• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • قربانی کی کھالیں اور دینی مدارس ۔۔۔ مولانا محمد زاہد

قربانی کی کھالیں اور دینی مدارس ۔۔۔ مولانا محمد زاہد

بعض چھوٹے مدارس سے قربانی کی کھالوں کے حوالے سے فون آرہے ہیں، ان سے متاثر ہوکر جلدی میں یہ چند سطریں لکھیں ہیں۔

کسی زمانے میں قربانی کی کھالیں یا تو صرف مدراس کو جاتی تھیں یا انفرادی طور پر لوگ کسی کو دے دیا کرتے تھے، پھر تنظیمیں اور ادارے بھی اس میدان میں آگئے ، جس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ کھالیں مانگنا اور اکٹھی کرنا اس طرح ہلکا کام نہیں رہا جس طرح محض مدارس کے جمع کرنے کی صورت میں تصور ہوتا تھا۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس دفعہ کھالوں کے ریٹس پچھلے سال سے بھی زیادہ قابل رحم حالت میں ہیں، شاید مدارس اور دیگر اداروں کے لئے کھالیں کے جمع کرنے کے اخراجات ہی بمشکل پورے ہوں۔ در اصل مدارس کے لئے یہ رابطہ عوام کا ایک موقع ہوتا ہے، اسے فروغ ملنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس طرح کے مواقع ہی مدارس میں یہ احساس پیدا کرسکتے ہیں کہ انہیں سماج کے ساتھ چلنا ہے۔

گذشتہ سال کی طرح اس دفعہ بھی مدارس کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ اگر کھالیں جمع کرنا چاہتے ہیں تو مقامی انتظامیہ سے این او سی لینا ضروری ہے، تاہم اطلاعات ہیں کہ چھوٹے شہروں کے مدارس کو اس حوالے سے خاصی مشکلات پیش آرہی ہیں (ان اطلاعات کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا میرے لئے مشکل ہے)۔

امید رکھنی چاہئے کہ وفاق المدارس نے حکومتوں سے بات کرکے مدارس کو کوئی لائحہ عمل جاری کیا ہوگا اور مدارس کے لئے کوئی ہیلپ ڈیسک اور ہیلپ لائن بھی ضرور قائم ہوگی کہ جس کو مشکل پیش آئے وہ فلاں نمبر پر رابطہ کرلے، یہ ان مدارس ہی کی کوتاہی ہوگی کہ وہ معلومات نہیں رکھتے، کیونکہ ہم نے قیادت سے یہی سنا ہے کہ وہ مدارس کے محافظ اور ان کے مسائل کے حل کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔

یہ بات کہ کھالیں یا کسی بھی قسم کے عطیات کسی ایسے ہاتھ میں نہ پہنچنے پائیں جو دہشت گردی ، تشدد پسندی جیسی وباؤں کے فروغ کا باعث بنیں، اس معاملے میں ہم ہزار فی صد ریاستی اداروں کے ساتھ ہیں، ہمارے نزدیک ایسا کرنا حکومت اور ریاستی اداروں کی صرف آئینی ہی نہیں دینی واخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ لیکن طریقہ کار وہ ہونا چاہئے جس سے واقعی یہ مقصد حاصل ہوں، نہ کہ محض وقتی خانہ پر کرکے اور ایڈہاک ازم کی ذہنیت کے ساتھ کچھ اقدامات کرکے مزید پیچیدگیاں پیدا کردی جائیں۔
میرے خیال میں اس سلسلے میں سب سے اہم کام یہ تھا کہ کم یا بغیر مشاورت کے ہی طے شدہ سہی لیکن جو بھی لائحہ عمل تھا وہ مناسب وقت پہلے مدارس کے علم میں لایا جاتا۔ چھوٹے مدارس کے منتظمین بہت سادہ لوح ہوتے ہیں، حکومتی اور دفتری کاموں سے واقف نہیں ہوتے، جبکہ ان میں سے کئی بہت محدود سطح پر سہی محض تعلیمِ دین ہی کا کام کررہے ہوتے ہیں، کسی اور قسم کی سرگرمی سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ گھن کے ساتھ گیہوں بھی پس جائیں، اس سے ممکنہ حد تک پچنا چاہئے۔۔ اطلاعات یہ ہیں (اللہ جانے کس حد تک درست ہیں) کہ بعض چھوٹے شہروں میں آخر وقت میں مدارس میں فون کرکے بتایا جارہا ہے کہ آپ بغیر اجازت کے کھالیں جمع نہیں کرسکتے۔ یہی کام اگر مہینہ ڈیڑہ مہینہ پہلے کرلیا جاتا ، بلکہ ہر شہر میں اہل مدارس کو بلا کر انہیں ذرا عزت دے کر پورا طریقہ کار سمجھا دیا جاتا تو مقصد بھی حاصل ہوجاتا اور مدارس وحکومت کے درمیان تعلقات بھی بہتر ہونے میں مدد ملتی۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ اسے جب کوئی عزت دیتا ہے تو ایک عرصے تک عزت دینے والے کے ساتھ اس کے رویے میں اس کا اثر ضرور ہوتا ہے۔ عزت دے کر کام نکالنا کسی کامیاب پالیسی کا بڑا اہم حصہ ہوتا ہے جس پر لاگت بھی نہیں آتی ، نہ معلوم ہماری انتظامیہ کو یہ بات کب سمجھ میں آئے گی۔

دوسرے میرے خیال میں فیصلے کا یہ کوئی معیار نہیں ہے کہ بڑے شہر کا بڑا مدرسہ لازما انتہا پسندی سے دور ہوگا اور چھوٹے شہر کا چھوٹا مدرسہ لازما انتہا پسند ہوگا، سکروٹنی کے حوالے سے انتظامیہ کا ہوم ورک کیا ہے، اس کا ہمیں علم نہیں۔ بہر حال ایک مرتبہ پھر عرض کردوں جو واقعی انتہاپسندی ، فرقہ واریت جیسی چیزوں میں ملوث ہیں اور اپنے اندر کوئی تبدیلی لانے کے لئے تیار نہیں ہیں ہم ان کی وکالت نہیں کررہے۔
غیر ضروری سختی کرکے شاید کچھ کھالیں تو انتہا پسندوں کے ہاتھ میں جانے سے بچ جائیں، جن کی مالیت بذات خود بھی انتہا پسندی کی مجموعی فنڈنگ کا معمولی حصہ ہوتی ہے خصوصا آج کل کے کھالوں کے ریٹ ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں دیگر بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ بہت سے حضرات کے لئے شاید یہ اندازہ لگانا آسان نہیں کہ جو مدرسہ بہت بڑا نام نہیں لیکن واقعی تعلیم ہی پر توجہ صرف کئے ہوئے ہے، اسے اپنے اخراجات پورا کرنے کے لئے کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ، اور اس کے سامنے موجود آمدن کا ایک راستہ بند کرنے سے اس کی اس کی ٹیم کی نفسیات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، کیا بہتر نہیں ہوگا کہ اس میں چڑچڑاپن پیدا کرنے کی بجائے وہ طریقہ اختیار کیا جائے جس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ سے لوگ برضا ورغبت انتہا پسندی کے خلاف ریاستی مہم (اگر واقعی ریاست کی کوئی منظم مہم موجود ہے) میں شریک ہوسکیں۔

سوال یہ ہے کہ ہمارے حکومتی اداروں نے اس موضوع پر اب تک کتنی ریسرچ کروائی ہے، کہیں اسے شائع بھی کیا ہے، مدارس ، ان کی تنظیمیوں، تھنک ٹینکس سے کتنی تجاویز طلب کی ہیں۔ میرے خیال میں یہ کام بہت خوب صورت انداز سے بھی کیا جاسکتا تھا، ذرا دماغ پر بوجھ ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مدارس دو طرح کے ہوتے ہیں ، بعض میں کام مقصود نہیں، محض چندہ مقصود ہوتا ہے، عموما یہ مقامی آبادی سے چندہ حاصل نہیں کرتے، نہ انہیں مقامی طور پر کوئی چندہ دینے کے لئے تیار ہوتا ہے ، یہ چندے کے لئے دوسرے بڑے شہروں یا دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ دوسرے وہ مدارس ہیں جن میں واقعی تعلیم مقصود ہوتی ہے، مہتمم نے ہر قیمت پر مدرسہ چلانا ہوتا ہے، یہ دوسری قسم کا مہتمم قاعدے قانون ضابطے میں آنے کے لئے نسبتا جلدی آمادہ ہوجاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ایسے مدارس کے جلسوں اور تقریبات میں شدت پسند مقررین آتے رہے ہیں لیکن یہ اس دور کی بات ہے جب ہمارے بعض ریاستی ادارے ان کی پیٹھ پر تھے، نچلے درجے کے سیدھے سادے مہتممین اسے دین وملت کی عظیم خدمت سمجھ بیٹھے تھے اور کسی بھی مسلک کے بڑوں نے انہیں کھل کر سمجھانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی تھی۔ کھالیں جمع کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ مدرسہ دور دراز کی بجائے مقامی آبادی پر انحصار کرنا چاہتا ہے، یہ تو ایک مثبت پہلو ہے، اس پر روک لگا کر ہم پہلے قسم کے مہتممین کے لئے سپیس بڑھا رہے اور دوسری قسم کے لئے کم کر رہے ہوتے ہیں۔ اس چیز کے مطالعے کی ضرورت ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے بعد ان مدارس نے خود کو کتنا بدلنا شروع کیا، تقریبات کی نوعیت میں کیا فرق آیا، اگر وہ واقعی کچھ بدل رہے ہیں تو انہیں بدلنے کا مزید مواقع ملنے چاہئیں اور اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔

کھالوں ہی کے معاملے میں اگر ذرا پہلے سوچا جاتا تو سالہا سال سے جاری روایت پر انتظامی روک لگانے کی بجائے اہل مدارس کو جمع کرکے مثلاً یہ کہہ دیا جاتا کہ کھالیں ضرور جمع کریں لیکن اس مہم کا حصہ بننے والے ہر کارکن کے سر پر خاص قسم کی ٹوپی ہوگی جس پر فلاں لفظ لکھے ہوں گے، مثلا تکفیر کی مذمت میں کوئی جملہ ہوگا، پرائیویٹ جہاد کے حوالے سے کوئی جملہ ہوتا، منافرت کے خلاف کوئی بات ہوگی وغیرہ وغیرہ۔ اپنے بینروں پر اس طرح کا جملہ ہوگا، عید سے پہلے کم از کم ایک جمعے کا بیان اس موضوع پر ہوگا۔ ہر مسلک کے اکابر سے اس پر عمل کی ترغیب دلادی جاتی۔ مدارس محض نظریہ ضرورت کے طور پر یہ نہ کررہے ہوتے بلکہ اس کے ان کی ان کے طلبہ کی سوچ پر بھی ضرور اثرات مرتب ہوتے، ان جملوں کی تشہیر کے بعد اس کے خلاف تعلیم دینا ان کے لئے ممکن ہی نہ رہتا۔ پابندی صرف ان مدارس پر ہوتی جو اس کے لئے آمادہ نہ ہوتے۔

کھالوں کے معاملے میں کیا ہوتا ہے یہ تو معلوم نہیں ، تاہم رمضان میں مدارس کے چندے کے حوالے سے بھی اداروں کی طرف سے بعض جگہ خاصی سختی دیکھنے میں آئی جیسا کہ پہلے عرض کیا اس طرح کی مہم کے مقاصد سے ہمیں مکمل اتفاق ہے، لیکن طریقہ کار کے حوالے ایک حیرت انگیز مشاہدہ ان گناہ گار آنکھوں کا یہ ہے کہ اس رمضان میں جب میں تراویح پڑھا کے آرہا ہوتا تھا، فیصل آباد پیپلز کالونی شہید احمد کھرل چوک یعنی گیٹ چوک جس کے ارد گرد عید کی خریداری کے مراکز ہونے کی وجہ سے رمضان کی راتوں میں آمد ورفت بھی زیادہ ہوتی ہے، خصوصا اچھے خاندانوں کی خواتین کی – یہ ظاہر ہے کہ خواتین چندہ دینے کے لئے جلدی تیار ہوجاتی ہیں – اس چوراہے پر سرِ عام جماعۃ الدعوۃ والے نہ معلوم کہاں کہاں کے مصیبت زدہ مسلمانوں کے لئے اونچے لاؤڈ اسپیکرز پر چندہ مانگ رہے ہوتے تھے، شاید ترانے بھی چل رہے ہوتے تھے ، ممکن ہے اور چوراہوں پر بھی ایسا ہوتا ہو۔ یہاں فنڈنگ کے حوالے سے کوئی ادارہ حرکت میں نظر آتا نہ لاؤڈ اسپیکر کے حوالے سے۔ اس پر مزید کسی تبصرے کی ضرورت نہیں ہے۔

مفتی محمد زاہد صاحب جامعہ امدادیہ فیصل آباد میں شیخ الحدیث ہیں اور متعدد عالمی اور قومی کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں. اسلامی نظریاتی کونسل اور دیگر اداروں سے مختلف حیثیتوں میں منسلک ہیں اور انسانی حقوق، مالیات اور عائلی قوانین کے ساتھ ساتھ سیاسی و سماجی موضوعات پر ان کی نگارشات تحقیقی مجلات میں شائع ہوتی رہتی ہیں.

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *