ہم اور ہماری مرعوبیت ۔۔۔۔ شہباز علی رانا

دنیا میں کسی بھی قوم (یا کسی ملک کے شہریوں) کی ذہنی ترقی یا پسماندگی جاننے کے مختلف پیمانے ہیں ۔اگرچہ انہیں ایک اٹل اصول تسلیم نہیں جا سکتا تاہم ان سے اس سماج کی ایک عمومی تصویر ضرور سامنے آجاتی ہے۔جب ہم پاکستانی قوم کی ذہنی پسماندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو اس میں تعلیم اورسماجی شعور کی کمی کے ساتھ ہمارے سامنے ایک اور بڑی وجہ بھی آتی ہے۔ یہ وجہ ہے مرعوبیت۔ ہمارا معاشرہ صدیوں سے بادشاہت اور جاگیردارانہ استحصال کا شکار رہا ہےاور اسی استحصال کے باعث مرعوبیت ہماری جینز میں سرایت کر چکی ہے۔ اس مرعوبیت کی متعدد صورتوں سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے اور ہم اسے محسوس کیے بغیر خود بھی اس میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اس کی چند ایک چھوٹی چھوٹی مثالیں، جو حقیقت میں بڑی ہیں، ہمیں یہ سمجھانے کے لیےکافی ہونی چاہئیں کہ ہم اپنے دشمن آپ ہیں۔

ہم زندگی میں متعدد بار اس طرح کے جملے سنتے ہیں کہ فلاں شخص کی بیٹی گھر سے بھاگ گئی۔ اس جملے میں جس شخص کا ذکر کیا جاتا ہے، 99 فیصدکیسز میں اس کا تعلق سماج کے نچلے یا متوسط طبقے سےہوتا ہے۔ اگر یہی فعل معاشرے کے کسی بڑے بزنس مین یا سماجی طور پر مستحکم شخص کی بیٹی نے کیا ہو تو ہمارے جملے کی ساخت ہی تبدیل شدہ نظر آتی ہے۔ ایسی صورت میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص کی بیٹی نے اپنی پسند سے شادی کر لی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اسی محفل غیبت میں ہمیں ایسے افراد بھی مل جاتے ہیں جو پسند کی شادی کے حق میں دلائل دیتے نظر آئیں گے جبکہ یہی دلائل پہلے کیس کی صورت میں کہیں دفن ہوئے ہوتے ہیں۔

اسی طرح ہم معمولی نوعیت کی چوری کرنے والے شخص کو منہ پھاڑ کر چور کہتے ہیں جبکہ بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کرنے والے کو صنعتکار یا بزنس مین کے نام سے پکارتے ہیں۔ گلی میں خالی ہاتھ ایک دوسرے کا گریبان پھاڑنے والے لڑکے بدمعاش کہلاتے ہیں جبکہ اپنے پالتو مسلح غنڈوں کے ذریعے مذکورہ سہولت عوام کو بہم پہنچانے والے چودھری، ملک، رانا یا بٹ صاحبان کے اسمائے گرامی سے جانے جاتے ہیں اور الیکشن میں آپ کے ووٹ کے صحیح حق دار بھی ٹھہرتے ہیں۔

یہی مرعوبیت ہمیں اس سیاسی دلدل میں دھکیلتی ہے جس کا شکار ہمارا پورا معاشرہ ہے اور ہم اس کی متوقع تباہی کا رونا تو روتے ہیں لیکن اس مشکل کے عملی حل کی جانب کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔ اسی مرعوبیت کے باعث کوئی ایسا شریف اور تعلیم یافتہ شخص انتخابات میں ہماری نمائندگی کے حق سے محروم رہتا ہے، جس کے مالی وسائل ہمارے برابر ہوں جبکہ ہم پورے اطمینان بلکہ جوش کے ساتھ اس طبقے کے افراد کو اپنے ووٹ کے ذریعے طاقت اور اختیار عطا کرتے ہیں جن کا رہن سہن ، مالی حیثیت اور سوچنے کا انداز ہم سے بالکل جدا ہوتا ہے۔ جب یہ لوگ ہمارے ہی ووٹوں سے منتخب ہو کر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہیں تو ہمیں دوبارہ ان کی خدمت میں اپنے مسائل پیش کرنے کے لیے گھنٹوں بھکاریوں کی طرح عرضیاں پکڑ کر ذلت اٹھانا پڑتی ہے۔ اگر قسمت سے ہماری عرضی منظور ہوجاتی ہے تو ہم پھر سے ان لوگوں کے گن گاتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ ہمارا یہ کام ہمارا حق تھا جو بن مانگے ہمیں ملنا چاہیے تھا لیکن ہمیں اس کے لیے گداگروں کی طرح تقاضا کرنا پڑا۔

یہ ہے ہماری جینز میں سرایت کر چکی مرعوبیت جس کے باعث ہم گڑگڑانے اور ہاتھ پھیلانے کو عار نہیں جانتے۔ مرعوبیت کی سب سے زیادہ ذلت آمیز صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہم سماجی نا انصافی کو مذہبی لبادے میں لپیٹ کر پیش کرتے ہیں کہ خدا جسے چاہے، عزت دے اور جسے چاہے ذلت۔ یہ قرآن اور خدا کی سراسر توہین ہے کہ ہم اپنی جہالت کو کلام الٰہی سے جواز دینے کی کوشش کریں۔اس مرعوبیت اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والی ذلت سے جس طرح اہل مغرب بشمول ترقی یافتہ ایشیائی اقوام نے جان چھڑائی ہے،وہ ہمارے لیے ایک مثال ہے۔ اقوام مغرب کے تذکرے سے قبل یہ بات کہنا ضروری ہے کہ اسلام میں ایسی کسی مرعوبیت کی گنجائش کبھی نہیں تھی۔ دور اسلام کے ابتدائی عرصے میں بھی اس کا کوئی وجود نہ تھا تاہم جب خلافت بادشاہت میں تبدیل ہوئی تو رعایا کو پہلے جبر و تشدد کے ذریعے اس کا عادی بنایا گیا اور پھر مسلمان بھی باقی دنیا کی طرح اس کے عادی ہوتے چلے گئے۔دنیا بھرمیں طویل عرصے تک جاری رہنے والی اس مرعوبیت پر دوبارہ کاری ضرب لگانے کا سہرا بلاشبہ انقلاب فرانس کے سر ہے، جس نے یورپ میں عوامی بیداری کو جنم دیا اور مغربی معاشرے انسانوں کے یکساں حقوق کے تصورسے آشنا ہونےلگے۔انسانی حقوق اور خاص و عام میں تمیز نہ رکھنے کا تصوراس وقت جن ممالک میں پوری قوت کے ساتھ موجود ہے، وہی دنیا کی قیادت کر رہے ہیں۔ یہاں کوئی شخص ان ترقی یافتہ ممالک میں سے بھی جس کی لاٹھی، اس کی بھینس کی مثالیں پیش کر سکتا ہے لیکن ایسی اکا دکا مثالوں سے معاشرے کے مجموعی چہرےکو تبدیل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ دنیا سے برائی کا سو فیصد خاتمہ ممکن نہیں، لہٰذا 98 یا 99 فیصد کو بھی سو فیصد ہی سمجھیے۔

مرعوبیت کے اس موذی مرض کے خاتمے کے لیے جہاں تعلیم اہم کردار ادا کرتی ہے، وہیں کسی بھی سماج کے افراد میں اس ذلت کا شعور اور اس کے خلاف جدوجہد کا حقیقی جذبہ پیدا ہونا بھی اہم ہے۔ جب تک افراد معاشرہ اس ذلت اور رسوائی کو قدرتی اور فطری عمل سمجھیں گے، ان میں اس غیر علانیہ نظام سے نفرت اور اس کے خاتمے کی خواہش بیدار نہیں ہو گی۔ اس سلسلے میں پہلا قدم عزت نفس کا احساس پیدا کرنا اور اسے مجروح ہونے سے بچانا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اسی پہلے قدم کی ضرورت سب سے زیادہ ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *