بے وقتی آپا نسیم۔۔۔۔۔۔۔۔محمد خان چوہدری

مغرب کے بعد اگر آپ ان کی گلی سے گزرتے اور آپ کو جھاڑُو دینے کی آواز  سنائی  دیتی تو یقیناً یہ اس کے گھر سے ہی آتی، وہ عجیب مزاج کی لڑکی تھی۔۔۔میٹرک کے امتحان آئے  تو سکول چھوڑ کے گھر میں بیٹھ گئی ۔اور سال بھر میں لائبریری سے لے کے چنگے مندے سب ناول پڑھ ڈالے۔
اگلے سال پرائیویٹ میٹرک کا امتحان دیا اور فرسٹ ڈویژن میں پاس کر لیا۔۔کالج میں داخلہ لیا تو اختیاری مضامین میں سائیکالوجی کا مضمون لینا چاہا۔۔لیکن طلبا کی مناسب تعداد اس   مضمون کے لیے نہیں  تھی تو کالج والوں نے یہ مضمون تبدیل کرنے کا کہا تو کالج چھوڑ کے پھر گھر بیٹھ گئی۔دو سال رسالوں میں قلمی دوستی اور معمے حل کرنے میں گزار دیے،ہم سے تین چار سال بڑی تھی، جب ہم نے ایف اے میں داخلہ لیا تو اس نے بھی دوبارہ داخلہ لیا اور یوں وہ ہماری ہم جماعت تھی۔۔

اس دوران اس کے جتنے رشتے آئے  وہ اس نے ہمیشہ عین وقت پر  ٹھکرا دیئے۔ایف اے کے امتحان ہو چکے تھے اور اس کی خالہ اپنے بیٹے کے رشتے کے لیے  اس کے گھر والوں کے ترلے کر رہی  تھی  لیکن وہ تا حال انکاری تھی،ویسے ہم نتیجے کے انتظار میں فارغ تھے، ہماری ڈیوٹی دو عدد بھینسوں کو سنبھالنے کی تھی، موسم سخت گرم تھا، چھوٹے تالاب اور جوہڑ تو سوکھ چکے تھے بس دو بڑے تالابوں میں پانی تھا جن میں سے ایک تالاب پہ  کپڑے دھونا اور مویشیوں کو پانی پلانا اور نہلانا منع تھا،دوسرے تالاب پہ خواتین صبح صبح  کپڑے دھونے جاتیں اور نو دس بجے کے بعد لوگ ڈنگروں کو پانی پلا لاتے۔اور اس کے بعد گرمی کی شدت کی وجہ سے شہر ہی یوں سنسان ہو جاتا  جیسے کسی نے شہر بھر میں کتا دھرُوک دیا ہو۔

اس روز ہم دوستوں سے ملاقات کر کے لوٹے تو گیارہ بج چکے تھے، اور بھینسیں  پیاس اور گرمی کی وجہ سے کلے تڑانے والی ہو رہی  تھیں۔ہم نے سر پہ  پرنا باندھا، ان کے گلے کے سنگل کھولے تو وہ بھاگتی ہوئیں تالاب پہ  پہنچ گئیں ،پانی پینے کے بعد وہ کیچڑ میں لوٹنیاں لگانے لگیں۔۔ہم دھوپ سے بچنے کے لیے  تالاب کی سیڑھیوں والی سائیڈ جہاں پیپل کے درختوں کی چھاؤں تھی وہاں گئے   تو دیکھا کہ نسیم کپڑے دھو رہی تھی۔۔۔۔
ظاہر ہے اس وقت جب دور دور تک کوئی  نفس نظر نہیں  آ رہا تھا یہ کام وہ ہی کر سکتی تھی،اس نے بھی ہمیں دیکھ لیا اور ہاتھ کے اشارے سے اپنے پاس بُلایا۔۔
ہم قریب ہوئے تو ہماری سیٹی گم ہونے لگی، صرف مردانہ کرتا اس نے پہنا تھا اور وہ بھی گیلا تھا۔۔۔ہمیں بدن پہ  چیونٹیاں رینگتی محسوس ہوئیں ،منظر نے ہمارے اندر خواہش اور خوف کی چکی چلا دی
اور اس نے اس میں یہ کہہ کے اور گالا ڈال دیا کہ آؤ مل کے  تمہاری بھینسوں کو نہلاتے ہیں،ہم نے ممیاتے ہوئے  کہا، کپڑے خراب ہوں گے۔اس نے بدن سے چپکے کرتے کو ہٹاتے ہوئے  کہا،
پرنے کا لنگوٹ باندھ کے کپڑے اتار دو،یہ کہتے ہوئے  وہ اور قریب آگئی،اور ہمیں لنگوٹ کسنا پڑا۔۔۔۔۔۔اب ہم دونوں تالاب میں کمر تک پانی کے اندر تھے۔۔اس نے دو تین تاریاں لگائیں ،ہم ساکت کھڑے دیکھتے رہے،بھینسیں بھی اب گہرے پانی میں آ کے بیٹھ گئیں ،نسیم تیرتی ہوئی  میرے پاس آئی  اور لنگوٹ کا درمیانی بل کھول کے بولی کہ آؤ کبڈی کھیلیں،
اس سے پہلے کہ ہم سنبھلتے  اس نے تیر کے ہماری کمر کو کینچی مار لی۔۔۔پتہ نہیں  اس کو کبڈی کا یہ داؤ کس نے سکھایا تھا۔
بھینسوں نے اپنے منہ دوسری طرف پھیر لیے ، پانی میں لہریں جلدی جلدی اٹھنے لگیں،
ہم بھی لذت شناس ہوئے ، اور پھر پانی سے بلبلے اٹھنے لگے،نسیم نے دھلے ہوۓ کپڑے سنبھالے ، ہم نے بھینسوں کو ہانکا اور گھروں کو چلے گئے ۔۔

کوئی  دو ماہ بعد معلوم ہوا کہ نسیم نے اپنے خالہ زاد سے اچانک شادی کر لی ہے،اور پھر یہ اطلاع بھی ملی کہ اس کے ہاں سات ماہا بچہ پیدا ہوا،اس کے کوئی  دس سال بعد ہماری شادی ہو رہی تھی  تو جب ہم دولہا بنے، سرخ دوپٹہ اوڑھے، سر پہ سہرا سجا کے،حویلی کے اندر گھوڑی پہ  سوار کروائے  جا رہے تھے،تو حسب رواج گھوڑی پہ  ہماری گود میں ایک بچہ شہ بالا بنا کے  بٹھایا جانا تھا،تو ہم نے سہرے کے گھونگھٹ سے دیکھا کہ۔۔۔نسیم نے خود اپنے اس بیٹے کو ہماری گود میں سوار کرایا،ہم آج تک اس کی اس خاص محبت کی وجہ نہیں  جان پائے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *