حکمتیں 4 ۔۔۔۔۔ تاریخِ تربوز/راجہ محمد احسان

یوں تو عبدالحکیم صاحب طبی   اور طبعی طور پہ “جٹ” ہیں لیکن کھانے پینے کے معاملے میں طبیعتاً “بٹ ” ہیں۔ مرغی پکی ہوتی تو کہتے ہیں  لو بھائی ایک لات تو میں کھاؤں گا باقی لاتیں کون کھائے گا؟۔ کھانے پینے کا اس قدر شوق ہے کہ پھل میں تربوز کو سب سے زیادہ  پسند کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہ  بیان فرماتے کہ بھائی واحد پھل ہے جسے کھا بھی سکتے ہیں اور پی بھی سکتے ہیں ۔ کسی دوست نے کہا حکیم صاحب اس طرح تو انگور بھی ہے۔۔۔ آپ انگور کھا بھی سکتے ہیں اور پی بھی سکتے ہیں ۔۔۔ حکیم صاحب زبان سے تو کُچھ نہ بولے لیکن دوست کی طرف ایسی نگاہ سے ضرور دیکھا کہ جیسے کہہ رہے ہوں کہ میاں اپنی صحبت ٹھیک کرو ،تم نے کسے انگور کھاتے دیکھ لیا؟۔کھانے پینے کا اس حد تک شوق ہے کہ آپ کو پانی پت کی جنگ زبانی یاد ہے۔ اکثر فرماتے تھےکہ جو پانی پت کی جنگ میں ہندو اس طرح گاجر مولی کی طرح نہ کٹے ہوتے تو آج ہندوستان میں گاؤ ماتا کا پیشاب پچیس روپے کی جگہ پچھتر روپے لیٹر میں فروخت ہو رہا ہوتا ۔

کسی دوست نے کہا ” حضور تربوز اس قدر شوق سے نوش فرماتے ہیں ، کُچھ اس کی تاریخ بھی پتہ ہے؟”۔ اس سوال پہ بہت مسرور ہو کے فرمایا لو بھائی مجھے تمھاری ذہانت پہ کبھی بھی شک نہیں تھا لیکن آج یہ سوال کر کے تم نے دِل جیت لیا۔۔۔ ۔ قصہ کچھ یوں ہے میاں کہ جس وقت ہندوستان میں انگریز سرکار کی حکومت تھی لارڈ ماؤنٹ صاحب شام کے وقت شمشاد گھاٹ کی سیر کو نکلا کرتے تھے۔ شام کے اسی سمے تربوز سروں پہ اور مشکیزے کمر پر رکھے ہندو ناریاں “ملن رُت آئی” گیت گاتی گھاٹ پہ پانی بھرنے آتی تھیں ۔ لارڈ ماؤنٹ کے منہ میں ان ناریوں کو دیکھ کے پانی آ جاتا تھا لیکن زبان سمجھنے سے قاصر تھے۔آپ کے اردلی نے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں سمجھایا کہ حجور واٹر اینڈ مِلن ۔ اس پہ لارڈ صاحب نے فرمایا اوہ! آئی سی ۔۔۔واٹر مِلن۔۔۔۔آئی لائک واٹر مِلن۔ یہاں سے اس پھل کا نام واٹر مِلن پڑگیا جو بعد میں بِگڑ کر واٹر میلن ہو گیا۔۔۔۔ارے بھائی شَُکر کرو ہندوستان پہ انگریز کی حکومت تھی جو کہیں امریکی یہاں حکمران ہوتےتو کُچھ بعید نہیں تھا کہ اس پھل کے نام میں کہیں اِنگ( ing)کا بھی اضافہ ہو جاتا۔

اُنہی وقتوں میں رام گوپال ورما صاحب بھی گزرے ہیں جو تربوز کا کاروبار کیا کرتے تھے۔واٹر میلن کے نام پہ اُن کے ذہن میں آ کے زبردست سازش نے جنم لیا۔اُن وقتوں میں ایک آنے کے دس بارہ تربوز آ جایا کرتے تھے۔ رام گوپال ورما صاحب نے سب ہندوؤں کو جمع کیا اور بڑی دل سوز تقریر کرتے ہوئے  فرمانے لگے کہ انگریز ہم سے ہماری آزادی تو چھین سکتا ہے ہمارے پھل نہیں چھین سکتا ۔ تربوز ہمارا پھل ہے ، ہمیں کسی صورت بھی اس کا نام واٹر میلن قبول نہیں ، ہمارا پھل ۔۔۔ ہمارا نام ۔ ۔۔۔ آج سے پھل کا نام ہندوآنہ ہو گا اور ایک آنے کا ایک ہندوآنہ ملا کرے گا۔ یوں رام گوپال ورما صاحب نے چِکنی چُپڑی باتوں سے ہندوؤں کے دِل جیت لئیےاور ساتھ ہی ساتھ اپنے کاروبار کو چار چاند لگا دئیے۔ اس بات پہ مسلمان کسان سخت نالاں ہوئے کیونکہ ان کے تربوز مارکیٹ میں کوئی بھی نہیں لے رہا تھا۔ہندوآنہ ایک تحریک بن چکی تھی۔سب مسلمان اکٹھے ہو کے حاجی تمیزالدین شاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا قصہ بیان فرمایا۔ حاجی تمیز الدین شاہ صاحب نے ساری بات تسلی سے سنی اور حل یہ پیش کیا کہ پھل نہ ہندوؤں کا ہے نہ مسلمانوں کا پھل تو اللہ کی زمین سے نکلتا ہے اس لئے اللہ کا ہے چنانچہ طے یہ پایا کہ ہندوآنہ ، کافرانہ نام ہے اس لئے اس پھل کا نام آج سے دوآنہ ہو گا اورمسلمان بیوپاری اسے ایک کی جگہ دو آنے کا بیچا کریں گے۔ اس بات پہ خوب فساد ہوا قریب تھا کہ تلواریں نکل آتیں لیکن سکھوں نے بیچ میں آ کے صلح کروا دی اور جرگے میں طے پایا کہ کیونکہ یہ پھل قدرتی طور پہ ہوتا ہے اس لئے اس کا نام تربوز رکھا جائے۔ابھی حکیم صاحب یہ کہانی سنا ہی رہے تھے کہ چھوٹا بیٹا باہر آیا حکیم صاحب سے کہنے لگا

“ابا اماں کہہ رہی ہیں کیلے کی کیا تاریخ ہے ۔۔۔۔لگے ہاتھوں وہ بھی سُنا دو ۔۔۔۔”

راجہ محمد احسان
راجہ محمد احسان
ہم ساده لوح زنده دل جذباتی سے انسان ہیں پیار کرتے ہیں آدمیت اور خدا کی خدائی سے،چھیڑتے ہیں نہ چھوڑتے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *