سبز پوشوں اور بے ہوشوں کے درمیان ۔۔۔ ژاں سارتر

دوسرا حصہ
یہ وقت گزر گیا اور 1965 آگیا۔ فروری سے مئی کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان رن آف کچھ کے علاقے میں سرحدی جھڑپیں ہوئیں جن میں بھارت کو منہ کی کھانا پڑی۔ اس شکست کے بعد بھارت کی جانب سے اپنی مرضی کا محاذ کھولنے کی دھمکی بھی دی گئی۔ اگر رن آف کچھ کی سرحدی جھڑپوں کو جنگ ستمبر کا دیباچہ قرار دیا جائے تو غلط نہ ہو گا اور یہ دیباچہ بھارت نے لکھا تھا، ہم نے نہیں۔ رن آف کچھ کا علاقہ 1947 کے بائونڈری کمیشن نے حد بندی کے بغیر چھوڑ دیا تھا۔ بھارت نے اس پورے علاقے پر قبضے کی کوشش کی جسے پاکستان کی جانب سے ناکام بنا دیا گیا۔ اس پر سوائے ہمارے چند بے ہوش دانشوروں کے علاوہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ پاکستان کو دفاع کا حق نہیں تھا۔ رن آف کچھ پر بھارتی جارحیت ہی نے ہماری جانب کشمیر میں آپریشن کی سوچ کو جنم دیا۔ پاکستان نے جولائی کے اواخر اور اگست کے آغاز میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں آپریشن جبرالٹر شروع کر دیا جس میں چند ہزار مجاہدین یعنی سویلین افراد کے علاوہ کئی سو چھاپہ مار فوجی بھی مقبوضہ کشمیر میں داخل کر دیئے گئے۔

اس آپریشن کے منصوبہ سازوں میں دو نام نمایاں ہیں۔ جنرل اختر حسین ملک، جنرل آفیسر کمانڈنگ کشمیر اور ذوالفقار علی بھٹو، وزیر خارجہ پاکستان۔ یہ دونوں شخصیات اس آپریشن کے لیے انتہائی پر جوش تھیں۔ کیوں؟ اس کی وجہ تاریخ کی کسی کتاب میں آپ کو براہ راست لکھی نہیں ملے گی۔ جنرل آفیسر کمانڈنگ کشمیر جن کا دفتر مری میں واقع تھا، میجر جنرل اختر حسین ملک تھے جو ایک ذہین اور حوصلہ مند جنگی کمانڈر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ کشمیر کی کنٹرول لائن کا بیشتر حصہ انہی کی کمانڈ میں تھا۔ آپریشن جبرالٹر (جس کے متعلق ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس کا ابتدائی خاکہ 1950 کی دہائی میں کشمیر کو آزاد کرانے کے لیے تیار کیا گیاتھا) جنرل اختر کے ذہن کی پیداوار تھا۔ چونکہ جنرل اختر مذہباً احمدی تھے، اس لیے بعض لوگوں نے اس شک کا اظہار کیا ہے کہ ان کی کشمیر میں دلچسپی وہاں ایک احمدی ریاست قائم کرنے کے لیے تھی۔ یہ بظاہر قرین قیاس نہیں لگتا کیونکہ نہ تو اس آپریشن کے ذریعے کشمیر آزاد ہونے والا تھا اور اگر ایسا ہو بھی جاتا تو ایک آزاد احمدی ریاست اور وہ بھی پاکستان کے اندر ، ناممکنات میں سے تھی۔ جنرل اختر اس قدر پرجوش تھے کہ بریگیڈئر صدیق سالک کے بقول اپنے آفس کے ایک ٹیلی فون پر وہ جی ایچ کیو کو یقین دلاتے کہ کنٹرول لائن پر کچھ نہیں ہو رہا تو دوسری جانب فیلڈ ٹیلی فون کے ذریعے کنٹرول لائن پر تعینات کمانڈروں کو کہتے کہ بھارتی فوج کی ایک گولی کے جواب میں دو گولیاں چلائی جائیں۔ ان کے الفاظ میں:

This is cease fire line; not an international border. Keep it hot!

جب کشمیر میں دراندازی کا منصوبہ جنرل ایوب خان کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے اسے مسترد کر تے ہوئے کہا کہ اس آپریشن کے بعد بھارت خاموش نہیں رہے گا اور پاکستان پر حملہ ضرور کرے گا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل اختر کے منصوبے کی بھرپور حمایت کی اور صدر کو یقین دلایا کہ بین الاقوامی برادری کشمیر میں اٹھنے والی “تحریک آزادی” کی بھرپور حمایت کرے گی اور بھارت ایک متنازعہ علاقے کی جنگ کو کسی صورت بین الاقوامی سرحد پر لے کر نہیں آئے گا۔ صدر ایوب کے علاوہ فوج کے سربراہ جنرل موسیٰ خان بھی اس منصوبے کے حق میں نہیں تھے لیکن جنرل اختر اور بھٹو نے کسی نہ کسی طرح صدر ایوب کو اس منصوبے پر راضی کر لیا۔ صدر ایوب کی رضامندی کے پس پشت یقیناً یہ سوچ رہی ہوگی کہ اس طرح کشمیر آزاد کرانے کے بعد وہ پاکستان کے مقبول ترین حکمران بن جائیں گے اور شاید تاحیات حکمران! عین ممکن ہے کہ یہ خواب انہیں بھٹو ہی نے دکھایا ہو۔

بھٹو کی جانب سے اس احمقانہ منصوبے کی حمایت کی کوئی عقلی توجیہہ ناممکن ہے۔ یہ سوچنا کہ پاکستان ہزاروں در انداز کشمیر میں بھیجے گا اور وہ گوریلا کارروائیوں سے بھارتی فوج کو ناکوں چنے چبوا دیں گے۔ اس کے نتیجے میں کشمیری عوام بھارتی تسلط کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور کشمیر آزاد ہو جائے گا۔ مزید یہ کہ بھارت اس تمام عرصے میں خاموش رہے گا اور پاکستان پر حملہ نہیں کرے گا، اندازوں کی غلطی نہیں کہی جا سکتی۔ دنیا کی عسکری تاریخ خصوصاً کشمیری عوام کے مزاج کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ پورا منصوبہ ردی کی ٹوکری میں پھینکے جانے کے قابل تھا۔ بھٹو نے بھارت کو ردعمل سے روکنے کے لیے کسی سطح پر کوئی سفارت کاری نہیں کی تھی۔ دنیا کے کسی بھی ملک نے پاکستان کو یہ یقین نہیں دلایا تھا کہ وہ بھارت کو بین الاقوامی سرحد پر حملہ کرنے سے باز رکھے گا۔ اس کے باوجود بھٹو نے اپنے منہ بولے باپ یعنی ڈیڈی ایوب خان کو یہ یقین دہانی کیوں کرائی؟ اس کی وجہ صرف یہی نظر آتی ہے کہ بھٹو جو 1950 کی دہائی کے دوران سیاست میں آئے تھے، اپنی ذہانت کے بل بوتے پر وزیر خارجہ کے منصب پر پہنچ چکے تھے۔ ان کی ذہانت نے انہیں یہ باور کرا دیا تھا کہ ایک مضبوط فوجی سربراہ کی موجودگی میں وہ خود ایک با اختیار حکمران نہیں بن سکتے۔ اگر بھٹو کو بلا شرکت غیرے ملک کا سربراہ بننا ہے تو اس مقصد کے لیے عوام کی نظروں میں صدر ایوب کے ساتھ ساتھ فوج کی پوزیشن بھی ختم کرنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایک ایسے منصوبے کی حمایت میں نہ صرف اپنا سارا وزن ڈالا بلکہ صریح دروغ گوئی بھی کی، جس کی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے۔ بھٹو کو پورا یقین تھا کہ پاکستان کی اڑھائی لاکھ فوج بھارت کی سات لاکھ سے زائد فوج کا مقابلہ نہیں کر سکے گی کیونکہ صرف افرادی قوت ہی نہیں، عسکری سازوسامان کے ہر شعبے میں بھارت کو پاکستان پر تین سے پانچ گنا برتری حاصل تھی۔ بھٹو کے متعلق ان خدشات کی تصدیق مارچ 1971 میں بھی ہوتی ہے جب انہوں مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کو خوش آمدید کہا اور دسمبر میں سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرارداد پھاڑ کر اس جذباتی قوم کو بیوقوف بناتے ہوئے مکمل سرنڈر کی راہ ہموار کی۔ البتہ مغربی پاکستان کے موجودہ پاکستان کے بننے کے بعد اسی بھٹو نے یہاں ایٹمی ہتھیار سازی کے پروگرام کی بنیاد بھی رکھی۔ کہا جا سکتا ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی (جہاں شیخ مجیب بلا شرکت غیرے مقبول ترین رہنما تھے اور بھٹو کو ایک ووٹ بھی نہیں ملا تھا) اور فوج کو نیچا دکھانے کے بعد وہ اس ملک کو جہاں ان کی حکومت تھی، ایک مضبوط ملک بنانا چاہتے تھے اور اسی وجہ سے انہوں اسلامی ممالک کی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کر کے خود کو اسلامی دنیا کا بڑا لیڈر تسلیم کرایا تھا۔ اور سب سے اہم بات ۔۔۔۔ ہمارے ہاں بائیں بازو کے جو لوگ اس تجزئیے سے اتفاق نہیں کرتے انہیں پھر یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ بھٹو مرحوم بھی کشمیر کے لیے ہر حد سے گزر جانے کے اسی طرح قائل تھے جیسے ہر پاکستانی سوچتا ہے خواہ وہ معروف معنوں میں قدامت پسند ہو یا لبرل۔۔
(جاری)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *