حکمتیں 3 ۔۔۔۔۔ او تیرے کی/راجہ محمد احسان

“او تیرے کی” عبدالحکیم کا تکیہء کلام تھا۔ اس تکیہء کلام کی خوبصورتی یہ تھی کہ یہ خوشی غمی کے ہر موقع پر فٹ آ جاتا تھامثلاً بڑا بیٹا گھر میں داخل ہوا اور کہا ” ابا مبارک ہو میں کلاس میں سیکنڈ آیا ہوں۔عبدالحکیم خوشی سےبے قابو ہو کے بولے ” او تیرے کی کیا بات ہے”۔پیچھے چھوٹا بیٹا داخل ہوا اور بولا” ابا میں تین پرچوں میں فیل ہو گیا ہوں ” تو حکیم صاحب غصے سے چِلائے” او تیرے کی کیا کہہ رہا ہے”۔ پاکستان انڈیا کےمیچ میں پاکستان جیت جائے تو “او تیرے کی “، انڈیا جیت جائے تو ” او تیرے کی” اور تو اور بارش کی وجہ سے میچ منسوخ ہو جائے تو “او تیرے کی”۔ بیوی نے کہا کہ سنتے ہو پتی ختم ہو گئی  ہے پتی لیتے آنا تو ” او تیرے کی”۔ اور اگر بچے نے کہا ابا سائیکل کا پنکچر لگوانا ہے تو بھی “او تیرے کی”۔اور کمال کی بات تو یہ ہے حکیم صاحب شعر پڑھتے ہوئے بھی ” او تیرے کی” کا بہت باخوبی استعمال کیا کرتے تھے۔

سرہانے میر کے آہستہ بولو
“او تیرے کی” ابھی ٹُک روتے روتے سویا ہے

یا

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے ” او تیرے کی” بتا تیری رضا کیا ہے

قصہ کچھ یوں ہے کہ جب وزیرِ اعظم پاکستان نے اپنی عوام کو معاشیات میں مرغی اور انڈے کی افادیت کے حوالے سے اعتماد میں لیا تو حکیم صاحب نے فوراً مرغیاں پالنے کی ٹھان لی۔ کل ملا کے چھ عدد دیسی مرغیاں خریدی گئیں۔ اب حکیم صاحب کےہاتھ نیا مشغلہ آ گیا۔ کبھی مرغیوں کو دانہ ڈالا جا رہا ہےتو کبھی ایک ایک کر کے مرغیوں کو نہلایا جا رہا ہے۔ کبھی مرغیوں کی بیٹ صاف کی جا رہی ہے تو کبھی مرغیوں کے ڈربے میں پُر تکلف دعوت کے طور پر کنڈے  ڈالے جا رہے ہیں۔ پر ان تمام تر لوازمات کے باوجود مرغیاں تھیں کہ انڈہ دینے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ دوسری طرف پڑوس کے مجید صاحب تھے کہ گھر میں ایک بھی مرغی نہیں لیکن ہر دوسرے دن انڈوں کا حلوہ تیار ہو رہا ہے۔یہ عقدہ کبھی بھی نہ کھُلتا جو ایک دوپہر حکیم صاحب سب مرغیوں کو ایک ساتھ مجید صاحب کے گھر کی طرف نہ جاتے دیکھ لیتے۔ حکیم صاحب نہ جانے کس موڈ میں تھے ۔ گرمی کا موسم تھا، آپ نے صرف دھوتی زیبِ تن کر رکھی تھی ۔ دھوتی سیدھی کی اور مرغیوں کے پیچھے پیچھے ہو لئیے۔ اب کیا دیکھتے ہیں کہ ہر مرغی مجید صاحب کے گھر کے کونے میں بیٹھ کر دو دو انڈے دے رہی ہے۔ حکیم صاحب نے یہ منظر دیکھا تو پارہ آسمان سے بلند ہو گیا اور چِلائے ” نہ ہنجارو !کم بختو!۔۔۔۔کھاتی میرا ہو اور انڈے مجید صاحب کو دیتی ہو آج تم میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑوں گا۔ چیخ اتنی بلند تھی کہ پورے محلے کی خواتین جمع ہو گئیں۔ ادھر حکیم صاحب ایک ہاتھ سے دھوتی سنبھال رہے ہیں اور دوسرے ہاتھ میں ڈنڈا پکڑے مرغیوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ مرغیاں کُڑ کُڑ کرتی چھلاوے کی طرح کبھی اِس کونے میں کبھی اُس کونے میں۔۔۔اِدھر حکیم صاحب ہیں کہ جو منہ میں آ رہا ہے بکے جا رہے ہیں۔ ادھر محلے کی خواتین ہیں کہ آگے آگے دیکھیں ہوتا ہے کیا۔ ایک طرف مجید صاحب کے بچے کی سائیکل الٹی پڑی تھی۔ اب حکیم صاحب جو بھاگے ہیں تو دھوتی سائیکل کی چین میں پھنس گئی ۔ حکیم صاحب منہ کے بل ایک طرف گرےہیں۔۔۔ اور دھوتی سائیکل کی چین کے ساتھ لٹکتی رہ گئی ۔ اِ س بات پہ تو مورخین سر جوڑے بیٹھے ہیں کہ محلے کی خواتین کی چیخوں میں سب سے اونچی چیخ حلیمہ بی بی کی تھی یا فائیزہ بی بی کی جو عرصہ پندرہ سال سے بیوہ تھیں لیکن اس بات پہ سبھی مورخین متفق ہیں کہ چیخ کے الفاظ سب خواتین کے ایک ہی تھے۔۔۔۔۔”او تیرے کی”

راجہ محمد احسان
راجہ محمد احسان
ہم ساده لوح زنده دل جذباتی سے انسان ہیں پیار کرتے ہیں آدمیت اور خدا کی خدائی سے،چھیڑتے ہیں نہ چھوڑتے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”حکمتیں 3 ۔۔۔۔۔ او تیرے کی/راجہ محمد احسان

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *