تحریک انصاف کا احسان۔۔۔۔ عارف خٹک

محفل جمی تھی اور تحریک انصاف پہ حملے جاری۔ میں ڈٹ کر جواب دے رہا تھا اور جب اور کچھ نہ ہوا تو گھٹیا پن شروع کر دیا گیا۔ ایک ن لیگی نے ھم پختونخواہ کے غیور پشتونوں کو للکارتے ھوئے کہا، خان صاب لطیفہ سنو، ایک انصافی پٹھان کی شادی ھوئی تو گھر کے بزرگوں نے اسے کہا کہ اگر بیوی کنواری نکلی تو ایک ہوائی فائر ماردینا تاکہ ھمیں پتہ چل جائے اوراگر کنواری نہ ھوئی تو سیدھی گولی ماردینا. سہاگ رات خان نے ھوائی فائر چلایا اور بزرگان خاندان داڑھی پر ھاتھ مار کر سکون سے سو گئے. دوسری رات اس نے بیوی کو سیدھی گولی مادی. اس پر ن لیگیا اور ہمنوا نے باآواز بلند قہقہ لگایا۔ 

میں نے اسے کہا، چوھدری صاب بندہ انصافی نہیں جمعیت علماء اسلام کا تھا کیونکہ اپ نے داڑھی کا ذکر کیا. ھمارے انصافیوں کی داڑھیاں نہیں ھوتیں، اگر ھوتی ہیں تو انصافی یہودیوں کو آپ باشرع مسلمان کا نام دیں گے؟ ھم انصافی الحمداللہ قدرت کی مخالفت نہیں کرتے، اگر نچواتے ہیں تو وہ اوریجنل عورتیں ھوتی ہیں۔ اے این پی کی طرح الیکشن کمپین میں کھسرے نہیں نچواتے اور نہ ہی جمعیت کیطرح بنوں کے جلسے میں مولوی نچاتے ہیں۔ ھم اوریجنلٹی پر یقین کرنیوالے لوگ ہیں جبکہ اے این پی اور جمعیت والے اپ کے اتحادی ہیں. آج تک کسی نے کوئی انصافی بندہ دیکھا ھے جو لڑکوں کو پسند کرتا ھے؟ سوائے میرے کیونکہ میں بھی سابقہ جمعیتی ھوں. 

اور تو اور ھمارے حلقے کے ایک مولانا، جو جمعیت سے دو بار ایم این اے بھی منتخب ھوئے ہیں، کبھی مسجد میں نظر نہیں آئیں گے مگر عید کے عید خطبہ ضرور دیں گے، کیونکہ اس دن سارے خوبصورت بچے نماز عید پڑھنے آتے ہیں اور ھر بچے سے بھرپور گلے مل کر واپس اسلام آباد چلے جاتے ہیں. 

ھم پشتونوں کو طرح طرح کے ناموں سے پکارا جاتا ھے۔ بلکہ اجکل تو کراچی کی خواتین بھی ھمیں “مردوں والے” کہہ کر بلاتی ہیں اور لاھور کی خواتین ھمیں شوق سے بلاتی ہیں. کے پی کے میں یہ علت آج سے تین سال پہلے عروج پر تھی کہ جس کو دیکھو بغل میں لونڈا دبائے اکڑوں چل رھا ھے، گویا لونڈا نہ ھوا بقر عید کا بکرا ھوا. اور تو اور میرانشاہ میں میں نے اپنی ان گنھگار آنکھوں سے طالبان کمانڈروں کو ان لونڈوں کیساتھ فخر سے گھومتے دیکھا ہے۔ (یہی دیکھ دیکھ مجھے آنکھیں نئی لگوانی پڑ گئی ہیں)۔ 

ھماری پشتون خواتین نے پچھلے تیس سالوں سے افزائش نسل ہی روک دی تھی اور جو ھورھی تھی اسے افغان جنگ اور 9/11 کی دہشت گردی کے بعد کی دھشت گردی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ اب جو نسل باقی بچ رہی، اسے یہ ظالم لوگ چڑھانے کی کوششوں میں لگے رہے۔ اگر ان عوامل کا میں غیر جانبدار تجزیہ کروں تو اے این پی, جمعیت اور مسلم لیگ کا بھی اس علت کے پھیلاو میں کافی ھاتھ ہے. ان دو جماعتوں کی مسلم لیگ کے تعاون سے بنی حکومتوں کے دور میں جمعیت شریعیت کے پیچھے بھگاتی رہی اور خواتین کو گھروں میں قید کر ڈالا. اے این پی قوم پرستی کے پیچھے بھگاتی رھی اور پشتون کو عورت سے محروم کرڈالا اور قحط النساء کے عذاب سے ان کو ھمکنار کر ڈالا۔ چنانچہ مرد حضرات نے اپنی جمالیاتی حس کی ساری توانیاں لونڈوں پر ہی مرکوز کر ڈالیں. 

اب الحمداللہ پی ٍٹی آئی نے میدان میں آکر اس علت قبیحہ کو ختم کرڈالا ھے. خواتین جو گھروں میں قید تھیں وہ اب سڑکوں پر آگئیں ہیں۔ تو جو قحط النساء ان تین پارٹیوں نے پشتون معاشرے پر مسلط کی تھی، اب تحریک انصاف نے اس محرومی کا ازالہ کر ڈالا ھے۔ یقین کیجیے اب تو میں اتنا بدل گیا ہوں کہ “ید بیضا” سے مل کر بھی بھائی کے علاوہ کوئی احساس نہیں جاگتا۔ انشاءاللہ اگلے تین برسوں میں ھم لوگ اس نام بد سے چھٹکارہ پالیں گے. پی ٹی آئی اور کچھ بھی نہ بدل سکے، یہ تبدیلی ہی اسکا بہت بڑا احسان ہے۔

مگر پی ٹی آئی اور اسکی پالیسی کی شدید ضرورت اب کراچی اور لاھور میں ھے۔ تو بتاؤ کون بدلے گا پاکستان اپنے ھاتھ کھڑے کرلو. 

یہ لو میں نے ھاتھ کھڑا کرنے کا بولا تھا یار

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *