مِٹی کے انسان۔۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

SHOPPING
SHOPPING

پہلا منظر۔

چلتی بس میں خاصا ہجوم تھا سیٹوں پر مرد اور عورتیں جیسے اپنی زندگی کی تھکن اُتار رہے تھے ہر ایک کے چہرے سے گرمی کی شِدت ٹپک رہی تھی کچھ کے تو پسینہ  بہہ بہہ  کر اُن کی پہنی ہوئی قمیضیں تر کر رہا  تھا۔ وہیں  بس کی درمیان میں لوگوں کے لئے بس کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جانے کے لئے درمیانی جگہ بھی خالی نہ تھی۔ بہت سے لوگ کھڑے تھے جِن میں مرد اور عورتیں دونوں تھے۔ بس کا اندرون ایسا منظر پیش کر رہا تھا جیسے کوئی جانوروں کا ریوڑ ہو جِس میں بڑے بکرے ، دنبے ، اور کمزور بکریاں بھر دی گئی ہوں  اور ٹوٹی سڑک کے وجہ سے ہر جھٹکے میں ریوڑ نما انسان ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا جانے کے عذاب میں مبتلا کر دیئے گئے ہوں۔

نفیس بھی اُن سیٹوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں میں  سے ایک تھا اور اُس کی نگاہیں تیزی کے ساتھ چلتی ہوئی بس کو اپنے پیچھے چھوڑتی ہوئی سڑک پر کچھ تلاش کرتی رہی۔ مگر اُس کی نظر اتنی تیز نہیں تھی کہ چھوٹتی سڑک کے خدوخال اور اُس پر رواں دواں لوہے کے ڈبوں میں بیٹھے ہوئے انسانوں کے چہروں کا طواف کرتا رہے۔ کچھ دیر یونہی بس کی کھڑکی سے باہر تکنے کے بعد اُس کی نظر بس کے اندرونی منظر کو سمجھنے میں جذب ہو گئی۔ یونہی نگاہوں کو یہاں سے وہاں چکر دیتے ہوئے اُس کی نظر اپنی نشت سے دائیں طرف دو سیٹ آگے کھڑی ہوئی ایک لڑکی پر پڑ گئی۔

اُس نے دیکھا کہ لڑکی کے چہرے پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے جھلملا رہے ہیں اور اُس نے ایک ہاتھ میں کوئی فائل پکڑی ہوئی ہے۔ کندھے پر ایک کالے رنگ کا پرس لٹک رہا ہے اور ایک ہاتھ سے اُس نے بس میں اوپر لگے ہوئے سہارا  دینے والا لوہے کا پائپ پکڑ رکھا ہے۔ نفیس کچھ دیر اُسے دیکھتا رہا اور بس کو لگنے والے ہر ایک جھٹکے میں اُس کو لڑکی کے چہرے پر آتی گھبراہٹ کو بھی محسوس کرتا رہا۔ جو شاید اِس وجہ سے تھی کہ اُس لڑکی کا جھکاؤ جھٹکا لگنے کے بعد ساتھ کھڑے ایک ادھیڑ عمر کے شخص کی طرف اتفاقاً ہوجاتا تھا۔ اور وہ کھڑا ادھیڑ عمر شخص خود کو اور سختی کے ساتھ اپنے مقام پر جما کر رکھ لیتا کہ کہیں جھٹکا لگنے کے بعد وہ بھی کسی کی طرف نہ ٹکرائے اور لڑکی کے  ٹکرانے کے بعد کے لمس سے تشنہ نہ رہ جائے۔

نفیس ادھیڑ عمر شخص کی اِس واہیات حرکت کو دیکھ کر آگ بگولہ ہوگیا مگر وہ کیا کر سکتا تھا اُس کی عمر ایسی نہیں تھی کہ کسی کے ساتھ بِھڑ جاتا مجبوراً اُس نے اپنی نگاہ اُس منظر سے پھیر لی اور اپنی دو جوان بیٹیوں کے بارے میں سوچنے لگا جِن کی عمر کی پرواز اب کسی ہم سفر دشت و صحرا کو پُکار رہی تھی۔ اِنہی سوچوں میں غرق اُس نے کنڈیکٹر کی آواز سنی جو اُس کے سٹاپ کا نام تیزی سے دُہرا رہا تھا۔ وہ اپنی نشت سے اٹھا اور بس میں سے دوسرے لوگوں کے ساتھ اُترنے لگا۔ سٹاپ پر اترتے ہی اُس نے اپنے گھر کی راہ لی اور ہلکے ہلکے قدموں سے اپنی  دن بدن گزرتی عمر کے وجود کو لئے ہوئے گھر کی راہ پر گامزان ہو گیا۔

دوسرا منظر۔

کتنی بار سمجھایا ہے کہ کچھ نہ کچھ بچا کہ رکھو موئے وقت کے لئے۔ ضرورت پڑنے میں دیر کہاں لگتی ہے؟ مگر وہ ہیں کہ سنتے ہی نہیں۔ میری بات کی تو کوئی اہمیت ہی نہیں نا  اِس گھر میں۔ کشف کی اماں نے کسی قدر غصیلے لہجے میں کہا۔ وہ گھر کے باورچی خانے میں کشف اور شانزے کے ساتھ باتوں میں لگی ہوئی تھی۔

“ماما آپ خوامخواہ ابا کو قصور وار ٹھہراتی ہیں اِتنا کچھ تو کر رہے ہیں ہمارے لئے” شانزے نے کہا۔

” کیا خاک کر رہا ہے کب سے کہہ رہی ہوں کہ ایک درخواست دیں کچھ پیسوں کے لئے تاکہ کشف کی شادی کے لئے جہیز کی تیاری کر لیں، مگر نہیں کان پہ جوں نہیں رینگتی”

“ماما آپ کو بھی نہ ہر وقت میری شادی کی فکر لگی رہتی ہے” کشف نے جواب دیا۔

“چپ کر جا تم دیکھتی نہیں عمر ڈھلتی جا رہی ہے تمھاری کون بیاہے گا تمھیں پھر تم کو ڈھلی عمر میں؟”

“ماما آپ اتنی پریشان نہ ہوا کریں اللہ نے چاہا تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔” شانزے نے تسلی دینے والے لہجے میں ماما سے کہا۔

” اچھا اچھا اب اور زیادہ فلسفیانہ باتیں مت کرو جلدی سے چائے لے آو اور ہاں آتے ہی اسلام علیکم کہنا”
کشف کی ماما نے کشف کی طرف دیکھ کر تنبیہ کی اور کچن سے نکل گئی۔

کشف کی ماما اُس کمرے کی طرف بڑھنے لگی جہاں آج کچھ لوگ کشف کو دیکھنے آئے تھے لڑکے کی اماں اور ساتھ میں اُس کی دو بہنیں تھیں۔ اُن کا گھر کس نے دکھایا تھا وہ یہ جان نہ سکی۔ پہلے اُس نے سوچا کہ مہمانوں کی کچھ خاطر تواضع کی جائے بعد میں بات آگے بڑھائی جائے۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ایک طرف بچھی  دری پر بیٹھ گئی۔ مہمانوں نے بھی اُن کے داخل ہوتے ہی اپنی سرگوشیاں بند کردی اور اُس کی طرف متوجہ ہو گئے۔

” معاف کرنا ذرا دیر ہو گئی”

” نہیں کوئی بات نہیں” آئے ہوئے مہمانوں میں لڑکے کی ماں نے کہا۔

اِسی دوران کشف ہاتھوں میں چائے کی ٹرے لئے اندر آئی اور اُسے مہمانوں کے سامنے رکھتے ہوئے اُن کو سلام کیا۔

” وعلیکم سلام” بیٹھی ہوئی تینوں نے یک زبان جواب دیا اور کشف کو اِس انداز سے دیکھنے لگی جیسے وہ اُس کا ایکسرے کرنا چاہ رہی ہوں۔

“ماشاءاللہ ہمارے بیٹے کی قسمت میں خوب دلہن آئی ہے۔”
لڑکے کی ماں نے کشف کو دیکھتے ہی کہا۔

“ہاں ہاں کیوں نہیں ہمارا بھائی بھی تو لاکھوں میں ایک ہے” ساتھ بیٹھی ایک لڑکی نے کہا جو اُس کی بیٹی تھی۔

کشف نے تینوں کے سامنے چائے کی پیالیاں رکھ دی کچھ دیر اپنی ماما کے ساتھ بیٹھی رہی اور جب اُسے محسوس ہوا کہ اب جانا چاہیے  تو ٹرے کو لے کر آرام سے اٹھتی ہوئی باہر نکل گئی۔

” بہن ہمیں آپ کی بیٹی پسند ہے باقی باتیں تو میرے میاں ہی آکر طے کرلیں گے اور جو رسم و رواج چلتا آرہا ہے اُسی کے مطابق ہی تو ہونا ہے” لڑکے کی  ماں نے کشف کی ماما کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

“جی بہت اچھی بات کہی ہے ظاہر ہے باقی کی  باتیں مرد ہی جانے” کشف کی ماں نے ہلکے تبسم سے کہا۔

” عاشی تم وہ لسٹ لائی ہو نا؟” لڑکے کی ماں نے ساتھ بیٹھی لڑکی کو پکار کے کہا۔

” جی امی یہ رہی” لڑکی جس کا نام عاشی تھا اس نے ایک تہہ کیا ہوا کاغذ اپنے چھوٹے بیگ سے نکالا اور امی کی طرف بڑھا دیا۔

کشف کی ماما اُنہیں دیکھ رہی تھی اور ذہن میں وسوسے جنم لینے لگے تھے کیونکہ وہ جانتی تھی کہ کاغذ میں کیا لکھا ہوگا سوائے جہیز کے مطلوبہ سامان کے اور کچھ نہ ہوگا۔ اُس نے وہ تہہ  کیا گیا کاغذ کا ٹکڑا پکڑا جو لڑکے کی ماں نے اُس کی طرف بڑھا دیا تھا۔

” اچھا بہن ہم چلتے ہیں  کافی دیر ہو گئی اور ہم نے جانا بھی دور ہے اس لئے ہم اجازت چاہیں گے۔ کاغذ پر ہمارے گھر کا فون نمبر لکھا ہے۔ آپ کے فون کا انتظار رہے گا۔” لڑکے کی ماں نے کہا اور اٹھنے لگی۔

کشف کی مما   اُن کو دروازے تک چھوڑنے آئی اور جب وہ لوگ نکل گئے تو جلدی سے پھر سے آکر اُسی کمرے میں داخل ہوگئی۔ تہہ  کیا کاغذ کھولا اور اُس پر لکھی گئی تحریر کو پڑھنے لگی۔ جیسے جیسے پڑھتی گئی اُس کے چہرے کے خدوخال میں تبدیلی آتی گئی اور تحریر کے آخری لفظ ختم ہونے تک کشف کی اماں کی آنکھوں میں دو آنسو تیرنے لگے جو ڈھلکنے کو بیتاب دکھائی دے رہے تھے۔

تیسرا منظر۔

نفیس بس سے اترنے کے بعد اپنے کمزور اور بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچے وجود کو سرکاتا ہوا گھر تک آپہنچا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا۔ سامنے برآمدے میں اُس کی بیٹی کشف کوئی کتاب پڑھنے میں مصروف تھی۔ اُس نے جیسے ہی اپنے والد کو آتے دیکھا تو تیزی کے ساتھ اٹھتے ہوئے اُس کی جانب بڑھ گئی اور اپنے بابا کے ہاتھ سے اُس کا بیگ لیتے ہوئے  سلام کیا۔

“وعلیکم السلام خوش رہو” نفیس   سلام کا جواب دیتے ہوئے آگے بڑھے۔

اپنے کمرے کی طرف جانے لگے اور کشف سے ایک کپ چائے لانے کا کہا۔

” جی ابھی لائی” کشف نے جواب دیا۔

نفیس نے اپنی کشف کو محبت بھری  نگاہوں سے دیکھا اور کمرے میں داخل ہوا۔ وہ بس میں دیکھی لڑکی ابھی تک اُس کے حواس پر مسلط تھی۔ اور وہ یہی سوچتا رہا سارا راستہ کہ کون ہوگی بیچاری جو اِس طرح روزی روٹی کی خاطر مجبور ہوکر بسوں میں پرائے مردوں کے ساتھ کھڑی ہونے پر بھی راضی تھی۔ وہ اپنے خیالات سے اُس وقت چونکا جب اُس کی بیوی نے اُس کو پکارا۔

“نفیس”

اُس نے آنکھیں اٹھا کر اپنی بیوی کو دیکھا اور ہاں کہہ کر جواب دیا۔

” کیا ہوا آج بڑی جلدی میں ہو بیتاب دکھائی دے رہی ہو کچھ کہنے کو؟”

” بیتاب ہی تو ہونگی نا جب گھر میں دو دو جوان بیٹیاں شادی کے قابل بیٹھی ہونگی”

” اب کیا ہوا کیا پھر سے دورہ پڑ گیا کیا اُن کی شادی کا؟”

“مجھے دورے نہیں پڑیں گے تو کیا پڑوسی کو پڑیں گے دورے؟”

“ارے نیک بخت کچھ بتاو گی بھی یا یونہی میرا سر کھاتی رہو گی؟”

“کچھ لوگ آئے تھے کشف کو دیکھنے۔ اور پسند بھی کرلیا کشف کو میں نے بھی کوئی زیادہ بات تو نہیں کی مگر انہوں نے یہ پرچی تھما دی ہے۔”

نفیس نے اپنی بیوی سے وہ تہہ شدہ پرچی لے لی اور کھول کر پڑھنے لگا۔ پڑھتے پڑھتے   اپنا سر نفی کے سے انداز میں ہلانے لگا اور بیوی کی طرف نظریں اٹھا کر کہنے لگا۔

” تم نے اُسی وقت کیوں انکار نہیں کیا؟”

” کیوں کرتی میں انکار؟”

” تم پاگل تو نہیں  ہو گئی ہو؟ بھلا اتنا جہیز ہم دے سکتے ہیں؟”

” ہاں ہاں تم کیوں دو گے بڑے آئے بیٹی بیاہنے والے۔ جو لوگ بیٹیاں پیدا کرتے ہیں وہ جوانی سے ہی اُن کی جہیز کا بندوبست کرنے لگ جاتے ہیں ہاں”

نفیس نے ایک نظر اپنی بیوی پر ڈالی اور دوسری اُس کاغذ پر جس میں اُس کی بیٹی کی ڈولی میں بیٹی ہوئی تصویر ساتھ ساتھ دکھائی دے رہی تھی۔ مگر اُس ڈولی کو اُٹھانے والے مجبور کندھے ڈگمگا رہے تھے اور ڈولی کبھی دائیں اور کبھی بائیں ڈول رہی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ جو طلب کیا گیا ہے وہ اُس کے بس سے باہر ہے۔ اب وہ کیسے سمجھاتا اپنی بیوی کو کہ اُس کی ساری زندگی کی کمائی بھی اِس کاغذ کو سر کرنے میں کامیاب نہ ہوگی۔

” ایسا کرو اِس نمبر پر ابھی فون ملاو اور کہہ دو کہ ہم اِس کی سکت نہیں رکھتے”

” پھر کیا کرو گے؟ بیٹیوں کو یونہی گھر میں بٹھا کر بوڑھی کر دینے کا ارادہ ہے؟”

” کیا کروں میں؟ کیا میں کوشش نہیں کر رہا؟ کیا صرف تم کو ہی فکر کھائے جا رہی ہے بیٹیوں کی شادی کی؟”

” کہیں سے تھوڑا سا زہر لا کے دے دو مجھے پھر جو چاہے کرلینا” نفیس کی بیوی نے کہا۔

” تم کیوں مرو گی میں ہی پھانسی لگا لیتا ہوں خود کو۔ کیونکہ قصور وار ہوں نا لڑکی پیدا کرکے معاشرے کا”
نفیس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

چوتھا منظر۔

کشف اور شانزے دوسرے کمرے میں بیٹھی اپنے اماں اور بابا کے درمیان ہوتی گفتگو کو سن رہی تھی۔ اور دونوں کی آنکھوں سے آنسو کسی نہ تھمنے والی  برسات کی طرح جاری تھے۔ وہ دونوں خود کو کوستی رہیں  کہ کیوں وہ پیدا ہوئی اور کیوں وہ عورت ذات ہی پیدا ہوئیں؟ خوب رونے کے بعد شانزے نے کشف کی طرف دیکھ کر کہا۔

” باجی میں آج رات جا رہی ہوں اسد کے ساتھ۔”

” کیا؟”

” ہاں باجی، مجھ سے اور اماں اور پاپا کی یہ حالت نہیں دیکھی جا رہی”

” پاگل ہو گئی ہو کیا؟ تم کو ذرا بھی احساس ہے کہ لوگ کیا کہیں گے؟”

” کونسے لوگوں کی بات کر رہی ہو باجی آپ؟ اُن لوگوں کی جن کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں جوان لڑکی کے والدین اِس غم سے مرتے مرتے جیتے ہیں کہ جہیز میں کیا مانگا جائے گا اُن سے؟

” کچھ بھی ہو میں تم کو جانے نہیں دوں گی” کشف نے کہا۔

” نہیں باجی مجھے روکنے کی کوشش مت کریں کیونکہ میں آپ سب کے لئے جا رہی ہوں، اور شاید بابا کے کندھوں سے بوجھ بھی کم ہو جائے گا اور وہ آپ کی شادی کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ کم از کم ایک بیٹی کا بوجھ تو کم ہوگا۔”

” خود کو زیادہ ہوشیار مت سمجھو تم نہیں جانتی باہر کی دنیا کیسی ہے۔ اور پھر اسد ہے کون؟ ایک رکشہ چلانے والا؟”

” باجی جو بھی ہو کم سے کم وہ مجھ سے پیار تو کرتا ہے دولت نہ سہی زندگی کی راہوں میں اکیلا تو نہیں چھوڑے گا۔ اِس دوغلے معاشرے کی طرح۔”

کشف اُس کو سمجھاتی رہی مگر شانزے پر کوئی اثر نہ ہوا اور جب رات کی تاریکی ہر سوں پھیل گئی اور اندھیرے کا راج بولنے لگا عین اُسی وقت محلے کے ایک گھر کا دروازہ کھل گیا جس میں سے کالی چادر میں لپٹی ہوئی ایک دوشیزہ نکل آئی اور کچھ دور کھڑے ایک رکشے میں بیٹھ گئی۔ رکشہ اسٹارٹ ہوا اور کچھ ہی لمحوں تک کالی رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے اور خاموشی میں آواز کرتی گلی کا موڑ کاٹتے غائب ہوگئی۔

دوسری صبح بہت بھیانک تھی سب سے پہلے کشف کی اماں کو خبر ہوئی کہ شانزے اپنے کمرے میں بہن کے پاس موجود نہیں۔ اُس نے کشف کو جھنجھوڑتے ہوئے جگایا اور اُس سے شانزے کے بارے میں پوچھنی لگی۔ کشف نے بغیر لگی لپٹی سب کچھ بتایا اور یہ بھی کہ وہ کس کے ساتھ رات کو ہی گھر سے چلی گئی ہے۔ کشف کی بات سنتے ہی اُس کی ماں زور زور سے اپنا ماتھا پیٹنے لگی اور بلند آواز میں شانزے کو پکارنے لگی۔

شور کی آواز سن کر نفیس بھی جاگ اٹھا اور دوڑتا ہوا اُس کمرے کی طرف آگیا۔ اُس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا اُس نے کشف کو دیکھا جو ستے ہوئے چہرے کے ساتھ نفیس کی طرف دیکھ رہی تھی۔

” کیا ہوا؟ نفیس نے لرزتی آواز میں پوچھا۔

” میں کہتی تھی نا  کہ مجھے زہر لا کر دے دو۔ دیکھ لیا بیٹی گھر چھوڑ کر چلی گئی۔” نفیس کی بیوی نے کہا۔

بیوی کی بات سنتے ہی نفیس خود پر قابو نہ رکھ سکا اور دھڑم سے گر پڑا۔ کشف دوڑتی ہوئی اپنے ابا کے پاس آپہنچی اور اُسے سہارہ دینے لگی۔ اُس کی بیوی بھی اُس کے گرنے پر اُٹھ آئی اور نفیس کا سر اپنی بانہوں میں لے کیا۔ کشف جلدی سے پانی لے کر آئی اور اپنے بابا کے منہ سے گلاس لگا لیا۔ ایک گھونٹ پانی ہی حلق میں گیا ہوگا کہ باقی کا پانی منہ سے باہر آنکلا۔

SHOPPING

نفیس کی آنکھوں کا نور جاتا رہا اُس کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ اپنی بیوی اور بیٹی کو اپنے پاس بیٹھے دیکھ کر اُسے یہ احساس بار بار ڈستا رہا کہ اُس کی بیٹی بھی کل کی  بس میں دیکھی لڑکی کی طرح بے آسرا ہو گئی۔ ہم مِٹی کے انسان کبھی بھی ٹوٹ سکتے ہیں۔ خواہ وہ توڑنے والی شے کچھ بھی ہو۔ ہاں مگر جہیز کی صورت میں وہ توڑنے والی شے کافی طاقتور ہے ہمارے معاشرے میں۔

SHOPPING

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
منتظر ہیں ہم صور کے، کہ جہاں کے پجاری عیاں ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *