پتھر کے ہاتھ۔۔۔علی اختر

آج آفس میں داخل ہوتے ہی میں کرسی پر دراز ہو گیا ۔ رات دیر تک مطالعہ کی وجہ سے سوتے سوتے دو بج گئے تھے اور پھر وہی صبح چھ بجے اٹھنا۔ ہاں آفس جاتے ہوئے راستے میں اچھی نیند آگئی  تھی لیکن بہت مختصر وقت کے لیے  شاید اسی کا ہی اثر تھا کہ ابھی تک ذہن غنودگی میں تھا ۔ “سر” سویپر نے ٹیبل کے نیچے سے ڈسٹ بن نکالنے کا اشارہ کیا ۔ میں کچھ سائیڈ پر ہوگیا ۔۔ پھر وہی غنودگی ۔ ۔۔”سر آج طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ” بخت علی ٹیبل صاف کر رہا تھا ۔ میں نے اچانک اسکے ہاتھ سے کپڑا لے لیا ۔ ۔۔ “یہ میں خود صاف کرلونگا ۔ تو بھاگ اور مجھے جلدی سے چائے دے ۔” “جی اچھا ” یہ کہہ  کر وہ سب کام چھوڑ کر پانی گرم کر نے لگا ۔ میں نے بے دلی سے اے سی  آن کیا۔ ٹیبل پر بکھرے کاغذات کا جائزہ لینے میں مگن ہو گیا ۔

“سائیں ” دھول مٹی سے بھری ڈانگری اور میلا ہیلمٹ پہنے یسین کب کمرے میں آگیا پتا ہی نہیں چلا ۔ “صبح صبح کیا مسئلہ ہے یسین ” میں نے اکتاہٹ سے پوچھا ۔ جواب میں اس نے کچھ کہے بغیر ایک کاغذ میری طرف بڑ ھا  دیا ۔ تین ہزار ایڈوانس تنخواہ کی درخواست تھی ۔

یکم مئی:مزدوروں کی غربت پر قہقہہ لگانے کا دن۔۔۔رمشا تبسم

کچھ ماہ پہلے بھی یسین میرے پاس ایڈوانس تنخواہ کی درخواست لایا تھا اور میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی بخت علی نے شرارت سے کہا تھا ۔ “سر پوچھ تو لیں کہ  کیوں چاہئیں  ایڈوانس ” کام کے دوران ہلکا پھلکا مذاق کرنا میری عادت ہےسو میں سمجھ گیا تھا کہ  بخت علی کیا چاہتا ہے ۔ “ہاں بھئ !وجہ تو بتاؤ ۔ کیوں چاہیے  ایڈوانس ” ؟۔۔۔۔۔میرے سوال کے جواب میں اس نے شرماتے ہوئے کہا تھا “سائیں میرا بیٹا ہوا ہے ” “کیا ۔۔۔اس عمر میں ؟” میں نے جان بوجھ کر ضرورت سے زیادہ حیرت کا اظہار کیا تھا ۔ “یسین کچھ خدا کا خوف کرو ۔ اب تو اللہ اللہ کرنے کی عمر ہے ۔ اب تو بس کردو ” میں نے اسکی سفید داڑھی کی جانب اشارہ کیا ۔ یسین جواب میں خاموش کھڑا شرماتا رہا ۔ “سر یہ اتنا بڈھا نہیں ہے ۔ بس سیمنٹ کھا کھا کر پینتالیس سال میں ہی پینسٹھ کا لگتا ہے” بخت علی اور وہ ایک ہی گاؤں کے تھے ۔بخت علی نے پھر دل لگی کی ۔ “ہاں بھئ! مطلب یسین اندر سے جوان ہے ” میری بات پر یسین کے دانت نکل آئے تھے ۔ ” سائیں ! دو بیٹیاں ہیں بڑی ۔ اللہ نے اس عمر میں بیٹا دے دیا وہی بڑی بات ہے ۔ اسکی دین ہے جب چاہے دے ” ۔ میں اسکا بغور جائزہ لے رہا تھا ۔ دھوپ میں کام کر کر کے جلا ہوا رنگ ۔ سفید بال ۔ ایک آنکھ بھی کسی حادثہ میں کچھ متاثر تھی ۔ لیکن چہرے پر خوشی الگ ہی پھوٹ رہی تھی ۔ پھر میں نے مصنوعی افسرانہ سختی سے کہا تھا “ویسے تو میں کسی کو ایڈوانس دیتا نہیں ہوں مگر کیونکہ تمہارا بیٹا ہوا ہے تو آج دے رہا ہوں ۔ آئندہ نہیں آ نا “”جی سائیں” کیش  کاؤنٹر سے واپس آتے ہوئے اس نے مجھے شکریہ کہا تھا اور ہاتھ بھی ملایا تھا۔۔ میں نے اس وقت محسوس کیا تھا کہ اسکا ہاتھ پتھر کی طرح سخت تھا ۔ بہت سخت ۔ اسکے جانے کے بعد بھی بخت علی اسے یاد کر کر کے دانت نکال رہا تھا ۔

بشیرے میراثی کی واپسی۔۔۔۔۔علی اختر

لیکن اس وقت میرا موڈ مذاق کا بالکل بھی نہیں تھا ۔ “کیوں یسین سائیٹ پر کوئی  اور کام نہیں ہے ؟ ۔ نو بجے ہی ایڈوانس تنخواہ کی ضرورت پڑ گئی  ہے ۔ ہم صرف پیسے دینے بیٹھے ہیں ؟ اور کوئی  کام نہیں ہمیں ؟ ۔ دس بجے کے بعد آ نا اور پندرہ سو سے زیادہ میں دیتا ہی نہیں یہ یاد رکھنا ۔ ” یہ کہہ  کر میں دوبارہ کام میں مصروف ہو گیا ۔ وہ ابھی بھی خاموش کھڑا تھا۔ “کیا ہوا ؟ بولا نا دس بجے کے بعد آ نا ابھی کیشئر نے کیش نہیں کھولا ” جواب میں بخت علی میری جانب تیزی سے آیا “سر ! اسے پیسے دے دیں ۔ اسکے بیٹے کو ڈاکٹر نے جواب دے دیا ہے ۔ کسی بھی وقت کفن دفن کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اسی لیے  پیسے لینے آیا ہے ۔ ” “کیا”۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بس میری زبان سے یہی فقرہ نکل پایا ۔ میں نے جلدی سے درخواست پر دستخط کر دیے اور وہ کانپتے ہاتھوں سے کاغذ لے کر کیشئر کے کاؤنٹر کی جانب چلا گیا ۔

“سر چائے ایک گھنٹے سے ٹیبل پر پڑی ہے ۔ آپ نے پی نہیں ؟” بخت علی کے کہنے پر میں نے چائے کی جانب نظر اٹھائی  جسے اے سی کی ٹھنڈی ہوا نے شربت بنا دیا تھا ۔ ” میں آپکے لیے   دوسری چائے بناتا ہوں ” وہ کپ اٹھا کر جانے لگا ۔ “سنو “۔۔۔ “جی سر”، “یسین کے بیٹے کو کیا ہوا ہے ؟”۔۔۔۔ “سر! کچھ پتا نہیں چلا بس سوکھتا جا رہا تھا ۔ دودھ بھی نہیں پیتا تھا ۔ یہاں نوری آباد میں دکھایا تو ڈاکٹر بولا حیدرآباد والے  بڑے  ہسپتال لے جاؤ ۔ وہاں جب گیا تو ڈاکٹر نے کہا دیر ہو گئی  اب یہ زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کا مہمان ہے ” ۔تو کراچی لے جاتے ۔۔۔۔۔سر ! یسین والے بہت غریب لوگ ہیں ۔ ایک یسین کمانے والا ہے ۔ آپ یقین کریں اس ہسپتال کے چکر اور دوائیوں کے بعد یہ صرف چائے روٹی پر گزارا  کر رہے ہیں ۔ اسکی عورت بچے کے لیے بکری کا دودھ بھی ہم سے لیجاتی ہے ۔ پھر جس دن شہر جاتا ہے خرچہ الگ اور ڈیلی ویجز کا ہے تو تنخواہ بھی کٹتی ہے ۔ اب بتائیں سولہ ہزار دو سو سے بھی کم تنخواہ ملے گی تو کیا کھائے گا اور کیا علاج کروائے گا “۔

پڑھنے  والوں پر کیا اثر ہوا ۔ مجھے علم نہیں لیکن میں دو ہفتے گزرنے کے بعد بھی اس دن پیش آنے والی صورتحال سے نہیں نکل پایا ۔ جب اکیلا ہوتا ہوں یسین   لرزتے ہوئے ہاتھوں اور خاموش بے بسی کے ساتھ میرے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔

سویرے والی گاڑی۔۔۔محمد افضل حیدر

میرے پچھلے دس سال انہی مزدوروں، محنت کشوں کے درمیان گزرے ہیں ۔ میں نے کام کے دوران انہیں ہاتھ پیروں  سے معذور ہوتے ،جلتے اور جان سے جاتے بھی دیکھا ہے ۔ مجھے وہ بیس سالہ پیار علی بھی یاد ہے جسکا ایک ہاتھ مشین میں  آکر کندھے سے کٹ گیا تھا اور پھر کسی نے بتایا کہ  وہ سیہون میں بھیک مانگتا ہے اور نشہ کرتا ہےاور پھر کسی نے بتایا کہ  وہ وہیں لاوارث مر گیا ہے۔ مجھے پورٹ قاسم کی اسٹیل فیکٹری کا وہ مزدور بھی یاد ہے جسکے پیر کام  کے دوران جل گئے تھے اور وہ امداد لینے میرے آفس آتا تھا ۔ مجھے علم ہے کہ  ایک سیمنٹ کی بوری اور بیس فٹ سریے کے ٹکڑے کو بنانے والے پتھر جیسے ہاتھوں والے کئی  یسین آج بھی اپنی اولاد کو بے بسی کے ساتھ مرتے دیکھ رہے ہیں اور علاج کرانا انکے بس میں نہیں ۔ پیٹ بھر روٹی ، تعلیم ، صاف پانی انکی دسترس سے دور ہے ۔ مجھے پتا ہے کہ  آج یوم مزدور ہے اور یہ بھی پتا ہے کہ  چھٹی کے باعث مجھے بہت سے مزدوروں کی تنخواہ کاٹنی پڑے گی ۔

علی اختر
علی اختر
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *