شذرات ہاشمی۔۔۔۔ طفیل ہاشمی

(محترم طفیل ہاشمی معروف اسلامی سکالر اور استاذ الاساتذہ ہیں۔ آپ اکثر فیس بک سٹیٹس میں کچھ ایسا کہہ جاتے ہیں تو طلبا کیلیے باعث رہنمائی ہوتا ہے۔ “مکالمہ” کچھ ایسے ہی موتیوں کو مالا بنا کر پیش کر رہا ہے۔)

“قربانی کی کھالیں” 

جمعہ پر مولانا فرما رہے تھے کہ ہمارے مدرسہ کے لیے قربانی کی کھالیں تو بس اونٹ کے منہ میں زیرہ ہیں. ہم یہ سارا تردد صرف اس لئے کرتے ہیں کہ قربانی عبادت ہے، مبادا کوئی اور تنظیم آپ سے کھال لے جائے اور آپ کی عبادت ضائع ہو جائے.

شکریہ مولانا صاحب!

“شاہ ولی اللہ اور ہم”

میرے محدود مطالعہ کی حد تک بر صغیر میں اسلام کی مکمل اور جامع نقشہ کشی صرف شاہ ولی اللہ نے کی. ان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ یہاں کے تمام دینی حلقے ان کا نام عقیدت و احترام سے لیتے ہیں۔ لیکن جہاں تک ان کی تعلیمات کا تعلق ہے، تو ہر مکتب فکر نے ان سے صرف وہ تعلیمات اخذ کرنے کو کافی سمجھا جو اسے اپنے لئے سازگار لگیں۔ مثلاً اہل حدیث حضرات نے شدت تقلید کی ممانعت اور ترجیح متون احادیث میں ان کی رائے کو قبول کیا اور ان کی صوفیانہ تعلیمات کو بیک جنبش قلم ردکردیا. علماء بریلی ان کے مکاشفات و کرامات کو اثاثہ قرار دیتے ہیں لیکن ان کی سیاسی، معاشی اور فکری تعلیمات کو زہر ہلاہل سے کم نہیں سمجھتے۔ رہے علماء دیوبند تو وہ اپنے آپ کو ان کا فکری وارث قرار دیتے ہیں لیکن ان کی سیاست کہ “اقتدار سے باہر رہ کر کام کرو” اور ان کی معاشی تعلیمات کہ “کفالت عامہ حکومت کی ذمہ داری ہے” اور دینی تعلیم کہ “مساجد و مدارس کا قیام سرکار کا کام ہے”، یا “تقلید صرف عامہ الناس کی ضرورت ہے” وغیرہ سے انہیں کبھی اتفاق نہیں ہوا. جہاں تک حدود کے نفاذ کی بات ہے تو تمام روایتی دینی طبقہ ان کے بیان پربیک وقت عمل پیرا اور مذمت کناں ہے.

“مولانا سندھی اور ان کے ناقدین”

مجھے مولانا عبید اللہ انور سے 1965 میں تفسیر قرآن پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی. اس دوران مولانا سندھی کے افکار سے شب وروز کی مزاولت رہی. بعد میں انہیں بالاستیعاب پڑھنے کی کوشش کی.

میرے خیال میں جتنا کسی کا Expouser بڑھتا جاتا ہے اتنا ہی اس پر اسلام کی آفاقیت کے راز کھلتے جاتے ہیں. مولانا سندھی اور ان کے ناقدین کے درمیان اصل اختلاف آفاقیت اور مقامیت کا تھا. اسلام کاجو ورژن ساری دنیا میں رائج ہوگا وہ دنیا کے تمام خطوں کے مقامی مناہج سے مختلف ہوگا اور اس کی اساس شاید عقائد ثلاثہ (توحید، رسالت اور معاد) اور اعمال صالحہ (بالخصوص احکام عشرہ، جو تورات اور قرآن میں مشترک ہیں) پر ہو گی. مولانا سندھی اس آفاقی ورژن کے داعی اور نقیب تھے لیکن بر صغیر کا مقامی تمدن جس کی تشکیل مقامی منہج پر ہوئ تھی، اتنی اونچی اڑان بھرنے کے لئے سازگار نہیں تھا. پھر ستم بالائے ستم یہ کہ یہاں مذہب و تمدن اس قدر گڈ مڈ ہو گئے کہ آج بد قسمتی سے یو پی کے تمدن کو ہی اسلام کی مکمل تصویر سمجھا جاتا ہے.

“کافر کون”

مسلمانوں کے علاوہ دوسرے ادیان کے لوگ کافر نہیں بلکہ غیر مسلم ہوتے ہیں؛ کفر کا فتوی صرف مسلمانوں پر لگایا جاتا ہے۔

“اجتماعی قربانی”

وہ اجتماعی قربانی کا اہتمام کرتے ہیں اور اس کے چند دن بعد گاڑی خرید لیتے ہیں. یہ کبھی نہیں بتاتے کہ آپ کے حصے میں کتنے پیسے آئے ہیں. شروع میں ہی اچھا خاصا ریٹ رکھتے ہیں۔ البتہ

اس امر کا اہتمام کرتے ہیں کہ آقایان ولی نعمت کا حصہ بڑی گایوں میں اور ہما شما کا مریل جانوروں میں ہوتا ہے. ذاتی تجربے کے بعد ایسے علماء کرام کے پیچھے نماز پڑھنے میں جو کراہت ہوتی ہے وہ لازماً زیادہ ثواب کا موجب ہوگی.

“غامدی”

مجھے غامدی صاحب کی کئی ایک آراء سے اختلاف ہے اور میری یہ دیانت دارانہ رائے ہے کہ ان پر وقیع اور مہذب علمی انداز میں تنقید نہیں کی گئی جس کی بہت بڑی گنجائش موجود ہے. میں خود اس لئے نہیں کرتا کہ میں بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جو ان پر اعتماد کر کے دین سے جڑے ہوئے ہیں.

 مفتی محمد حسن رح کا ارشاد ہے جس طرح کوئی اللہ رسول کا نام لیتا ہے اسے لینے دیں.

“ملک کی عزت کریں”

جب یہاں کچھ بھی بہت غلط ہوتا ہے تو غصہ ہم سب کو آتا ہے اور ہم بھی برا بھلا کہتے ہیں۔ لیکن

ملک کو نہیں، حکومت کو، اداروں کو، لیڈروں کو، بندوں کو۔ ملک تو اللہ کا دیا ہوا ٹھکانہ ہے، اسے برا کہنا، دینے والے کی توہین ہے. جب کہ ظلم تو لوگ کرتے ہیں.

“نیم مولویوں کے فتوے”

ایک فتوی فیس بک پر عرصہ سے دیکھنے میں آتا ہے کہ خواتین کے لئے شادی کے بعد والد کا نام ہٹا کر شوہر کانام لکھنا لکھوانا حرام ہے. اور اس فتوے کے لیے اس حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے جس میں ولدیت تبدیل کرنے کی ممانعت آئ ہے. اس قسم کے احمقانہ فتووں پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے.

حدیث کی ممانعت کا تعلق ولدیت تبدیل کرنے سے ہے. شوہر کی طرف نسبت اگر ممنوع ہوتی تو قرآن میں متعدد خواتین کی ان کے شوہروں کی طرف نسبت نہ ہوتی . یوں بھی باپ کی طرف منسوب مس اور شوہر کی طرف منسوب مسز کہلاتی ہے .

نہ معلوم نیم خواندہ مذہبی طبقہ ایسے شوشے کیوں چھوڑتا رہتا ہے جس سے لوگ اس کا مذاق اڑائیں.

“مکالمہ”

اس پر تشدد عہد میں جب کہ ہر کوئی خود کو راست اور دوسروں کو بر سر غلط سمجھ کر اس سے جینے تک کے بنیادی حقوق چھیننے کے درپے ہے “مکالمہ” کا،جو کہ پر امن بقاءباہمی کی اساس ہے،

آغاز کر نےپر انعام رانا اور ان کی ٹیم کو مبارک باد

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *