لو سین سے دنیا کو کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔حسن کرتار

جیسا کہ ناظرین آپ جانتے ہیں کہ پچھلے چند دنوں سے دنیا بھر میں بالعموم اور پاکستان انڈیا بنگلہ دیش ایران افغانستان مصر اور سعودی عرب وغیرہ میں بالخصوص گیم آف تھرونز میں آریا کا لو سین زیرِ بحث ہے۔ بات آرمی یا شاہوں کے مظالم کی ہو رہی ہو یا جلد رمضان آنے کی یا سیاستدانوں کے ازلی ابدی کرپٹ ہونے کی۔ تھوڑی دیر بعد پھر سے آریا کے لو سین کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ نوجوانوں کی اکثریت اس بات پر خوشی سے بے قابو ہے کہ بالآخر انہیں اپنی محبوبہ کو بے لباس دیکھنے کا موقع  ملا۔ کچھ نوجوان اس بات پر رنجیدہ نظر آتے ہیں کہ یہ سب صرف اسکرین پر ہی کیوں دیکھا۔ اس کے علاوہ چند بڑے بوڑھوں کے فحاشی عریانی پھیلانے کے روایتی الزامات علیحدہ سے ہیں۔۔۔

ہماری روزنامہ فیس بک کی ٹیم نے اسلام آباد میں مقیم عہد ِ حاضر کے سب سے بڑے نفسیات دان سے ایک خصوصی ملاقات کی اور ان کی قیمتی رائے جاننے کی کوشش کی۔ پہلے تو وہ کافی ٹال مٹول کرتے رہے کہ انہوں نے یہ سین نہیں دیکھا یا انہیں ایسے واہیات موضوعات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔۔۔ کافی تگ و دو کے بعد اور اس یقین دہانی کے بعد کہ انکا نام خفیہ رکھا جائے گا تب کہیں جا کر انہوں نے یہ چند باتیں فرمائیں جو آپ کی پیش ِ خدمت ہیں۔۔۔

“میرے خیال میں یہ ایک بہت اہم سین ہے۔ اور اسکے نوجوان نسل بالخصوص نوجوان لڑکیوں پر دور رس نتائج حاصل ہو سکتے ہیں اور مستقبل قریب میں کئی  بڑی تبدیلیوں کی توقع رکھی جاسکتی ہے”

ہماری ٹیم نے سوال کیا وہ کیسے؟
انہوں نے فرمایا:
“دیکھیں گو گلوبل کلچر پوری دنیا میں اپنے پاؤں جما چکا ہے مگر اب بھی کئی  کنزرویٹو معاشرے ایسے ہیں جہاں اسے دل سے تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ اس کے علاوہ بندے بندے میں بھی فرق ہوتا ہے ہر کوئی اپنے اپنے انداز سے سوچتا   ہے”

ہماری ٹیم نے پھر سوال کیا مگر اس سین کے کنزرویٹو معاشروں پہ کیا اثرات مرتب ہونگے؟

انہوں نے پھر فرمایا:
“یہ بہت بولڈ سین ہے۔ آریا لڑکی ہونے کے باوجود نہ صرف پہلے محبت کا اظہار کرتی ہے بلکہ اپنے کپڑے بھی خود اتارتی ہے اور محبوب سے کہتی ہے اپنی پینٹ خود اتارو میں اچھی عورت نہیں ہوں۔ اس کے بعد بوس و کنار کا آغاز بھی خود ہی کرتی ہے۔ اس طرح کے سین چند اور فلموں میں بھی پہلے فلمائے  جا چکے ہونگے مگر چونکہ گیم آف تھرونز پوری دنیا میں دیکھی جاتی ہے اسلئے اسکے ثمرات دور دور تک پہنچنے کے امکان ہیں۔ ”

یہاں ہماری ٹیم نے کہا کیا نوجوان لڑکیاں اس سین سے انسپائریشن لیں گی؟

انہوں نے کہا
“میرے خیال میں تو لینی چاہئے۔ آپ کو اگر یاد ہو مغلِ اعظم کا گیت “جب پیار کیا تو ڈرنا کیا۔ پردہ نہیں جب کوئی خدا سے بندوں سے پردہ کرنا کیا۔” ریلیز ہوا تھا تو ہندوستان میں کئی  لڑکیاں گھر سے بھاگ گئی  تھیں۔ یہاں تک کہ کچھ نامعقول افراد نے اس گیت کے خلاف عدالت میں کیس بھی دائر کیا تھا۔ اسی طرح سے مجھے لگتا ہے کہ یہ آریا والا سین بھی بہت بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لا سکتا ہے۔ ”

ہماری ٹیم نے سوال کیا وہ ممکنہ تبدیلیاں کیا ہوسکتی ہیں؟

انہوں نے کہا:
“مرد اور عورت کے تعلقات میں “فرسٹ موو” بہت اہمیت رکھتا ہے۔ یہ ایک طرح کا سٹیریو ٹائپ بن چکا ہے کہ مرد ہی ہمیشہ پہلے محبت کا اظہار کرے گا اور مرد ہی جنسی تعلقات میں ہمیشہ پہل کرے گا۔ جدید دور میں یہ بات کافی حد تک بدل چکی ہے مگر اب بھی یہی سٹیریو ٹائپ بہت پاپولر ہے۔ میرے خیال میں اس سین سے لڑکیوں اور خواتین کو محبت اور جنسی محبت میں پہل کرنے کی ترغیب ملے گی۔ خواتین اور مضبوط ہونگیں اور مرد کو مردانگی دکھانے کی جو ڈیوٹی ملی ہوئی ہے اس میں کچھ نرمی آئے  گی۔”

تو ناظرین یہ تو تھیں مشہور نفسیات دان کی قیمتی باتیں۔ آپ اس سین کو کیسے دیکھتے ہیں اور آپ اس سین کی وجہ سے دنیا میں کیا کیا تبدیلیاں آتی دیکھتے ہیں۔ ہمیں ٹیکسٹ یا کمنٹ ضرور کیجئے گا۔ ہمارے لئے آپ کی رائے بے حد قیمتی ہے۔ تھینک یو اینڈ ہیو آ گڈ ویک اینڈ۔۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *