پانامہ کیس کے مالی معاملات اور ہمارے صحافتی مالی

پانامہ کیس میں جب سے فنانشل ٹرانزیکشن ، ٹیکس دستاویزات اور پراپرٹی ٹرانسفر کے معاملات پر بات
شروع ہوئی ہے ، اینکر خواتین و حضرات کا حال دیکھنے لائق ہے ۔۔۔ کسی کو گھنٹہ کچھ نہیں پتا ، بیچاروں کا دماغ پورے پچاس منٹ گھنٹہ گھر کی طرح بس ٹن ٹن بجتا رہتا ہے لیکن منڈی ایسے ہلتی رہتی ہے جیسے پیٹر ایف ڈرکر کے والد بزرگوار ہوں ۔۔۔

شاہ زیب خانزادہ کی حالت سب سے زیادہ قابل دید ہوتی ہے ، چہرے سے ظاہر ہو رہا ہوتا ہے کہ ککھ پلے نہیں پڑ رہا لیکن اب لاعلمی چھپانی بھی تو ہے لہٰذا کچھ عجیب مسمسی سی شکل نکل آتی ہے ۔۔۔ یقین نہ آئے تو آج دیکھئے ۔۔۔ سچ تو یہ ہے کہ ایک وہی کیا ، سارے ہی نیوز اینکرز کا ٹیکس اور فنانس کے معاملات کا علم صفر سے زیادہ نہیں ۔۔۔

tripako tours pakistan

ویسے بفضل تعالیٰ ، دروغ بہ گردن راوی ساری صحافتی چوپال ہی کاروباری معاملات کو سمجھنے سے فارغ ہے ۔۔۔ اور یہ کوئی آج کی بات نہیں ، کاروباری اور صنعتی طبقے کو چور سمجھنے کی روایت کی جڑیں ہمارے جاگیردارانہ کلچر سے عبارت معاشرے میں پیوستہ ہیں ۔۔۔ ذہنوں میں راسخ ہے کہ آمدنی وہ جائز جو ہل چلا اور پسینہ بہا کر آئے اور صنعتی اور تجارتی ذرائع کی آمدنی بس چوری اور دھوکہ دہی سے ہی ممکن ہے اور یہ کہ کاروبار اور تجارت میں کمائی دو نمبری کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔۔۔ سوچ یہ ہے کہ منافع تو بس ناجائز ہی ہوتا ہے ورنہ نیکی تو یہ ہے کہ جس دام لو اسی دام بیچ دو اور اللہ اللہ کرو ۔۔۔

بھائی لوگو دنیا کے بڑے بڑے تجارتی اور صنعتی ایمپائر کیسے دس بیس برس میں کھڑے ہوگئے، کبھی جان کر تو دیکھو ۔۔۔ لیکن افسوس کہ عام صحافتی ذہن اس حقیقت کے ادراک سے ہی قاصر ہے ۔۔۔ اگر پیسے والا ہے تو ضرور چور ہی ہوگا ، لوگوں کا خون پی کر پیسہ کمایا ہوگا اور اس سوچ کو پروان چڑھانے میں گئے دور کی ہماری مدر انڈیا ٹائپ فلموں اور مزدور مارکہ ادب کا بھی بڑا ہاتھ ہے ۔ ہمیں اس کوزے سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ میاں جرنلسٹ اب اپنے کنوئیں سے باہر نکل بھی آئیے اور تازہ ہوا میں سانس لیجئے اور جدید لٹریچر اور نئی بدلتی ہوئی دنیا کے نئے فلسفے جانیئے۔ چارلس ڈکنز اور ڈینیل ڈیفو کا زمانہ لد گیا۔ کب تک منٹو ، کرشن کے درشن کرتے رہیں گے بس بہت ہوا۔

Advertisements
merkit.pk

ملک ریاض نے سلیم صافی کو اس حوالے سے جو جواب دیا تھا، وہ دراصل پوری صحافتی برادری کیلئے تھا۔ ملک ریاض نے جو کہا تھا، اس کا مطلب یہ نکلتا تھا: ’’ دو روپے کا کاروبار کبھی کیا نہیں ، چلے ہیں ہمیں کاروباری اخلاقیات پڑھانے! ‘‘

  • merkit.pk
  • merkit.pk

فاروق احمد
کالم نگار ، پبلشر ، صنعتکار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply