جدید تہذیب مغرب کی فکری بنیاد ۔۔۔ احمد جاوید / عامر مغل

موضوع سے تعارف اور ہمارا فکری انحطاط

مغربی تہذیب اپنے نظریہ اور اپنے عمل
(Idea/Theory and Method/Practice )
دونوں میں ایک مثالی ہم آہنگی دریافت کر چکی ہے۔ دوسرے الفاظ میں مغربی تہذیب اپنی جدید ہیئت میں نظریہ اور عمل کی ہم آہنگی سے پیدا ہونے والی ایک تہذیبی ساخت ہے۔ اس تہذیبی ساخت کا ہر عمل اپنی نظریے سے ایک زندہ اور نامیاتی ربط رکھتا ہے اور اس کا ہر خیال اپنے عملی اظہار کے بے شمار شواہد رکھتا ہے۔ اصل میں کسی بھی نظریے کو موجود رہنے کے لیئے جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ عملی افادیت
(productivity)
رکھتا ہو۔ افادیت سے مراد یہ ہے کہ وہ محض کوئی مجدد نظریہ نہ ہو یا محض شاعری یا ادب میں کام آ جانے والا کوئی تخیل نہ ہوبلکہ ضرورت یہ ہوتی ہے کہ اس میں نتیجہ خیزی کا ایک نقد عنصر پایا جائے۔ تو مشاہدہ یہ ہے کہ مغرب نے اپنے نظریات کو نتیجہ خیز بنانے میں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور وہ بھی اس درجہ پر کہ نوع انسانی پر اس کی بعض صلاحتیں پہلی مرتبہ منکشف ہوئيں اور یہ کچھ یوں ہوا کہ اہل مغرب نے جو نظریہ ذہن کے لیئے بھی پچیدہ تھا ان میں زبردستی کی عامیانہ سادگی پیدا کئے بغیر، اسکی تمام تہہ داری کے ساتھ اس نظریہ کوعمل میں لانے کے مؤثر اسالیب دریافت کرکے دکھا دیئے۔

مغرب کے اس تہذیبی مظہر سے ہم کو اپنی تعمیر اور انکا مقابلہ کرنے کے لیئے بہت غور اور دیانت کے ساتھ یہ بات انہی سے سیکھنی چاہئیے کہ خیال یعنی آئیڈیا کو جب عمل میں لانا ہو تو اس میں پستی اور عامیانہ پن نہ پیدا ہونے دیا جائے۔ تخیل کا جو ذہنی شکوہ ہے وہ عمل میں آنے کے بعد غارت نہیں ہونا چاہيئے۔ جدید دنیا میں مغرب نے یہ کام کر کے دکھایا ہے۔ آپ اندازہ کریں اس معیار کی وجہ سے اہل مغرب نے انسان کی صلاحیت فکر کے ساتھ ساتھ استعداد عمل میں بھی کتنی توسیع کی ہے۔ اس کاموازنہ اگر ہم اپنے سے کریں تو ہماری موجودہ سطح تک جانے کے اسباب میں ایک بڑا سبب ہمارے اندر پایا جانے والا گنوار پن
(vulgarity)
ہے۔ ہم بڑے سے بڑے تصور یعنی آئیڈیا کو بے سلیقہ
(vulgarize)
کرنے کے بلاشرکت غیرے چمپئین ہیں۔ ہر بڑا خیال ہماری تحویل میں آ کر دوکان پر سڑنے والی کوئی چیز بن کے رہ جاتا ہے۔ اپنی طرف یہ سفاکانہ نظر ڈالے بغیر ہم مغرب کو کوس تو سکتے ہیں لیکن اس یقینی ہلاکت خیزی کا سامنا نہیں کر سکتے جس میں اسلام اور مسلمانوں کے لیئے مغرب ایک موج ہلاکت میں خود کو بدل رہا ہے۔ المیہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب پتہ چلتا ہے کہ ہم اسکا سامنے کرنے کی نہ کوئی نیت رکھتے ہیں اور نہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ خوش فہیموں میں مبتلا رہنے کی بجائے اپنی حالت کوسمجھنا ہو گا اور اس سے نکلنے کے لیئے ابلیس اور ابوجہل سے بھی کوئی حکمت عملی اخذ کرنی پڑے تو کرنی چاہیئے۔
تاریخ بطور معلم اپنے اسباق میں کفروایمان دونوں کو برابر کا شریک رکھتی ہے تو ہمیں تہذیب مغرب کی تشکیل میں تاریخ کے اسباب کے طور پر یہ سیکھنا ہے کہ آئیڈیا کو
actualize
کرنے کے لیئے اسے جذباتی پستی، عملی گراوٹ اور ذہنی کمتری کی نظر نہ ہونے دیا جائے۔ حد تو یہ ہے کہ ہمارا دین جس طرح کے آئیڈیلز کی فراہمی کا سرچمشہ ہے ہم نے ان عظیم ہستیوں
(grand ideals)
کو بھی اپنے ذہن میں اور اپنےعمل میں بھی سوائے سکیڑنے اور گرانے کے کچھ نہیں کیا۔

اس تلخی کو محسوس کریں اور اس تلخی کو بھلانے کی کوئی بھی کوشش اقدام خودکشی ہو گی۔

ثنویت
Duality

جید تہذیب مغرب کے نظریہ
(mother theory)
کا آغاز ڈیکارٹ
(René Descartes)
سے ہوتا ہے جو مغرب جدید کا نظریاتی بانی ہے۔ ڈیکارٹ نے ایک طریقہ کار یعنی میتھڈ دریافت کیا جس کے دو بڑے جزو ہیں۔ ایک ہے دوئی یا ثنویت
(duality)
اور دوسرا ہے تشکیک
(skepticism).
ڈیکارٹ سولہویں صدی عیسوی کا تھا۔ اسکا تصنیفی کام ضخامت میں زیادہ نہیں ہے۔ مگر اس کے کام نے مغرب جدید کو جنم دیا ہے۔ مغرب جدید کو وجود میں آنے کے لیۓ جن
binding
اصولوں کی حاجت تھی، ڈیکارٹ نے وہ اصول فراہم کر کے دیئے ہیں۔

مغرب کی تاریخی سوانح پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یونانی علمی روایت اور رومیوں کے نظام معاشرت کے درمیان ربط پیدا نہیں ہو سکا تھا۔ تہذیب مغرب کی ان دوصورتوں
(versions)
“درمیان ربط پیدا نہ ہو سکنے کیوجہ سے ”حقیقت“
بطور وجود کے اوجھل ہوتی چلی جا رہی تھی اور حقیقت بطور علم کے بھی دھندلا چکی تھی۔ یونانیوں کا بہت بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے حقیقت کو علم الوجود کا حصہ بنایا۔ حقیقت کو
ontological
امر بنانے میں کامیابی حاصل کی اس وجہ سے یونانیوں کے ہاں ”حقیقت“ ایک نظام و ترتیب
(order)
کا نام ہے۔ لیکن رومیوں کے بڑھتے اثر کے ساتھ ”حقیقت“ کا آرڈر ہونا معاشرے کی تشکیل میں داخل ہو جانے والی نئی قوتوں کی وجہ سے وہ مشتبہ ہوتا چلا گیا۔ پھر رومیوں نے طاقت پر مبنی اجتماعیت
(power based human collectivity)
کے تصورکو گویا انسانوں کے مزاج میں داخل کر دیا جسکا مقصود ایک ”مخصوص معاشرے“ کو تشکیل دینا تھا۔

یونانی علمی روایت اور رومن پاور اسٹرکچر کے درمیان ایک عدم مناسبت تھی، ایک فطری اور منطقی تصادم تھا اسکو ہیلینائی یورپ
(Hellenistic)
حل نہ کر سکا تو نتیجہ یہ نکلا کہ ڈیکارٹ تک پہنچنے والے صدیوں کے سفر میں مغربی علمی روایت حقیقت کے دونوں نقطہ نظرسے ایسے ہو گئی تھی جیسے شیشے پردھند جم جائے۔ ایسی دھند کہ فلسفے کے پاس کہنے کو بات نہیں رہ گئی اور معاشرے کے پاس بنانے کے لیئے اصول نہیں رہ گئے۔

(یاد رہے ہیلینائی یورپ سکندر اعظم کی وفات یعنی یونانی تہذيب کے زوال اور رومن سلطنت کے آغاز و قیام کے درمیان کا زمانہ ہے)
مختصرا دولختی یہ تھی کہ یونانی اثر نے حقیقت کو ساخت کیا اور علم کو مرکز بنایا جبکہ رومن اثر نے مادے کو حاوی کیا اور قوت کو بنیادی قدر بنایا تو طاقت اور علم کے اس غیر فطری جوڑ کو بنانے کی ناکامی نے حقیقت کے بارے میں تمام تصورات کو دھندلا دیا۔
اس تاریخی سوانح سے آپ کو یہ بات پہنچانی مقصود ہے کہ مغرب کی اس دوہری مشکل
(dilemma)
کے حل کے لیئے ڈیکارٹ اپنا نظریہ لے کر میدان میں آتا ہے۔ یونانیوں نے کہا کہ روح اور مادے کو ایک دلیل اور ایک ہی تعریف سے ثابت کیا جاسکتا ہے کیونکہ حقیقت کی پہچان اصل میں اسی بنیاد پر ممکن ہے کہ مادہ اور روح یا جوہر
(spirit)
دونوں اپنی اساس میں چاہے وہ وجودی ہو یا پھر علمی ہو، ایک ہے۔ یونانیوں کی اس بے مثل کامیابی کو علمی بنیاد سے طاقت کے محور بننے کے عمل نے بالکل غارت کر کے رکھ دیا۔ کیونکہ ”طاقت“ شعور کی نمائندہ ضرورتیں اورحقیقت کے بارے میں ذہن کے خلقی تصورات کی تسکین کرنے کے قابل نہیں ہوتی۔

لہذا ڈیکارٹ کو اس سوال کا سامنا کرنا پڑا کہ مادے کا علم فراہم کرنے والا راستہ ”حقیقت“ کو معلوم کرنے والی لگن
(urge)
سے لا تعلق ہو چکا ہے۔ یہاں ڈیکارٹ نے یہ نتیجہ نکالا کہ حقیقت اصل میں ایک دوئی
(duality)
رکھتی ہے۔ ڈیکارٹ نے کہا مادہ اور روح کی حقیقت ایک دوسرے سے بے نیاز ہے اوردونوں کو ایک دوسرے کی تصدیق کی ضرورت نہیں۔ یعنی وجود میں بھی دوئی ہے اور شعور میں بھی یہ دوئی ہونی چاہیۓ تبھی حقیقت سے ہمارا تعلق نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔
کلاسیکل ڈاکٹرائن کہ حقیقت کے لیئے لازم ہے کہ وہ واحد ہو ڈیکارٹ نے مغرب میں اس پر زور دار ضرب لگائی اور کہا کہ ”حقیقت واحد نہیں ہے“۔ یہ ہے وہ روح تہذیب جیسے ڈیکارٹ نے ایجاد کیا اور مغرب کی نشاۃ ثانیہ
(renaissance)
کے لوگوں نے اسکو قالب فراہم کیا۔ مغرب کا جو ضمیر ہے وہ ثنویت (duality)
سے پیدا ہوا ہے۔

اب بات کرتے ہیں کہ ثنویت
(dualism)
کے پیدا کردہ فکری نتائج کیا ہیں؟ دراصل انسان کو اپنے خالص تعقل (pure reason)
کے لیئے اور اپنے جمالیاتی مقاصد
(aestheticization)
کو حاصل کرنے کے لیئے اپنے دماغ میں دو چیزیں رکھتا ہے۔ ایک ہے تجرید (abstraction)
اور دوسرا ہے جمالیاتی حسن دینے کا عمل
(beautification).
دماغ کے ان دونوں منصوبوں کا ہم حقیقی ہونے کا مطالبہ نہیں رکھتے اور اسکو خالص ذہنی گردانتے ہیں۔ اس ثنویت کا یہ نتیجہ براہ راست پیدا ہوا کہ ایبسٹریکشن اور بیوٹیفیکیشن کے منصوبوں پر عمل کرنے کے لیئے مابعد الطبعیاتی حقیقتیں
(metaphysical realities)
مفید ہیں۔ کوئی نظریہ، کوئی عقیدہ، کوئی علم متشکل کرنے کے لیئے ہمیں ٹھوس تجربات
(concrete experiences)
کی اور انکے مؤثر نتائج کی ضرورت ہے۔ اور یہ دونوں شرطیں مادے سے پوری ہوتی ہیں جبکہ ایبسٹریکشن اور بیوٹیفیکیشن یہ دونوں چیزیں میٹا فزکس سے تسکین پاتی ہیں۔ کیونکہ انسان ایبسٹریکشن اور بیوٹیفیکیشن کی بنیاد پر نظریات نہیں بناتا، انکی اطلاقیت
(application)
پر اصرار نہیں کرتا تو مختصرا یہ کہ وہ ساری چیزیں لٹریچر میں عدمیت (nihilism)
کی نذر ہوتی چلی گئيں اور فلسفوں کے موضوعات تک محود شکل اختیار کرتی چلی گئیں۔ اور رفتہ رفتہ وہاں کا ذہن یہ مان لینے پر مجبور ہو گیا حقیقت محض ایک جمالیاتی یا منطقی مفروضہ ہے اس کے علاوہ اسکا کوئی وجودی اور نتائج پر مبنی کردار نہیں ہے۔
اصلا ڈیکارٹ چاہتا تھا کہ وہ طبعی علوم کے سامنے مذہبی عقائد کا دفاع کرے اور وہ مذہبی دفاع اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوا کہ خدا تسکین پہنچانے والا ایک تصور ہے۔ خدا کوئی ماننے اور جاننے والی ذات نہیں ہے۔ اور آج شدت پر مبنی یہ نتیجہ نکلا کہ خدا کو منوانے پر اعتراض ہے اورجمہویت کو ماننے پراصرار ہے اور جمہوریت کو منوانے پر بھی ضد ہے کیونکہ (انکے نزدیک) یہ کنکریٹ چیزیں ہیں۔ تو اس ثنویت نے (خدا سے) ایک عجیب طرح کا احساس لاتعلقی پیدا کر دیا۔

تشکیک
Skepticism

ڈیکارٹ کے نظریے کا دوسرا حصہ تشکیک
(skepticism)
پر مشتمل ہے۔ تشکیک اپنی اصل میں ایک نفسیاتی جہت رکھتی ہے۔ تشکیک اتنی ہی شدت
(finality)
کے ساتھ مغرب جدید کی تہذیب میں شامل ہے جتنی شدت کے ساتھ ثنویت (duality)
موجود ہے۔ آئیے ذرا سمجھیں کے تشکیک اصل میں کیا ہے۔
تشکیک یہ ہے کہ علم شک کا نام ہے۔ کسی چیز کی حقیقت تک اگر پہنچنا ہو، کسی بھی شے کو اگر شعور کی گرفت میں لانا ہو یا کسی بھی عقیدے کو اگر ماننا ہو تو اس کے لیئے ضروری ہے کہ اس کا آغاز شک سے کیا جائے۔ یاد رہے کہ تشکیک کا مطلب شک کرکے فارغ ہو جانا نہیں ہوتا یا محض شک کو ہی اپنا نظریہ بنا لینا نہیں ہے۔ عام طور پر یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ تشکیک لا علمی
(ignorance)
پر مبنی ایک نظریہ ہے جبکہ ایسا نہیں ہے۔ تشکیک ایک نظریہ علم ہے۔ یہ نظریہ اپنے مقدمات رکھتا ہے، اپنے حقائق رکھتا ہے اور اپنی منطق رکھتا ہے۔
ڈیکارٹ کہتا ہے کہ انسانی ذہن کسی بھی چیز کو ماننے کے عمل میں پہلے رکاوٹ کھڑی کرتا ہے۔ یہ انسانی ذہن کے کام کرنے
کا انداز ہے۔ مثال سے سمجھتے ہیں۔ فرض کریں ایک گلاس ہمارے سامنے پڑا ہے مختلف نظریں اسکو دیکھ رہی ہیں۔ ایک نظر ہو گی جو گلاس کا وقتی تجزیہ کرے گی، ایک نظر گلاس کا نام رکھنے کے لیئے اسکی صورت کا جائزہ لے گی، ایک نظر گلاس کو استعمال کرنے کی ہو گی اور ایک نظر ایسی ہو گی کہ گلاس پر یقین کرنے کے لیئے، ماننے کے لیۓ تفکر کرے گی کہ ہاں یہ حقیقی گلاس ہے۔ اس آخری نظر جو کہ ”ماننے“ کی ہے اس میں ہوتا یہ ہے کہ شعور ماننے کی عمل میں پہلی حرکت انکار کی کرتا ہے، پہلا عمل مزاحمت کا ہوتا ہے۔ اگر اس مزاحمت سے آپ نہیں گزرے تو آپ کے شعور نے ماننے کے عمل کا گویا آغاز ہی نہیں کیا ہے بلکہ آپ نے گلاس کے ساتھ محض ایک کمپرومائز کیا ہے۔ اس مزاحمت کو ”شک“ کہتے ہیں۔ آپ جو جانتے اور جو مانتے ہیں اسکو شک کے چینل سے گزاریں۔ اپنے پورے ”ہاں“ کو ایک مضبوط ”نہیں“ کے سائے اور اسکی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھیں۔ اگر آپ کا ”ہاں“ ۔۔۔۔۔۔ ”نہیں“ کا ٹیسٹ پاس کر گیا تو وہ ”ہاں“ عقیدہ
(dogma)
بننے کا حق رکھتا ہے۔
اب ڈیکارٹ نے اس میں جو خطرناک ترین بات شامل کی وہ یہ تھی کہ کوئی چیز
(object)
ایسی نہیں ہے جو ”نہیں“ کے ٹیسٹ کو پاس کر سکے۔ یعنی چاہے گلاس ہو، آسمان ہو یا خدا ہو، یہ جب بھی شعور کے علاوہ، شعور سے باہر، ایک غیر آبجیکٹ کی حالت میں شعور کا موضوع بنیں گے، یہ شک کو اور نفی کو پار نہیں کر سکیں گے۔ یعنی شعور سے باہر خارجی چیزوں میں وہ حقیقت موجود ہی نہیں ہے جو انہی چیزوں کے بارے میں میرے شعور کو اس بات پر قائل کردے کہ انکو انکی اسی حثیت کے ساتھ مستقلا مانتے چلے جاؤ۔ یہ خطرناک ترین بات مغرب کا مزاج علم بنا جو اب مغرب کا مایہ وجود ہے۔

ڈیکارٹ کے اگلے قدم سے لامحالہ یہی ثابت ہوتا ہے کہ شعور کے ”غیر موضوعات“ میں کوئی حقیقت ایسی نہیں ہے جس پر شعور عقیدہ رکھ سکے، جس پر شعور غیر متزلزل یقین پیدا کرسکے۔ ہاں اگر شعور کے پاس کوئی ایسی شے ہے جس سے وہ کوئی غیر متزلزل یقین حاصل کر سکے، اسے شک کی بھٹی میں تپا کرگزار سکے تو وہ شعور خود ہے۔ یعنی شعور اپنا شعور حاصل کرنے کو ہی اپنا بنیادی اعتقاد بنا سکتا ہے۔ شعور کے لیئے خود شعور کے سوا کوئی چیز حقیقی نہیں ہے۔ اس پر اس نے اپنا شہرہ آفاق فقرہ لکھا تھا کہ ”جب میں سوچتا ہوں تو اس لیئے میں ہوں“ یعنی میں شعور کو شناخت کرسکتا ہوں اس لیۓ میں ہوں۔

آپ اس فقرے کی علمی، تہذيبی اور نفسیاتی تاثیر دیکھئیے کہ میرا سوچنا میرے وجود کو حقیقی بناتا ہے اور میرا وجود جب حقیقی بن جائے تو میں خود حقیقتیں تخلیق کرتا ہوں، پھر میں ہی حقائق کا خالق ہوں، پھر میں جس چیز کو مان لوں وہی حقیقت ہے۔ ڈیکارٹ کہتا ہے شعور شک کی قوت ہے، ہم کہتے ہیں شعور نظر ثانی کا ایک ذریعہ ہے، غور کرنے کی حاجت ہے چیزوں پر غور کرنے سے چیزیں کھلتی ہیں جبکہ ڈیکارٹ چیزوں پر ایک مخصوص شعوری اصول
(scope of conscience)
اپلائی کرتا ہے جس سے چیزیں نہیں کھلتیں۔

نتائج کے حوالے سے اس فقرے کو دو اثرات ہیں، ایک سخت انفرادیت پرستی
(individualism)
اور دوسرا شدید داخلیت پسندی
(subjectivity)
۔ یہ دو رویے قرون وسطی
(medieval)
والے مغرب سے لے کر آج کے مابعد الجدید
(post modern)
مغرب تک اس تہذیب کا بنیادی مزاج بن چکے ہیں۔ ”جب میں سوچتا ہوں تو اس لیئے میں ہوں“ اس فقرے میں سوچنا کیا ہے، شدید داخلیت پسندی
(higher subjectivisation)
۔۔۔۔۔۔۔ میں کیا ہے، سخت انفرادیت پرستی
(total individuation)
اور ہونا کیا ہے ۔۔۔ داخلیت پسندی اور انفرادیت پرستی کا ملاپ۔
یہ وہ فقرہ ہے جسکی تشریح کرتے ہوئے مغرب نے اپنی تہذیبی و نفسیاتی اقدار حاصل کیں اور انکی حفاظت کا انتظام حاصل کیا۔ ہر تہذیب کا ایک ”آن آف بٹن“ ہوتا ہے، ایک بنیادی لیور ہوتا ہے۔ اسکو آن کر دو تو پوری تہذيب حرکت میں آ جاتی ہے اسے آف کر دو تو وہ پورا تہذیبی اسٹرکچر معطل اور تاریک ہو جاتا ہے۔ مغرب کا وہ بنیادی بٹن کیا ہے ۔۔۔۔۔
ڈیکارٹ کا یہ فقرہ! کہ ”جب میں سوچتا ہوں تو اس لیئے میں ہوں“

آگے ہم دیکھتے ہیں کہ ڈیکارٹ کے اس فقرے کے دو نتائج سامنے آئے جو کہ مغرب جدید کے ذہن اور مغربی تہذیبی اقدار کی بنیاد ہیں۔
پہلا یہ ہے کہ سب کچھ اضافی ہے۔
all is relative, nothing is absolute
اور دوسرا یہ ہے سب کچھ قابل تکذیب ہے۔
all is falsifiable, nothing is all truth
یہ اس فقرے کا آخری اثر ہے جو مغرب میں پوری شدت، وضاحت اور قوت کے ساتھ ظاہر ہوا ہے۔ کہ مغرب اضافیت
(relativism)
اورتاثر پسندی
(impressionism)
کے دو پہیوں کے اوپر چلنے والی ایک گاڑي ہے۔ اوریہ گاڑی تمام دینی مزاج کو بری طرح روند سکتی ہے۔ دینی مزاج کے ساتھ اسکا ٹکراؤ فطری ہے اور یہ دریافت کرنا ضروری ہے کہ اس ٹکراؤ میں ہماری پوزیشن کیا ہے تاکہ یہ ہم سمجھ سکیں کہ ہمارے سروائیول کے ليئے کیا ضروری ہے اور دوسرا یہ کہ ہم اس پر کیسے غالب آ سکیں۔

آج کا مغرب جدید آپ سے یہی کہہ رہا ہے کہ خدا ایبسٹریکشن اور بیوٹیفیکیشن کا ایک تصور تو ہو سکتا ہے لیکن خدا وجودی طور پر ایک موثر حقیقت کے طور پر موضوع ایمان نہیں بن سکتا۔ جبکہ ابن عربی کہتا ہے کنکریٹ تو صرف ”حق“ ہے اور مخلوق ”ایبسٹریکٹ“ ہے۔

(مغربی تہذیب کے متعلق احمد جاوید صاحب کے ایک لیکچر کو تحریر میں ڈھالنے کی کوشش)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *