی ہو، وہ طعنے، مینے، پھبتیاں کسنا، صلواتیں سنانا، اگلے پچھلوں کو قبروں سے نکال کر یا پیدا ہونے سے پہلے اس دھرتی پرکھجل کرنا، سب ایکدم سے شروع ہو جاتا ہے۔۔ اب جو لوگ بیاہ رچنے سے پہلے کچھ بے غر ض ہو کر عقل و شعور کی بات کر رہے ہو تے ہیں وہ چلانا شروع ہو جاتے ہیں اب کیڑے نکالنے کا کیا فائدہ اب جو ہوگیا سو ہوگیا اب رشتہ چلنے تو دو، ہنی مون پیریڈ گذرنے تو دو، دلہا دلہن کو ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گذارنے کا موقع تو دو۔۔ پر نہ جی وہی جلد باز، جذبات سے لبریز، نا عاقبت اندیش، ذاتی مفاد پرست کو الٹے کھڑے ہو کر پر فارم کر رہے ہو تے ہیں۔۔ نہ ان کو سیدھا کھڑے ہو کر چلانے سے کوئی روک سکا تھا نہ اب انہی پاوں پر الٹے کھڑے ہو کر اسی تصویر کو الٹا کر نے کی پاداش میں انہیں کو ئی کچھ کہہ سکتا ہے، جس تصویر کو انہوں نے واٹر کلر ز سے پکے رنگ میں رنگا دکھایا تھا۔۔ اب وہ یہ شادی چلنے نہیں دیں گے ہر وہ بات جو اس شادی کو توڑ دے ان کی زبان پر ہو گی۔۔

یہی حال ہمارے ان کارکنوں،صحافیوں اور دانشوروں کا ہے جنہوں نے عمران خان کی حکومت سے پہلے پانی سے اس تصویر میں وہ وہ رنگ بھرے کے دیکھنے والوں کی آنکھیں چندھیا گئیں۔۔ خواب بہت بڑے دکھا دئیے جائیں تو دیکھنے والی آنکھ حقیقت پسندی سے دور جا کھڑی ہو تی ہے اور ہلکی سی امید بھی ٹوٹے تو لگتا ہے آسمان سر پر آگرا ہے۔۔ عمران خان کے ساتھ بھی یہی ہورہا ہے، اس کے گرد خوبصورت خوابوں کا محل کھڑا کرنے والے متلون مزاج، ذاتی مفاد پرست اور نا عاقبت اندیش لوگوں نے جتنا نقصان عمران کو پہنچایا وہ کسی دشمن میں پہنچانے کی طاقت نہ تھی۔۔ عمران کی حکومت آنے سے پہلے لوگوں کی انگلی تھام کر انہیں کس کس جنت کی سیر نہ کروائی گئی تھی۔تب کچھ تاریخ کا علم رکھنے والے سمجھدار تالاب سے پھدک پھدک کر ٹرانے کی کوشش کرتے تو منہ کی کھاتے، کارکن کی گالی اور دانشور کی دانش ان کا منہ توڑ کے رکھ دیتی۔اس کا نقصان یہ ہے کہ اب عمران پچھلی حکومتوں سے کتنا بھی اچھا کیوں نہ ہو جائے، اس کی حکمت عملیوں کے نتائج کتنے بھی دور رس اور عوام کے لئے فائدہ مند ثابت ہو رہے ہوں یا ہونے جا رہے ہوں۔۔ تھوڑ دلی کے ہجوم میں صبر اور شعور کی موت کر نے والوں نے پکا کام کیا ہے۔ اب عمران کے ساتھ عوام کی شادی کو چلنے نہ دینے کی گونج پو رے زور شور سے ہواؤں میں شامل کی جارہی ہے۔۔ جب نواز شریف کو ہٹانے کی خاطر عمران خان دھرنا دیا کرتا تھا تو یہی مزاج اسے اپنانے کی ضرورت تھی۔۔ کسی کے خلاف استعمال کیا گیا ہتھیار جب اپنے ہی خلاف استعمال ہونے لگے تو سمجھ جائیں کہ کیاریوں میں بیج ہی غلط ڈال دیا گیا ہے۔ اخلاق، شعور اور مفاہمت کے برعکس تربیت دئیے گئے کارکن آج مخالف کے لئے استعمال ہو سکتے تو کل کووہی آپ کے لئے بھی ہو نگے کیونکہ آپ بھی اسی دھرتی کے باسی ہیں کسی اور سیارے کی نہیں۔۔ آپ کا باغ مختلف نہیں ہو سکتا، انہی پودوں پر مشتمل ہو گا جو کل آپ نے لگائے تھے۔۔ تھری ڈی عینک لگا کر منظر کو قریب سے دیکھیں،تھری ڈی لگا کر اصل منظر کو نظر سے اوجھل نہ کر یں۔۔ نہ اپنی نہ لوگوں کی۔۔
شادی ہو گئی ہے تو کامیاب ہو نے کے لئے وقت دیں، نکاح نامے پر سائن ہو تے ہی لڑکے یا لڑکی کے وہ عیب نہ دیکھیں جو سائن سے پہلے دیکھنے کی ضرورت تھی۔۔۔۔۔۔۔

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”تھری ڈی گلاسز۔۔۔روبینہ فیصل

  1. اچھا لکھا ہے۔ جیسی روح ویسے فرشتے، جو ہو رہا ہے وہ تو ہونا ہی تھا۔ قوم اور سیاست میں حقیقت پسندی داخل ہونے تک ڈیژاوو برداشت کرنا پڑے گا۔ غلط بنیاد کا شور مچانےوالے کل بھی مردود تھے اور آئندہ بھی رہیں گے، ہم تو پچھتا کر بھی راہ نہیں بدلتے

  2. جو لکھا گیا ہے اس سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا، مگر
    بغیر کسی تھری ڈی لینز کے یہ حقیقت بھی نظر انداز
    کرنا آسان نہیں ہے کہ اس ‘شادی’ کے دوران نہ صرف دولہا
    نے خود نا چنے میں جی بھر کر حصہ لیا بلکہ سب سے اونچی آواز میں گانے گا کر نہ صرف باراتیوں بلکہ تمام اہل محلہ کی توجہ اپنے فن کی جانب مبذول کرائی اب اگر شادی کے بعد بھی اگر باراتی اور دیگر مکرر، مکرر کے نعرے لگا رہے ہیں تو اس کا انہیں مکمل دوش دینا حق بجانب
    نہیں ہو گا
    قیصر رضا –

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *