ہیرا منڈی ۔۔۔۔آغانصرت آغا

ہیرا منڈی ہمارے معزز معاشرے کی ایک ایسی تصویر ہے جس کو کوئی بھی دن کی روشنی میں کھلی آنکھوں سے نہیں دیکھنا چاہتا . منٹو نے جو کہا ہے کیا خوب کہا ہے ۔۔۔” ہمارے معززین کو طوائف سے زیادہ کوئی نہیں جانتا “۔ اور دو ہی جگیں ایسی ہیں  جہاں میرے دل کو سکون ملتا ہے ،رنڈی کا کوٹھا اور پیر کا مزار جہاں سر سے پاوں تک دھوکا ہی دھوکا ہے”۔۔۔

ہمارے معاشرے میں رنڈی سے زیادہ ایماندار بیوپار نہیں دیکھا گیا جو صرف خالص عزت بیچتی ہے جس میں بے ایمانی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ تو اللہ کی قسم کھاتی ہے نہ واللہ خیر رازقین کا بورڈ لگاتی ہے ،نہ کوٹھے پر ماشاءاللہ لکھواتی ہے، نہ ہی مدد کے سامنے لیٹنے سے پہلے بسم اللہ پڑھتی ہے، نہ ثواب کمانے کا ڈھونگ رچاتی ہے اور نہ ہی بچوں اور بھوک کا واسطہ دے کر خیرات لیتی ہے ،نہ ہی ثواب دارین کا نعرہ لگا کر چندہ اکھٹا کرتی ہے ۔مولوی کی منطق کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو عین حلال رزق کماتی ہے ۔۔بقول مُلا جس پر اللہ مہربان ہوتا ہے وہی حلال رزق کما سکتا ہے ۔۔

طوائف کے ساتھ بیک وقت محبت بھی کی جاتی ہے اور نفرت بھی،ضرورت پڑنے پر آنکھوں کا تارہ اور سر کا تاج اور ضرورت ختم ہونے پر پاوں کی جوتی ۔تنگ اور سنسان گلیاں ،غازے کی بہار ،اور آدھی رات کتوں کی صدائیں ۔ سر میں  درد  کردینے  والے تیز عطر کی خوشبو ،گہری سوچوں میں گم۔۔ جانے گزری رات کا غم یا پھر آنے والی شب کی فکر ،چہرے پر پریشانی  کی  لکیرے ناقابل بیاں ۔۔ہونٹوں کی خشکی میں ان کی مجبوری صاف صاف نظر آرہی تھی  ۔ہر طرف مرد کی  بھوکی نظروں کی اشارے ، جسم کی گرمائش کو جلد از جلد ٹھنڈا کرنے کی  خواہش، یہ عورتیں نہیں  عریاں کہانیاں تھیں ۔۔ جن سے ہم جیسے معزز پرہیزگار اور شریف گھروں میں پیدا ہونے والے لوگ منہ چھپا کے گزر گئے اور ہیرا منڈی معاشرے کے اشرفیہ کے لئے سیاحتی جگہ بن گئی ۔۔

ایک عجیب سا شور ، مردانہ و زنانہ  عجیب چیخیں  بہت اونچی آواز میں  موسیقی،بیہودہ  گانے ۔۔یہ ہنگامہ بدتمیزی صبح صادق تک چلتا رہا ۔ آخر میں میری  آنکھوں سے دو  آنسو  چھلک کر دامن کی تاریکی می یہ کہتے ہوئےگم ہو گئے کہ ” دنیا کے بازار میں جسم کے علاوہ اور بھی بہت کچھ بکتا ہے ” اور آنکھیں صاف کرکے وہاں سے چل پڑا۔۔

آغا نصرت آغا
آغا نصرت آغا
i syed nusratullah agha from sindh agriculture university tandojam 2nd year student . My best hobbies are reading the various books and write a columns against women brutal volition as well as i playing a football

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *