• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • انکار حدیث ۔۔ یہ وہم کہیں تجھ کو گنہگار نہ کر دے ۔۔۔۔ ڈاکٹر طفیل ہاشمی

انکار حدیث ۔۔ یہ وہم کہیں تجھ کو گنہگار نہ کر دے ۔۔۔۔ ڈاکٹر طفیل ہاشمی

پاکستان میں غالباً غلام احمد پرویز اور ان کے مکتب فکر کے جواب میں حجیت حدیث اور انکار حدیث کی اصطلاحات متعارف ہوئیں اور کئی ایک ثقہ علماء نے بھی استعمال کیں. حیرت کی بات یہ ہے کہ مولانا تقی عثمانی صاحب کی ایک ہی کتاب کے اردو ایڈیشن کا نام حجیت حدیث اور انگریزی ایڈیشن کا
Authority of Sunnah
ہے. مولانا مودودی نے، جنہوں نے براہ راست فکر پرویز سے مکالمہ کر کے کتاب تالیف کی، اپنی کتاب کا نام “سنت کی آئینی حیثیت” رکھا۔
امر واقعہ یہ ہے کہ ادبیات قانون و فقہ اسلامی کے لیے حجیت حدیث اور انکار حدیث کی اصطلاحات مطلقاً اجنبی ہیں۔ تمام اسلامی لٹریچر “حجیت سنت” کی اصطلاح سے متعارف ہے۔ سنت و حدیث میں عام فہم فرق یہ ہے کہ کسی بھی قول، فعل اور خاموش تصویب کے عمل کو جس کی رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم کی طرف نسبت ہو حدیث کہتے ہیں، خواہ وہ نسبت درست ہو یا غلط۔ اسی لئے حدیث موضوع، مردود، مدلس، مرسل، منقطع اور شاذ وغیرہ ہوتی ہے، لیکن جب کوئی حدیث شک و شبہ سے بالا تر ہو کر (مختلف ائمہ کرام کے ہاں اس کے معیار مختلف ہیں) اس قابل ہو جائے کہ اس پر عمل کرنا قرآن کے حکم اطيعوا الله و اطيعوا الرسول کے زمرے میں آ جائے تو وہ سنت قرار پاتی ہے، وہی حجت ہے اور اس کا انکار موجب نکیر ہے۔

یاد رہے کہ کسی حدیث کا صحیح ہونا اس کے سنت ہونے کے لیے کافی نہیں ہوتا کیونکہ متعدد ایسی احادیث ہیں جو صحیح ہیں لیکن منسوخ ہو گئیں یا کسی خاص سیاق سے متعلق تھیں یا کسی فرد کے ساتھ مختص تھیں اور انہیں رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم نے سماج میں عام چلن کے طور پر متعارف نہیں کروایا۔

اگر کسی ایک یا چند احادیث کا محض انکار موجب نکیر ہو تو اہل علم صحابہ، تابعین، ائمہ مجتہدین، محدثین اور علماء کرام میں سے کوئی ایسی شخصیت تلاش نہیں کی جا سکتی، جس نے کسی نہ کسی حدیث کو رد نہ کیا ہو۔

یہ صرف قرآن ہے جو لفظاً متواتر ہے اور قرآنی اصطلاحات کی نبوی تعبیرات ہیں جو عملا متواتر ہیں۔

میری رائے میں اگر کسی شخص کا یہ نقطہ نظر ہے کہ “فہم قرآن کے لیے الفاظ قرآن کافی ہیں جو اپنا مفہوم قطعیت سے بیان کرتے ہیں” تو ضروری نہیں کہ ان الفاظ میں انکار سنت کا مفہوم تلاش کیا جائے بلکہ اس سے یہ مراد لی جانی چاہئے کہ وہ الفاظ قرآنی کے حفظ و تحفظ پر غیر متزلزل یقین رکھتا ہے. رہی یہ بات کہ ان الفاظ کا فہم کن کن علوم سے وابستہ ہے تو جس طرح اس عبارت میں عربی زبان و ادب، لغت جاہلی کا ذکر نہیں اسی طرح سنت کا ذکر بھی نہیں. اگر ایسا شخص قرآن کی آیت “لتبیین للناس ما نزل الیہم” پر یقین رکھتا ہے اور قرآنی اصطلاحات کی، مثلاً ایمان، اسلام، کفر، نفاق، صلوۃ، زکوۃ، صوم، حج، نکاح، طلاق وغیرہ، جن کو سنت نے ان کے لغوی معنی سے ہٹا کر اپنے خاص معانی میں استعمال کیا ہے، سنت کے متعین کردہ معانی کے مطابق تفسیر کرتا ہے تو اس پر کسی دوسرے عنوان سے بھلے تنقید کی جائے لیکن اسے اس حوالے سے منکر سنت نہیں کہا جا سکتا۔

اگر اخبار احاد کے ذریعے قرآن کے معانی کے تعین کا اصول تسلیم
کر لیا جائے تو قرآن کے قطعی الثبوت ہو نے کا صرف یہ مطلب رہ جائے گا کہ اس کے الفاظ قطعاً متواتر ہیں اور ان میں کوئی رد و بدل نہیں ہوا لیکن ہر شخص جانتا ہے کہ الفاظ محض مفاہیم پر دلالت کا وسیلہ ہیں اور اگر مفاہیم میں اخبار احاد کی بنا پر تغیر و تبدل کی راہ کھل جائے تو قرآن کے قطعی الثبوت ہونے کا کوئی معنی نہیں رہتا۔

میرے اب تک کے مطالعے کا ماحصل یہ ہے کہ قرآن کے مفہوم کا تعین سنت متواترہ سے ہی ہو سکتا ہے. جہاں تک بعض آیات کے ظنی الدلالة ہونے کا تعلق ہے تو اس کی وجہ احادیث نہیں ہیں بلکہ کوئی بھی آیت لغوی یا ترکیبی معانی میں اشتراک کے باعث اس وقت ظنی الدلالة ہو جاتی ہے جب سنت متواترہ کے ذریعے کسی ایک مفہوم کا تعین نہ ہو جیسے قروء کے معنی میں اشتراک، الصلوۃ کے مفہوم میں نمازاور مسجد کا اشتراک اور لا یضار کاتب ولا شہید کامطلب اور الا الذین تابوا کا مستثنی منہ (اس پر ان شاء اللہ تفصیل سے لکھا جائے گا). یاد رہے کہ خوارج نے رجم کی روایات کا انکار کیا، معتزلہ متعدد مسائل میں تاویل کی بنا پر جمہور سے الگ ہوگئے، ان کی تکفیر نہیں کی گئ. بلکہ موزوں پر مسح کی روایت، جسے متواتر قرار دیا جاتا ہے، سیدہ عائشہ، ابن عباس اور حضرت ابو ہریرہ کی رائے کے مطابق نزول مائدہ سے قبل کا حکم تھا. صحابہ کرام قبول و رد روایات کی بنا پر ایک دوسرے کی تفسیق نہیں کرتے تھے۔

اخبار احاد کا اختلاف، در حقیقت اختلاف تنوع ہے، جس کے باعث امت کے لیے وسعت پیدا ہو گئی اور ہر طرح کے افراد اور متنوع سماج کے لیے اسلام کے دائرے کے اندر مختلف
way out
دئیے گئے. جس کی تائید سنن ترمذی اور المیزان الکبری سے ملتی ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *