صبح عید مجھے بد تراز چاک گریباں ہے ۔۔۔ راشد احمد

ہر عہد میں عظیم سمجھے جانے والے روسی ادیب ٹالسٹائی کے ایک ناول کا آغاز اس جملے سے ہوتا ہے کہ تمام سکھی گھرانے ایک جیسے ہوتے ہیں اور ہر دکھی گھرانے کے اپنے غم ہوتے ہیں۔ اس قول کی سچائی ہر عہد میں مسلم رہی ہے، خصوصاً ہمارے ہاں اس قول کی سچائی آج بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ اس سے بڑھ کر المیہ یہ ہوا کہ ان دکھی گھرانوں کے خودساختہ ترجمان وہ لوگ بن گئے جو خود کو شمار تو دکھی گھرانوں میں کرتے ہیں لیکن تعلق ان کا اس طبقہ سے ہے جسے دنیا جہان کی تمام سہولیات دستیاب ہوتی ہیں۔ گھر، گاڑی، نوکر، بینک اکاؤنٹس اور آج کی تمام عیاشیاں جسے ہمہ وقت دستیاب ہوتی ہیں۔ یہ جب دکھی گھرانوں کا نوحہ لکھتے ہیں تو دراصل یہ اپنا نوحہ لکھتے ہیں اور اپنا موازنہ اس طبقے سے کررہے ہوتے ہیں جسے حکمران طبقہ کہا جاتا ہے۔ ان کے پاس چونکہ وہ عیاشیاں نہیں ہوتیں جو حکمرانوں کے پاس ہوتی ہیں اس لئے ان کی نوحہ خوانی کے جملہ اجزاء بھی ان باتوں پر مشتمل ہوتے ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ غریب کا نہ کوئی نام لیوا ہے نہ ہی کوئی اس کے غموں کا مداوا کرنے والا۔ نہ کوئی اس کا مقدمہ لڑنے والا ہے نہ ہی کوئی ترجمان۔ وہ صدا کا بے نوا ہے جس کے نام پر اشرافیہ نے ہمیشہ اپنی بوریاں اور پیٹ بھرے ہیں۔ اس ملک میں مذہب کے بعد جس قدر غریب کے نام کا استحصال ہوا ہے شاید ہی کسی اور چیز کا ہوا ہو۔ غربت اور فاقہ مستی کی سختیاں جھیلنے والا عام آدمی جسے دو وقت کی روکھی سوکھی روٹی بھی مشکلوں سے نصیب ہوتی ہے، اس کا نام لیوا بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتا ہے اور ٹھنڈے کمروں میں اس کے نام پر سیمینار ز منعقد کرتا ہے اور اس کے نام پر فنڈز جمع کرکے اپنے پیٹ کے جہنم کو بھرتا ہے۔

غریب، وہ غریب جسے عید پر بھی نئے کپڑے نصیب نہیں ہوتے اور پیوند بھی اتنے کہ شاعر جسے مفلس کی قبا کہتا ہے۔ جس کے پاوں میں پڑی چیز کو جوتا کہا جائے تو یہ جوتے کے ساتھ زیادتی ہے۔ کاغذ کو کپڑے کی لیروں کے ساتھ باندھ کر یہ صحرا کی انگارہ بنی ریت سے اپنے پاوں بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ غریب، وہ غریب کہ جس کےبچے سارا سال مرچیں کوٹ کر اس میں پانی ڈال کر روٹی کھاتے ہیں۔ عیدالاضحی جیسے بڑے اور بابرکت مواقع پر بھی اس کا حال یہ ہے کہ وہ در در کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے کہ کوئی اسے دو بوٹیاں دے دے لیکن اس دن بھی کچھ دروازوں سے اسے جھڑکیں اور محنت کی عظمت پر لیکچر سننے کو ملتے ہیں۔ ایک دوسرے کے مقابلے میں مہنگا جانور خریدنے والے اور اس پر اترانے والے انہی گھروں میں گوشت بھیج بھیج کر خوش ہوتے ہیں جنہوں نے خود بھی قربانی کی ہوتی ہے۔ گویا مکہ میں زورشور سے اسلام پھیلایا جارہا ہوتا ہے۔ سارا سال گوشت کا ذائقہ تک نہ چکھنے والے دردر سوال کرتے پھررہے ہیں اور ان کے نام پر قربانیاں کرنے والے اپنے فریج بھر رہے ہوتے ہیں۔ فریج کا پیٹ بھرجاتا ہے مگر ان کے ہوس زدہ پیٹ نہیں بھرتے۔

بچپن اور لڑکپن کی جس بے رحم یاد کا اب بھی دل پر اثر ہے، وہ یہ کہ جب بھی بڑی عید کا دن ہوتا، آس پاس کے اچھوت سمجھے جانے والے اقوام کی بچے اور خواتین صبح صبح ٹولیوں کی شکل میں مسلمانوں کے گھروں کے سامنے ڈیرہ ڈال لیتے، جہان ان کا استقبال گالیوں گھرکیوں اور دھتکار سے ہوتا۔ بعد میں آنے کا کہہ کر انہیں کسی اور دروازے کا سوالی بنا دیا جاتا۔ یہ فاقہ مست اور سال بعد گوشت کا ذائقہ چکھنے کی آس میں گالیاں سہتے مسکین لوگ ایک ایک کرکے تمام دروازے ناپ جاتے اور آخر کار اسی دروازے پر پہنچ جاتے جہاں سے انہوں نے آغاز کیا ہوتا۔ اب یہاں انہیں دروازے سے باہر دھوپ میں بٹھادیا جاتا اور جب دل کرتا ایک ایک دو دو بوٹیاں ان کی دامن میں پھینک دی جاتیں۔ پورے گاوں کا چکر لگانے کے بعدبھی ان ’’رسوائے زمانہ‘‘لوگوں کے دامن میں اتنا گوشت بھی نہ ہوتا کہ گھر والے سیر ہوکر کھانا کھا سکیں۔ خدا کی خاطر قربانیاں کرنےکا دعوی کرنے والے ایک کے بعد ایک جانور کا سر زمین سے لگا دیتے اور خون سے گلیاں گلنار ہوجاتیں لیکن وہ غریب جو سارا سال اس آس پر دن گزارتے کہ مسلمانوں کے بڑے دن پر گوشت کے ذائقہ سے لطف اندوز ہوں گے وہ بیچارے بس یونہی رال ٹپکاتے رہ جاتے۔ کوئی زیادہ فیاضی دکھاتا تو اوجھڑی بھی انہیں عطا کردیتا کہ جا بیٹا کیا یاد کرے گا کس سخی سے پالا پڑا تھا۔

مشتاق یوسفی کے قول کہ ’’ہم نے عالم اسلام میں کسی حلال جانور کو طبعی موت مرتے نہیں دیکھا ‘‘ کی عملی تفسیر بنے یہ فرزندان توحید جو سارا سال بھی گوشت پر ہاتھ صاف کرتے ہیں، عید والے دن بھی اپنے لئے یا اپنے دوسرے بھائیوں کے لئے ہی گوشت کا سامان کرتے نظرآتے۔غریبوں مسکینوں اور بے کسوں کے لئے ان کے پاس سوائے ایک آدھ بوٹی یا جھڑکیوں کے کچھ نہیں ہوتا حالانکہ انہیں تعلیم یہ ملی تھی کہ اس دن ان بے کسوں کو سوال سے بے نیاز کردو یعنی ان کے سوال کرنے سے قبل ہی انہیں غذا مہیا کرو۔

ہمارے ہاں قربانی اب بجائے قربانی کے گلیمر بن گیا ہے۔ ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی جانور وغیرہ خریدنے کا چلن تو عام تھا ہی، اب اس معاملہ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا پورا مقابلہ ہوتا ہے۔ ٹی وی چینلز نے اس بیماری کو وبا کی صورت دے دی ہے۔ ایک مقدس مذہبی فریضہ قریباً قریباً مذاق بن کررہ گیا ہے۔ قربانی کی اصل روح مفقود ہے۔ بہتیرے گھرانے ایسے ہیں جہاں عید والے دن بھی دال پکتی ہے۔ بندہ مزدور کے حالات تلخ تو تھے ہی اب ناگفتہ بہ ہوگئے ہیں۔ ضرورت ہے تو اس امر کی کہ قربانی کی اصل روح پر عمل کرتے ہوئے غریبوں بے کسوں اور سوال نہ کرسکنے والوں کی امداد کی جائے اور انہیں بھی اپنی خوشیوں میں شامل کیاجائے۔ کسی کی خوشی میں شامل ہونا یا کسی کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنا ایسے جذبے ہیں جن کا لطف کڑاہیوں اور کبابوں سے کہیں لذیذ ہے۔

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”صبح عید مجھے بد تراز چاک گریباں ہے ۔۔۔ راشد احمد

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *