قندیل بلوچ، قصور وار کون؟۔۔۔۔ خضر حیات خان

qandeel-1قندیل کا باپ مجبور اور بے بس تھا. پورا معاشرہ ذمہ دار ہے اس کھلی بے انصافی کا.

صرف قندیل کے باپ کو اس کے قاتلوں کو بچانے کے لیے ذمہ دار ٹھہرانا کسی طرح بھی انصاف نہیں ہے. پورا معاشرہ ذمہ دار ہے اس کھلم کھلا بے انصافی کے لیے۔ اس بے بس اور مجبور باپ کے پاس ایک ہی طریقہ تھا اس جھوٹی گواہی سے بچنے کا کہ سچی گواہی دے کر کوئی زہر کا پیالہ پی لیتا کیونکہ اس سچ کے بولنے کے بعد ہمارے جھوٹے سماج میں اس کے لیے کوئی جگہ نہ تھی. چونکہ قندیل کا باپ اپنے آپ کو ایک ہی بار پھانسی نہیں لگا سکا تو اب جب تک جیے گا اپنے آپ کو ہر پل پھانسی لگاۓ گا. بار بار مرے گا اور بار بار جیے گا. اور اچھا تو یہی ہے کہ بے چارہ زیادہ زندہ نہ رہے اور اس تاعمر پچھتاوے کے پھانسی گھاٹ سے نجات پاۓ.

حکمران ذمہ دار ہیں کہ ہمارے ہاں ایسے اندھے قانون ہیں جو اپنے گلے میں پھنسی مکھی بھی نہیں نکال سکتے۔ ہمارے مذہبی رہنما ذمہ دار ہیں کہ سراسر اللہ کے حکم کے خلاف قصاص اور دیت جیسے قوانین کا غلط استمال ہوتا ہے. قران کے حکم کے مطابق یہ قانون صرف اس صورت میں استعمال ہوتا ہے جب کوئی قتل بھول چوک سے ہو جاۓ مگر دیدہ دلیری سے کیے جانے والے قتال میں ہرگز نہیں. ہمارے سماج کے ٹھیکیدار ذمہ دار ہیں کہ لوگ اپنی آزادی اور مرضی سے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے.qandeel-baloch

یاد کریں اس لڑکی کی وڈیو کو جس میں اس کو اپنی مرضی سے شادی کرنے پر بھائی صاحبان نے اپنی طرف سے جان سے مار کر چھوڑ دیا تھا۔ اس بے چاری کی زندگی تھی بچ گئی اور انٹرویو کرنے والے صحافی کو وہ بتا رہی تھی کہ میرے گھر والوں نے میرے سسرال والوں کو لوگوں سے کہلوا کہلوا کے مجبور کر دیا تھا کہ میں ان کو معاف کر دوں. میں ان کو بالکل معاف نہیں کرنا چاہتی تھی مگر شوہر کے مجبور کرنے پر میں نے معاف کر دیا.

قندیل کا باپ مجبور اور بے بس ہے. پورا معاشرہ ذمہ دار ہو وہاں اکیلا قندیل کا باپ کیا کرتا؟

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *